لا قانونیت، فریب اور بیچارے عوام!

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

گذشتہ دنوں چیف جسٹس آف پاکستان مسٹر جسٹس گلزار احمد نے پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی کے بارے میں بعض بہت ہی اہم ریماکس دیے اور فیصلے بھی جاری کیے ہیں۔ ان فیصلوں کا تعلق سرکاری یا مختلف اداروں کی زمینوں پر قبضے، نا جائز تجاوزات اور غیر قانونی طور پر تعمیر کی گئی بڑی بڑی عمارتوں سے ہے۔ جناب چیف جسٹس نے بڑی سختی سے احکامات جاری کیے ہیں کہ ایسی تمام عمارات گرا دی جائیں اور زمینیں ناجائز قابضین سے واگزار کرائی جائیں۔

انہوں نے کراچی سر کلر ریلوے پر بنا لی گئی عمارتوں، پٹرول پمپوں اور دیگر تعمیرات کو بھی صاف کرنے کا حکم دیا ہے۔ جناب چیف جسٹس نے حیرت کا اظہار کیا کہ سرکاری ادارے کسی ضابطے اور قانون کے بغیر اپنی زمینیں دوسروں کو لیز پر دے رہے ہیں؟ انہوں نے سوال کیا کہ کیا میں بطور چیف جسٹس سپریم کورٹ کی ملکیتی زمینیں بیچنا یا بانٹنا یا لیز پر دینا شروع کر دوں؟ جناب چیف جسٹس کو مختلف وکلاء نے بتایا کہ ایسی عمارتیں بھی ہیں جہاں سینکڑوں لوگ مقیم ہیں تو جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ حکومت ایسے افراد کے لئے ضروری انتظام کرئے۔ زمینیں دوسروں کو دینے کے بجائے عام لوگوں کے لئے رہائشی کا لونیاں بنائے۔

جناب چیف جسٹس نے ایک نہایت اہم مسئلے کی طرف توجہ دلائی ہے۔ یہ مسئلہ کراچی میں یقینا اپنی حدوں سے بہت آگے نکل چکا ہے۔ شہر کا شہر تجاوزات اور ناجائز عمارتوں سے بھرا پڑا ہے۔ لیکن یہ مسئلہ پاکستان کے ہر شہر بلکہ ہر قصبے میں موجود ہے۔ لوگوں کی زمینوں پر قبضے ہو جاتے ہیں، ناجائز عمارتیں بن جاتی ہیں، بڑی بڑی رہائشی کالونیاں تشکیل پا جاتی ہیں، ان کالونیوں میں ہزاروں لوگ سرمایہ کاری کر دیتے ہیں اور کچھ عرصے بعد پتہ چلتا ہے کہ یہ سب کچھ غیر قانونی تھا۔

ہم جگہ جگہ کئی کئی منزلہ ادھوری اور نامکمل عمارتیں بھی دیکھتے ہیں، جو برسوں تعمیر ہوتی رہیں اور پھر اچانک رک گئیں۔ ان عمارتوں میں پیسہ لگانے والے لوگ برس ہا برس سے دھکے کھا رہے ہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب ہر طرح کے قوانین، ہر طرح کے ضابطے اور ان پر عمل کرنے والے بڑے بڑے سرکاری ادارے موجود ہیں تو ایسا کیونکر ہوتا ہے کہ تجاوزات بھی ہو جاتی ہیں، کالونیاں بھی کھڑی ہو جاتی ہیں، عمارتیں بھی بن جاتی ہیں اور تمام اداروں کی آنکھوں پر پٹیاں بندھی رہتی ہیں۔ ایسے اداروں کی ملی بھگت کے بغیر یہ سب کچھ کیسے ہو جاتا ہے؟ اور اگر ہو جاتا ہے تو وہ سزا سے کیسے بچ جاتے ہیں؟

اس سنگین مسئلے یعنی متعلقہ اداروں کی نا اہلی یا چشم پوشی کے اور بھی کئی افسوسناک نمونے موجود ہیں۔ مثال کے طور پر ہم آئے روز سنتے ہیں کہ فلاں تعلیمی ادارہ، فلاں میڈیکل کالج، فلاں لاء کالج، فلاں یونیورسٹی کا فلاں کیمپس غیر قانونی ہے اور کہیں رجسٹرڈ نہیں۔ اب دیکھیے کہ کیا یہ ادارے راتوں رات بن جاتے ہیں؟ اور بن جاتے ہیں تو کیا سینکڑوں یا ہزاروں طلبہ و طالبات چشم زدن میں داخل ہو جاتے ہیں؟ ان اداروں کے بڑے بڑے اشتہارات چھپتے ہیں۔

ان کی پیشانیوں پر بڑے بڑے بورڈز آویزاں ہوتے ہیں۔ ان کے ہاں بڑی بڑی تقریبات ہوتی ہیں، جہاں اعلیٰ عہدوں پر فائز سرکاری اہلکار یا وزراء شرکت کرتے ہیں۔ یہ بڑی بھاری فیسیں لیتے اور کروڑوں میں کھیلتے ہیں۔ کچھ عرصہ بعد جب طلبہ بورڈ یا یونیورسٹی کا امتحان دینے کو ہوتے ہیں تو پتہ چلتا ہے کہ یہ ادارے تو رجسٹرڈ ہی نہیں۔ طلبہ و طالبات اور ان کے والدین واویلا کرتے ہیں تو لیپا پوتی قسم کی کچھ کارروائی ہو جاتی ہے۔

ہم ایسی خبریں بھی تواتر سے سنتے رہتے ہیں کہ فلاں سرمایہ کاری کمپنی نے فراڈ کر دیا۔ ہزاروں لوگوں کی جمع پونجی لٹ گئی۔ یہ کمپنیاں بڑے بڑے مقدس ناموں پہ کھلیں۔ بہت ہی نیک نام افراد ان کے سر پرست بتائے گئے۔ اچھے منافع کا لالچ دے کر عوام سے کروڑوں بلکہ اربوں روپے بٹور لئے گئے۔ جب دہائی مچی تو سویا ہوا قانون حرکت میں آیا۔ کچھ پکڑ دھکڑ ہوئی۔ کچھ مقدمات چلے۔ کچھ رقوم برآمد ہوئیں، لیکن آج بھی ہزاروں لوگ ڈوبے ہوئے سرمایے کے لئے دھکے کھا رہے ہیں۔

کوئی پوچھے کہ جب یہ سب کچھ ہو رہا تھا اور بڑے دھڑلے سے ہو رہا تھا تو قانون نافذ کرنے والے متعلقہ ادارے کہاں تھے؟ انہوں نے بر وقت کارروائی کیوں نہیں کی؟ یہ غیر قانونی کاروبار کھلے بندوں مہینوں بلکہ سالوں کیوں چلتا رہا؟ اسی سے ملتا جلتا معاملہ ”ڈبل شاہ“ قسم کے کرداروں کا ہے۔ یہ لوگ کھلے عام اپنا کاروبار چلاتے ہیں۔ لوگوں کو فریب دیتے ہیں۔ ان سے رقم دگنی کرنے کے لالچ میں بھاری رقوم وصول کرتے ہیں۔

سادہ لوح، بلکہ اچھے خاصے پڑھے لکھے لوگ ان کے جال میں آ جاتے ہیں اور پھر سب کچھ لٹا بیٹھتے ہیں۔ یہ سب کچھ جب ہو رہا ہوتا ہے، خبریں چھپ رہی ہوتی ہیں، ڈبل شاہ کے ڈیرے پر بھیڑ لگی رہتی ہے، تب قانون کی آنکھوں پر کیوں پٹی بندھی رہتی ہے؟ بلکہ خود قانون نافذ کرنے والوں کے اہلکار بھی کیوں ان ڈبل شاہوں کے ہاں سرمایہ کاری کرتے رہتے ہیں؟

اسی طرح کی نہایت افسوسناک خبریں ایسی بھی آتی ہیں کہ اتنے پاکستانی فلاں ملک کی سرحد غیر قانونی طور پر عبور کرتے ہوئے پکڑے گئے اور اب جیل میں ہیں۔ فلاں جگہ پاکستانیوں سے بھری ایک لانچ ڈوب گئی، یہ لوگ غیر قانونی طور پر فلاں ملک میں داخل ہونے کی کوشش کر رہے تھے۔ سعودی عرب، خلیج کی ریاستوں اور دیگر ممالک سے گذشتہ تین برس کے دوران ساڑھے چار لاکھ پاکستانیوں کو گرفتار کر کے پاکستان واپس بھجوایا گیا ہے۔ یہ سب کے سب غیر قانونی طور پر وہاں مقیم تھے۔

صرف سعودی عرب سے چالیس ہزار پاکستانیوں کو نکالا گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر میں پاکستانی پاسپورٹ اپنی وقعت کھو چکا ہے اور بدترین پاسپورٹس کی فہرست میں شامل ہے۔ سوال یہ ہے کہ یہ کون لوگ ہیں جو عوام سے فریب کرتے، ان سے لاکھوں روپے بٹورتے اور غیر قانونی طور پر یورپ یا کسی اور ملک میں سمگل کرتے ہیں۔ کیا یہ لوگ مریخ پر بستے ہیں؟ کیا کھلے عام انہوں نے اپنے دفاتر نہیں کھول رکھے؟ کیا ان کی کارروائیاں اس قدر خفیہ ہوتی ہیں کہ قانون کی آنکھ انہیں دیکھ نہیں سکتی؟ سب جانتے ہیں کہ ان کا کاروبار کیسے چل رہا ہے۔ ان کے نام پتے سب کو معلوم ہیں۔ لیکن کوئی کارروائی نہیں ہوتی؟ ہاں جب کوئی ایک واقعہ ہو جاتا ہے، جب کسی کنٹینر سے پاکستانیوں کی لاشیں برآمد ہوتی ہیں تو ہلچل مچتی ہے اور کچھ ہی عرصے بعد صرف خاموشی چھا جاتی ہے بلکہ دھندہ پھر سے جاری ہو جاتا ہے۔

مجھے ایک اور مسئلے کے بارے میں متعلقہ اداروں کی بے حسی پر نہایت افسوس ہوتا ہے۔ آپ بھی دیکھتے ہوں گے کہ ایسے بنگالی بابوں، عاملوں، کالے جادو کے ماہرین اور نام نہاد پیروں کے اشتہارات چھپتے رہتے ہیں جو ہر ناممکن کو ممکن اور ہر مشکل کو آسان بنانے کا دعویٰ کرتے ہیں۔ بعض قومی اخبارات کے تو پورے صفحات ایسے دھوکہ بازوں کے اشتہارات سے بھرے ہوتے ہیں۔ ان اشتہارات میں تقدیریں بدل ڈالنے کے ان دعویداروں کے نام، پتے، دفاتر کی تفصیلات حتیٰ کہ ٹیلی فون نمبر بھی درج ہوتے ہیں۔

فریب کا یہ کاروبار کھلے عام چل رہا ہے۔ کوئی نہیں پوچھتا۔ جب کوئی حادثہ ہو جاتا ہے، کسی کی عزت لٹ جاتی ہے، کوئی اپنی ساری جمع پونجی سے محروم ہو جاتا ہے تو کسی ایسے ہی عامل کو پکڑ لیا جاتا ہے۔ اسے ہتھکڑیوں کے ساتھ دکھایا جاتا ہے۔ کوئی چھوٹا موٹا مقدمہ درج ہوتا ہے اور بس۔ یہ فریب خانے جوں کے توں چلتے رہتے ہیں۔ یہی صورتحال سنیاسیوں، جعلی حکیموں اور نام نہاد معالجوں کی ہے۔

کس کس بات کا رونا رویا جائے۔ کسی بچے کی گردن کٹتی ہے تو گلی میں پتنگ اڑانے والا پکڑا جاتا ہے۔ پتنگیں کہاں بن رہی ہیں؟ کس طرح تھوک کے بھاؤ مارکیٹ میں آ رہی ہیں؟ کس طرح چھوٹی بڑی دکانوں تک پہنچتی اور بکتی ہیں؟ یہ کسی کا درد سر نہیں۔ کھانے پینے کی چیزوں میں ملاوٹ کا یہی حال ہے۔ جعلی کتابیں چھپ رہی ہیں۔ جعلی ڈگریوں کا کاروبار ہو رہا ہے۔ یوں لگتا ہے جیسے اس ملک میں کوئی ادارہ ہے ہی نہیں۔ جناب چیف جسٹس کی کراچی پر توجہ بجا لیکن ان سرکاری کارندوں کا محاسبہ ضرور ہونا چاہیے جن کی ملی بھگت سے کئی کئی منزلہ عمارتیں کھڑی ہو گئیں۔ ان لوگوں کا کیا قصور ہے جنہوں نے فلیٹس خریدے اور آج بچوں سمیت ان میں رہ رہے ہیں۔ اسی طرح محاسبہ ان اداروں کا ہونا چاہیے جن کی سرپرستی میں طرح طرح کے جرائم پیشہ گروہ پرورش پا رہے ہیں اور کئی کئی برس سے عوا م کو لوٹ رہے ہیں۔

۔ ۔

بشکریہ روزنامہ نئی بات

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *