پرانی نمائش، مانوس گلیاں، نامانوس مناظر


\"asif-farrukhi_1\"میرا وہاں جانے کا ارادہ نہیں تھا۔ ایسی جگہوں پر کوئی جان بوجھ کر جاتا ہے؟

میں کہیں اور جا رہا تھا۔ کسی اور جگہ سے نکلا تھا کہ اپنے آپ کو وہاں سے گزرتے ہوئے پایا۔ ہاں، یہی اصل صورت حال ہے جو پیش آئی۔

ایک جگہ سے کسی اور جگہ پہنچنے کے لیے ایسا ہی کا راستہ اختیار کرنا پڑتا ہے۔ اس شہر کی آبادی کہیں سے کہیں پہنچ گئی، رقبہ پھیل گیا لیکن پھر بھی کراچی میں کہیں جانے کے لیے نکلو ایک جگہ کو دوسری جگہ سے ملانے والے راستے وہی چند ایک ہیں۔ اتنے عرصےمیں متبادل راستے نہیں بن پائے۔ اس لیے آپ جانا نہ چاہیں تب بھی آپ کو پرانی نمائش سے ضرور گزرنا پڑتا ہے، جیسے میرے ساتھ اس وقت ہوا۔

چلتی ہوئی گاڑی میں مجھے اونگھ آجاتی ہے۔ اس وقت ایسا ہو سکتا تھا، مگر ہوا نہیں۔ لیکن بہت دیکھے بھالے راستے کی یکسانیت کی وجہ سے میں دیکھتے ہوئے بھی نہیں دیکھ رہا تھا کہ اچانک چونکا__ ارے یہ تو پرانی نمائش ہے، میں یہاں کہاں آ گیا۔ لیکن اب آگیا تو وہاں سے گزرنا پڑا اور اس نمائش سے آنکھیں بند کرکےنہیں گزرا جا سکتا۔

دیکھتی آنکھوں کو پرانی نمائش بہت اجنبی، نامانوس، ضرورت سے زیادہ بے تُکی اور گنجان، بہت زدہ حال معلوم ہوئی، اتنی بُری لگی کہ مجھے تکلیف سی ہونے لگی۔ اس کا یہ حال بنا دیا گیا ہے، کیوں اور کیسے؟

لیکن اب ایسا بھی نہیں کہ مَیں نے جب دیکھا تو کوئی بہت اچھے حال میں دیکھا تھا۔ ہاں لیکن بہت دیکھا۔ تقریباً ہر روز ہی وہاں سے گزرنا پڑتا تھا۔ وہ میرے لیے بچپن کے وقت سے کراچی کی ایک جانی پہچانی نشانی تھی۔ وہاں کون سی نمائش لگی تھی؟ یہ معلوم کرنے کی میں نے کوشش بھی نہیں کی لیکن یہ اندازہ ہوگیا تھا کہ یہ ایک طرح \"053\"کی سرحد ہے، ایک علاقے اور دوسرے علاقے کے درمیان۔ گرومندر کی طرف سے آئو یا خداداد کالونی والے راستے سے__ جس کی تب شکل ہی کچھ اور تھی__ قائد اعظم کے مقبرے کے بعد یہ جگہ ایک طرح کی نشانی تھی کہ اب ایک طرف سے صدر آئے گا، یہاں ایمپریس مارکیٹ سے آگے جاکر میرے اسکول کی ڈیڑھ سو سالہ عمارت۔ اگر مُڑے نہیں اور سیدھے چلے جائیں تو بندر روڈ پر پہنچ جائیں گے جس کے نزدیک میرا کالج ہوا کرتا تھا۔ پرکار کے مرکز کی طرح اس پرانی نمائش سے راستے چاروں طرف کو جاتے ہیں۔

اسی کے حوالے سے میں نے کراچی کے ان پرانے راستوں پر چلنا اور گھومنا شروع کیا۔ چوراہے کے ایک طرف سماعت اور گویائی سے محروم بچّوں کا اسکول تھا۔ یہ

راستہ لائنز ایریا کے اندر نکل جاتا تھا اور مجھے یاد ہے ایک زمانے میں پکوان اور مٹھائی کی دکانوں سے پٹا پڑا تھا۔ وہ مٹھائیاں جو باقی شہر میں ڈھونڈے سے ملتی تھیں، یہاں تھال کے تھال سجے نظر آتے۔ اندرسے کی گولیاں، لُقمیاں، گُجیاں، پیٹھا، میسوپاک، میٹھی ٹکیاں، قلاقند۔۔۔ پرانے موسموں کی برف کی طرح جانے یہ سب کہاں گئے۔ جیکب لائنز میں کھپریل والے مکانوں کے درمیان وہ مشہور مسجد تھی اور لڑکیوں کا اسکول جہاں سے میری والدہ نے پڑھا تھا۔

دوسری طرف بریٹو روڈ جہاں سے گارڈن کو راستہ جاتا تھا۔ آغا خان کا جماعت خانہ نمایاں نظر آتا تھا اور اس سے پہلے سولجر بازار، سُنا ہے وہاں پرانا مندر اب بھی \"745d2014865f4661e9f030883d9d8738\"موجود ہے لیکن عمارتوں کے درمیان کھو گیا ہے۔ اس سے ذرا آگے خاموش، صاف ستھری گلیوں میں سینٹ لارنس چرچ اور میرے عزیز دوست میلون کا گھر ہوا کرتا تھا جس کو مسمار کرکے اس جگہ کو فلیٹوں کی دیوار میں چُن دیا گیا ہے۔ سولجر بازار میں وہ ہیومیوپیتھک ڈاکٹر کا مطب تھا جن کی میٹھی میٹھی گولیوں میں بچپن کے نہ جانے کون کون سے آزار رفع ہوئے۔ اس کے قریب ہولی فیملی اسپتال اور پارسی کالونی کے ہوا دار، کُھلے کُھلے بنگلے جو اب بھوتوں کی بستی میں تبدیل ہوگئے ہیں۔ اکا دکا مکانوں میں کوئی بوڑھا پھونس بیٹھا ہوا ہے۔ بندر روڈ سے آمدورفت روکنے کے لیے کسی جلوس کی حفاظت کےلیے جو کنٹینر لگائے گئے تھے، ان کو پھر اٹھایا نہیں گیا۔ میں نے کئی دفعہ ان خوب صورت مکانوں کے درمیان گھومنے کی کوشش کی لیکن کیا کروں، راستہ نہیں ملا۔

پرانی نمائش کے ان ہی مکانوں میں شمیمہ خالہ کا گھر بھی تھا۔ پرانی وضع کی عمارت، ان بھورے مٹیالے پتھروں سے بنی ہوئی جو تقسیم سے پہلے کراچی میں عام تھا اور جس کی مضبوطی کی وجہ سے یہ عمارتیں اب تک باقی رہ گئیں۔ اونچی چھت اور موٹی موٹی دیواروں والا گھر آج بھی میرے حافظے میں قائم ہے۔ مدّت ہوئی کہ شمیمہ خالہ اپنے مخصوص سلیقے اور خوش طبعی کے ساتھ اس دنیاسے رُخصت ہوگئیں۔ ان کا گھر خالی ہوگیا لیکن بہت دنوں تک نظر آتا رہا کیوں کہ ایک نجی ٹی وی چینل نے اس کو اپنے ڈراموں کی شوٹنگ کے لیے استعمال کیا۔ میرا بہت جی چاہتا ہے کہ اس مکان کی خیریت پوچھوں لیکن اس گلی کے کونے پر ایک بینک کا جگ مگ کرتا اشتہار اور گاڑیوں کا شوروم جیسے راستہ روک لیتے ہیں۔

آج اتنے دنوں بعد وہاں سے گزرا تو وہ گلی اور اس کے مکان مجھے پہچاننے کے لیے تیار نہیں تھے۔ ایک سوکھا پیڑ کھڑا تھا جس کی خشک ٹہنیوں پر کسی نے کپڑے کا \"4920b61aefe79e1f487b99b11e24e616\"بینر باندھ دیا تھا: ۳ مہینوں میں شوگر سے مکمل نجات۔ اس کے تنے پر دوسرا اعلان پیوست تھا: مجلس عزاء شب۔

لیکن ایک یہی درخت کیوں؟ ہر طرف جیسے اشتہار، بینرز، بل بورڈز جیسے زمین کے چپّے چپّے سے پھوٹے پڑ رہے تھے اور چیخ چیخ کر اعلان کررہے تھے:

قسطوں پر جنریٹر۔

فری لنگر۔

مجلس عزاء و شب گریہ۔

میّت بس سروس۔

فلاں پکوان۔ برگر پوائنٹ۔\"54240ad4317ba\"

برآمدگیِ تابوتِ بیمارِ کربلا۔

جیسے ایک شور ہے جس میں کان پڑی آواز سنائی نہیں دیتی اور ہر ایک آپ کو اپنی طرف کھینچ رہا ہے، توجّہ میں حصّہ ہٹانا چاہتا ہے۔

ان سب کو چھوڑ کر میں اس طرف دیکھ رہا ہوں جہاں فٹ پاتھ ہونا چاہیے تھی۔ وہاں ریت کی بوریاں ڈھیر کرکے مورچہ سا بنا دیا گیا ہے__ واقعی یہ شہر کے بیچوں بیچ ہے__ اوران بوریوں کی قطار کے پیچھے ایک طویل بورڈ__ دسترخوان امام حسنؓ ۔ آپ سوچ سکتے ہیں کہ کیا اس دسترخوان کو حفاظت کے گھیرے میں لے لیا گیا ہے؟

اس کے قریب ہی دھات کی چادروں کا ایک کائونٹر بنا ہوا ہے جس کے اوپر اونٹ کی تصویر نمایاں ہے۔ غذائیت سے بھرپور، صحت بخش اور خالص۔۔۔ اس کے نیچے جلی حروف میں پینٹ کر دیا گیا ہے__ اونٹنی کا دودھ۔

اس کی خصوصیات بیان کی جارہی ہیں، ایک نئی دریافت کی طرح اس کو پیش کیا جارہا ہے، مبادا آپ یہ سمجھ بیٹھیں سائنسی دریافت و تحقیق میں ہمارے ملک نے ترقّی \"fa49d79b243bb666_large-jpgoriginal\"نہیں کی۔

وہاں جو لوگ کھڑے ہوئے ہیں، میں ان سے بہت کچھ پوچھنا چاہتا ہوں۔ لیکن ٹریفک کا ریلا ہے اور میرے عین کانوں کے قریب ایک رکشے والا اپنا بھونپو بجائے جارہا ہے۔

سڑک کے دوسری جانب میری نظر پڑی ہے تو لوہے کا پنجرہ فٹ پاتھ پر نصب ہے۔ اس میں تین چار بکرے بیٹھے ہوئے ہیں۔ صورت سے مریض نظر آرہے ہیں۔ لیکن وہ تو مریضوں کے لیے ہیں۔ صدقے کے بکرے، اوپر بینر لگا ہوا ہے۔ ایک فلاحی ادارے کا نام اور ٹیلی فون نمبر ہے۔ فوراً ٹیلی فون کیجیے اور ہاتھ کے ہاتھ بکرا صدقہ کرکے ثواب دارین حاصل کیجیے۔

دنیا اور آخرت دونوں کی نیکیاں کراچی میں بھلا اور کس جگہ مل سکتی ہیں، میں فحر سے اپنا سینہ پُھلانے کی تیاری کرنے لگتا ہوں۔ خصوصی بچّوں کے اسکول پر نظر پڑتی ہے، وہ بھی ایک بڑی سی مسجد کی گلابی دیواروں کے سائے تلے سہم سا گیا ہے۔

پتہ نہیں کیوں، مجھے ایسا لگا یہ سارا علاقہ یرغمال بن گیا ہے۔ پاکستان کے ساتھ جو کچھ ہورہا ہے، وہ اس سڑک پر نظر آرہا ہے۔ لائنیں کھینچ رہی ہیں، انقطاع واضح \"3f65097162098d1c357345f6ce7db188\"ہے۔ ریت کی بوریاں بھی رکھ دی گئی ہیں۔

اس سے زیادہ میں سوچ نہیں سکتا کہ گاڑیوں کی ایک پوری قطار مخالف سمت سے چلی آرہی ہے۔ صحیح اور غلط، ٹریفک ہر طرف سے چل رہا ہے۔ مجھے یاد آیا۔ اسی سگنل پر میرے ایک جاننے والے کا موبائل فون کسی نے پستول دکھا کر چھین لیا تھا۔

پستول کا نہیں، نالہ وشیون کا خیال آتا ہے۔ سامنے بینر پر ایک بڑا سا چہرہ ہوا میں پھٹ پھٹا رہا ہے۔ یہ سوز خوانی اور مجلس کا اشتہار ہے۔ لیکن یہ اس کے بجائے کسی صداکار کا پوسٹر معلوم ہورہا ہے۔

اس کے بالکل نیچے بلقیس ایدھی کی طرف سے لنگر کے لیے اتنی جگہ نشان زد کر لی گئی ہے۔ بڑی بڑی تصویروں کے ساتھ چھیپا ایمبولینس سروس۔ سیلانی کی مختلف سماجی خدمات کا اعلان۔ سڑک کے اتنے حصّے میں ان تمام سماجی خدمات کی یاد دہانی جن کے بغیر کراچی شہر، یتیم اور بے آسرا بن کر رہ جاتا ہے۔

اور ان کے اعلانات کے درمیان ایک بل بورڈ اپنی جانب توجّہ مبذول کراتا ہے: سنیے مجالس براہِ راست ہاٹ ایف ایم 105پر۔

مگر کیا سنیے اور کیا سر دُھنیے۔ دفعتاً اپنے دوست حارث خلیق کی ایک نظم کا ابتدائی ٹکڑا ذہن میں گھوم گیا\"OLYMPUS__

پرانی نمائس سے آگے

کبھی شہرِ شوریدہ سرکی

طویل اور پرانی، کلیدی سڑک

جام ہونے کا امکان ہوتا

تو ساری بسیں، گاڑیاں اور رکشے

نمائش سے پہلے کی لاچار گلیوں میں

بے خوف گھومتے ہی جاتے

اور ان تنگ گلیوں کا ظرف آزماتے۔۔۔\"563456\"

اس نظم کا نہیں لیکن جس مجموعے میں اسے شامل کیا گیا تھا، اس کا یہی نام تھا__ پرانی نمائش۔

پھر اس پر مجھے ایک اور شاعر یاد آتا ہے، جس نے لکھا تھا:

ہستی اپنی حباب کی سی ہے

یہ نمائش سراب کی سی ہے

مجھے یقین ہے کہ میرتقی میرؔ کبھی نہ کبھی کراچی ضرور آئے ہوں گے اور یہ شعر اسی نمائش کے لیے کہا ہوگا__ پرانی نمائش۔ ہوسکتا ہے کہ وہ یہاں بس کے انتظار میں کھڑے ہوں اور انہیں بہت دیر سے پتہ چلا ہو کہ یہ بس اسٹاپ برائے نام رہ گیا ہے۔

Facebook Comments HS