عثمان بزدار سے ایک اور ملاقات

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ذکریا یونیورسٹی کے دوست اور موجودہ وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار سے گزشتہ دنوں قریب سات ماہ بعد ایک اور ملاقات ہوئی، ملتے ہی گلہ کیا کہ آپ کی غیر حاضری خاصی طوالت اختیار کر گئی ہے، عرض کیا ”سردار صاحب، اب آپ سے تو خیر دوسرا تعلق ہے، صحافت میں 27 برس بیت گئے، اللہ کا شکر ہے کہ شاہی درباروں میں حاضری دینے کی عادت ہی نہیں اپنائی، گو کہ آپ یونیورسٹی کے ساتھی ہیں مگر پھر بھی پہلے جو تین ملاقاتیں ہوئیں، ان میں آپ سے وقت طے کرنے کے باوجود تین تین گھنٹے انتظار کرنا پڑا“، اس پر عثمان بزدار نے کہا ”جناب آج تو انتظار نہیں کرایا نا؟ “ جس پر میں نے کہا کہ یہ کریڈٹ آپ کے پی آر اوز رفیع اللہ اور عمران اسلم کو جاتا ہے کہ جلد ملاقات کرا دی،

ایک گھنٹہ کی ملاقات میں سیاست پر تو خیر بات ہوئی مگر ساتھ ہی ساتھ یونیورسٹی کے دوستوں کا بھی خوب تذکرہ رہا، عثمان بزدار نے سب سے زیادہ ذکر سجاد جہانیہ اور نثار اعوان کا کیا اور کہا کہ آج سجاد جہانیہ کو بھی بلا لیتے تو ملاقات ہوجاتی، میں نے کہا کہ سجاد جہانیہ کو آپ بلائیں گے تو آئے گا، مجھے تو وہ لاہور آکر سرکاری میٹنگ بھگتا کر فون کرتا ہے کہ شاہ جی جلدی میں واپس جارہا ہوں پھر ملاقات ہوگی بلکہ سجاد جہانیہ نے رواں موسم سرما کا ملتانی سوہن حلوہ کا تحفہ بھی نہیں پہنچایا۔

عثمان بزدار ہنسے اور کہا کہ کسی روز یونیورسٹی کے دوستوں کے ساتھ ملاقات رکھتے ہیں، آپ سب کو اکٹھا کریں اور ملاقات کرتے ہیں، انہوں نے بتایا کہ ذکریا یونیورسٹی پولیٹیکل سائنس کے ریٹائرڈ پروفیسر رانا ایاز صاحب، جن سے عثمان بزدار بھی پڑھتے رہے، تشریف لائے تھے، مجھے بہت خوشی ہوئی اور میں نے ان سے کہا ”سر! آپ سے پولیٹیکل سائنس پڑھی ہے اور آپ کی دی ہوئی تعلیم کی وجہ سے آج میں اس مقام ہوں۔ “ بے شک جو لوگ اپنے اساتذہ کا احترام اور قدر کرتے ہیں اللہ تعالیٰ ان کو عروج اور عزت عطا کرتا ہے، ملاقات میں ان کے کام اور سیاست پر بھی گفتگو ہوئی۔

دلچسپ بات یہ تھی کہ عثمان بزدار نے ماضی کے حکمرانوں کی طرح نہ تو کسی پرچی کاسہارا لیا اور نہ ہی اپنے سٹاف سے کسی چیز کی فوری انفارمیشن مانگی، ہر چیز ان کی ٹپس پر تھی، مکمل ڈیٹا کے ساتھ تمام تفصیلات بتائیں، آپ کو یاد ہوگا کہ حال ہی ایک ایسے حکمران بھی گزرے ہیں جو کہ پرچی کے بغیر ایک لفظ نہیں بول سکتے تھے، ایک گھنٹہ کی ملاقات میں عثمان بزدار نے نہ تو کوئی شوبازی دکھائی اورنہ ہی کوئی ڈرامہ کیا، جیسے ماضی کا وزیراعلیٰ انگلیاں گھما گھماکر عوام کو گھمایا کرتا تھا۔

ملاقات سے قبل عثمان بزدار کے سٹاف نے بار بار ہدایات دیں کہ سی ایم صاحب بہت مصروف ہیں، ان کی اہم میٹنگز ہیں لہٰذا آپ کے پاس صرف 15 سے 20 منٹ ہیں، ان کو ہماری طرف سے یقین دہانی کرائی گئی کہ جناب مکمل عمل کریں گے۔ 3 بجے وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کے آفس داخل ہوئے، گرمجوشی سے ملے، ملاقات شروع ہوئی، 15 منٹ ہی گزرے تھے کہ ان کے سٹاف نے کہا، کہ آپ نے اگر تصاویر بنوانی ہیں تو بنوا لیں۔ جس پر عثمان بزدار نے کہا کہ کوئی بات نہیں، میرا یونیورسٹی کا دوست اتنے مہینوں بعد آیا ہے، بات کرنے دیں۔ جس کے بعد پھر گفتگو کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ ملاقات میں اندر کا صحافی جاگ گیا اور میں نے پوچھ لیا کہ سی ایم صاحب آپ چودھریوں کے ساتھ زیادہ کمفرٹ میں رہتے ہیں یا گورنر چودھری سرور کے ساتھ؟ جس کا وزیراعلیٰ نے جواب دیا کہ دونوں کے ساتھ، یہ حقیقت ہے کہ چودھری پرویز الٰہی صاحب اور گورنر صاحب، دونوں سے دیرینہ تعلقات ہیں، ہم سب کے آپس میں بہت اچھے روابط ہیں، جب بھی کوئی ایشو آتا ہے ہم سب بیٹھ کر اتفاق رائے سے اسے حل کر لیتے ہیں۔

ایک گھنٹہ ملاقات کے بعد رخصت ہوتے ہوئے کہا کہ کئی مرتبہ 90 شاہراہ قائداعظم اور 180 ایچ ماڈل ٹاؤن میں وزراء اعلیٰ سے ملاقاتیں کی ہیں مگر آج زندگی میں پہلی بارکسی وزیراعلیٰ سے مل کر ساڑھے چار بجے بھوکے جارہے ہیں جس پر عثمان بزدار نے ہنستے ہوئے کہا جناب یہ تحریک انصاف کی حکومت ہے، ہر معاملے میں بچت ہورہی ہے، میں خود بھی دوپہر کا کھانا نہیں کھاتا، اس پر قہقہ بلند ہوا اور عثمان بزدار سے رخصت لے کر ہم واپس روانہ ہوئے۔

بہت سے سیاستدانوں سے ملاقات رہی ہے، عثمان بزدار سے ملاقات میں جو بات محسوس کی وہ یہ ہے کہ عثمان بزدار نے سیاست پر جس طرح گفتگو کی وہ ایک منجھے ہوئے اور پراعتماد سیاستدان کی طرح تھی، ان کی گفتگو جو اعتماد تھا وہ ایک دیانتدار اور شریف النفس انسان جیسا تھا جس میں کوئی ’میں‘ نہیں تھی، تب مجھے احساس ہوا کہ عمران خان کو عثمان بزدار کیوں پسند ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

One thought on “عثمان بزدار سے ایک اور ملاقات

  • 20/02/2020 at 5:00 am
    Permalink

    پہلی بات تو یہ کہ بہاء الدین زکریا یونیورسٹی کی یادیں کمال ہیں ۔اس زرخیز یونیورسٹی نے بہت سے جری اور جانباز پیدا کیے ۔ قسمت دیکھیے کہ بزدار صاحب اسی جامعہ کے فارغ التحصیل ٹھہرے۔ ستم بالایے ستم یہ کہ اوپر سے ان کا سبجیکٹ بھی سیاسیات رہا۔ دوسری بات کاظمی صاحب شاید پہلے صحافی ہیں جو کالم میں خبر دے رہے ہیں کہ وزیر اعلیٰ چودھریوں اور گورنر دونوں کے ساتھ آرام دہ اور پر سکون محسوس کرتے ہیں جبکہ ظاہری سیاست تو کچھ اور ہی اشارے دیتی ہے ۔اور ہاں یہ بھی کا ظمی صاحب کا ہی کریڈٹ ہے کہ وزیر اعلی ایک منجھے سیاست دان ہیں جبکہ دوسرے الگ ہی رایے رکھتے ہیں ۔آخری بات کہ سی ایم سے ملاقات میں ان کاایک دوست بغیر تواضع واپس چلا آیا ۔ واقعی ؟ پھر یہ بھی کہ پی ٹی آیی کی حکومت میں آنے کے بعد وہ خود بھی دوپہر کا کھانا نہیں کھاتے ؟ اس پر کیا کہیے ؟

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *