گلگت میں کینسرہسپتال کسی نعمت سے کم نہیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

گلگت بلتستان میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کی حکومتی مدت پوری ہونے میں ابھی چند ماہ باقی رہ گئے ہیں۔ قانونی نقطہ نگاہ سے گلگت بلتستان اسمبلی رواں سال جون کے آخری ہفتے اپنی پانچ سالہ مدت کے اختتام پر تحلیل تو ہوجائے گی مگر اس سے آگے کے لائحہ عمل سے متعلق ابھی تک کوئی واضح قانون موجود نہیں ہے۔ عین ممکن ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کی وفاقی حکومت کی جانب سے گلگت بلتستان سے متعلق نئے مجوزہ آرڈر میں اس حوالے سے کوئی شق شامل ہو بشرطیکہ گلگت بلتستان کے عوام اس نئے آرڈر کو من وعن تسلیم کرنے کے لئے قائل ہوجائیں۔

اگرچہ وفاقی حکومت کی جانب سے تیار کردہ اس نئے آرڈر 2020 کا کوئی ڈرافٹ تاحال منظرعام پر نہیں لایا گیا ہے مگر خطے میں موجود قومی وعلاقائی جماعتیں آرڈر کی مخالفت میں کمر بستہ ہیں۔ گلگت بلتستان اسمبلی کے کچھ ممبران تووفاقی حکومت کے اس فیصلے کی مخالفت میں اس قدر سرگرم ہوچکے ہیں گویاکہ وہ پیچھلے پانچ سال سے کسی آئینی صوبے کے ممبر رہ چکے ہوں۔

بہرحال نئے آرڈر کے حوالے سے کچھ کہنا ابھی قبل ازوقت ہے۔ چنانچہ کوئی ٹھوس معلومات جانے بغیرتبصروں سے بہتر ہے کہ پرانے ہی آرڈر بلکہ آرڈرز کے تحت چلنے والی حکومت کی کارکردگی پر ہی خامہ فرسائی کی جائے۔

گلگت بلتستان کی صوبائی طرز حکومت پاکستان پیپلزپارٹی کی حکومت کی طرف سے عطاکردہ ”گلگت بلتستان امپاورمنٹ اینڈسلف گورننس آرڈر 2009“ کے تحت وجود میں آئی تھی، جو بعد ازاں مرکزمیں پاکستان مسلم لیگ نواز کے دور حکومت میں ”گورنمنٹ آف گلگت بلتستان آرڈر 2018“ سے ہوتی ہوئی پاکستان تحریک انصاف حکومت کا جاری کردہ آرڈر 2019 پرمنتقل ہوتے ہوتے رہ گئی۔ اس عرصے کے دوران وفاق میں پاکستان مسلم لیگ (ن) برسراقتدار ہونے کے سبب گلگت بلتستان حکومت کو ترقیاتی منصوبوں اور دیگرمالی وسائل کی فراہمی میں کسی بھی قسم کی دشواری پیش نہیں آئی۔ بقول وزیراعلیٰ گلگت بلتستان صوبائی حکومت نے میاں نواز شریف اور شہبازشریف سے جوکچھ بھی مانگا انہوں نے ناں نہیں کیا۔

حقیقت بھی یہی ہے کہ گلگت بلتستان کے لئے وفاق میں پی ایم ایل این کی حکومت کی جانب سے جس قدر فراخ دلی کا مظاہرہ کیا گیا اس کی نظیرکسی اور جماعت کے دورحکومت سے نہیں ملتی۔ اگرچہ پاکستان پیپلزپارٹی کے بھی اس خطے کے عوام پر احسانات ہیں مگرانصاف کے ترازہ میں تولا جائے تو مسلم لیگ (ن) کا ہی پلا بھاری ہے۔ مسلم لیگ (ن) کی سابق وفاقی حکومت کی جانب سے گلگت بلتستان کے لئے منظورشدہ چیدہ چیدہ منصوبوں میں جگلوٹ سکردو روڑکی کشادگی، گلگت نلترروڑ کی جدید طرزتعمیر، گلگت میں بالترتیب امراض قلب اور کینسرہسپتال کی تعمیر، شہید سیف الرحمن ہسپتال کے لئے ایک ارب روپے کی گرانٹ، سرکاری ہسپتالوں کے لئے جدید مشینری کی فراہمی سمیت بجلی، تعلیم اورانفراسٹکیچرکی بہتری کی مدمیں اربوں روپے کی فراہمی شامل ہیں۔

ان تمام منصوبوں میں گلگت میں کینسرہسپتال کی تعمیرمسلم لیگ (ن) کاکارہائے نمایاں ہے۔ وہ اس حوالے سے کہ گلگت بلتستان میں اس وقت کینسرکا مرض انتہائی تیزی سے پھیلتا جارہا ہے اورمقامی سطح پرمرض کی تشخیص وعلاج کی سہولیات نہ ہونے کے سبب اموات کی شرح میں بھی تیزی سے اضافہ ہورہا ہے۔ کینسریقینا ایک جان لیوا بیماری ہے جس میں مریض کے صحت یاب ہونے کے امکانات بیماری کی شدت کے مختلف درجوں (اسٹیجز) پر منحصرہوتے ہیں۔ اس کی بروقت تشخیص اور جدید طرزعلاج ایک مریض کو موت کے منہ سے اٹھاکر نارمل زندگی گزارنے کے قابل بناسکتی ہے جبکہ تشخیص ومعالجے میں تاخیرلامحالہ موت کا پیش خیمہ ہے۔

عالمی ادارہ صحت کی جانب سے چار فروری کو کینسرسے بچاؤکے عالمی دن کے موقع پر جاری اعداد و شمار کے مطابق دنیا بھرمیں ہرایک منٹ میں اوسطاً سترہ افراد کینسرکے سبب موت کو گلے لگاتے ہیں جوکہ ایک انتہائی تشویشناک امرہے۔ کینسرجیسے موذی مرض سے دنیاکاکوئی بھی ملک خالی نہیں۔ پاکستان میں اس بیماری کے تیزی سے پھیلنے کا اندازہ اس وقت ہوتا ہے جب آپ کسی بڑے ہسپتال کے دورے یا متعلقہ شعبے کے طبی ماہرین سے گفتگو کررہے ہوتے ہیں۔

گلگت بلتستان میں کینسرکے علاج ومعالجے کا تاحال کوئی انتظام نہیں۔ حکومتی ونجی سطح پر اس بیماری سے بچاؤ کے حوالے سے کوئی خاص اقدامات نہ ہونے کے سبب کینسرکے حوالے سے مستندمعلومات کا فقدان ہے۔ لیکن گزشتہ چند سالوں سے سوشل میڈیاکے توسط سے کینسرکے سبب ہونے والی اموات اور مریضوں کی امداد سے متعلق پوسٹوں سے واضح ہورہا ہے کہ کینسرہمارے معاشرے میں ایک آفت کی صورت میں سرایت کرچکی ہے۔

سوال یہ ہے کہ کینسر ہوتا کیا اور پھیلتا کس چیز سے ہے تو جواباً ماہرین اس کی بے شمار وجوہات بتاتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق اس کی بنیادی وجہ جسم کے اندرجینزمیں رونماہونے والے تغیرات ہیں۔ تاہم ماہرین کے مطابق غذا میں پائے جانے والے چندعناصر مثلاً ذخیرہ شدہ اجناس، کھانے پینے کی اشیا میں ملاوٹ، اسپرے شدہ پھلوں، سبزیوں کا استعمال، تمباکونوشی، صفائی کا فقدان، الیکٹرومیگنیٹک شعاعیں، وائرل انفکشنز، فضائی وآبی الودگی وغیرہ کینسرکا باعث بن سکتے ہیں۔

کینسرصرف نام کانہیں علاج کے حوالے سے بھی بڑاخوفناک ہے۔ ماہرین کے مطابق کینسرکے علاج کے تین بنیادی طریقے ہیں۔ ابتدائی طورپر اگرکسی فرد میں کینسرکی تشخیص ہوجائے تومتاثرہ عضوکا نمونہ اپریشن کے ذریعے کاٹ کر سائنسی بنیادوں پر اس کی جانچ پڑتال کی جاتی ہے۔ جس کے بعد کینسرکی شدت کی درجہ بندی اور پھیلاؤ کا اندازہ کیا جاتا ہے۔ دوسرے مرحلے میں اپریشن کے ذریعے جسم سے کینسرزدہ حصوں کو جہاں تک ممکن ہوعلیحدہ کیا جاتا ہے۔ جبکہ تیسرا طریقہ کیموتھراپی یا ریڈیوتھراپی ہے جس میں زہریلی ادویات یا شعاعوں کے ذریعے جسم میں موجود کینسرکوناکارہ بنادیا جاتا ہے۔ تاہم بعض مریضوں میں مرض کی شدت کے اعتبار سے دونوں طریقوں کو ملاکربھی آزمایا جاتا ہے۔

ان تمام مراحل سے کسی مریض کو گزارنے میں تکلیف کے ساتھ ساتھ علاج پراٹھنے والے اخراجات میں بھی بتدریج اضافہ ہوجاتا ہے جوکہ مریض اور اہلخانہ کی پریشانیوں میں اضافے کا باعث بن جاتا ہے۔ گلگت بلتستان میں چونکہ کینسرکے علاج کی سہولت موجودنہ ہونے کے سبب دیگرشہروں کارُخ کرنے سے سفری، رہائشی ودیگر اخراجات اس کے علاوہ ہیں۔ ایسی صورت میں اپنے گھرکی دہلیزپر کینسرہسپتال کا قیام علاقے کے غریب عوام کے لئے کسی بڑی نعمت سے کم نہیں۔ اس اہم منصوبے کی منظوری اورمنصوبے پربرقت عملدرآمد میں وزیراعلیٰ گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمن کی کوششیں لائق تحسین ہیں۔ لیکن کینسرہسپتال کے نام پر محض ایک عالیشان عمارت کی تعمیر ہی کافی نہیں۔

گزارش یہ ہے کہ صوبائی حکومت اس ہسپتال کو ایک اسٹیٹ آف دی آرٹ طبی مرکزبنانے کے لئے ٹھوس اقدامات کرے۔ جس کے لئے ہسپتال کے اندر جدید مشنری کی تنصیب، متعلقہ شعبے میں ماہرڈاکٹروں وطبی عملے کی تعیناتی، وافرمقدارمیں ادویات کی فراہمی کے ساتھ ساتھ کینسرسے بچاؤسے متعلق عوام الناس میں شعورو آگاہی پیدا کرنے کے لئے جامع حکمت عملی تیارکی جائے۔ اگلی فرصت میں ادارے کے اندرریسرچ کا شعبہ قائم کرکے علاقے میں کینسرکے تیزی سے پھیلنے کی وجوہات اوراس سے بچاؤ کے لئے احتیاطی تدابیرسے متعلق تحقیق کاکام شروع کیا جائے تاکہ عوام اس منصوبے کے ثمرات سے حقیقی طورپرمستفید ہوسکیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply