کاشانہ اسکینڈل: اقرا کائنات کا ایدھی سنٹر میں پراسرار موت سے قبل دیا گیا بیان سامنے آ گیا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

گذشتہ ہفتے ایدھی سنٹر لاہور میں پراسرار طور پر انتقال کرنے والی لڑکی اقراء کائنات کے حوالے سے مزید انکشافات سامنے آ گئے۔ تفصیلات کے مطابق اقراء کائنات کی ایدھی سنٹر میں پراسرار ہلاکت ادارے کی نیک نامی پر سوالیہ نشان بن چکی ہے۔  اقراء کائنات نے انتقال سے قبل 17 دسمبر کو اپنا آخری بیان باغبان پورہ پولیس کو دیا تھا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ اقراء کائنات نے اپنے آخری بیان میں کہا کہ اس کے شوہر نے اُسے بلیچ پلایا جس سے معدے میں انفیکشن ہوا۔ اس نے یہ بھی بتایا کہ کاشانہ کی سابق سپرانٹنڈنٹ افشاں لطیف نے نہ صرف اس کی زبردستی شادی کروائی بلکہ عمر بھی زیادہ لکھوائی تھی،اس کی عمر صرف 14 سال ہے۔

جیو نیوز کے مطابق تھانے کے ایس ایچ او قمر عباس سے جب اس سلسلے میں رابطہ کیا گیا تو انہوں نے بتایا کہ جرم ان کے علاقے میں نہیں ہوا۔ متعلقہ تھانے میں رپورٹ بھیج دی ہے لہذا کارروائی کرنا ان کا کام ہے۔

تاہم سابق سپرنٹنڈنٹ افشاں لطیف نے الزامات کی ترید کرتے ہوئے کہا کہ اقراء کائنات کی مرضی سےشادی ہوئی تھی۔انہوں نے کہا کہ محکمہ سوشل ویلفئیر کی اجازت کے بعد باقاعدہ شادی کی گئی جس کی تمام دستاویزات موجود ہیں۔

واضح رہے اقراء کائنات کے انتقال کے بعد اپنے ویڈیو بیان میں افشاں لطیف نے کہا تھا کہ ایدھی سنٹر کی انچارج معصومہ کی جانب سے اقرا کائنات کا ڈیتھ سرٹیفکیٹ جاری کیا گیا اور اسے لاوارث قرار دے کر اس کی تدفین کی تمام تیاریاں مکمل کر لی گئی تھیں۔ اگر مبیںہ معاملہ میڈیاپر ظاہر نہ ہوتا تو اب تک اقراء کائنات کو گمنامی کی حالت میں دفن کر دیا گیا ہوتا ۔

افشاں لطیف نے ایدھی سنٹر کی انتظامیہ سے اپیل کی کہ انچارج معصومہ کو تحفظ دیا جائے کیونکہ وہ تمام واقعات کی گواہ ہے۔  اس نے کس کے کہنے پر اقراء کائنات کو ایدھی سنٹر میں لاوارث کے طور پر رکھا، کس کے کہنے پر ڈیتھ سر ٹیفکیٹ جاری کیا گیا اور کس کے کہنے پر اسے لاوارث قرار دے کر تدفین کرنے کی تیاریاں مکمل کی گئیں۔ انہوں نے کہا کہ میری ریاستی اداروں سے بھی اپیل ہے کہ کاشانہ اسکینڈل کے تمام گواہوں کو تحفظ دیا جائے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *