کبڈی ورلڈکپ، اپنی مٹی، اپنا کھیل

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

دنیا میں قومیں وہی اپنا وجود برقرار رکھ سکی ہیں جو اپنی ثقافت اور مٹی سے جڑی رہیں۔ دنیا کے کئی ممالک اتنی ترقی کرگئے ہیں جس کا ہم تصور بھی نہیں کرسکتے مگر انہوں نے اپنی روایات اور ثقافت کو نہیں چھوڑا، برطانیہ کی مثال لے لیں، برطانیہ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں شامل ہے، جمہوریت بھی تسلسل سے چل رہی ہے مگر کئی سو سالوں سے ان کی بادشاہت تاحال برقرار ہے۔ گو کہ بادشاہت حکومت کے معاملات میں دخل اندازی نہیں کرتی مگر برطانیہ کا ہر شہری اپنی ملکہ الزبتھ سے اتنا پیار کرتا ہے جتنا وہ اپنے خاندان سے کرتا ہے۔ اسی طرح جاپان کو دیکھ لیں، ان کی بادشاہت ابھی تک چل رہی ہے۔

ہندوستان کی ثقافت کی اپنی پہچان ہے۔ ہندوستان کے ہر صوبے یا علاقے کی اپنی اپنی ثقافت ہے۔ تقسیم ہند کے موقع پر پنجاب دو حصوں میں بٹ گیا جس کو بھارتی سکھ چڑھ دا پنجاب (جو اس وقت ہندوستان میں ہے ) اور لیندا پنجاب (جو اس وقت پاکستان میں ہے ) کہتے ہیں، میرا تعلق کیونکہ لیندے پنجاب سے ہے اس لئے پنجاب کی مٹی اور ثقافت کو بھی اپنے ایمان کا حصہ سمجھتا ہوں۔

بہت افسوس کی بات ہے کہ تقسیم ہند کے بعد ہم ترقی کرنے کے چکر میں اپنی روایات اور پنجاب کی ثقافت کو بھولتے چلے گئے جبکہ اس کے مقابلے میں بھارتی پنجاب (چڑھ دا پنجاب) میں ان لوگوں نے اپنی ثقافت کو پس پشت نہیں ڈالا بلکہ اس سے جڑے رہے۔ پنجاب کے تہوار جب آتے ہیں تو اکثر انٹر نیٹ پر دیکھتا ہوں چڑھ دا پنجاب کے باسی جو تہوار مناتے ہیں ان میں وہ اپنے کلچر کی بھرپور عکاسی کرتے ہیں۔ ان کا لباس اسی طرح کا ہوتا ہے جس طرح کا میں نے تصاویر میں 50 سال پہلے کا دیکھا تھا۔ وہاں کی لڑکیاں اپنے تہواروں پر مغربی لباس (جینز، ٹی شرٹ) نہیں پہنتیں بلکہ پنجاب کے کلچر کی الڑ مٹیار کا تاثر دیتی ہیں، لڑکیاں پنجاب کی مٹیار کی طرح تیار ہوتی اور لباس زیب تن کرتی ہیں۔

چڑھ دا پنجاب کے مقابلے میں ہمارے لیندے پنجاب کے باسیوں نے پنجاب کے کلچر کو ترقی اور ماڈرن بننے کے نام دفن کر دیا ہے۔ ہمارے ہاں پنجاب کے جو تہوار منائے جاتے ہیں ان میں پنجاب کی ثقافت کے مطابق لباس ہی نہیں ہوتے۔ نوجوان نہ تو لاچا کرتا اور پگ پہنتے ہیں اور نہ ہی لڑکیاں الڑ مٹیار بنتی ہیں۔ دونوں جنسوں نے جینز ٹی شرٹس پہنی ہوتی ہیں اور پنجاب کا تہوار منایا جارہا ہوتا ہے جس کو دیکھ کر دل کڑھتا ہے۔

مایوسی کے اس موسم میں امید کی جو کرن نظر آئی ہے وہ پنجاب میں کبڈی ورلڈکپ 2020 ء کے انعقاد سے نظر آئی ہے، کبڈی زندگی میں کبھی نہیں کھیلی مگر سکول کے زمانے سے ہی کبڈی بہت پسند ہے۔ ہماری سکول کی ٹیم جب کھیلتی تھی تو میچ دیکھنے گراؤنڈ میں ضرور جاتا تھا۔ کبڈی کی جو بات مجھے پسند ہے وہ اس کے داؤ ہیں اور جب کھلاڑی پوائنٹ جیت کر واپس اپنی سائیڈ پر فاتحانہ انداز میں جارہا ہوتا ہے وہ منظر بہت پیارا لگتا ہے۔

پنجاب حکومت اور صوبائی وزارت کھیل نے کبڈی ورلڈ منعقد کراکر دل موہ لیا ہے۔ ہم جتنی بھی ترقی کرجائیں ہمیں اپنی روایات اور ثقافت سے جڑا رہنا چاہیے یہی بات ہماری بقا کی ضامن ہے۔ موبائل کے اس دور میں نئی نسل کو علم ہی نہیں ہے کہ کبڈی بھی کوئی کھیل ہے۔ کبڈی ورلڈ کپ شروع ہورہا تھا تو میں نے گھر والوں کو بتایا کہ میں نے کبڈی ورلڈ کپ کے مقابلے دیکھنے ہیں خاص طور پر بھارت اور پاکستان کے، جس پرمیرے بچوں نے پوچھا یہ کبڈی بھی کوئی کھیل ہے تو میں نے کہا کبڈی ہی تو ہمارا اور ہمارے پنجاب کا کھیل ہے یہی پنجاب کے ماتھے کا جھومر ہے، کبڈی ہی تو پنجاب کی پہچان ہے۔

ایک بات ہم کو ماننا پڑے گی ہم لیندے پنجاب کے پنجابیوں نے پنجاب کی ثقافت کو آگے نہیں بڑھایا اس کے مقابلے میں چڑھ دا پنجاب کے سکھوں نے دنیا بھر میں کبڈی کے کھیل کو متعارف کرانے میں بھرپور کردار اد اکیا ہے۔ اس وقت آسٹریلیا، کینیڈا، جرمنی کی کبڈی کی ٹیمیں ہیں جن میں اکثر کھلاڑیوں کا تعلق چڑھ دا پنجاب سے ہے، 2015 ء میں ورلڈ کبڈی لیگ بھی سکھوں نے کرائی تھی جس میں پاکستان، بھارت، اکشے کمار، سوناکشی سنہا، یویو ہنی سنگھ اور برطانیہ وغیرہ کی ٹیمیں شامل تھیں. کبڈی کے شائقین کے لئے یہ ایک بہت بڑا ایونٹ تھا۔

ورلڈ کبڈی لیگ کے آرگنائزر نے دعویٰ کیا تھا کہ کبڈی کو اتنا مقبول کھیل بنا دیں گے کہ لوگ کرکٹ کو بھول جائیں گے۔ کبڈی ورلڈ لیگ کے سیمی فائنل اور فائنل پاکستان میں ہونا تھے جس میں اکشے کمار، سوناکشی سنہا، یویو ہنی سنگھ نے بھی پاکستان آنا تھا مگر بدقسمتی سے سیمی فائنل اور فائنل سے چند روز قبل واہگہ بارڈر پر دہشت گردوں نے بم دھماکہ کردیا جس پر سکیورٹی کو ایشو بنا کر کبڈی ورلڈ لیگ کے سیمی فائنل اور فائنل بھارت منتقل کردیئے گئے۔

70 سالہ تاریخ میں پہلی بار کبڈی ورلڈ کپ پاکستان میں منعقد ہورہا ہے جس میں پاکستان، بھارت، ایران، آذربائیجان، انگلینڈ، جرمنی، آسٹریلیا، کینیڈا اور سرالیون کی ٹیمیں حصہ لے رہی ہیں. پنجاب حکومت نے تاریخ رقم کردی ہے جس سے پنجاب کی ثقافت کو فروغ ملنے کا بھرپور موقع ملا ہے. کبڈی ورلڈ کپ 2020 ء کی ٹیموں کے اعزا ز میں 8 فروری کو گورنر پنجاب چودھری محمد سرور نے گورنر ہاؤس میں عشائیہ دیا جس میں معروف گلوکار عارف لوہار نے اپنے فن کا مظاہرہ کیا.

میری خوشی کی انتہا اس وقت نہ رہی جب عارف لوہار نے اپنی معروف ”جگنی“ گائی، ان کے سکواڈ میں 4 ڈھول، 4 چمٹے والے بھی تھے، جب ڈھول کی تھاپ پر جگنی شروع کی تو بھارت، آسٹریلیا، سرا لیون کے کھلاڑیوں نے بھنگڑے ڈالے حتیٰ کہ ایران کی ٹیم بھی پیچھے نہ رہی اور بھنگڑا ڈالنے لگی، یہ ماحول دیکھ کر میں بہت جذباتی ہوگیا کہ میری مٹی اور میرے کھیل کبڈی نے دنیا کی ٹیموں کو اپنا دیوانہ بنا لیا ہے۔

وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار، صوبائی وزیر کھیل رائے تیمور خان بھٹی اور ڈی جی سپورٹس پنجاب عدنان ارشد اولکھ نے کبڈی ورلڈ کپ کے انعقاد سے جو تاریخ بنادی ہے اسے پنجاب کی تاریخ میں سنہری حروف میں لکھا جائے گا۔ میری وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار اور وزیر کھیل رائے تیمور خان بھٹی سے اپیل ہے کہ جس طرح سندھ، بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں کھیلوں سے اپنے کلچر کو پرموٹ کرتے ہیں اسی طرح کھیلوں کے مقابلوں کے دوران پنجاب کی ثقافت کو زیادہ سے زیادہ اجاگر کیا جائے اگر وہ کام کرجاتے ہیں تو وہ پنجاب کی تاریخ میں امر ہوجائیں گے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *