وادئی سوات میں ایک دن ( آخری حصہ )

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جمال احسانی نے کہا تھا

گھر بھی عزیز، شوق بھی دل میں سفر کا ہے

یہ روگ اک پل کا نہیں عمر بھر کا ہے

تو ہم بھی اسی روگ کا کچھ مداوا کرنے کے لیے صرف ایک دن کے لیے وادئی سوات دیکھنے نکلے تھے اور سوات ایکسپریس وے پر سفر کرتے اب ہم چکدرہ پہنچ چکے تھے۔ اگر چہ ایکسپریس وے پر سفر کرنے سے بہت آسانی ہو گئی ہے لیکن اس طرح تھوڑی سی قربانی یہ دینی پڑتی ہے کہ کچھ خوبصورت شہروں کو ہمیں بائی پاس کرنا پڑتا ہے جن میں درگئی، بٹ خیلہ اور تخت باہی قابلِ ذکر ہیں۔ چکدرہ دریائے سوات کے کنارے آباد ایک خوبصورت قصبہ ہے۔ چکدرہ سے ایک سڑک دائیں طرف وادئی سوات کو جاتی ہے اور دوسری طرف دریائے سوات پر بنے پل کو پار کر کے آپ ضلع لوئر دیر میں داخل ہو جاتے ہیں اور یہی راستہ آپ کو تیمرگرہ سے ہوتے ہوئے چترال اور کالاش جیسی وادیوں میں لے جاتا ہے۔

مینگورہ بائی پاس روڈ پر جی قربان نامی ایک ریسٹورنٹ کی بالکونی پر بیٹھ کر مزیدار کابلی پلاؤ نوش کیا۔ سامنے دریائے سوات کا نیلگوں پانی اپنی دھن میں مگن رواں دواں تھا۔ یہ گلیشئرز کے پگھلنے کا موسم ہوتا ہے اس لیے ان دنوں دریا کو فرصت نہیں ہوتی کہ وہ کچھ ٹھہر سکے۔ کھانے کے ساتھ دریا کے بہتے پانیوں کی آواز بیتھوون کی کسی سیمفنی کی طرح کانوں میں رس گھول رہی تھی اور نظریں اس خوبصورت منظر سے پرے ہٹنے کا نام بھی نہیں لے رہی تھی۔

کھانے سے فراغت کے بعد اب ہماری منزل یہاں سے تقریباً پچاس کلومیٹر دور مالم جبہ تھی۔ ریسٹورنٹ سے تھوڑا آگے جاتے ہی دریا کی سائیڈ پر بنا ایک خوبصورت پارک آیا جس میں بچوں کے دوڑنے اور کھیلنے کی آوازیں دریا کی لہروں کی آواز کے ساتھ مکس ہوتی تھیں اور ایک عجب ماحول طاری کرتی تھی۔ ہمارے پاس اگر وقت کی قلت نہ ہوتی تو ہم ضرور اس طاری ہوتے ماحول میں پارک کے سبز گھاس پر کچھ دیر بیٹھتے اور ساتھ میں دریائے سوات کے پانیوں کے دوش پر ہلکورے لیتی خوشگوار ہوا کے مزے لیتے۔

جلد ہی ہم دائیں طرف جاتی مالم جبہ والی سڑک پر مڑ گئے۔ خوبصورت وادیوں کے درمیان سے بل کھاتی اور بتدریج اوپر کو اٹھتی یہ سڑک آپ کو جگہ جگہ دعوتِ نظارہ دیتی نظر آتی ہے اور سیاحوں کی ٹولیاں اس دعوت کے جواب میں گاڑیاں ایک طرف کھڑی کرتے اپنی اور اپنے کیمروں کی آنکھیں بھرتے جاتے تھے۔ اوپر چند کلومیٹر کے راستے پر سڑک پر نئی کارپیٹنگ کی جا رہی تھی جس کی وجہ سے ہمیں تھوڑی دیر لگی اور یوں چکدرہ سے تقریباً دو گھنٹے کی مسافت کے بعد ہم مالم جبہ پہنچے۔

گاڑیوں کے لیے بنی مخصوص پارکنگ میں ایک خاص قسم کا نظم و ضبط نظر آیا جو کہ بدقسمتی سے دوسرے سیاحتی مقامات پر مفقود ہوتا ہے۔ گاڑی کو پارک کرنے کے بعد جب ہم باہر نکلے تو ماحول ہمیں اپنے سحر میں جکڑنے کے لیے بے تاب تھا اور منہ سے بے ساختہ انگیریزی والا واؤ نکلا۔ سامنے نظر آنے والی پہاڑ کی چوٹی پر دھند کے بسیرے تھے اور دھند کی وہ سفید چادر آہستہ آہستہ ہمیں بھی اپنے دامن میں ڈھانپنے ہماری طرف محوِ سفر تھی۔

پہاڑی علاقوں میں یہ دھند ذدہ ماحول آپ پر ایک عجب سحر طاری کر دیتا ہے۔ پہاڑی علاقے کے باسی ہونے کے ناتے میرا دھند سے ایک عجیب رشتہ ہے اور گاہے مجھے یوں لگتا ہے جیسے یہ میرا پیچھا کرتے ہر جگہ پہنچ آتی ہے۔ ابھی چند دن پہلے میں مری میں موجود اپنے گھر کے برآمدے میں کھڑا تھا کہ اچانک دھند کو اپنے سامنے پایا جو اندھا دھند رفتار سے سفر کرتی اور گھر کے کمروں تک میں سرایت کرتی ہر چیز کو سفید کر گئی اور اپنی ایک عجیب خوشبو سے پورے ماحول کو معطر کر گئی۔ ویسے میری ماں جی بتاتی ہیں کہ میں بچپن میں اس دھند سے بہت ڈرا کرتا تھا۔ خیر یہ تو ایک جملہ معترضہ تھا۔ لیکن اس لمحے مالم جبہ کی پہاڑی پہ بسیرا کرتی یہ دھند پرسکون نظر آتی تھی اور ایک نہ محسوس ہونے والے انداز سے آگے بڑھ رہی تھی۔

مالم جبہ جس کی بلندی تقریباً نو ہزار فٹ سے تھوڑی زیادہ ہے اب پاکستان کا ایک مشہور اس کی ریزارٹ بن چکا ہے جہاں ہر سال برف باری کے بعد ملکی اور غیر ملکی سکیئرز کا ایک ہجوم ہوتا ہے جو یہاں سکی انگ سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔ یہاں پر ایک پنج ستارہ ہوٹل بھی تکمیل کے آخری مراحل میں ہے۔ یہاں کیے گئے انتظامات کو دیکھ کر لگتا ہے کہ یہاں کی حکومت واقعی سیروسیاحت کو سنجیدگی سے لے رہی ہے۔

دن کے اُس پہر ٹکٹ کاؤنٹر پر زیادہ رش نہیں تھا ہم نے چیئر لفٹ کی ٹکٹیں لی اور جلد ہی چیئر لفٹ پر بیٹھ گئے۔ میں اور کاشف پہلے بیٹھے عابد اکیلا بیٹھا اور نوید اور افضل آخر میں بیٹھے۔ جونہی چیئر لفٹ نے بلند ہونا شروع کیا ہمارے سروں پر منڈلاتی دھند میں سے دو انسان نما چیزیں آسمان پر جھولتی نظر آئی اور آگے نکل گئی۔ عابد کی حیرانگی دیکھ کر اسے بتانا پڑا کہ بھائی یہاں زپ لائن کی سہولت بھی موجود ہے اور مضبوط اعصاب کے مالک خواتین و حضرات کے لیے زپ لائننگ کے لیے بھلا اس سے بہترین جگہ اور ماحول کہاں مل سکتا ہے۔

اب ہم مکمل طور پر دھند کی آغوش میں تھے۔ یوں محسوس ہوتا تھا جیسے ہم زمان ومکاں کی قید سے ماورا ان سفید بادلوں کے ساتھ کہیں اڑتے چلے جا رہے ہیں۔ دور سے کہیں رباب بجنے کی خوبصورت آواز سماعتوں سے ٹکرائی اور اس شدید دھند زدہ ماحول کو شدید رومانویت زدہ کر گئی۔ اوپر سے آنے والی چئیر لفٹ دھند سے نکل کر اچانک سامنے آتی اور پیچھے نکل جاتی۔ سر گھما کر پیچھے نگاہ کیا تو تینوں ساتھی اس شدید دھند میں روپوش تھے۔ افضل اور نوید کے بلند ہوتے قہقہوں نے ان کے ہونے کا یقین دلایا۔ اسی طلسم زدہ ماحول میں لفٹ کا سفر ختم ہوا اور ہم نیچے اترے۔

ایک طرف بہت سلیقے سے لگی کرسیاں اور ٹیبل تھے جہاں سے آپ چئیر لفٹ کا اور زپ لائن کا شاندار نظارہ کر سکتے ہیں لیکن ہمیں اس کے لیے تھوڑا انتظار کرنا پڑا کیونکہ ابھی سارے مناظر دھند میں لپٹے تھے۔ میں سوچ رہا تھا کہ برف باری میں یہاں سے لوگوں کو سکی انگ کرتے دیکھنا آنکھوں کے لیے کتنا اچھا تجربہ ہوتا ہو گا۔ سامنے ایک بہت لمبے پائن کے درخت کے نیچے ایک خوبصورت سا ہٹ بنا نظر آیا اور قریب پہنچنے پر بنانے والے کی کاریگری کی داد دینا پڑی کیونکہ انتہائی نفاست سے درخت کے نچلے حصے کی ٹہنیاں کاٹ کر اس کے گرد گول دائرے میں بیٹھنے کی جگہ بنائی گئی تھی۔ لکڑی سے بنی سیڑھیوں کے ذریعے اوپر جا کر ہم وہاں کچھ دیر بیٹھے اور مزیدار چائے پی۔

چائے اور ریفریشمنٹ کے بنے کھوکھوں سے پرے پتھروں سے بنی سیڑھیوں پر نظر گئی جو اوپر جنگل کی طرف جاتے ہوئے دھند میں گم ہوتی دکھائی دیتی تھیں۔ ہم اس طرف چل پڑے اور ان سیڑھیوں کے ذریعے پہاڑ کی چوٹی تک گئے۔ دھند چھٹتی جا رہی تھی اور ماحول میں اترتی خنکی اب ہمیں بھی یہاں سے اترنے پہ مجبور کر رہی تھی۔ سو واپس لفٹ کی طرف بڑھے جب لفٹ میں سوار ہوئے تو دھند کافی حد تک چھٹ چکی تھی جس کی وجہ سے ارد گرد کا سارا منظر اب پوری طرح عیاں ہو چکا تھا۔ سورج انتہائی دور پہاڑوں کی اوٹ لینے کو تھا۔ مالم جبہ اور اس سے ملحقہ حسین وادیاں شام کی اترتی خنکی میں انتہائی دلکش منظر پیش کر رہی تھی جن کو جی بھر کر دیکھنے کے لیے ڈھیر سا وقت چاہیے۔

گھڑی کی سوئیاں چھ بجانے کو تھیں اور ہمارے دلوں میں اس آرزو نے سر اٹھایا کہ قسمت اگر مہربان رہی تو سوات کی ان حسین وادیوں میں بہت سارا وقت لے کر دوبارہ آیا جائے۔ یار زندہ صحبت باقی۔ واپسی پر کاشف کی محفوظ اور تیز ڈرائیونگ کی بدولت ہم دس بجے اسلام آباد میں داخل ہو چکے تھے۔ میرے دوستوں کاشف، عابد، افضل اور نوید کا بہت شکریہ۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply