2 نومبر سے پہلے ریاستی جبر کا افسوسناک مظاہرہ
حکومت نے آج اسلام آباد میں پاکستان تحریک انصاف کے یوتھ کنونشن پر دھاوا بول کر اور درجنوں کارکنوں کو گرفتار کرکے منگل کو ہونے والے احتجاج کے بارے
میں اپنی حکمت عملی کا نمونہ دکھا دیا ہے۔ وفاقی حکومت نے اگر دارالحکومت میں اسی طرح طاقت کے زور پر سیاسی احتجاج کو روکنے کی کوشش کی تو یہ صورتحال نہ صرف اسے سیاسی طور پر تنہا کردے گی بلکہ تحریک انصاف کی اخلاقی پوزیشن بھی مستحکم ہوگی۔ مبصرین اس بات پر متفق ہیں کہ تحریک انصاف اور اس کا ساتھ دینے والے گروہ 2 نومبر کے احتجاج کے موقع پر پولیس کے ساتھ تصادم چاہتے ہیں۔ انتشار اور سڑکوں پر مار پیٹ کے مناظر ٹیلی ویژن اسکرین کے ذریعے گھر گھر پہنچیں گے اور حکومت کےلئے اپنی پوزیشن کا دفاع کرنا مشکل ہو جائے گا۔ آج پولیس کارروائی کا دفاع کرتے ہوئے سرکاری ترجمانوں نے بدحواسی کا مظاہرہ کیا ہے۔ کوئی اسے دفعہ 144 کی خلاف ورزی قرار دے کر درست اقدام کہہ رہا تھا اور کسی کا موقف تھا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلہ کے بعد کسی کو اس فیصلہ کی خلاف ورزی کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ ان بیانات سے یہ اندازہ کرنا مشکل نہیں ہے کہ حکومت کے پاس 2 نومبر کو کئے جانے والے احتجاج کے حوالے سے کوئی واضح سیاسی یا انتظامی حکمت عملی نہیں ہے۔ اگر اعلیٰ ترین سیاسی سطح پر کوئی فیصلہ کئے بغیر پولیس کو مظاہرین سے نمٹنے کا فریضہ سونپا گیا تو ملک میں شدید سیاسی بحران پیدا ہو سکتا ہے۔ ایسی صورت میں وزیراعظم کو اپنا عہدہ یا جمہوریت بچانا مشکل ہو جائے گا۔
اسلام آباد ہائی کورٹ نے آج تحریک انصاف کی طرف سے دارالحکومت کو بند کرنے کے اعلانات کے خلاف فیصلہ دے کر حکومت کو قانونی اور اخلاقی فتح سے ہمکنار کیا تھا۔ لیکن اس فیصلہ کے تھوڑی ہی دیر بعد سیکٹر ای۔11 میں پاکستان تحریک انصاف کے یوتھ کنونشن پر دھاوا بول کر پولیس نے حکومت کو دفاعی پوزیشن اختیار کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔ اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس شوکت صدیقی نے تحریک انصاف کے دھرنے کے خلاف چار متفرق درخواستوں پر فیصلہ سناتے ہوئے واضح کیا تھا کہ احتجاج کرنا ہر سیاسی پارٹی کا جمہوری حق ہے لیکن اسے لوگوں کی زندگی اجیرن کرنے اور ان کے بنیادی حقوق پامال کرنے کا اختیار نہیں دیا جا سکتا۔ عدالت نے 31 اکتوبر کو عمران خان کو ذاتی طور پر پیش ہونے اور اپنے بیانات کی وضاحت کرنے کا حکم بھی دیا تھا۔ اس کے ساتھ ہی پیمرا سے کہا گیا تھا کہ وہ عمران خان کے بیانات کے وہ حصے عدالت میں پیش کرے جن میں وہ اسلام آباد شہر کو بند کرنے کا اعلان کر رہے ہیں۔ تاکہ ان سے ان کے موقف کی وضاحت طلب کی جا سکے۔
یہ فیصلہ اگرچہ ہائیکورٹ کے ایک جج نے دیا تھا اور اس کے خلاف اپیل کی جا سکتی ہے لیکن 2 نومبر کے احتجاج سے پہلے اس قسم کا عدالتی حکم تحریک انصاف کےلئے دھچکا تھا اور مشکلات پیدا کرنے کا سبب بن سکتا تھا۔ حکومت کی عاقبت نااندیشی اور اسلام آباد پولیس کی جلد بازی کی وجہ سے اب ملک بھر میں اس عدالتی فیصلہ یا اس پر تحریک انصاف کے بے بنیاد موقف پر بات کرنے کی بجائے تحریک انصاف کے نوجوانوں پر پولیس کے حملہ اور گرفتاریوں پر بحث کی جا رہی ہے۔ پولیس کارروائی کی مذمت کرتے ہوئے حکومت کو انتشار پیدا نہ کرنے کا مشورہ دیا جا رہا ہے۔ اس طرح جو صورتحال حکومت کے لئے اخلاقی طور سے معاون ہو سکتی تھی اور جس فیصلہ کا حوالہ دے کر حکومتی نمائندے یہ واضح کر سکتے تھے کہ عمران خان اور تحریک انصاف کے لیڈر عدالتی فیصلہ کو بھی ماننے پر تیار نہیں ہیں، اب اپنی انتظامی بدحواسی کےلئے دلائل لانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
عمران خان نے ہائیکورٹ کے فیصلہ کے خلاف سپریم کورٹ سے اپیل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ لیکن اس قسم کی اپیل سے قطع نظر انہوں نے یہ واضح کر دیا ہے کہ وہ بہرصورت 2 نومبر کو اسلام آباد کی طرف مارچ کریں گے۔ اب وہ شہر کو بند کرنے کی بات نہیں کرتے بلکہ یہ کہہ رہے ہیں کہ دس لاکھ لوگ جب شہر میں داخل ہوں گے تو شہری زندگی ازخود مفلوج ہو جائے گی۔ لیکن اس کے ساتھ ہی ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ وہ سفارت کاروں ، عدالتوں اور اسپتالوں وغیرہ کو کام کرنے سے نہیں روکیں گے۔ جب تحریک انصاف اپنے کارکنوں اور حامیوں کے ذریعے شہر کی گلیوں اور سڑکوں قبضہ کرنے کی بات کرتی ہے تو اتنے بڑے ہجوم کر کنٹرول کرنا اور اسے قیادت کی ہدایات کے مطابق طرز عمل اختیار کرنے پر مجبور کرنا عمران خان اور ان کے ساتھیوں کے بس میں نہیں ہوگا۔ یہ دعویٰ بھی قرین از قیاس نہیں ہے کہ تحریک انصاف اور ان کے حامی گروہ دس لاکھ لوگ اسلام آباد لا سکتے ہیں۔ حالانکہ خیبر پختونخوا میں تحریک انصاف کی حکومت ہے اور وزیراعلیٰ پرویز خٹک پوری سرکاری مشینری استعمال کرتے ہوئے زیادہ سے زیادہ لوگ دارالحکومت پہنچانے کی کوشش کریں گے۔ عمران خان کا بھی کہنا ہے کہ پارٹی اب 2014 کی طرح اناڑی نہیں ہے بلکہ اب اس نے بہت سبق سیکھا ہے اور وہ بہت منظم طریقے سے کثیر تعداد میں لوگوں کو جمع کرنے اور اپنے مطالبے منوانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ دس لاکھ کی بجائے تحریک انصاف اگر ایک سے 2 لاکھ لوگ بھی اسلام آباد لانے اور انہیں وہاں قیام کروانے میں کامیاب ہو گئی تو حکومت کےلئے سنگین مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں۔
2014 میں عمران خان کو طاہر القادری کی بھرپور حمایت حاصل تھی۔ علامہ طاہر القادری کی پاکستان عوامی تحریک کے کارکن اپنے لیڈر کے اشارے پر سڑکوں اور پارکوں میں طویل مدت تک قیام کرنے کی صلاحیت کا عملی مظاہرہ کر چکے ہیں۔ اس بار بھی علامہ طاہر القادری نے اگرچہ 2 نومبر کے احتجاج کی حمایت کی ہے لیکن ابھی تک عملی طور سے ایسے آثار دکھائی نہیں دیئے جن سے یہ کہا جا سکے کہ اس بار بھی پاکستان عوامی تحریک پرانے جوش و خروش سے اپنے کارکنوں اور ان کے اہل خاندان کو اسلام آباد پہنچنے اور وہاں پر دھرنا دینے پر تیار کرے گی۔ طاہر القادری خود بھی ملک سے باہر ہیں۔ انہوں نے ایک آدھ بیان یا ٹیلی ویژن انٹرویو کے علاوہ 2 نومبر کے مظاہرہ کے حوالے سے کسی عملی گرمجوشی کا مظاہرہ نہیں کیا ہے۔ گزشتہ بار علامہ طاہر القادری خود مظاہرین کی قیادت کر رہے تھے لیکن تب بھی دھرنے میں چند ہزار سے زائد لوگ شریک نہیں ہو سکے تھے۔ تحریک انصاف کا دھرنا تو ایوننگ کلچرل شو سے زیادہ اہمیت نہیں رکھتا تھا۔ تاہم گزشتہ بار عمران خان نے اس جارحانہ رویہ کا مظاہرہ نہیں کیا تھا، جس کا اظہار وہ اب بار بار کر رہے ہیں۔ وہ صاف لفظوں میں اپنے کارکنوں کو پولیس کے ساتھ تصادم پر آمادہ کر رہے ہیں۔ انہیں امید ہے کہ اگر امن و امان کی ایسی افسوسناک صورتحال پیدا ہوگئی جس میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کو پرتشدد طاقت کا مظاہرہ کرنا پڑا تو ان کےلئے کام آسان ہو جائے گا۔ حکومت کو اس تصادم سے بچنے اور مظاہرین سے پرامن طریقے سے نمٹنے کی حکمت عملی تیار کرنے کی ضرورت ہے۔
اسلام آباد ہائی کورٹ نے آج اپنے فیصلہ میں تحریک انصاف کو ایک مخصوص جگہ پر احتجاج کرنے اور شہر ’شٹ ڈاؤن‘ کرنے کے اقدام سے باز رہنے کا حکم دیا ہے تو جسٹس شوکت صدیقی نے اپنے فیصلہ میں حکومت کو بھی ہدایت کی ہے کہ وہ کنٹینروں اور رکاوٹوں کے ذریعے شہریوں کےلئے مشکلات پیدا کرنے کا سبب نہ بنے۔ اس حکم میں سیکرٹری داخلہ سے کہا گیا ہے کہ اسلام آباد میں کسی جگہ کنٹینر نہ لگائے جائیں۔ اسکول، کالج کھلے رکھے جائیں اور شہری زندگی بحال رکھنے کےلئے اقدامات کئے جائیں۔ عمران خان اور ان کے ساتھی سیاسی احتجاج کرتے ہوئے اگر عدالتی حکم کی خلاف ورزی بھی کرتے ہیں تو ان کےلئے زیادہ مشکل پیدا نہیں ہوگی لیکن حکومت نے اگر عدالتی حکم کے برعکس مظاہرین کے خوف سے شہر بند کرنے کےلئے اقدامات کئے تو اسے ہائی کورٹ کے حکم کی خلاف ورزی سمجھا جائے گا۔ اس قسم کا حکومتی طرز عمل سیاسی لحاظ سے بہت مہنگا ثابت ہو سکتا ہے۔ حکومت کا فرض ہے کہ وہ عدالتی حکم کے مطابق رکاوٹیں کھڑی کرنے سے باز رہے اور مظاہرے کے قائدین کو اس بات کا ذمہ دار قرار دے کہ ان کی اپیل پر گلیوں میں نکلنے والے لوگ سرکاری املاک کو نقصان نہیں پہنچائیں گے اور شہریوں کےلئے تکلیف کا سبب نہیں بنیں گے۔
حکومت کی طرف سے البتہ جو نمائندے میڈیا پر ترجمانی کےلئے آتے ہیں، ان کے لب و لہجہ سے غصہ اور جارحیت عیاں ہوتی ہے۔ اسی کا مظاہرہ آج یوتھ کنونشن کے شرکا کے خلاف کارروائی کے دوران بھی دیکھنے میں آیا ہے۔ حکومت نے اگر آج کی غلطی سے سبق سیکھتے ہوئے 2 نومبر کو پیدا ہونے والی صورتحال کا مقابلہ کرنے کےلئے کوئی قابل عمل حکمت عملی اختیار نہ کی۔ اور پولیس کو ہوشیاری سے مظاہرین سے نمٹنے کےلئے تیار نہ کیا تو اسلام آباد کی سڑکوں پر تکلیف دہ مناظر سامنے آ سکتے ہیں۔ ایسی حالت میں ملک بھر کا میڈیا حکومت کے خلاف رائے عامہ کو متاثر کرنے میں کردار ادا کرے گا۔ ابھی حکومت کے پاس پانچ چھ روز کا وقت ہے۔ یہ وقت دھمکیوں میں ضائع کرنے کی بجائے، حکومت کو مسئلہ کا سیاسی حل تلاش کرنے اور بہتر انتظامی رویہ اختیار کرنے کے بارے میں غور کرنا چاہئے۔ پاناما پیپرز سے پیدا ہونے والے شبہات کو دور کرنے کی بجائے نواز شریف کی حکومت نے غیر جانبدارانہ تحقیقات کا مسلسل راستہ روکا ہے۔ حکومت پیپلز پارٹی اور دیگر سیاسی قوتوں کے ساتھ مل کر ٹی او آرز TORs پر اتفاق رائے پیدا کر سکتی تھی تاکہ ان کے مطابق تحقیقات کا آغاز ہو سکے۔ اگرچہ حکومت نے بہت وقت ضائع کیا ہے لیکن اگر وہ اب بھی پیپلز پارٹی کے ساتھ اس بارے میں مفاہمت کرتے ہوئے قومی اسمبلی میں ٹی او آرز کا بل منظور کرلے تو عمران خان کے احتجاج کا اثر کم کیا جا سکتا ہے۔ لیکن اگر اس قسم کی سیاسی مفاہمت کا مظاہرہ کرنے کی بجائے محض اس اعلان کو کافی سمجھا گیا کہ سپریم کورٹ میں جو فیصلہ ہوگا، اسے قبول کیا جائے گا تو حکومت سیاسی دلدل میں دھنستی چلی جائے گی۔
کرپشن کے خلاف عمران خان کی آواز سے اس ملک کے کسی شہری کو اختلاف نہیں ہے۔ معاشرے کا ہر فرد کسی نہ کسی سطح پر بدعنوان اور غیر موثر انتظامی اور عدالتی ڈھانچے کے ظلم کا شکار ہوتا ہے۔ یہ تاثر بھی عام ہے کہ حکمران اپنی سرکاری حیثیت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ناجائز طور سے دولت کماتے ہیں۔ ایسے میں اگر حکمرانوں کا رہن سہن عام لوگوں کے طرز زندگی سے بالکل مختلف ہو تو ان شبہات کو تقویت ملتی ہے۔ اس شبہ کی وجہ سے غم و غصہ کی کیفیت جنم لیتی ہے جس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے، اب عمران خان حکومت گرانا چاہتے ہیں۔ عمران خان کے سیاسی عزائم سے انکار ممکن نہیں ہے۔ وہ حتمی انداز میں نواز شریف اور ان کے خاندان کو جس طرح ’چور‘ قرار دیتے ہیں اور دعویٰ کرتے ہیں کہ پاناما پیپرز نے سب کچھ ثابت کر دیا ہے ۔۔۔۔۔۔۔ اس رویہ کا بھی کوئی جواز دینا ممکن نہیں ہے۔
یہ بھی ستم ظریفی ہے کہ 2013 کے انتخاب میں اکثریت کے ووٹ لے کر برسر اقتدار آنے والے نواز شریف کی حکومت کو اب انہی عوام پر ظلم کرنے کے الزام میں سیاسی احتجاج کا سامنا ہے۔ لیکن نواز شریف اپوزیشن لیڈر کے طور پر خود بھی اسی طرز عمل کا مظاہرہ کرتے رہے ہیں۔ ملک کے سیاستدان بار بار فوجی مداخلت سے ڈسے جانے کے باوجود کوئی قابل اعتبار اور مستحکم سیاسی روایت استوار کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکے۔ 2006 میں بے نظیر بھٹو اور نواز شریف نے ’میثاق جمہوریت‘ پر دستخط کئے تھے جس میں ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھتے ہوئے مستقبل میں ایک دوسرے کی ٹانگ نہ کھینچنے کا عہد کیا گیا تھا۔ لیکن 2008 کے انتخابات میں پیپلز پارٹی کی کامیابی کے بعد مسلم لیگ (ن) نے اس معاہدے کا احترام کرنا ضروری نہیں سمجھا۔ 2013 میں سیاسی کامیابی حاصل کرنے کے بعد بھی نواز شریف نے اہم سیاسی پارٹیوں کے ساتھ مل کر کوئی قابل عمل لائحہ عمل تیار کرنے کی کوشش نہیں کی۔ وہ ہر معاملہ میں من مانی کرتے ہیں۔ لیکن مشکل کے وقت سیاسی تعاون کی خواہش رکھتے ہیں۔
مایوس عوام اور ناراض اپوزیشن کی وجہ سے پیدا شدہ ماحول میں حکمرانوں پر واجب ہے کہ ان کا کردار شفاف ہو اور وہ اپنے ذاتی مالی معاملات کے بارے میں دیانتداری سے معلومات سب کے معائنہ کےلئے پیش کریں۔ میڈیا اور سوشل میڈیا کی ترقی کی وجہ سے بھی اب عام آدمی نت نئی معلومات تک رسائی حاصل کرلیتا ہے۔ ایسے میں اگر حکمران پرانے ہتھکنڈے اختیار کرتے ہوئے لوگوں کو اندھیرے میں رکھنا چاہیں گے تو وہ اس میں کامیاب نہیں ہو سکتے۔ 2 نومبر کو ہونے والا احتجاج اسی بدلتی ہوئی دنیا کی خبر دے رہا ہے۔ جو لوگ عمران خان کو غلط سمجھتے ہیں اور ان کے طریقوں سے اتفاق نہیں کرتے ، وہ بھی نواز شریف اور ان کے خاندان کی مالی پارسائی کی قسم نہیں کھا سکتے۔ مسلم لیگ (ن) اور ان کے قائدین کو اسی سفاک حقیقت کا سامنا ہے۔
