وادئی سوات میں ایک دن (حصہ اول)

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اکیسویں صدی کا پہلا عشرہ وطنِ عزیز کے لیے پہاڑ جیسے مسائل لے کر نازل ہوا تھا۔ خدا شاہد ہے کہ کیسے کیسے آلام و مصائب کا سامنا کرتے اس ملک کے عوام نے وہ عشرہ بِتایا۔ نئی صدی کی شروعات ہوئیں تو ایک آمر اس بدقسمت ملک کے آئین کو اپنے بوٹوں تلے روندتا ہوا مسندِ اقتدار پر فائز تھا۔ ایک اور آمر سے جان چھڑاتے اور جمہوریت کی جنگ لڑتے اس ملک کے بدقسمت عوام کو ایک رہنما کی قربانی دینی پڑی۔ افغانستان کی جنگ کے شعلے ہمارے درودیوار کے درپے تھے۔ مذہبی انتہا پسندی کا عفریت اپنے پورے جوبن پر تھا۔ اُس عشرے کے وسط میں آیا مہیب زلزلہ اور عشرے کے آخر میں آئے سیلاب کی تباہ کاریاں اپنی جگہ غم کے نوحے لکھ رہی تھیں۔ منیر نیازی کے کہے گئے الفاظ کی صداقت روزِ روشن کی طرح عیاں تھی۔

منیر اس ملک پر آسیب کا سایہ ہے یا کیا ہے

کہ حرکت تیز تر ہے اور سفر آہستہ آہستہ

لیکن پہلے پورے عشرے میں جو مصیبت مسلسل ہمارے کواڑوں کو بجاتی رہی، ہماری زندگیاں گل کرتی اور ہماری ماؤں کی گودیں اجاڑتی رہی وہ تھی دہشت گردی اور آئے روز کے خود کش دھماکے۔ ایک وقت ایسا بھی آیا جب ہمارا نام دنیا کے ناکام ترین ملکوں کی فہرست میں سرِ فہرست آنے لگا۔

ایسے حالات میں جس طرح ہر طرف ہو کا عالم تھا اور ہماری ہر صنعت زوال پذیر تھی عین اسی طرح ہماری بچی کھچی سیاحت بھی دم توڑ چکی تھی۔ جو لوگ اس گھٹن سے باہر نکل کر تازہ ہوا کے جھونکے محسوس کرنا چاہتے تھے ان کے لیے لے دے کر ایک مری رہ گیا تھا اور پھر جب مری کی قوتِ برداشت بھی جواب دینے لگی تو اگلا پڑاؤ ناران ٹھہرا۔ اس لیے کہ پاکستان کا سویٹزرلینڈ کہلانے والا جنت نظیر خطہ یعنی وادئی سوات، ایک انتہائی بری طرح زخموں سے چور مریض کی طرح آپریشن تھیٹر میں بے ہوش پڑا تھا۔

موجودہ صدی کا دوسرا عشرہ آیا تو اس ملک پر آسمانوں نے کچھ در وا کیے اور تازہ ہوا کے چند جھونکے نصیب ہونا شروع ہوئے۔ گو کہ ابھی بھی ایک لمبا سفر طے کرنا باقی ٹھہرا۔ لیکن پھر بھی کچھ امکانات تھے جو روشن ہو رہے تھے۔

جمہوریت کی گاڑی خراماں خراماں محوِ سفر ہو چکی تھی اور دہشت گردی کے پنجے کچھ ڈھیلے پڑنا شروع ہو چکے تھے۔ اس قوم نے ہمیشہ کی طرح بہت جلد اپنے اعصاب مجتمع کیے، اپنے بند دروازوں کو کھولا اور پھر کون تھا جو اپنے دریاؤں، اپنی وادیوں اور اپنے پہاڑوں تک نہیں پہنچنا چاہتا تھا۔ قسمت نے بھی کچھ یاوری کی اور جمہوری حکمرانوں کو یہ بات سمجھ آ گئی کہ سیاحت کی ترقی انفراسٹرکچر سے جڑی ہے اور ایک دوست ملک کی مدد سے بہت ہی کم عرصے میں ہمارے پاس ایک بہترین انفراسٹرکچر آ گیا۔ جس کے نتیجے میں آج دو دوستوں کی جوڑی کراچی سے خنجراب اپنی مہران گاڑی میں باآسانی سفر کر سکتے ہیں۔ یوں نہ صرف ہماری ملکی سیاحت نے دن دگنی ترقی کی بلکہ اب بین الاقوامی سیاحت بھی ہمارے دروازے پر ٹھیک ٹھاک دستک دے چکی ہے۔

دہشت گردی کے زخموں سے چور وادئی سوات بھی اب نہ صرف رو بصحت ہو چکی بلکہ پوری طرح اپنے پیروں پر کھڑا ہونے کی طرف راغب ہے۔ وادئی سوات کو دوبارہ اپنے پیروں پر کھڑا کرنے کے لیے ہمارے جوانوں نے اپنی زندگیاں قربان کیں جس کی بدولت آج یہ خطہ خوب انگڑائیاں لیتا ایک مرتبہ پھر اپنے حسن کے جلوے دنیا کو دکھانے کو بے تاب ہے۔

آج سے چند سال قبل شروع کیا جانے والاسوات ایکسپریس وے اب تقریباً مکمل ہو چکا ہے جس نے سوات اور چترال کی سیاحت کو ایک دفعہ پھر نہ صرف زندہ کر دیا ہے بلکہ مسافت کی کمی کی وجہ سے نہایت آسان اور خوشگوار بھی بنا دیا ہے۔

دو ہزار انیس کی گرمیوں میں راقم جب پاکستان گیا تو سوات جانے کا مصمم ارادہ تھا کیونکہ چند دن پہلے ہی سوات ایکسپریس وے ٹریفک کے لیے کھول دیا گیا تھا۔ پاکستان میں آڑے آئی بے انتہا مصروفیات کے سبب کچھ زیادہ وقت نہ نکل پایا لیکن سوات کا کانٹا دل میں کھٹکتا ہی رہا۔ اس لیے اس کانٹے کی چھبن کچھ کم کرنے کے لیے اپنے دوستوں کے ساتھ ایک دن کا پروگرام ہی بنا سکا۔

اُس ایک دن یعنی پانچ اگست دو ہزار انیس کو ہم پانچ دوست صبح سویرے اسلام آباد سے سوات گئے اور رات گئے اپنے گھروں کو لوٹ آئے۔ اور یہی سوات ایکسپریس وے کا معجزہ ہے کہ اگر آپ کو وقت کی قلت درپیش ہے تو آپ ایک ہی دن میں سوات کی خوبصورتی کو چھو کر واپس آ سکتے ہیں۔ یعنی کہ سوات، اب سوات نہ رہا بلکہ مری ہو گیا۔

پانچ اگست کی صبح میں اور میرے دوست افضل، عابد اور کاشف اپنے وقتِ مقررہ پر ملے اور پھر اپنے پانچویں ساتھی نوید کی راہ تکنے لگے جو کہوٹہ سے تشریف لا رہے تھے۔ نوید کا وقت پر پہنچنے کے حوالے سے ٹریک ریکارڈ بالکل بھی خوشگوار نہیں ہے لیکن اس کے باوجود میں خاص طور پر نوید کا ہمیشہ مشکور رہتا ہوں کہ میرے کہنے پر کہوٹہ سے دوڑا چلا آتا ہے۔ بحر طور ہم نے صبح دس بجے کے لگ بھگ اپنا سفر شروع کیا اور ہم جلد ہی ایم ون موٹر وے پر تھے۔

ہکلہ قیام و طعام پر ناشتہ نوش کیا۔ ایم ون پر صوابی کے قریب کرنل شیر خان انٹر چینج سے اتر کے ہم سوات ایکسپریس وے پہ ہو لیے جو کہ چکدرہ تک اسی کلومیٹر لمبی ہے۔ کاشف سبک رفتاری سے گاڑی چلا رہا تھا کیونکہ ابھی اس ایکسپریس وے پر شاید سپیڈ کیمرے نہیں لگے تھے اور موٹر وے پولیس بھی ابھی شاید اس طرح سے موجود نہیں تھی۔

سوات ایلسپریس وے کہیں تا حدِ نگاہ پھیلے کھیتوں کے بیچ سے گزرتی ہے اور کہیں کٹے ہوئے پہاڑوں کے بیچ۔ راستے میں پالائی کے اونچے پہاڑوں پر دو زیرِ پہاڑ سرنگوں پر کام جاری تھا ان میں سے ایک ٹنل مکمل ہو چکی تھی اور اسی میں سے دو طرفہ ٹریفک گزر رہی تھی۔ تقریباً سوا کلومیٹر لمبی ٹنل سے باہر نکلتے ہی ایک منظر آپ پر کھلتا ہے اور وادئی سوات آپ کا استقبال کرتی ہے اور آپ کو اپنا پہلا دیدار کراتی ہے۔

تقریباً تین گھنٹے سے بھی کچھ کم میں ہم چکدرہ پہنچ چکے تھے۔ آپ یوں سمجھ لیں کہ پشاور موٹروے پر اسلام آباد سے کرنل شیر خان انٹرچینچ تک سوا گھنٹہ لگتا ہے اور پھر مزید سوا گھنٹہ سوات ایکسپریس وے پر چکدرہ تک لگتا ہے یعنی کہ آپ اسلام آباد سے ڈھائی سے تین گھنٹوں میں چکدرہ پہنچ جاتے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply