محبت عورت کے لیے نہیں ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کہتے ہیں عورت محبت سے گندھی، محبت اس کی گھٹی میں ہے۔ وہ جذبات سے رچی ہے، نرمی، پیار، محبت جیسے الفاظ عورت سے منسوب ہیں۔ لیکن کتنی عجیب بات ہے کہ وہی عورت نہ تو کھل کے محبت کر سکتی ہے نہ معاشرہ اس بات کی اجازت دیتاہے کہ عورت کھل کے کہہ سکے کہ اسے مرد پسند ہیں۔

اسے یہ گوارا ہی نہیں کہ عورت کہے کہ کوئی اسے اچھا لگتا ہے، اسے کسی پہ کرش ہے وہ اپنے محبوب کے لیے مر سکتی ہے۔ وہ محبت میں حد سے گزر سکتی ہے۔ کوئی عورت اگر اپنی ان جذبات کا اظہار کھل کے کرے تو اس کے بارے میں یہی گمان کیا جاتا ہے کہ وہ سٹھیا گئی ہے۔ ایک طرف تو معاشرہ چاہتا ہے کہ دھڑا دھڑ شادیاں ہوں دوسری طرف اگر کوئی عورت جنسی خواہش کی بات کرے تو اسے فحاشہ کہتا ہے۔

جس سماج میں یہ بات قابل قبول ہے کہ لڑکی جوانی کی دہلیز پہ قدم رکھے تو اسے بیاہ دو وہ معاشرہ اس بات کو برا کیوں سمجھتا ہے کہ جوان ہوتی لڑکی اپنی مرضی کا جیون ساتھی چنے۔ وہ کسی کو پسند کر لے تو کس لیے خاندان اور اس سے باپ بھائیوں کی عزت کو بٹہ لگ جاتا ہے؟ اسے غیرت کے نام پہ قتل کرکے شملے بلند کیے جاتے ہیں۔

ذات پات، برداری، اونچ نیچ اور سب سے بڑھ کے یہ کہ عورت نے جرات ہی کیوں کی کہ وہ اپنا رستہ خود چنے، یہ باتیں کافی ہیں کہ اسے ہمیشہ کے لیے خاموش کروا دیا جائے۔ اسے حق نہیں کہ وہ اپنی مرضی کا لباس تک ہی زیب تن کر سکے۔ اس کا اختیار بھی اس کے باپ، بھائیوں یا خاوند کو ہی ہے۔

وہ عورت جو محبوبہ کے طور پہ مزاح بن سکتی ہے جسے تیری بھابی یا پیس کہہ کے ہر طرح کا مذاق کیا جا سکتا ہے وہی اگر واضح کہہ دے کہ اسے ایک سے زیادہ مرد پسند ہیں تو سلٹ کہلائی جاتی ہے۔ جگہ جگہ منہ مارنے اور بنا رشتوں کے تقدس کا خیال رکھے ہر عورت پہ بری نظر رکھنے والا مرد تو سماج کے لیے ایکسپٹ ایبل کیونکہ مرد اور گھوڑا کبھی بوڑھا نہیں ہوتا۔

وہیں کوئی قدرے ڈھلتی عمر کی عورت اپنے خاوند سے راستہ الگ کر کے زندگی کے لیے کسی اور کو ساتھی چن لے تو وہ بوڑھی گھوڑی لال لگام کہہ کے پکاری جاتی ہے۔ ایک لڑکی جو کسی تعلق میں نہ رہنا چاہ رہی ہو تنہائی کے فیصلے کو اپنا لے وہ بھی ہضم نہیں ہوتی وہ نن ہے۔ اس کے کچھ ”اور“ قسم کے عزائم ہوتے ہیں۔

وہ محبت میں آناچاہے تب بھی قابل قبول نہیں۔ مطلب یہاں ہر طرف تفریق کا عالم ہے خواہ وہ جذبات ہی کیوں نہ ہوں۔ جانداروں کے جوڑوں میں نر اورمادہ کا تصور ہے صرف یہ انسان ہی ہے جس میں آقا اور غلام کا جوڑا ہے۔ ایک ایسا جوڑا جس میں جسمانی، جذباتی، ذہنی اور قلبی لحاظ سے مرد آقا اور عورت کمتر اور غلام ہے۔ محبت سے عبارت عورت کی محبت کو جرم سمجھا جاتا ہے۔ اس لیے اسے ہمیشہ پیسیوو رہنا ہوتا ہے اس، انتظار میں کہ پہل مرد کی جانب سے ہو۔

اس پیسیو نیچر کو انا، غرور، اٹیٹیوڈ، شرم و حیا جیسے نام دے کے ڈیفینڈ کیا جاتا ہے۔ اور اسی پروٹیکیٹو کوور میں عورت خود کو محفوظ سمجھتی ہے۔ گھٹ کے جی لیتی ہے لیکن کھل کے بول نہیں سکتی۔ محبت کر لیتی ہے لیکن اظہار نہیں کرتی۔ ایک کچھوے کی طرح اپنے خول کو کل کائنات سمجھ لیتی ہے لیکن اپنی اصل خوشی کو نہیں پا سکتی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply