یوٹیوب سے تین لاکھ ماہانہ کمانے والا دیہاتی باورچی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

تاریخ شاہد ہے بڑی بڑی انقلابی تحریکیں جن سے قوموں کی تقدیریں بدل گئیں یہ نوجوانوں کے ہی دم سے اٹھی تھیں اور انہیں کے خون سے سیراب ہوکر تاریخ کے روشن باب میں رقم ہوگئیں۔

جوانی خدا کی بڑی نعمت ہے، جس کے بارے میں روزِ قیامت خاص طور پر سوال ہوگا کہ ”جوانی کن کاموں میں کھپائی؟ “

ِیہ عمر کا وہ دورانیہ ہوتا ہے جس میں انسان کی جسمانی قوت اور ذہنی صلاحیتیں عروج پر ہوتی ہیں، اس لئے جو لوگ اس کی قدر کرتے ہیں، جدوجہد و محنت کی بدولت کامیابی کا استعارہ بن جاتے ہیں اور جو اس کی بے قدری کرتے ہوئے اسے بے مقصد کاموں میں ضائع کرتے ہیں اور اس بہترین وقت کو سستی اور کاہلی میں گزار دیتے ہیں وہ ہمیشہ کے لئے گمنامی کے گڑھوں میں دفن ہوجاتے ہیں۔

آج کے دور میں کون ایسا ہوگا جسے نیک نامی کی طلب نہ ہو؟ کون ہوگا جو مالی اعتبار سے خود کو مضبوط اور معاشی اعتبار سے خود کو مستحکم نہیں دیکھنا چاہتا ہو؟ مگر چند ہی ایسے ہوتے ہیں جن کی یہ خواہش پوری ہوتی اور وہ عروج پاجاتے ہیں یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جن کے دلوں میں اس قیمتی نعمت کی قدر پیدا ہوجاتی ہے اور ان کے دل میں محنت و جدوجہد کرنے کا احساس جاگزیں ہوجاتا ہے۔

جوانی کی قدر، محنت کے جذبے کے ساتھ مستقل مزاجی اور اپنے کام کو اپنا عشق اور جنون بنا لیا جائے تو انسان کو نمایہ مقام حاصل کرنے سے کوئی نہیں روک سکتا۔

ایک بڑے دانشور سے کسی نے پوچھا عیاشی کیا ہے؟ کہنے لگے : ”جب آپ کا شوق آپ کی آمدنی کا ذریعہ بن جائے“ یہ عیاشی ہے۔

پاکستان کے کامیاب بزنس مین ملک ریاض صاحب سے کون واقف نہیں کسی نے ان سے پوچھا کہ آپ کی کامیابی اور ترقی کا راز کیا ہے؟ کہنے لگے ”محنت، مستقل مزاجی اور اپنے کام سے عشق“، ایک اور بات جو انہوں نے کہی، سننے کے لائق ہے۔ کہتے ہیں کہ میں نے ہمیشہ اپنے مال میں غریبوں کا حصہ رکھا ہے، جس دن میرے جیب میں دس روپے ہوتے اس کا بھی کچھ حصہ صدقہ کر دیتا۔

محنت اور مستقل مزاجی کی بدولت کامیابی کی مثالوں کے لئے زیادہ دور جانے کی ضرورت نہیں، پاکستان سے ہی ایک مثال لیجیے۔ مبشر صدیق میٹرک میں تھرڈ ڈویژن سے پاس ہوئے، ان کا تعلق پنجاب کے ایک دیہات سے ہے۔ یوٹیوب پہ دیسی کھانے بناکر ویڈیوز اپلوڈ کرتے، شروع شروع میں زیادہ ویورز نہیں ملتے، آخر ملتے بھی کیوں وہ کوئی پروفیشنل کک تھوڑی تھا، مگر مبشر نے ہمت نا ہاری اور مسلسل محنت کے ساتھ ڈٹا رہا اور رفتہ رفتہ اپنے دیہاتی انداز کی وجہ سے مشہور ہونے لگا آج مبشر کے تقریبا سترہ لاکھ کے قریب سبسکرائبر ہیں، جو غالبا پاکستان کے کسی یوٹیوبر کے نہیں۔ گزشتہ دنوں بی بی سی کو ایک انٹرویو دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ وہ ہر ماہ کم از کم تین لاکھ کما لیتے ہیں۔ ابھی انہوں نے اپنی گاڑی بھی خرید لی ہے، اس کے علاوہ مبشر اب ایک سیلبرٹی بن چکے ہیں جن کو لوگ اب جانتے ہیں۔

پاکستان میں ایسے محنتی اور کوشش کرنے والے کامیاب نوجوانوں کی دسیوں مثالیں موجود ہیں جنہوں نے اپنی محنت اور مستقل مزاجی کے بدولت شہرت پائی لیکن ہمارے نوجوانوں کا عمومی رویہ یہ ہے کہ وہ محنت سے کتراتے ہیں اور خواب دیکھنے ہی میں مگن رہتے ہیں۔ کوئی اگر انہیں خواب خرگوش سے بیدار کرے تو اس کے پیچھے پڑ جاتے ہیں۔

ہم اپنی ماضی پر فخر محسوس کرتے ہیں۔ ہماری تمنا ہے کہ ہمارا وہ شاندار اور سنہرا ماضی لوٹ آئے۔ ہم ماضی کے اس عروج کے خوابوں میں مست و مگن رہتے ہیں، مگر ان خوابوں میں ہم یہ دیکھنے سے قاصر ہیں کہ ماضی میں جو ہمارا افتخار تھا وہ ہمارے آباء کے تخلیقی فکر اور محنت کے باعث تھا۔

نوجوانوں کو یہ بات سمجھنا ہوگی کہ کامیابی کے لئے کوئی شارٹ کٹ نہیں۔ اس کا راستہ محنت سے ہوکر ہی گزرتا ہے اس لئے اگر کچھ بننا ہے تو مستقل مزاجی سے محنت میں جت جائیں۔ یقینا اس دوران مشکلات بھی آئیں گی۔ آغاز میں ناکامیوں کا سامنا بھی کرنا پڑے گا، مگر یہ سوچتے ہوئے کہ ”ع غموں کی دھوپ کے آگے خوشی کے سائے ہیں“ ڈٹے رہنا ہوگا پھر وہ وقت دور نہیں جب کامیابی آپ کے قدم چومنے لگے گی۔

آج پاکستان کی آبادی کا 64 فیصد حصہ نوجوانوں پر مشتمل ہے۔ یہ نوجوان آگے بڑھ کر اگر زمام قیادت کو تھام لیں تو وہ وقت دور نہیں جب پاکستان دنیا کی قیادت کرنے لگے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
نجیب اللہ ابن نور کی دیگر تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *