سزا کا خوف

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جب تک کسی بھی سزا کا احساس نہ ہو، اُس وقت تک سزا ؤں کو بڑھانے کا کوئی فائدہ نہیں۔ قومی اسمبلی میں بچوں سے زیادتی کے مجرموں کوسر عام پھانسی دینے کی قرارداد تحریک انصاف کے رکن نے پیش کی جو کثرت رائے سے منظور کی گئی تاہم حکومتی سطح پر تسلیم کرنے کے بجائے قرار داد کو انفرادی فعل قرار دیا گیا۔ قرار داد کے حق و مخالفت میں دو طبقات میں مباحثہ شروع ہوا، عوام کی کثیر تعداد زیادتی کے مجرموں کو سر عام پھانسی کے حق میں ہے جبکہ حکومت و پی پی پی سمیت بیشتر اپوزیشن جماعتیں مخالف ہیں۔

سر عام پھانسی پر قانون سازی ممکن نظر نہیں، ماضی میں بھی ایسی سفارشات کو ایوانوں میں رد کیا جاتا رہا ہے، تاہم قرار داد کے ذریعے یہ پیغام ضرور پہنچ چکا کہ قبیح فعل کی سزا ایسی ہونی چاہے جس سے سزا کا خوف بڑھے۔ سر عام کسی بھی قسم کی سزا دینے کا مقصد یہی قرار دیا جاتا ہے کہ اس سے عوام الناس میں موجود ایسے عناصر کو خوف زدہ کیا جائے تاکہ وہ کسی بھی جرم کا ارتکاب کرتے وقت سزا کے خوف سے باز آسکیں۔ معصوم بچوں کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں و قتل جیسے بھیانک جرم کی وجہ سے معاشرے میں ایسے کئی واقعات رونما ہوئے، جہاں احترام انسانیت و رشتوں کی اقدار کا بھی خیال نہیں کیا گیا۔

افسوس ناک امر یہ بھی ہے کہ اس حوالے سے آگاہی مہم بھی سنجیدگی سے نہیں چلائی جاتی۔ صوبائی و وفاقی سطح پر کئی پالیسیاں اور قوانین متعارف کرائے جاچکے ہیں تاہم عملی طور پر یہی دیکھا گیا ہے کہ کسی علاقے میں جرم ہونے کے بعد جب تک سوشل میڈیا میں اُس زیادتی کے واقعے کو نہیں اٹھایا جاتا، اُس وقت تک قانون نافذ کرنے والے ادارے متحرک نظر نہیں آتے۔ الیکٹرونک میڈیا بھی اُس وقت ہی زیادتی و قتل کے واقعے کو اٹھاتا ہے جب بھیانک جرم سوشل میڈیا میں وائرل ہوکر عوام کی اشتعال انگیزی کا سبب بن جاتا ہے۔

بچوں کے ساتھ زیادتی و قتل کے واقعات نے مشرقی و مغربی معاشرے پرکئی سوالات بھی کھڑے کیے۔ تنقید کی جاتی ہے کہ جنسی آزادی کے نام پر بے راہ روی بڑھ چکی ہے، کئی ایسے واقعات دونوں معاشروں میں رونما ہوچکے ہیں جہاں انسانی اقدار کو روندنے سے نہیں روکا جا سکا۔ 2014 میں یورپی ملک پولینڈ کے طاقتور کیتھولک چرچ نے کلیسائی اہلکاروں کی طرف سے بچوں سے جنسی زیادتی کے واقعات پر ایک بڑی تقریب میں کھل کر معافی مانگی۔ یہ معافی ایسے جرائم کی روک تھام کے موضوع پر ایک کانفرنس کے موقع پر مانگی گئی تھی۔

2018 میں آسٹریلوی وزیراعظم اسکاٹ موریسن نے پارلیمنٹ میں اپنی جذباتی تقریر میں ریاستی اداروں میں جنسی زیادتی کے شکار بچوں سے معافی مانگتے ہوئے اعتراف کیا کہ حکومت دل خراش واقعات کی روک تھام میں ناکام رہی۔ 2018 میں پوپ فرانسس نے مختلف گرجا گھروں میں پادریوں کی جانب سے بچوں کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کے بڑھتے ہوئے واقعات پر معافی مانگی۔ دنیا کا کوئی مذہب جرائم کی حوصلہ افزائی نہیں کرتا بلکہ مذہبی پیشواؤں کو شرمندگی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ پاکستان میں بھی بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی و تشدد کے متعدد واقعات مدارس و مساجد میں ہوئے، ان کی ویڈیو ز بھی سوشل میڈیا میں وائرل ہیں، تنقید کا نشانہ بھی بنایا جاتا ہے، مذہب بیزار عناصر کی جانب سے کسی بھی مذہبی مقام پر قبیح فعل پر کسی بھی مذہب کو مورد الزام ٹھہرانا بھی شروع کردیا جاتا ہے، اسی طرح بچوں سے جنسی زیادتی کی کثیر تعداد ایسی بھی ہے جو اُن متاثرہ بچوں کے رشتے داروں یا شناسا افراد کی جانب سے ارتکاب کیے گئے۔

کہنے کا مقصد یہی ہے کہ کسی بھی مذہبی مقام میں قبیح فعل کو کسی مذہب سے جوڑ دینامناسب نہیں، لیکن اس عنصر پر غور کیا جانا ضروری ہے کہ بیمار ذہنیت کے شکار ایسے افراد خوف خدا، رشتے داری یا جان پہچان کو بھی ملحوظ خاطر نہیں رکھتے اور اپنی شناخت چھپانے کے لئے حد سے گزر جاتے ہیں، چائلڈ پورنو گرافی کے بین الاقوامی گروہ کے کئی واقعات بھی پاکستان میں منظر عام پر آچکے ہیں، بیشتر ملزمان کی گرفتاری کے بعد اسے سزا بھی دے دی جاتی ہے لیکن دیکھا یہی گیا ہے کہ سزا کا خوف محسوس نہیں کیا جاتا اور پھر ایسا بھیانک واقعہ کسی دوسری جگہ رونماہوجاتا ہے۔

جرم کیسا ہی کیوں نہ ہو، اس کی سزا کا خوف جب تک معاشرے میں نہیں پایا جائے گا، جرم ہوتا رہے گا۔ یہاں سرعام پھانسی دینے کی قرار داد پر حمایت یا مخالفت کے حوالے سے سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کے بیانات، پریس کانفرنسوں میں مطالبات کا ذکر کیا جائے تو ایک طویل فہرست بن جائے گی، جس میں حکمراں و اپوزیشن جماعتیں دونوں شامل ہیں۔ ریاست کی جہاں ذمے داریاں ہیں، وہاں والدین، رشتے داروں کے بھی کچھ فرائض ہیں، معاشرہ، مشرقی ہو یا مغرب اقدار کی نمائندگی کرتا ہو، وہاں ہر فرد پر قانونی و اخلاقی ذمے داریاں ہیں جن پر عمل درآمد ضروری ہے۔

سرعام کوئی بھی سزا، معاشرے میں ایسے عناصر کے لئے سبق حاصل کا سبب بن سکتی ہے جنہیں کسی بھی سزا کا خوف نہ ہو۔ بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی و قتل جیسے بھیانک جرم پر مجرم کسی رعایت و مراعات کے مستحق نہیں ہوسکتے۔ ایک جانب تو کسی معصوم جان کی زندگی تباہ و برباد کردی جاتی ہے، زندہ درگور کردیا جاتا ہے یا پھر بہیمانہ قتل کی واردات کے بعد جب وہ گرفتار ہوتا ہے تو جیلوں میں کرپٹ نظام کے سبب مراعات حاصل کرلیتا ہے۔ عوام کے ٹیکس و قومی خزانے سے تین وقت کا کھانا ملتا رہتا ہے۔ وقت کے ساتھ ساتھ وہ جیل کی دنیا میں اپنے بھیانک جرم کے سبب دیگر ملزمان و مجرموں پر حاوی ہوتا بھی دیکھا جاتاہے۔

سزائے موت کی کوئی بھی شکل ہو، طویل قید ہو یا بھاری جرمانے ہوں، ان کا مقصد معاشرے میں جرائم پیشہ عناصر میں سزا کا خوف پیدا کیے جانا ہوتا ہے۔ مغر ب ممالک کی جیلوں میں تو سرکاری سطح پر تھری سٹار ہوٹل جیسی مراعات دی جاتی ہیں۔ پاکستان میں کرپشن کے عوض فائیو اسٹار ہوٹل جیسی مراعات حاصل کرلی جاتی ہیں۔ اس لئے ضروری ہے کہ جرم کی روک تھام کے لئے ایسے اقدامات کیے جائیں جس سے مستقبل میں کسی بھی جرم کے ارتکاب کرنے والا سزا کے خوف کو محسوس کرسکے۔ اب ریاست کسی بھی جرم کی سزا کو سرعام دیتی ہے یا جیل میں، ضلعی سطح پر چائلڈ پروٹیکیشن بیورو بنانے کے علاوہ ضرورت اس اَمر کی ہے کہ معاشرے میں جرم کے خلاف سزا کا خوف پیدا ہو تاکہ جرائم کم ہوسکیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *