کراچی میں نومولود بچیوں کا قبرستان اور پدر سری غنیم کا پیام

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

“کیا پدرسری ، پدرسری کی رٹ لگا رکھی ہے، سنگ باری ہو رہی ہے، الزام و دشنام کی برسات الگ ہے۔ چھوڑو، یہ ٹیڑھے میڑھے الفاظ جو ہر دوسرے روز گھسیٹتی ہو ۔ تمہاری اپنے پیشے میں اچھی عزت ہے، اسی کو نبھاؤ”

کسی مہربان نے مفت مشورہ دیا ہے!

اب کیا کہوں کہ یہ کہانیاں میرے اردگرد چلتی پھرتی ہیں، کبھی ہنستی کبھی روتی ہیں۔ میرے کان میں سرگوشیاں کر تی ہیں، مجھ سے فریاد کرتی ہیں کہ ہمیں اپنے آنسوؤں میں پرو کے دل کے صفحے پہ اتار لو، اور اس معاشرے کے ناخداؤں کو ہمارے چہرے دکھاؤ۔ شاید کہیں کوئی پہچان و احساس کی رمق باقی ہو۔

یہ کہانیاں وہ چلتی پھرتی زندہ لاشیں ہیں جو جینے کا حق پیدا ہوتے ہی کھو دیتی ہیں۔ مردہ جسم مختلف کوڑا دانوں میں ملتے ہیں۔ حوا کی بیٹیوں کے لاشوں کو رات کے اندھیرے میں جانور بھی مال غنیمت سمجھتے ہیں۔

یقین نہیں آتا نا! میری بات دیوانے کی بڑ لگتی ہے۔

لیکن کیا کیجیے کہ حالیہ ایدھی رپورٹ کے الفاظ مجھے بچھو بن کے کاٹتے ہیں، میری روح انگاروں پہ لوٹتی ہے اور ان تمام لڑکیوں کی بے نور آنکھیں مجھ سے سوال پوچھتی ہیں کہ ان سے زندگی کیوں چھین لی گئی؟

ایدھی فاؤنڈیشن نے رپورٹ پیش کی ہے کہ 2019 میں 375 لاوارث نومولود بچوں کی قبریں کھودی گئی ہیں۔ ایک ہی برس میں اس تعداد میں دوگنا اضافہ ہوا ہے۔ کراچی میں ملنے والی ان عبرت کی نشانیوں میں اکثریت نومولود بچیوں کی تھی۔ اب یہ تو فہم ماننے سے انکاری ہے کہ تمام مائیں جنہیں وقت کے کسی حادثے یا لغزش نے یہ مقام بخشا تھا، ان سب کی گود میں بچیاں آئیں تھیں۔

https://www.dawn.com/news/1526263

کون کہتا ہے کہ وقت بدل گیا، زمانہ آگے بڑھ گیا۔ جاہلیت کے دور ماضی کا حصہ ہوئے، جب گھر کے اندر ولادت کے بعد تھر تھر کانپتی ماں کے ہاتھ سے ستارہ آنکھوں اور پنکھڑی جیسی بچی کو کچھ شقی القلب ہاتھ چھین کے اس گڑھے میں اتارتے تھے جو پہلے سے کھود لیا جاتا تھا۔ بچی باپ کی انگلی پکڑ کے چوسنے کی کوشش کرتی تھی، پرمسرت غوں غاں کر کے باپ کو بتاتی تھی کہ وہ دور بہت دور سے اس کے آنگن میں کھیلنے آئی ہے، لیکن قفل پڑے دلوں کو کون کھول سکا ہے کبھی؟

عزت دار باپ کی زہر بھری گونگی بہری اندھی سوچ یہ ننھی سی جان کیا بدلتی سو یونہی چاند ستاروں کو دیکھتے دیکھتے آنکھوں کو مٹی ڈھانپ لیتی۔ کانوں میں دور جاتے قدموں کی چاپ ہلکی پڑ جاتی، ننھا سا گول دہانہ شیر مادر کی جگہ مٹی کا ذائقہ چکھتا اور تھوڑی ہی دیر میں وہ وہیں پلٹ جاتی جہاں سے مالک کائنات نے بنا سنوار کے بھیجا تھا۔

سو پدر سری کے لشکر سے پیام عافیت دینے والے کو وہی جواب ہے جو احمد فراز نے ٹھیک 40 برس پہلے ایسے ہی کسی مہربان  کو دیا تھا۔ پہلے چند سطریں اس نشیبی پیغام کی اور پھر فراز فصیل سے جواب۔۔۔

مرے غنیم نے مجھ کو پیام بھیجا ہے

کہ حلقہ زن ہیں مرے گرد لشکری اس کے

فصیل شہر کے ہر برج ہر منارے پر

کماں بہ دست ستادہ ہیں عسکری اس کے

اور پھر احمد فرازؔ نے لکھا 

سو یہ جواب ہے میرا مرے عدو کے لیے

کہ مجھ کو حرص کرم ہے نہ خوف خمیازہ

اسے ہے سطوت شمشیر پر گھمنڈ بہت

اسے شکوہ قلم کا نہیں ہے اندازہ

وقت بدل گیا! رکیے! کیا وقت واقعی بدل گیا؟

اب انسانوں کے اس انبوہ میں گمنام رہنا ممکن ہو گیا ہے۔ کھدے ہوئے گڑھے کی جگہ کچرے کے ڈھیر نے لے لی جہاں ستاروں کی چھاؤں تلے، سرد ہوا میں کتوں اور جنگلی بلیوں کی منتظر آنکھیں ایک ان چاہی نووارد بچی کے آخری سانسیں گنتی ہیں۔ ستارے اپنا منہ چھپا لیتے ہیں۔ چاند بدلیوں کی اوٹ لیتا ہے، بدلیوں سے ٹپ ٹپ آنسو گرتے ہیں۔ آسمان کا بس نہیں چلتا کہ زمیں پر گر پڑے۔ آوارہ جانوروں کی بھوک عروج پہ ہے، طعام کا بندوبست تو انسانیت کے نام لیواؤں نے کر دیا ہے، بس کچھ ہی دیر اور!

قبروں کی تعداد کہیں زیادہ ہو سکتی تھی مگر کیا کہیے کہ کچھ سیانے اس انتہائی مقام عبرت کی نوبت ہی نہیں آنے دیتے۔ بیسویں صدی کی ٹیکنالوجی نے چودہ سو سال پہلے کا نقشہ لپیٹ دیا ہے جب وقت ولادت ماں ہچکیوں اور سسکیوں میں پناہ ڈھونڈتی تھی۔ اب چوتھے مہینے میں ہی الٹرا ساؤنڈ کے بعد ان چاہی لڑکی کا وجود کسی کانٹے کی طرح شکم مادر سے کھینچ کے علیحدہ کر دیا جاتا ہے اور ماں کی روح ان کانٹوں پہ گھسٹتے گھسٹتے تار تار ہوجاتی ہے۔ قتل وغارت گری کے لئے ضروری تو نہیں کہ میدان جنگ ہی سجائے جائیں۔

کبھی اس سے بھی بڑھ کے سوچا جاتا ہے جب معاشرے کے ناخداؤں کی جیب بھاری ہو۔ شکم مادر تک پہنچنے کی نوبت ہی نہیں آ پاتی، اس سے پہلے ہی خرید وفروخت طے پا جاتی ہے۔ کسی لیبارٹری کی خورد بین کے نیچے اس سپرم کو دھتکار دیا جاتا ہے جو اپنے اندر عورت کی نمو کی صلاحیت رکھتا ہے اوراس سپرم کو چن لیا جاتا ہے جس سے پدرسری کا نام و مقام اونچا رہے۔

اب سمجھ آئی آپ کو کہ پدرسری کی مخالفت میں نعرہ لگاتے ہوئے ہماری آواز کیوں رندھ جاتی ہے؟ یہ درد کیوں آنکھوں میں طغیانی لے آتا ہے؟ لیکن کیا کیجیے کہ دیکھنے والی آنکھ تو اپنی خواہشات کے پیچھے اندھی ہے اور ذہن میں اندیشے کنکھجوروں کی طرح پاؤں گاڑے بیٹھے ہیں۔

اسی لئے تو منٹو نے کہا تھا!

” ہر مرد عورت کے ساتھ سونا تو چاہتا ہے لیکن بیٹی کا باپ کوئی نہیں بننا چاہتا “

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *