کلماں چھوٹیاں رکھاں کہ وڈیاں؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

صنعت کے بطن سے جنم لینے والے انقلاب کی وجہ سے روایتی پیشے، ہنر، کاروباری مراکز یا پیسہ کمانے کے طریقے بدل گئے اور اس تبدیلی نے ہر معاشرے کو بے چینی اور خلفشار کا شکار کر دیا۔ پیسہ کمانے کے طور طریقے بدلنے سے معاشروں میں روایتی افراد اور پیشوں کی سماجی حیثیت شدید متاثر ہوئی اور اثر رسوخ، نام اور پیسہ صنعت کار لے اڑے۔ اس سماجی تبدلی کی زد میں کئی معاشرتی کردار اور پیشے بھی وقت کے گرداب میں کہیں گم ہو گئے۔

یاد رکھیں انسانی سماج میں مختلف قسم کے صد ہا پیشے اور روزگار ہوتے ہیں اور ہر پیشے کا مخصوص نام ہوتا ہے۔ یہ پیشہ یا روزگار علمی بھی ہوتا ہے، خاندانی بھی اور ہنر و فن کے ساتھ ساتھ ثقافتی اور روایتی بھی۔ گزرتا وقت بہت سی چیزوں کو بدل دیتا ہے، کئی چیزوں کی اہمیت کم ہو جاتی ہے یا ان کی جگہ نئی چیزیں لے لیتی ہیں، اور ان سے منسلک افسانوی پہلو وقت کی دھول میں کھو جاتا ہے۔ جس طرح ”نائی“ اپنی بنیادی شناخت کو ختم کرکے مختلف طبقوں میں تقسیم ہو گئے۔

بیس پچیس سال قبل تک حجام ”نائی“ کے نام سے جانے جاتے تھے اور ذات برادری سے مشہور ہونے کے ساتھ ساتھ بال کاٹنا، دیگوں کی پکوائی، شادیوں کے سندیسوں کو پہنچانا اور بچو ں کے ختنوں کے کام سے وابستہ تھے۔ لیکن اب ایونٹ آرگنائزر، پکوان سنٹر، ہیئر ڈریسر، بیوٹی پارلرز، مساج سنٹرز، بیوٹی سیلون، میک اپ آرٹسٹ اور دیگر مختلف ذرائع سے اپنی ثقافت کو ختم کر رہے ہیں۔

کچھ لمحے، کچھ باتیں صرف محسوس کی جاسکتی ہیں ان کا رنگ دل کی آنکھ سے جاملتا ہے اور ہر بات آیت کی طرح اترتی چلی جاتی ہے۔ ایک زمانہ تھا جب ایک ہی بندہ نومولود بچے کی جھنڈ بھی اتارتا تھا اور لگے ہاتھوں نومولود لڑکے کا ختنہ کرکے مسلمان بھی کردیتا تھا۔ جس کے بعد رنگ برنگے مربعوں والی زردے کی دیگ بھی یہی نائی پکاتا تھا۔ اس طرح بچے کو جنم دینے والے والدین کے بعد اس کی شروع ہونے والی زندگی میں ایک اہم کردار محلے کی اِس نائی کا ہوتا تھا جس سے حجامتیں بنواتا بنواتا پیدا ہونے والا بچہ شیو کروانے والا مکمل مرد بن جاتا۔

دنیا کا قدیم ترین پیشہ ”حجامت“ (بال تراشنا) حالات کے بدلتے رخ کے باوجود کبھی تنزلی کا شکار نہیں ہوا۔ گزرتے وقت کے ساتھ اس پیشے میں جدید ٹیکنالوجی کا استعمال بڑھ گیا اور یہ پیشہ مذید عروج کی طرف گامزن ہے۔ ماضی میں اس پیشے سے وابستہ افرا د کو لوگ نائی کے نام سے پکارتے تھے لیکن جیسے جیسے وقت بدلتا گیا اب یہ نام معدوم ہوتا جارہا ہے اب اس کی جگہ ہیئر ڈریسر نے لے لی ہے۔ اب وقت بدل گیا۔ اب حجامت کی دکان نہیں بلکہ سیلون بن گئی۔

ان سیلونز میں صرف حجامت نہیں ہوتی بلکہ مساج، ہئیر اسٹائلنگ، فیشل، بلو ڈرائے، ہئیر ڈائے، عجیب و غریب قسم کی داڑھیاں اور نجانے کیا کیا وقوع پذیر ہوتا ہے۔ بستر میں ڈھل جانے والی کرسیاں، سینیٹائزنگ مشین، ائیر کنڈیشنر، ایل ای ڈی، وائے فائے، یوٹیوب اور ساؤنڈ کلاؤڈ کا ماڈرن میوزک، اسٹائلنگ مشینیں، واشنگ کنسول، رنگ برنگے بالوں اور حلیوں والے گاریگر۔ اب ہئیر ڈریسروں نے اپنی غربت کو تیز قینچیوں اور اُستروں سے اپنے وجود سے علیحدہ کرنے کی جو جدوجہد شروع کی ہوئی ہے وہ ان کے سنگھار گھروں سے عیاں ہوتی ہے۔ جس حساب سے یہ ترقی کر رہے ہیں اس سے محسوس ہو تا ہے کہ ان کے شیئرز بھی جلد سٹاک ایکسچینج سے جاری ہونا شروع ہو جائیں گے۔

بہرحال جو افسانوی پہلو محلے کے نائی میں تھا وہ اب ان ہیر ڈریسروں میں نظر نہیں آتا۔ ہر محلے میں ایک خاندانی نائی کی چھوٹی سی دکان ضرور ہوتی تھی۔ یا پھر کسی دکان کے تھڑے پہ ایک شیشہ اور بال کاٹنے کے اوزاروں کی ایک صندوق سجائے نائی بادشاہ حقہ پیتے ہوئے براجمان ہوتا۔ اس کے صندوق میں استرہ قینچی ہاتھ سے چلائی جانے والی بال کاٹنے کی مشین کے ساتھ ایک سفید رنگ کا کپڑا، کالے رنگ کا پتھر اور پھٹکری ہوتی۔ پیتل کی کٹوری کے بدلے کنارے ٹوٹی ایک چھوٹی سی چینی کی پیالی۔

صابن اوّل تو کون رکھے اور رکھا بھی تو کپڑا دھونے کے صابن کی کرچ۔ کنگھے میں گنتی کے دانتے۔ محلے کا ہر شخص اور بچہ اپنے اپنے وقت پر ان کے آگے سر جھکا کر بیٹھا ہوتا اور اس نائی کے ہاتھوں کے گھیرے میں حجامت کرانے والے کا سر یوں سج جاتا جیسے پجارن کے برنجی کاسہ میں صندل پوجا کا رکھا ہوا پھول۔ نائی کا پہلا جملہ ہوتا کہ ”مولا خوش رکھے! کلماں چھوٹیاں رکھاں کہ وڈیاں؟ لوگ بھی حجامت اور شیو کے ساتھ ناک کے بال اور بغلوں کی صفائی جھونگے میں کرواتے اور مٹھی چاپی الگ سے۔ بلکہ دیگر ضروریات کے لئے بھی استرا صرف نائی کے پاس ہی دستیاب ہوتا تھا جسے وہ باقاعدہ محلہ داروں کو مہیا کرتا۔

سارا محلہ اس کے ہاتھوں مسلمان ہوتا تھا۔ جب کوئی محلہ دار اس کے ساتھ جھگڑا کرتا تو وہ سب سے پہلا طعنہ یہی دیتا ”جُل اوئے جُل“ میں نے ہی تمہارے باپ اور تم کو مسلمان بنایا تھا، تم مجھ سے کیا بات کرتے ہو؟ مسلمان بنانے کے بعد مسلمان رکھنے کا فریضہ بھی نائی کے نازک کندھوں پر ہوتا تھا۔ باتونی ہونا، نائی اور کوچوان کی گھٹی میں شامل تھی۔ کیوں کہ دونوں انتظار کروانے کے لیے لوگوں کو باتوں میں الجھائے رکھتے۔ یہ ان کی کاروباری مجبوری تھی جو رفتہ رفتہ ان کی فطرت ثانیہ بن گئی۔ ماضی میں نائی انسانوں کی حجامت کے ساتھ ساتھ بکروں کی حجامت میں بھی ید طولیٰ رکھتے تھے۔ کئی دفعہ نائی کی دکان میں داخل ہوتے ہی یہی آواز آتی۔ بیٹا تھوڑی دیر بعد آنا ابھی فلاں کے دنبے کے بال کُترنے جا رہا ہوں۔

نائی ایک ایسا شخص ہوتا تھا جس کا قبضہ بنیادی طور پر مردوں اور لڑکوں کے بال کاٹنے کے ساتھ ساتھ شرعی تقاضا پورا کرنے اور مکمل وجہیہ مرد بنانے کے لئے استرے کے ساتھ کٹ لگانا ہوتا تھا۔ خاندانی طور پر چھوٹی موٹی جراحی کا پرمٹ بھی رکھتے تھے۔ کسی کا بازو چڑھا دیا، کسی کا نکلا ہوا پاؤں چڑھا دینا، کسی کی انگل انگوٹھے کی تکلیف کو بھی دور کرنا ان کی مہارت اور پیشہ کا حصہ تھے۔ اکثر نائیوں نے دیگیں، کرچھے، کفگیریرں اور دوسری پکانے والی اشیا اپنی دکان کے اندر ہی رکھی ہوتیں تھیں۔

گلی محلے میں کوئی وفات پاجاتا تو ختم کا کھانا پکانا بھی انہی کا کام ہوتا تھا۔ شادی بیاہ پر بلاوے کے لئے بھی ان نائیوں کو ہی تکلیف دی جاتی۔ عید اور شب برات پر علیحدہ سے بخشش دی جاتی تھی۔ یعنی علاقے کی خوشی غمی کے دوران نائی کا موجود ہونا اور فرائضِ منصبی بطریقِ احسن نبھانا ایک اہم معاشرتی فریضہ تھا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply