مافیاز کا خاتمہ آج نہیں تو کبھی نہیں!
ملک اور معاشرے کی ترقی کے لئے اچھی اور مؤثر حکمرانی بہت ضروری ہے، مہذب قومیں اپنی اقدار کی نہ صرف قدر کرتی ہیں، بلکہ ان کی حفاظت کے لئے بھی ہر وقت کوشاں رہتی ہیں۔ آج کی بدلتی اور ترقی کرتی ہوئی دُنیا میں اپنا مقام پیدا کرنے کے لئے مہذب اصولوں پر کاربند رہنا انتہائی اہم ہے۔ اچھی حکمرانی صرف فلاح و بہبود اور نئے قوانین بنانے کا نام ہی نہیں، بلکہ پہلے سے موجود قوانین پر مؤثر اور سختی سے عمل کرانے کا نام بھی ہے۔
ناجائز تجاوزات اور قبضہ مافیا بھی ایک ایسی ہی لعنت کا نام ہے جس نے ہمارے تشخص کو بہت بُری طرح متاثر کیا ہے۔ آج ملک کا ہر شہر اور قصبہ اس وبا سے متاثر نظر آتا ہے۔ اس مرض کے پھیلنے میں سب سے بڑی وجہ متعلقہ حکومتی اداروں اور محکموں کی چشم پوشی ہے جو نہ صرف اپنے فرائض سے رُوگردانی کرتے ہیں، بلکہ اس طرح کے عناصر کی پشت پناہی بھی کرتے ہیں۔ لینڈ مافیا نے ملک کے طول و عرض میں اپنے بے پناہ وسائل اور موثر سیاسی و سرکاری رسوخ کے باعث کھربوں کی سرکاری وغیر سرکاری اراضی پر ناجائز قبضہ جما رکھا ہے۔
یہ قبضہ گروپ معاشرے میں متعدد سماجی و معاشی نا انصافیوں اور مظالم کے فروغ کا باعث بنے رہے ہیں، ان کا طریق واردات انتہائی گھناؤنا وحشیانہ اور ظالمانہ ہوتا ہے۔ ہر حکومتی ادوار میں حکمرانوں کی جانب سے انہیں سیاسی و سول بیوروکریسی کی پشت پناہی حاصل رہی، اس خوفناک ملی بھگت کانتیجہ ہے کہ یہ سنگین جرم آکاس بیل کی طرح پھیلتاچلاگیا اور آج حالت ایسی ہے کہ کوئی صاحبِ جائیداد شخص قبضہ گروپ کے گھناؤنے وار سے نہیں بچا ہے۔
اسی وجہ سے اڑھائی عشروں میں سیکڑوں جرائم پیشہ اور سماج دشمن عناصر راتوں رات لکھ پتی اور کروڑ پتی بن گئے ہیں۔ اگر حکومت قبضہ گروپ کے خلاف سنجیدہ اور نتیجہ خیز کارروائی کرنے کے باب میں مخلص ہوتی تو اسے لا محدود جھنجھٹ میں پڑنے کی بجائے صرف اس امر کا جائزہ لینے کے لئے محب وطن، ذمہ دار اور دیانت دار شہریوں پر مشتمل ایک انکوائر ی کمیشن قائم کرنا چاہیے تھا اور اس کی رپورٹ کی روشنی میں بلا امتیاز کارروائی کرتے ہوئے مجرموں کو نشان عبرت بناتے ہوئے لینڈ مافیا کو جڑسے ختم کرنے کی ضرورت تھی، مگر مصلحت اور سیاسی مفادات آڑے آتے ہیں۔ اگرحکومت واقعی کرپٹ مافیاز کا سدباب کرنا چاہے تو ایک موثرمخلصانہ کوشش سے مختصر ترین عرصہ میں کروڑوں، اربوں اور کھربوں کے اثاثوں کے مالک بن جانے والے افراد اور طبقات کے چہروں پر پڑے سیاسی وقار، سماجی وجاہت اور معاشی ہیبت کے نقاب سرکائے جاسکتے ہیں۔
یہ امر واضح ہے کہ اس وقت ملک کے بیشتر حصے لینڈ مافیا کے نرغے میں ہیں، لاہور، کراچی، اسلا م آباد اور راولپنڈی خصوصی طورپر ظالم مافیا کا ٹارگٹ ہیں، جب کہ گوادر، پشاور، فیصل آباد، ملتان اور ملک کے دیگر بڑے شہروں کے علاوہ لینڈ مافیانے اب چھوٹے شہروں کو بھی اپنے حصار میں لے لیا ہے۔ یہ لینڈ مافیا بیک وقت قبضہ مافیا بھی ہے جوایک طرف غریب کسانوں سے زرعی زمین کوڑیوں کے بھاؤ خرید کر اس کی بیلٹنگ کرکے اسے مہنگے داموں فروخت کر رہا ہے تودوسری طرف کمزور شہریوں او ر اوورسیز پاکستانیوں کے پلاٹوں پرقبضہ کرنابھی اس کا وتیرہ ہے۔
اس وقت ملک بھر خصوصی طورپر کراچی اور لاہور کی عدالتوں میں غیر قانونی قبضوں کے بہت سے مقدمات زیر سماعت ہیں، مگر قانونی سقم کے باعث مجرموں کو فائدہ پہنچ رہا ہے۔ یہ لینڈ مافیا چونکہ طاقت ور ہوتا ہے، لہٰذا ایک عام شریف شہری کو سول دفاتر سے لے کر عدالت تک دبانے میں آسانی سے کامیاب ہوجاتاہے، چونکہ ہر علاقے میں جرائم پیشہ افراد، سیاسی رہنما، پولیس اور سرکاری افسر ان، وکلا ء کی کالی بھیڑیں لینڈ مافیا گروہوں کا حصّہ ہوتے ہیں، اس لیے قانون ان کے سامنے کمزور ثابت ہورہا ہے۔ اس قانونی کمزوریوں نے لینڈ مافیا کو زیادہ دلیر اور مادرپدر آزاد بنادیاہے اور وہ دن دیہاڑے سرکاری و نجی زمینوں پر قبضے کرنے میں کسی ہچکچا ہٹ کا مظاہرہ نہیں کرتے ہیں، کھیل کے میدان، باغات اور
قبرستان، اسکول، یونیورسٹی، سرکاری اداروں، اسپتال، ائرپورٹ کی زمینیں، غرض ہر قسم کی لاکھوں کنال زمین لینڈ مافیا کی ہوس کی نذر ہوگئی ہے، انہیں قبضہ گروپوں کی دیکھا دیکھی دوسرے پراپرٹی سے منسلک لوگو ں نے بھی چھوٹی، بڑی سکیموں کے پلاٹوں پر قبضہ کرنا شروع کردیا ہے۔
بدقسمتی سے ملک میں بسنے والا ہر خاندان کسی نہ کسی طرح قبضہ مافیا کی ستم ظریفی کا شکار ہے، ہمارے عزیز صحافی دوست وسیم الرحمن بھی قبضہ گروپ کی بے رحمی کا شکار ہوئے ہیں، انہیں پریس کلب ہاؤسنگ سوسائٹی لاہور کے سیکٹرسی میں پلاٹ نمبر 107 الاٹ ہوا تھا، مگر اس پلاٹ پر قبضہ گروپ کے قابض ہونے کی وجہ سے تعمیرورہائش اختیار نہ کی جاسکی۔ وسیم الرحمن رہائشی پلاٹ ملنے کے باوجود اپنی فیملی کے ساتھ در بدر ہیں۔ وسیم الرحمن نے پریس کلب کے عہدیدارین سے لے کر سیاسی وسول بیروکریسی کے سامنے ہاتھ جوڑ کر دہائی دی، آواز بلند کی، فریاد بھی کی گئی، لیکن کوئی پرُسان حال نہیں، کہیں بھی غریب صحافی کی شنوائی نہیں ہوئی، چارسُو سب اندھے اور بہرے نظر آتے ہیں۔
پریس کلب عہدیداروں نے شب وروز کی تگ و دو کے بعد بے گھر پریس کلب ممبران کو پلاٹ تو دلوا دیئے، مگر پلاٹوں کے قبضے دلوانے میں بے بس نظر آتے ہیں، کیو نکہ حکومتی کابینہ لینڈ مافیا کی پشت پناہی کرنے والوں سے بھری پڑی ہے۔ شہر لاہور 80 فیصد لینڈ مافیا کے قبضے میں ہے، کیا حکومت وقت اور قانونی ادارے بے خبر ہیں۔ کیا۔ انہیں معلوم نہیں؟ ایسا نہیں ہے، وہ سب کچھ جانتے ہیں، مگر بات کرتے ہوئے زبان اور انہیں روکتے ہوئے ہاتھ جلتے ہیں۔
تحریک انصاف کے اقتدار میں آ تے ہی وزیراعظم عمران خان نے اپنی پہلی تقریرمیں قوم سے وعدہ کیا تھاکہ وہ لینڈ مافیا کے خلاف جنگ کا آغاز کریں گے، انہوں نے بڑی حد تک اپنا وعدہ پورا کرنے کی کوشش بھی کی ہے۔ حکومت کے گرینڈ آپریشن کی بدولت ریاست کی رٹ بحال ہوئی اور قانون پر عوام کا اعتماد بڑھا، انہیں محسوس ہواکہ حکومت طاقتور ہورہی ہے اور کوئی با اثر ان پر ظلم نہیں کر پائے گا، مگر کچھ ہی عرصے بعد اپریشن کی بازگشت سنائی دینی بند ہو گئی۔
کرپٹ مافیا کے بعض سرغنہ اور سرپرست اہم سیاسی اور سماجی عہدوں پر فائز ہیں جن کے سامنے قانون سمیت سب بے بس ہیں۔ بعض اوقات ناجائز تجاوزات اور قبضہ مافیا کے خلاف مہم شروع ہو جاتی ہے، مگر خلوص اور لگن کی کمی کی وجہ سے مصلحتوں اور مجبوریوں کی بُنیاد پر اپنے منطقی انجام تک نہیں پہنچ پاتی، ضرورت اس امر کی ہے کہ قوانین پر عمل درآمد یقینی بنایا جائے اور ایک مؤثر اور منظم مہم کے طور پر اس وبا کے خاتمے کے لئے اقدامات کیے جائیں۔
اس حوالے سے حکومت کا پختہ عزم، انتظامیہ کے متعلقہ محکموں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کا باہمی تعاون بہت ضروری ہے۔ معززعدالتوں کا بھی کام ہے کہ انسانی حقوق کے نام پر اس طرح کے عناصر کو کسی قسم کا تحفظ اور ریلیف نہ دیں۔ اگر قانون شکنی کے اس رجحان کو مؤثر اور فوری طور پر چیک نہ کیا گیا تو پورا ملک جس کی لاٹھی اُس کی بھینس کے اصول کے تحت ایک جنگل نما معاشرہ بن جائے گا جس سے نہ صرف قانون شکنی کو حوصلہ ملے گا، بلکہ عوام کا حکومت پر سے اعتماد بھی اُٹھ جائے گا۔
اس وقت تحریک انصاف حکومت کے مخالف اپوزیشن نہیں کرپٹ مافیاز ہیں اور یہ تمام مافیاز ایک دوسرے سے منسلک ہیں، حکومت کو ایک بار تمام مافیاز کا مکمل سد باب کرنے کے لئے آج نہیں تو کبھی نہیں کی بنیاد پر موثر نتیجہ خیز حکمت عملی اپنانا ہو گی، کیو نکہ لینڈ مافیا سے لے کر مہنگائی مافیا تک کے خاتمے ہی میں تحریک انصاف حکومت کی بقاء اور وسیم الرحمن جیسے مظلوم صحافی کے پلاٹ کی دستیابی پو شیدہ ہے۔


