بسنت اور یوم محبت

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جب چھوٹے تھے تو بسنت کے رنگوں سے سجے آسمان کو دیکھنا اچھا لگتا تھا بڑے ہوئے تو ویلنٹائن ڈے کے شور و غوغا میں رنگ کہیں کھو گئے اور محبت کا جو تصور سامنے آیا وہ مشرقیت کے قدرتی حسن سے کوسوں دور تھا۔ محبت تو روز اپنے ہونے کا اعادہ چاہتی ہے ہمارے ہاں کی محبت میں احترام اور اعتبار پہلے آتا تھا اور جسمانی تقاضے بعد میں وہ بھی نکاح کے بعد۔ مگر شوقین مزاج لونڈے لپاڑوں نے محبت کو ویلنٹائن ڈے کی ہلڑ بازی میں رنگ دیا جبکہ مغربی ممالک میں اس کا تصور اور فکر الگ ہوتی چلی گئی۔ بہرحال بسنت ایک مکمل تہوار کا درجہ رکھتا تھا جبکہ ویلنٹائن صرف ایک دن۔ مگر عالمی منڈی کے سرمایہ کاروں نے صرف ایک دن کی بادشاہت کے لیے پورا ایک تہوار نگل لیا۔

بسنت کے دنوں میں لوکل کاریگروں کی پانچوں انگلیاں گھی میں ہوتی تھیں کیونکہ پتنگ سازی ایک مکمل صنعت کا درجہ رکھتی تھی جس میں کاغذ بنانے والے، گوند بنانے والے اور ڈور بنانے والے ہوم بیسڈ ورکرز کی کثیر تعداد شامل تھی جبکہ ساتھ ہی حلوائیوں کی بھی چاندی ہو جاتی تھی اور یوں مقامی صنعت اور اس سے وابستہ افراد کو معاشی طور پر مسائل کا سامنا نہیں کرنا پڑتا تھا جبکہ ویلنٹائن ڈے پر ملٹی نیشنل کمپنیاں نوٹ کما جاتی ہیں۔

بسنت میں پیدا ہونے والی قباحتوں کا خاتمہ کر کے اس کی پرانی حالت میں بحالی ممکن تھی مگر ہمارے ہاں جب کسی چیز کا مناسب حل نہیں ملتا تو ہم اسے بین کر دیتے ہیں جبکہ حقائق اس امر کی جانب اشارہ کرتے ہیں کہ باقاعدہ منصوبہ بندی سے بسنت کو متنازع بنایا گیا، ذرا سوچیں اس پابندی سے نقصان عام کاریگروں اور کھانے پکانے والوں کا ہوا اور فائدے میں ملٹی نیشنل کمپنیاں رہیں جں کہ پتنگ اور ڈور میں پیدا ہونے والی خرابیوں کو دور کرنے کی کسی ادارے یا فرد واحد نے کوشش نہیں کی۔

ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ شیشہ تاروں کا استعمال بین کیا جاتا۔ خونی ڈوریں بنانے والوں پر پابندی عائد کی جاتی۔ سزائیں دی جاتیں اور جرمانے عائد کیے جاتے۔ کھیل میں موجود انسانی جانوں کے لیے موجود خطرے روکے جاتے۔ گلی محلے کی بجائے کھلے میدان مختص کیے جاتے چاہے شہروں سے باہر ہی سہی جہاں میلے ٹھیلوں کا انتظام ہوتا یوں تہوار زندہ رہتا، کاریگر بھوکا نہ مرتا اور فن زندہ رہتا۔ اصلاح کی کوشش کی بجائے پتنگ بازی پر ہی پابندی لگا دی گئی فروری کے آسمان کو بیوگی کا سفید لباس پہنا دیا گیا۔

لوکل تہواروں پر پابندیاں اور عالمی ایام کی پذیرائی یقینا ایک بہت بڑا موضوع ہے۔ جس کو معیشت کی بنیاد پر سمجھنا ضروری ہے کیونکہ مشرق ہو یا مغرب محبت اور عقیدت کو چوبیس گھنٹوں میں مقید نہیں کیا جا سکتا بقول امجد اسلام امجد کے

محبت کی طبیعت میں

یہ کیسا بچپنا قدرت نے رکھا ہے

کہ یہ جتنی پرانی جتنی بھی مضبوط ہو جائے

اِسے تائیدِ تازہ کی ضرورت پھر بھی رہتی ہے

یقیں کی آخری حد تک دلوں میں لہلہاتی ہو

ہزاروں طرح کے دلکش حسیں ہالے بناتی ہو

اسے اظہار کے لفظوں کی حاجت پھر بھی رہتی ہے

محبت مانگتی ہے یوں گواہی اپنے ہونے کی

کہ جیسے طفلِ سادہ شام کو اِک بیج بوئے

اور شب میں اُٹھے

زمیں کو کھود کر دیکھے

کہ پودا اب کہاں تک ہے

محبت کی طبیعت میں عجب تکرار کی خو ہے

کہ یہ اقرار کے لفظوں کو سنانے سے نہیں تھکتی

بچھڑنے کی گھڑی ہو یا کوئی ملنے کی ساعت ہو

اسے بس ایک ہی دھن ہے

کہو مجھ سے محبت ہے

کہو مجھ سے محبت ہے

تمھیں مجھ سے محبت ہے

سمندر سے کہیں گہری

ستاروں سے سوا روشن

ہواوں کی طرح دائم

پہاڑوں کی طرح قائم

کچھ ایسے بے سکونی ہے وفا کی سرزمینوں میں

کہ جو اہلِ محبت کو سدا بے چین رکھتی ہے

کہ جیسے پھول میں خوشبو کہ جیسے ہاتھ میں تارا

کہ جیسے شام کا تارا

محبت کرنے والوں کی سحر راتوں میں رہتی ہے

گمنام کے شاخوں میں آشیانہ بناتی ہے اُلفت کا

یہ عین وصال میں بھی ہجر کے خدشوں میں رہتی ہے

محبت کے مسافر زندگی جب کاٹ چکے ہیں

تھکن کی کرچیاں چنتے وفا کی اجرکیں پہنے

سمے کی راہ گزر کی آخری سرحد پہ رکتے ہیں

تو کوئی ڈوبتی سانسوں کی ڈوری تھام کر

دھیرے سے کہتا ہے

کہ یہ سچ ہے نا

ہماری زندگی اک دوسرے کے نام لکھی تھی

دھندلکا سا جو آنکھوں کے قریب و دور پھیلا ہے

اسی کا نام چاہت ہے

تمھیں مجھ سے محبت ہے

تمھیں مجھ سے محبت ہے

محبت کی طبیعت میں

یہ کیسا بچپنا قدرت نے رکھا ہے

تو جناب مجھے ویلنٹائن ڈے کی تاریخ سے کوئی لینا دینا نہیں کیونکہ اس حوالے سے مستند حوالہ جات نہ ہونے کے برابر ہیں۔ یہ دن کسی کو ٹری بیوٹ دینے کے لیے شروع کیا گیا یا ستائش کے لیے۔ ہر آنے والی صدی میں اس سے وابستہ نسبتوں کی نوعیت بدلتی رہی۔ شروع شروع میں اس میں شاعری نے جگہ بنائی اور پھر آہستہ آہستہ یہ دن سرمایہ کاروں کے ہاتھوں میں آ گیا اور یوں محبت کے نئے مفاہیم بھی سامنے ائے۔

واضح رہے کہ جب تعلقات میں معیشت کا عمل دخل بڑھنے لگے تو وہاں کئی قباحتیں سر اٹھاتی ہیں۔ پیسہ ترجیحات بدل دیا کرتا ہے جبکہ موجودہ ویلنٹائن ڈے تو تحفے تحائف کے تبادلے کے بغیر ادھورا سمجھا جاتا ہے جبکہ بوس و کنار تو بونس ہے، محبت محبت نہیں رہی تو دن منانے کی خواہش چہ معنی۔

برصغیر میں آمد بہار کے ساتھ ہی بسنت کا شور اٹھنا شروع ہو جاتا تھا، اس معرکے میں بڑے بڑے پتنگ باز سامنے آئے۔ شاعری، موسیقی کو عروج ملا اور پھر مقابلے پر بدیسی تہوار ویلنٹائن سامنے آ گیا بلکہ لایا گیا محبت میں مخصوص تحائف کی مارکیٹنگ کی گئی جس میں چاکلیٹ، ٹیڈی بیئر اور گلاب کی کلی سرفہرست ہے۔

جس کے بعد چاکلیٹ ساز کمپنیاں، ٹیڈی بیئر بنانے والے ادارے مکمل طور پر نفع میں رہے۔ صرف لوکل گل فروشوں نے تھوڑا بہت فائدہ اٹھایا ہو تو اٹھایا ہو ورنہ مٹھائی فروش تو خسارے میں ہی رہتے ہیں۔ ہم اگر اس دن کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیں تو ملٹی نیشنل کمپنیوں کے سپارنسر ویلنٹائن ڈے کی موجودہ حیثیت کو سمجھنا زیادہ مشکل نہیں۔ ہم نے سرمایہ کاری کے نام پر محبت مار دی۔

دوسری جانب ویلنٹائن ڈے پر مختلف رد عمل سامنے آیا کہیں اسے شریعت سے منافی قرار دیا گیا تو کہیں ثقافتی قتل گردانا گیا۔ ڈنڈا بردار فورسز اس دن متحرک اور فعال ہونے لگیں، یوم محبت کے مقابلے میں یوم حیا منانے کا اعلان کیا گیا۔ یہاں پر میرا اختلاف شروع ہو جاتا ہے کیونکہ مذہب کی آفاقیت کو ایک دن کے ساتھ نتھی کر کے اس کو محدود کر دینا یقیناً درست نہیں۔ جبکہ میرا سوال ہے کہ کیا حیا والوں اور حیا والیوں پر محبت نہیں اترتی کیا ان کے سینے میں دل نہیں دھڑکتے؟

ویلنٹائن ڈے سے ہٹ کر آپ پارکوں میں چلے جائیں تو زیادہ تر حیا والے ہی مختلف کونے کھدروں میں بیٹھے نظر آئیں گے۔ میری رہائش گاہ کے نزدیک ہی کالونی کا مرکزی پارک ہے۔ جہاں اکثر و بیشتر ایک حجاب میں ملبوس خاتون ایک شرعی داڑھی والے کے ساتھ بینچ پر بیٹھے محبت کے جلوے بکھیر رہے ہوتے ہیں تو کیا وہ دین سے خارج ہو جائیں گے۔ اگر وہ میاں بیوی ہیں تب بھی اور اگر نہیں ہیں تب بھی انہیں اپنے ارد گرد کے ماحول کا خیال رکھنا چاہیے۔ مزے کی بات یہ ہے کہ پہلی بار ان کی طرف توجہ میری گلی کے بچوں نے دلائی کہ انٹی سامنے دیکھو سامنے۔

المختصر کہ ہمیں کچھ فیصلے کرنا ہوں گے کہ ناپسندیدہ ایام کو مذہب سے جوڑنا چھوڑ دیں۔ جنت اور دوزخ کے فیصلے اپنے ہاتھوں میں لینا چھوڑ دیں۔ لوگ جیسے جینا چاہتے ہیں انہیں جینے دیں۔ اور چھوٹی سوچ کے ساتھ نہیں بلکہ تصویر کو بڑے کینوس پر دیکھنے کی کوشش کریں۔ یہ تسلیم کریں کہ ویلنٹائن ڈے سرمایہ دارانہ سوچ کی عکاسی کرتا ہوا ایک دن ہے جو اسے سپانسر کرتے ہیں۔ برصغیر ایک بڑی منڈی کے طور پر ابھری ہے جس میں کھپت ہو جاتی ہے لہذا اسے مذہب اور ثقافت سے دور رکھیں۔ سچ کو سمجھنے اور اسے تسلیم کرنے کی عادت اپنائیں اسی میں فائدہ ہے اور تماشا بھی نہیں لگتا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *