اسی ہفتے سندھ اسمبلی کے فلور پر سندھ کی برسر اقتدار پارٹی پاکستان پیپلزپارٹی کی خاتون ایم پی اے کلثوم چانڈیو نے ذاتی نوک جھونک پر مسلم لیگ فنکشنل کی خاتون ایم پی اے کو حقارت کے اظہار کے طور پر ”باگڑی“ کہہ کر مخاطب کیا۔ جس کے بعد سندھ میں سوشل میڈیا اور دوسرے حلقوں میں یہ گرما گرم بحث چل نکلی۔ جس پر سندھ کے قدیمی قبیلے ”باگڑی“ کے ساتھ نسلی امتیاز روا رکھنے پر اہل دانش اور اہل شعور نے ایم پی اے کلثوم چانڈیو کو آڑے ہاتھوں لیا جس پر وہ معذرت کرنے پر مجبور ہوئی۔
اصل میں بات یہاں تک ختم نہیں ہوتی۔ اگر بات کی تہہ تک جائیں تو معلوم ہوتا ہے کہ سندھ میں تقریباً ہر گلی محلے میں رہنے والے لوگ دانستہ یا غیر دانستہ طور پر اپنی گفتگو میں اس قسم کے نسلی امتیاز کا اظہار کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ سندھ کے بہت سے مسلمان گھر میں کسی بچے یا بڑے کو گھٹیا ثابت کرنے کے لئے اسے ”باگڑی، گرگلہ، کولھی، بھیل، مارواڑی، اوڈ یا جوگی“ کہا جاتا ہے۔ یہ سن کر آپ کو اور بھی تشویش ہوگی کہ یہ سب سندھ کے قدیمی غیر مسلم شیڈول کاسٹ ہیں۔
Read more