ڈیجیٹل صارفین کی تربیت اور تبدیلی کی جونکیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

موجودہ حکمرانوں کے عشق میں مبتلا افراد کہتے ہیں کہ ذرا صبر کرو، خان سب ٹھیک کر لے گا اور یہ وہ لوجک ہے جس کی کوئی بنیاد نہیں ہے کیونکہ موجود حکومت کے پاس کوئی جامع پالیسی یا وژن نہیں ہے۔ بے تحاشا ٹیکسز کبھی بھی ملکی معیشت کو سہارا نہیں دیا کرتے بلکہ حکومت کو عوام الناس میں غیر مقبول بنانے کا سبب بنتے ہیں۔ تاریخ کا مطالعہ تو یہی بتاتا ہے جب جب ریاستوں نے عوامی فلاح و بہبود کے برعکس اقدامات اٹھائے انہیں ہزیمت اور شکست کا سامنا کرنا پڑا۔

اوپر سے موجودہ حکمران تنقید کا ہر راستہ بند کرتے جا رہے ہیں، وہ تنقید سننے کا حوصلہ ہی نہیں رکھتے۔ وزیر اعظم صاحب خود فرما چکے ہیں کہ وہ ٹی وی نہیں دیکھتے، اخبار نہیں پڑھتے۔ کیا کبوتر کی طرح آنکھیں بند کرنے سے مسائل کا پہاڑ نظر آنا بند ہو جائے گا کیا؟ اور سوشل میڈیا پر پابندیاں لگا کر رائے عامہ کو بدلہ تو نہیں جا سکتا جبکہ احتجاج تو سٹرکوں پر بھی ہو جائے گا جب برداشت ختم ہو جائے اور معاشرے میں برداشت اس وقت ختم ہوتی ہے جب مکالمہ ختم ہو جائے۔

سوشل میڈیا پر پابندیوں کے حوالے سے وسعت اللہ خان اپنے کالم میں لکھتے ہیں کہ ”پاکستان کی بائیس کروڑ آبادی میں سے ساڑھے سات کروڑ آبادی کی رسائی براڈ بینڈ یا موبائل فون انٹرنیٹ تک ہے۔ یعنی آبادی کا لگ بھگ چھتیس فیصد حصہ انٹرنیٹ کے دائرے میں ہے۔ اگر سرکاری ذہن سے سوچا جائے تو گویا ہر تیسرا شہری کسی نہ کسی ڈیجیٹل پلیٹ فارم کے ذریعے براہ  راست فحاشی، فرقہ واریت، ملک دشمنی، سماجی گمراہی اور نفرت انگیز پروپیگنڈے کی زد میں ہے۔

لہذا یہ ضروری سمجھا گیا ہے کہ ان معصوم شہریوں کو جو اچھے بھلے منفی اور مثبت میں تمیز کرنے سے عاری ہیں۔ انھیں خطرناک و منفی مواد سے بچانے کے لیے موجودہ نافذ قوانین کے اوپر مزید حفاظتی ضابطوں کی ایک اور تہہ چڑھا دی جائے تاکہ ڈیجیٹل صارفین کو ملاوٹ و گمراہی سے پاک خالص سوشل میڈیائی مصنوعات میسر آ سکیں اور یوں ان کی ذہنی و قومی صحت کا قبلہ درست رہے”۔

سوشل میڈیا پر آپ سچ نہیں لکھ سکتے، سوال نہیں اٹھا سکتے کہ آپ کہیں خود نہ اٹھا لیے جائیں۔ باشعور اقوام کبھی بھی تنقید کا راستہ بند نہیں کرتیں۔ سیاسی شعور کی بیداری اور جمہوری روایات کی پاسداری کے لیے تنقید اور تقابلی مطالعہ کا طریقہ کار سب سے زیادہ پسندیدہ سمجھا جاتا ہے۔ ٹھیک ہے کہ تنقید بھی اخلاق کے دائرے میں ہونی چاہیے مگر یاد رکھیں کہ لہجہ سخت ہو سکتا ہے مگر بات اگر اصلاح کی ہے تو جمہوریت اور عوامی فلاح و بہبود کا نعرہ لگانے والوں میں برداشت کی قوت بھی عام لیڈر سے زیادہ ہونی چاہیے۔

اس وقت وطن عزیز میں عام آدمی جن مشکلات کا شکار ہے اس کا اندازہ حکمران شاید نہیں لگا پا رہے۔ انہوں نے ان کی جیبوں سے پیسے نکلوانے تھے مگر ان سے مراد عوام ہوں گے یہ ہمیں بعد میں پتہ چلا۔ ہر چیز کی قیمت آسمان کو چھو رہی ہے اور آمدنی کے ذرائع محدود ہوتے جا رہے ہیں۔ میرے علم میں ایسے کئی خاندان ہیں جنہوں نے کئی کئی ماہ کا کرایہ نہیں دیا، ان کے بچے سکول میں نہیں جا رہے اور وہ شرم کے مارے کسی سے شئیر بھی نہیں کر سکتے جبکہ صرف ایک سال پہلے تک ان کے حالات اتنے خراب نہیں تھے۔ وہ حکومت وقت سے خوش نہیں ہیں۔

جمہوری نظام میں میڈیا کا کردار پل کا ہوتا ہے جو حکومت اور عوام کے درمیان تعلقات کو بہتر بنانے کے لئے کام کرتا ہے۔ وہ عوامی مسائل اور حکومت پالیسوں کو ایک دوسرے کے سامنے لاتا ہے۔ جمہوری کلچر میں حکومتوں پر تنقید کرنا اور ان کی پالیسیوں کے منفی پہلووں کو اجاگر کرنا مثبت اور راست قدم ہے۔ اس سے حکومتوں پر نہ صرف دباؤ رہتا ہے بلکہ ان کی سمت بھی درست رہتی ہے۔ دیکھا جائے تو ایماندارانہ اور غیر جانبدارانہ صحافت کا اصل مقصد بھی یہی ہے۔

میڈیا وہ آئینہ ہے جس میں حکمران نہ صرف اپنا چہرہ دیکھ سکتے ہیں بلکہ چہرے پر آئی گرد بھی صاف کر سکتے ہیں۔ تاہم اگر اس پل کو ہی باندھ دیا جائے تو پھر حکومت اور عوام کے درمیان پیدا ہونے والی خلیج کبھی دور نہیں ہو سکتی۔ ایسا تو باوردی جمہوریت میں نہیں ہوا جو انصاف کے نام پر بننے والی حکومت کر رہی ہے کیونکہ موجودہ حکمرانوں میں تنقید برداشت کرنے کا حوصلہ نہیں ہے۔

ﺳﻘﺮﺍﻁ ﮐﯽ ﺩﺭﺱ ﮔﺎﮦ ﮐﺎ ﺻﺮﻑ ﺍﯾﮏ ﺍﺻﻮﻝ ﺗﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﺗﮭﺎ ﺑﺮﺩﺍﺷﺖ۔ ﯾﮧ ﻟﻮﮒ ﺍﯾﮏ ﺩﻭﺳﺮﮮ ﮐﮯ ﺧﯿﺎﻻﺕ ﺗﺤﻤﻞ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺳﻨﺘﮯ ﺗﮭﮯ ﯾﮧ ﺑﮍﮮ ﺳﮯ ﺑﮍﮮ ﺍﺧﺘﻼﻑ ﭘﺮ ﺑﮭﯽ ﺍﯾﮏ ﺩﻭﺳﺮﮮ ﺳﮯ ﺍﻟﺠﮭﺘﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﮭﮯ۔ ﺳﻘﺮﺍﻁ ﮐﯽ ﺩﺭﺳﮕﺎﮦ ﮐﺎ ﺍﺻﻮﻝ ﺗﮭﺎ ﺍﺱ ﮐﺎ ﺟﻮ ﺷﺎﮔﺮﺩ ﺍﯾﮏ ﺧﺎﺹ ﺣﺪ ﺳﮯ ﺍﻭﻧﭽﯽ ﺁﻭﺍﺯ ﻣﯿﮟ ﺑﺎﺕ ﮐﺮﺗﺎ ﯾﺎ ﭘﮭﺮ ﺩﻭﺳﺮﮮ ﮐﻮ ﮔﺎﻟﯽ ﺩﮮ ﺩﯾتا ﯾﺎ ﺩﮬﻤﮑﯽ ﺩﯾﺘﺎ ﯾﺎ ﺟﺴﻤﺎﻧﯽ ﻟﮍﺍﺋﯽ ﮐﯽ ﮐﻮﺷﺶ ﮐﺮﺗﺎ ﺗﮭﺎ ﺍﺱ ﻃﺎﻟﺐ ﻋﻠﻢ ﮐﻮ ﻓﻮﺭﺍ ﺍﺱ ﺩﺭﺳﮕﺎﮦ ﺳﮯ ﻧﮑﺎﻝ ﺩﯾﺎ ﺟﺎﺗﺎ ﺗﮭﺎ۔

ﺳﻘﺮﺍﻁ ﮐﺎ ﮐﮩﻨﺎ ﺗﮭﺎ ﺑﺮﺩﺍﺷﺖ ﺳﻮﺳﺎﺋﭩﯽ ﮐﯽ ﺭﻭﺡ ﮨﻮﺗﯽ ہے اور ﺳﻮﺳﺎﺋﭩﯽ ﻣﯿﮟ ﺟﺐ ﺑﺮﺩﺍﺷﺖ ﮐﻢ ﮨﻮﺟﺎﺗﯽ ﮨﮯ ﺗﻮ ﻣﮑﺎﻟﻤﮧ ﮐﻢ ﮨﻮ ﺟﺎﺗﺎ ہے ﺍﻭﺭ ﺟﺐ ﻣﮑﺎﻟﻤﮧ ﮐﻢ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ﺗﻮ ﻣﻌﺎﺷﺮﮮ ﻣﯿﮟ ﻭﺣﺸﺖ ﺑﮍﮪ ﺟﺎﺗﯽ ہے۔ ﺍﺱ ﮐﺎ ﮐﮩﻨﺎ ﺗﮭﺎ ﺍﺧﺘﻼﻑ ﺩﻻﺋﻞ ﺍﻭﺭ ﻣﻨﻄﻖ ﭘﮍﮬﮯ ﻟﮑﮭﮯ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﺎ ﮐﺎﻡ ﮨﮯ، ﯾﮧ ﻓﻦ ﺟﺐ ﺗﮏ ﭘﮍﮬﮯ ﻟﮑﮭﮯ ﻋﺎﻟﻢ ﺍﻭﺭ ﻓﺎﺿﻞ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﺭﮨﺘﺎ ﮨﮯ ﺍﺱ ﻭﻗﺖ ﺗﮏ معاﺷﺮﮦ ﺗﺮﻗﯽ ﮐﺮﺗﺎ ہے۔ ﻟﯿﮑﻦ ﺟﺐ ﻣﮑﺎﻟﻤﮧ ﯾﺎ ﺍﺧﺘﻼﻑ ﺟﺎﮨﻞ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﮯ ﮨﺎﺗﮫ ﺁﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ ﺗﻮ ﭘﮭﺮ ﻣﻌﺎﺷﺮﮦ ﺍﻧﺎﺭﮐﯽ ﮐﺎ ﺷﮑﺎﺭ ﮨﻮ ﺟﺎﺗﺎ ہے۔ سوچیں اگر برداشت کی کمی کا شکار حکمران طبقہ ہو جائے تو ریاستیں اپنا وقار کھو دیتی ہیں اور پاکستان کے موجودہ حکمران اس کمی کا شکار سب سے زیادہ ہیں۔

آج کے پاکستان میں غربت، بے روزگاری، جرائم اور خودکشیوں کی تعداد میں اتنا زیادہ اضافہ ہو گیا ہے کہ جس کی نظیر نہیں ملتی۔ عوام کو صحیح معنوں میں کمر توڑ مہنگائی کا سامنا ہے۔ یوٹیلیٹی بلز کی ادائیگی بھی عام آدمی کی پہنچ سے دور ہو چکی ہے جبکہ بجلی اور گیس کی لوڈ شیڈنگ بھی ایک ایشو ہے۔ صنعتی سرگرمیاں بند ہو رہی ہیں۔ ملازمت کے مواقع گھٹ رہے ہیں اور تنخواہوں میں کٹوتیوں کا عمل جاری ہے۔

اگر حکومت اظہار رائے پر پابندی کو ان سارے مسائل کا حل سمجھتی ہے کہ بس اظہار کے سارے راستے روک دو۔ لوگوں کو شعور نہ دو، انہیں خبر نہ دو۔ انہیں سمجھ نہیں آنی چاہیے کہ ان کے ساتھ تبدیلی اور انصاف کے نام پر کیا کھیل رچا گیا ہے۔ اسٹریم میڈیا ویسے ہی کنٹرول میں ہے۔ پیراشوٹر صحافیوں اور کالم نگاروں نے انہیں اوتار بنا کر پیش کیا تھا مگر یہ عوام کا خون پینے والی جونکیں بن گئے ہیں۔ بات زیادہ نہیں کرنی کیونکہ ڈاکٹر سید صغیر صفیؔ اپنی نظم، مجھے خط ملا ہے غنیم کا، میں جن حالات کی منظر نگاری کر رہے ہیں وہ پاکستان کے موجودہ حالات کی بہترین عکاسی کر رہی ہے۔

مجھے خط ملا ہے غنیم کا

بڑی عجلتوں میں لکھا ہوا

کہیں رنجشوں کی کہانیاں

کہیں دھمکیوں کا ہے سلسلہ

مجھے کہہ دیا ہے امیر نے

کرو حسنِ یار کا تذکرہ

تمہیں کیا پڑی ہے کہ رات دن

کہو حاکموں کو برا بھلا

تمہیں فکرِ عمرِ عزیز ہے

تو نہ حاکموں کو خفا کرو

جو امیرِ شہر کہے تمہیں

وہی شاعری میں کہا کرو

کوئی واردات کہ دن کی ہو

کوئی سانحہ، کسی رات ہو

نہ امیرِ شہر کا ذکر ہو

نہ غنیمِ وقت کی بات ہو

کہیں تار تار ہوں عصمتیں

مرے دوستوں کو نہ دوش دو

جو کہیں ہو ڈاکہ زنی اگر

تو نہ کوتوال کا نام لو

کسی تاک میں ہیں لگے ہوئے

مرے جاں نثار گلی گلی

ہیں مرے اشارے کے منتظر

مرے عسکری، مرے لشکری

جو تمہارے جیسے جوان تھے

کبھی میرے آگے رکے نہیں

انہیں اس جہاں سے اٹھا دیا

وہ جو میرے آگے جھکے نہیں

جنہیں جان و مال عزیز تھے

وہ تو میرے ڈر سے پگھل گئے

جو تمہاری طرح اٹھے بھی تو

انہیں بم کے شعلے نگل گئے

مرے جاں نثاروں کو حکم ہے

کہ گلی گلی یہ پیام دیں

جو امیرِ شہر کا حکم ہے

بِنا اعتراض وہ مان لیں

جو مرے مفاد کے حق میں ہیں

وہی عدلیہ میں رہا کریں

مجھے جو بھی دل سے قبول ہوں

سبھی فیصلے وہ ہوا کریں

جنہیں مجھ سے کچھ نہیں واسطہ

انہیں اپنے حال پہ چھوڑ دو

وہ جو سرکشی کے ہوں مرتکب

انہیں گردنوں سے مروڑ دو

وہ جو بے ضمیر ہیں شہر میں

انہیں زر کا سکہّ اچھال دو

جنہیں اپنے درش عزیز ہوں

انہیں کال کوٹھی میں ڈال دو

جو مرا خطیب کہے تمہیں

وہی اصل ہے اسے مان لو

جو مرا امام بیاں کرے

وہی دین ہے سبھی جان لو

جو غریب ہیں مرے شہر میں

انہیں بھوک پیاس کی مار دو

کوئی اپنا حق جو طلب کرے

تو اسے زمیں میں اتار دو

جو مرے حبیب و رفیق ہیں

انہیں خوب مال و منال دو

جو مرے خلاف ہیں بولتے

انہیں نوکری سے نکال دو

جو ہیں بے خطا، وہی دربدر

یہ عجیب طرزِ نصاب ہے

جو گنہ کریں، وہی معتبر

یہ عجیب روزِ حساب ہے

یہ عجیب رت ہے بہار کی

کہ ہر ایک زیرِ عتاب ہے

”کہیں پر شکستہ ہے فاختہ

کہیں زخم زخم گلاب ہے ”

مرے دشمنوں کو جواب ہے

نہیں غاصبوں پہ شفیق مَیں

مرے حاکموں کو خبر کرو

نہیں آمروں کا رفیق مَیں

مجھے زندگی کی ہوس نہیں

مجھے خوفِ مرگ نہیں ذرا

مرا حرف حرف، لہو لہو

مرا لفظ لفظ ہے آبلہ

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *