عورت ہی عورت کی دشمن کیسے ہوتی ہے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

شادی کی ایک تقریب تھی!

ہماری نشست کے قریب والی میز پہ کچھ ادھیڑ عمر خواتین آپس میں اپنے بچوں کی شادیوں اور اس سے پیدا ہونے والی صورت حال پہ گفتگو فرما رہی تھیں۔ آوازیں بہت اونچی تھیں سو بغیر کسی دقت کے کان تک پہنچ رہی تھیں۔

” میں نے تو اسد سے کہہ دیا، بڑی جان ماری ہے تجھے پالنے میں، راتوں کوجاگی ہوں۔ اپنے منہ سے لقمہ نکال کے تمہیں کھلایا ہے، اب یہ نہ ہو کہ بیوی آتے ہی ماں کی طرف سے منہ پھیر لو”

” ارے کہہ دینا تھا کہ دودھ نہیں بخشوں گی”

” کہہ دیا اور یہ بھی بتا دیا کہ جنت نہیں ملنے کی اگر حکم عدولی کی “

” بہن میں نے تو وہ آیات رٹ چھوڑی ہیں جو ماں باپ کی خدمت کا حکم دیتی ہیں اور یہ بھی بتاتی ہیں کہ ان کو اف تک نہ کہو۔ جونہی مجھے لگتا ہے کہ بیٹا پٹڑی سے اترنے کو ہے فورا سنا دیتی ہوں، تیر جیسا سیدھا ہو جاتا ہے”

” بالکل ٹھیک کرتی ہو، ساری عمر مشقت کر کے پالا ہے، عیش کے دن آئے تو کیا اس چھوکری کو سونپ دیں اپنا پلا پلایا بیٹا “

“ میں تو وہ آیات بھی پڑھ دیتی ہوں جس میں بیوی کو مارنے کا حکم ہے”

” میں نے تو پہلے ہی دن کہہ دیا تھا دیکھو اکیلے گھومنے کی ضرورت نہیں، باہر جانا ہے تو سب اکھٹے جائیں گے”

” میں نے تو بہو بیگم کو بھی بتا دیا کہ زیادہ ہار سنگھار کرنے کی ضرورت نہیں، لڑکیوں والا گھر ہے، شریف گھرانوں میں یہ اطوار نہیں چلتے”

” ارے بہن میں نے تو اپنے بیٹے کو ہی سمجھا دیا کہ سر شام کمرے میں جانے کی ضرورت نہیں، گھر میں بہنیں ہیں آخر، سو جب پورا گھر سو جائے تب کمرے میں جانا”

” میں تو صبح پانچ بجے ہی دروازہ بجا دیتی ہوں کہ اٹھ کے نماز پڑھو”

” بہن کوشش کرو کہ زیادہ محبت نہ ہونے پائے دونوں میں، محبت ہوگئی تو ہمیں کہاں پوچھیں گے”

” اور کیا، الجھتے رہیں آپس میں، فائدہ تو ہمارا ہے نا”

” میں نے تو امجد کو سمجھا دیا، بیوی کو اپنی تنخواہ نہیں دینی، یہ بری عادتیں مت ڈالنا”

” جس دن بہو بیگم زیادہ مسکرا رہی ہوں، میں بھانپ جاتی ہوں آج شام کوئی پروگرام ہے۔ بس شام سے پہلے ہی میری طبعیت خراب ہو جاتی ہے پھر مجھے اکیلا چھوڑ کے تو نہیں جا سکتے نا”

” ارے ہمارے والی بڑی ہوشیار بنتی تھیں، علیحدہ ہو گئیں۔ ہم نے بھی شرط رکھ دی کہ صاحبزادے ہر ویک اینڈ ہمارے ساتھ گزاریں گے، بیٹے کو ماننی پڑی۔ بس اب وہ ویک اینڈ پہ گھر اکیلی پڑی رہتی ہے اور بیٹا ہمارے پاس”

” اچھا کیا، میں نے تو کہہ رکھا ہے کہ ہر شام اگر شکل نہ دکھاؤ تو مجھ مری کا منہ دیکھو۔ بس دفتر سے آتے ہی نکل پڑتا ہے ہماری طرف، پھر رات کا کھانا کھلا کے ہی بھیجتی ہوں “

” ارے میں روز یاد کرواتی ہوں ماں نہیں ملے گی کہیں، ہاں بیویوں بہت۔ ایک نکل جائے تو دوسری لانا کیا مشکل”

“ میں نے تو کہہ رکھا ہے کہ بہنوں کے حقوق ساری عمر پورے کرنے ہیں۔ وہ تیرا خونی رشتہ ہیں۔ بیوی تو ہوتی ہی غیر ہے”

” میں تو کہہ چکی ہوں، اگر بیوی کے لئے کچھ لاؤ تو بہنوں کے لئے بھی لازم لانا”

“ ارے بہن، میں نے تو مرنے کے بعد تک کا انتظام کر رکھا ہے۔ بتا دیا ہے سارے بیٹوں کو، میرے بعد بڑی بیٹی کو ماں سمجھنا۔ بہو بیگم کیا سمجھتی ہیں، عیش کریں گی ہمارے جانے کے بعد”

“ میرا بیٹا تو جب بیوی کو باہر اپنے پاس بلانے کی بات کرتا ہے میں صاف کہہ دیتی ہوں، میں پوتے کے بغیر نہیں رہ سکتی۔ تم سال میں ایک دفعہ آ کے بیوی سے مل جایا کرو”

“ بہت اچھا کیا، باہر جا کے ہمارے بیٹے کے پیسے پہ یہ منحوسیں کیوں عیش کریں۔ دیکھ لو دس برس ہونے کو آئے ، میں نے بہو کو ساتھ نہیں جانے دیا”

ہم کچھ دیر تو ہک دک یہ گفتگو سنتے رہے۔ پہلے غصہ آیا، پھر رنج و تاسف نے گھیر لیا اور پھر یہ رنج ترس میں بدل گیا۔

کون تھیں یہ ادھیڑ عمر عورتیں ؟

وہ بیٹوں کی مائیں تھیں یا اپنے مسخ ہوئے خوابوں کی قیدی؟ جو اپنی ہی اولاد کو شیریں لہجے میں دعائیں نوازنے کے ساتھ ساتھ بیٹوں کے ساتھ زندگی بسر کرنے والی جیون ساتھی کے لئے زہر بنی بیٹھی تھیں۔

ان لمحات میں وہ مائیں نہیں تھیں، وہ عورتیں تھیں جن کی آنکھوں سے برسوں پہلے خواب نوچے گئے تھے۔ جن کے جسم وجان کو ننگے الفاظ اور تلخ رویوں کی بھٹی میں جلایا گیا تھا۔ ان عورتوں کے نازک جذبات و احساسات کو پاؤں تلے روندا گیا تھا۔ اس پدرسری معاشرے نے انہیں ذلت و بے بسی کا مشروب قطرہ قطرہ پلایا تھا۔

اب وہاں مائیں کہیں نہیں تھیں، وہاں لہولہان روحیں اپنے بھسم خوابوں، سنگلاخ رستوں پہ زخمی پنجوں کے بل مسافت طے کرنے والی کچھ مجبوریاں بیٹھیں تھیں۔ یادوں میں صرف نارسائیاں تھیں، دامن میں چھید تھے، دل خالی تھا۔ اب بہو کی کھلکھلاتی ہنسی انہیں اپنے آپ پہ گزرے عذاب یاد دلاتی تھی۔ وہ بھی تو کبھی ایسی ہی دلہن بنی تھیں، ان پہ بھی ایسے ہی کوڑے برسے تھے۔ ایسی ہی لپلپاتی زبانوں سے نکلے الفاظ نے جسم وروح کو نیلا کیا تھا۔ کبھی وہ بھی پل پل مرتی تھیں، ایک دو دھاری تلوار تھی جس پہ تماشا دیکھنے والوں کے سامنے مصنوعی مسکان کے ساتھ چلی تھیں۔

وقت کا پہیہ گھوم چکا تھا۔ پدرسری معاشرے کا نظام انہیں نوچ نوچ کے نیم مردہ کر چکا تھا۔ وہ نظام جس میں مرد ایک عورت کو دوسری عورت پہ ظلم کرنے پہ مجبور کر دیتا ہے۔ عورت اس چکی میں پس کے اپنی ماہیت ہی تبدیل کر بیٹھتی ہے۔ اپنی بقا کے لئے اس نظام پہ ایمان لاتے ہوئے وہ عورت نہیں رہتی، اس نظام کا پرزہ بن جاتی ہے۔اس کے اندر ایک عورت ہونے کی حساسیت اور دوسری عورت کے دکھ کو پہچاننے کی صلاحیت زندگی کے شروع میں ہی آرزوؤں کی چتا میں جل کے راکھ ہو جاتی ہے۔ وہ تمام عمر اختیار رائے اور اپنی مرضی کو ترستی ادھیڑ عمری کی منزل پہ پہنچ جاتی ہے۔

طاقت کے اس کھیل میں ماں نامی اس عورت کو اختیار ملنا صرف ایک مرد کے ذریعے سے ہی ممکن ہے، اور وہ ہے اس کا بیٹا۔ پدرسری نظام کا مرد بیٹا بن کے ماں پہ ترس کھانے کے ساتھ ساتھ جنت کے لالچ میں وہ سارے اختیار بخشتا ہے جو گزر جانے والے کل میں اس کے باپ نے چھین کے ایک عورت کو عضو معطل بنایا تھا۔ مرد بیوی کو اس پلڑے میں ڈالتا ہے جو ہلکا ہو کے کہیں خلا میں جھول رہا ہوتا ہے اور ماں کو دیوی بنا کے ایک ایسے طاق پہ رکھ دیتا ہے جہاں بیوی کو صبح شام دیوی کے چرن چھونے کا حکم ہے اور انکار کی گنجائش ہی نہیں چھوڑی جاتی۔ ایسا کرتے ہوئے وہ بھول جاتا ہے کہ وہ کسی کو زندگی بانٹ رہا ہے اور کسی کو موت۔ زندگی کے سفر میں ساتھ چلنے والی عورت جو محبت کی چاہ میں ساتھ چلنے آئی تھی اسے ویسی ہی بے جان مورت میں بدل رہا ہے جیسی آج اس کی ماں ہے۔

پدرسری نظام میں پستے پستے عورت ایک زومبی کی صورت اختیار کرتی ہے اور زندگی کی آخری سیڑھی پہ کھڑی وقت کی دھول میں اپنا آپ کھوجتی ہے۔ اپنی بے نور آنکھوں سے یہ جان ہی نہیں پاتی کہ ابھی بھی وہ ایک مرد کے ہاتھ میں کھلونا بنی بخشے گئے اختیار کو ایک اپنی ہی جیسی کی زندگی میں زہر گھولنے کی ذمہ دار ہے۔

مرد اس دائرے سے باہر بیٹھا ایک زخموں سے چور چور ڈھلتی عمر کی عورت کو دوسری عورت سے نبرد آزما ہوتے دیکھ کے بالکل اسی سرور کے عالم میں رہتا ہے جب رومن بادشاہ اکھاڑے میں زندگی اور موت کی جنگ لڑتے کھلاڑیوں کو دیکھ کے حظ اٹھایا کرتے تھے۔ جانتے تھے کہ دونوں کا مقدر اذیت بھری موت ہے۔

اسی سرور کے عالم میں پدرسری نظام کا یہ مرد انگلی اٹھاتا ہے کہ ہم بے چاروں کا نام تو ناحق بدنام ٹھیرا، اصل میں تو عورت ہی عورت کی دشمن ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *