ہمیں بھی تلاش ہے ایسے ٹیکے کی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سب سے پہلے تو اس بات کی اصلاح ہو جائے کہ لفظ ”ٹیکہ“ نہیں ہوتا بلکہ ”ٹیکا“ ہوتا ہے۔ ”ٹیکہ“ لکھنا غلط ہے اور املاء کے سلسلے میں ہم نے ”ٹیکے“ کوبھی ”ٹیکا“ لگادیا ہے۔ صرف یہی نہیں بلکہ اور بھی بہت سے الفاظ غلط لکھے جا رہے ہیں جس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ اخبارات ہوں، ٹیلی ویژن چینل ہوں یا دوسرے اشاعتی ادارے سب کا فوکس ایک ہی بات پر ہوتا ہے اور وہ ہے ”فی منٹ ٹائپنگ کی رفتار“۔ ایک چھوٹے سے آفس سے لے کر ایک بڑے ادارے تک سب کو ایک ایسا بندہ چاہیے ہوتا ہے جس کی سپیڈ فی منٹ پینتیس الفاظ ہو یا اس سے بھی زیادہ۔

حالانکہ چاہیے تو یہ تھا کہ رفتار کے ساتھ قابلیت کو بھی مدنظر رکھا جاتا تو یہ سونے پر سہاگا (اس کوبھی عموماً سہاگہ لکھا جاتا ہے جو غلط املا ہے ) ہوتا اور قابلیت کو سپیڈ پر ترجیح دی جاتی لیکن یہاں معاملہ اس کے بالکل برعکس ہے اور ریٹنگ کی دوڑ میں سپیڈ نے قابلیت کو نگل لیا ہے جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ اردو کا جنازہ بڑی دھوم سے نکل رہا ہے۔ ابھی پچھلے دنوں کی بات ہے کہ ایک معروف ٹی و ی چینل کی نیوزکاسٹر نے ایک خبر یوں پڑھی ”چمن میں خواجہ سرا کی وبا شدت اختیار کر گئی ہے۔

گلی ٹاکی میں خواجہ سرا سے پانچ بچے جاں بحق ہو ئے ہیں ”۔ جب معاملے کی تحقیق کی گئی تو پتا چلا کہ چمن میں خسرے (Measles ) کی بیماری نے پانچ بچوں کی جان لے لی تھی۔ یہ خبر رپورٹ ہوکر نیوزکاسٹر تک آئی لیکن وہ خسرے (Measles) اور کھسرے (Shemale) میں فرق نہ کر پائی۔ اس نے سوچا کہ کھسرا ایک غیر معیاری اور بازاری لفظ ہے لہذا اس کی جگہ کوئی مہذب لفظ استعمال کرنا چاہیے۔ یوں خسرے کی جگہ خواجہ سرا نے لے لی اور جب خبر آن ایئر ہوئی تواس لطیفے نے جنم لیا جس سے یار لوگوں نے بڑا لطف محسوس کیا اگرچہ یہ مقام رونے کا تھا اور یہ سوچنے کا تھا کہ یہاں قصوروار کون ہے؟

ممکن ہے کہ آپ اس نیوزکاسٹر کو ذمہ دار قرار دے دیں لیکن میری نظر میں غلطی اس نظام کی ہے۔ وہ اس طرح کہ ہمارے ہاں جرنلزم، ماس کمیونیکیشن اور میڈیا سے متعلق تمام کورس انگریزی زبان میں پڑھائے جاتے ہیں جبکہ پریکٹیکل فیلڈ میں مکمل کام اردو میں ہوتا ہے۔ یہ اچھے خاص ذہین لوگ ہوتے ہیں لیکن ان کا ذریعہ علم مکمل انگریزی ہوتا ہے اور جب انہیں اردو سے واسطہ پڑتا ہے تو یہ خسرے کو کھسرا سمجھ کر اس کی جگہ خواجہ سرا کا لفظ لگا کر لطیفوں کے بازار میں ہلچل مچائے دیتے ہیں حالانکہ سیدھی سی بات ہے کہ جس زبان میں انہیں کام کرنا ہے، پروگرام کرنے ہیں، رپورٹنگ کرنی ہے، خبریں پڑھنی ہیں اور کمپوزنگ وغیرہ کرنی ہے اسی زبان میں انہیں تعلیم بھی دی جانی چاہیے تا کہ ہماری شناخت بھی برقرار رہے، لطیفے بھی نہ بنیں اور ان لوگوں کی روحیں بھی شرمندہ نہ ہوں جو ”اردو ہندی تنازعے“ میں مار دیے گئے تھے۔

اگر انہیں اس وقت پتا ہوتا کہ جس زبان کی خاطر ہم اپنی جانیں قربان کر رہے ہیں کل پاکستانی قوم اس زبان کا یہ حشر کرے گی تو؟ لیکن ہمارے ہاں قوم اور قومی مسائل سے زیادہ شخص کو زیادہ اہمیت دی جاتی ہے ورنہ ایک قوم اپنی قومی زبان کی یوں بے قدری نہ کرتی۔ جب وزیراعظم چین کے شہر ”بیجنگ“ میں موجود تھے تو پی ٹی وی کی لائیو نشریات میں ”بیجنگ“ کی بجائے ”بیگنگ“ لکھا گیا جس کا مطلب ہے بھیک مانگنا۔ جب حزب مخالف نے بھد اڑایا تو حکومت نے ”ذمہ دار“ کو برطرف کر دیاکیونکہ اس میں بظاہر وزیراعظم صاحب کی بے عزتی محسوس ہو رہی تھی لیکن دوسری طرف خسرے کا کھسرا اور کھسرے کا خواجہ سرا بن گیا لیکن کسی کے کانوں پر جوں تک نہ رینگی۔ کیوں؟ کیونکہ ہمارے یہاں طاقت کا قانون ہے جو کسی بھی طاقتور کے لیے بدلتے دیر نہیں لگاتا۔

واپس آتے ہیں ٹیکے کی طرف۔ بات یہاں سے چلی تھی کہ درست ا ملا ”ٹیکا“ ہے اور ”ٹیکہ“ لکھنا غلط ہے کیونکہ ”ٹیکہ“ کے آخر میں جو ”ہ“ ہے یہ اصل میں گول تا (ۃ) ہے جو صرف عربی اور فارسی الفاظ کے آخر میں آتی ہے اور قاعدہ یہ ہے کہ گول تا (ۃ) بصورت وقف ”ہ“ میں بدل جاتی ہے۔ یہیں سے اردو زبان کے اس قاعدے نے جنم لیا کہ گول تا (ۃ) جو وقف کی صورت میں ”ہ“ سے بدل جاتی ہے وہ صرف ان الفاظ کے آخر میں آئے گی جو عربی یا فارسی زبان سے اردو میں آئے ہوں گے اور باقی الفاظ کے آخر میں ”ہ“ کی جگہ الف استعمال ہو گا۔ اب ”ٹیکا“ نہ تو عربی زبان کا لفظ ہے اور نہ ہی فارسی کا کیونکہ حرف تہجی ”ٹ“ دونوں زبانوں میں نہیں آتا۔ گرائمر سے واقف نہ ہونے کی صورت میں ہی عموماً راجہ، دھماکہ، ڈاکہ، روپیہ اور صوفہ وغیرہ لکھ دیا جاتا ہے حالانکہ ان کی درست املابھی الف کے ساتھ راجا، دھماکا، ڈاکا، روپیا اور صوفا ہے۔

ہم نے بہت سے الفاظ غلط لکھے اور لکھ رہے ہیں۔ باقی الفاظ شاید عوام کی طرح شریف تھے لہذا وہ خاموش رہے لیکن ٹیکا اپنی توہین برداشت نہ کر سکا۔ اِدھر اسے غلط لکھا گیا اوراُدھر اس نے بدلہ چکا کر حساب برابر کر دیا۔ ہوا یوں کہ اپنے وزیراعظم ہسپتال جا پہنچے جہاں انہیں ٹیکا لگایا گیا۔ ٹیکا لگنے کی دیر تھی کہ وزیراعظم کو ہسپتال کی نرسیں حوریں نظر آنے لگیں۔ انہوں نے وعدہ کیا تھا کہ وزیراعظم بن کر ملک میں تبدیلی لائیں گے اور ملک جنت بن جائے گا۔

وہ تو تبدیلی نہ لا سکے لیکن ٹیکا تبدیلی لے آیا۔ اب صورتحال یہ ہے کہ عوام تبدیلی والے وزیراعظم کو ڈھونڈ رہی ہے اور وزیراعظم صاحب اس ٹیکے کو ڈھونڈ رہے ہیں۔ جب سے انہوں نے ٹیکے کا تذکرہ کیا ہے تب سے عوام بھی اس ٹیکے کی تلاش میں ہے جسے لگوا کر نہ صرف غربت، مہنگائی، بدامنی اوربیروزاری کا درد ختم ہو بلکہ جنت کا ماحول بھی میسر آ ئے۔ سنا ہے کہ ساہیوال کے بازاروں میں دویتیم بچے گھومتے پائے گئے ہیں جو رو رو کر تمام میڈیکل سٹوروں سے ایسا ٹیکا مانگ رہے ہیں جسے لگوا ان کا دردِ یتیمی ختم ہو اور ان کی پتھرائی ہوئی آنکھوں سے وہ منظر بھی غائب ہو جائے جس میں باوردی محافظ ان کے مما پاپا کو گولیوں سے بھون رہے ہیں۔ کیا ان یتیم بچوں کو ایسا ٹیکا مل پائے گا جس سے آس پاس کا ماحول بھلے جنت میں تبدیل نہ ہو اور انہیں حوریں بھی نظر نہ آئیں لیکن انہیں ان کے مما پاپا نظر آ جائیں جو ان کے سروں شفقت بھرا ہاتھ ہی رکھ دیں چاہے ایک لمحہ کے لیے ہی سہی۔ پھر بلا سے ان کی آنکھیں کھل جائیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *