سرمد کھوسو کی تعلیمی تحریروں پر مشتمل سندھی کتاب: ”تنیں کھے تعلیم جی“

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اس شکایت کی کوئی بنیاد نہیں ہے کہ ”آج کل ہمارے یہاں قاری مر گیا ہے۔ “ قاری جاوداں ہے اور زندہ رہے گا، جب تک خوبصورت ادب تحریر ہوتا رہے گا اور خوبصورت ادب رہتی دنیا تک تحریر ہوتا رہے گا۔ وقت کے تغیّرات کاغذ، قلم، دوات، کتاب اور اخبار کی اہمیت کو کم نہیں کر سکتے۔ دنیا بھر میں فکشن اور نان فکشن میں عظیم ترین ادب تخلیق ہو رہا ہے اور آج بھی دنیا بھر کے قارعین اپنے ذوق و شوق سے ہزاروں کتابوں کو ”بیسٹ سیلر“ کا درجہ بخش رہے ہیں اور یہ سلسلہ روز بروز بڑھ رہا ہے۔

روایتی کتاب کی اہمیت بھی اتنی ہی ہے، مگر اس کی مقبولیت میں ”ایمیزون“ کے ”کنڈل“ اور آڈیو بکس جیسے میڈیمس نے نہ صرف کئی گُنا اضافہ کر دیا ہے، بلکہ قارعین کی تعداد میں یکسر اضافہ کر دیا ہے۔ ہمارے یہاں (ہمارے مُلک میں ) کچھ خامیاں یُوں ہیں کہ قلمکاروں کی اس ضمن میں رہنمائی کرنے والا کوئی نہیں ہے، کہ کس کس موضوع پر لکھے جانے کی ضرورت ہے، اور کس کس انداز میں لکھے جانے کی ضرورت ہے۔ دوسری جانب ہمارے ملک میں زبان و ادب کے حوالے سے کام کرنے والے بڑے بڑے اداروں کی موجودگی کے باوجود قلمی شماریات کا کوئی اہتمام نہیں ہے، کہ ہر سال کے آخر میں شایع شدھ کتب کے حوالے سے یہ اعداد و شمار جاری ہوں، کہ کس برس کے دوران کون کون سی اصناف اور کون کون سے موضوعات پر کتنی اور کون کون سی کتب شایع ہوئیں، تاکہ اس کے اگلے برس اُن اصناف میں کثرت سے لکھے جانے کی کوشش کی جا سکے، جن میں پچھلے برس کم نگارشات منظرِ عام پر آئیں۔

ہمارے یہاں شاعری اور فکشن کی اصناف میں تو بہت سارا لکھا جا رہا ہے، مگر تخلیقی ادب کی بیشتر اصناف کے ساتھ ساتھ ”نان فکشن“ بہت کم لکھا جا رہا ہے۔ گو کہ ہمارے ملک کے کچھ قلمکاروں کی پہچان ہی ”نان فکشن“ ہے، لیکن اس کے باوجود ابھی ایسے کئی ایک موضوعات ہیں، جن پر لکھے جانے کی ضرورت بدرجہء اُتم موجُود ہے۔ ایسے موضوعات میں موجودہ تعلیمی نظام بھی ایک ایسا موضوع ہے، جس پر لکھا جانا ایسے وقت کی اہم ضرورت ہے، جب ( 2019 ء کے اعداد و شمار کے مطابق) ہمارے ملک کی شرحِ خواندگی 59 فیصد ہے، اور اس سے بھی زیادھ افسوس کی بات یہ ہے کہ پاکستانی خواتین کی 47 فیصد سے بھی کم شرح تعلیم یافتہ ہے۔

ایسے میں ہمارے قلمکاروں کی جانب سے تعلیمی مسائل کو اپنے قلم کی مدد سے اُجاگر کرنے کے ساتھ ساتھ، شرحِ خواندگی بڑھانے کے حوالے سے مشورے اور منصوبے، تعلیمی نظام میں تبدیلیوں اور عصری تقاضوں کے مطابق ہمارے نصاب کی ترتیب اور دنیا بھر میں مقبول تدریسی نظاموں کے ہمارے یہاں ممکنہ اطلاق جیسے موضوعات پر قلم اٹھانا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔

ایسے میں، جب تعلیمی موضوعات پر اردو میں بھی کم لکھا جا رہا ہو، سندھی کے نو آموز قلمکار، سرمد کھوسو کی جانب سے ”تنیں کہے تعلیم جی“ نامی اہم کتاب لکھنا، تاریکی میں پہلی چنگاری جلانے کے مترادف ہے۔ سرمد کھوسو کا تعلق، سندھ کے جنوبی ساحلی ضلع بدین سے ہے، اور وہ پیشے کا لحاظ سے خود بھی استاد ہیں، جس وجہ سے ان کا براھِ راست تعلق اسکُول، نصاب اور طالبِ علم سے ہے۔ ساتھ ساتھ وہ موجودہ تعلیمی نظام، شعبہء تعلیم کی انتظامی خامیوں، والدین کے روّیوں اور طالب العلم کی مختلف نفسیاتی درجہ بندیوں کے تحت ان کے رجحانات سے بھی بالواسطہ واقف ہیں۔

اس موضوع پر لکھنے کے حوالے سے ان کی یہ پیشہ ورانہ وابستگی، ان کی سب سے بڑی معاون ثابت ہوئی، جس وجہ سے وہ محکمہء تعلیم خواہ مجموعی تعلیمی نظام کی ان تمام تر خوبیوں اور خامیوں سے آگاہ ہیں، جن سے ہم سب واقف نہیں ہوں گے۔ سونے پہ سہاگہ، سرمد کے والدِ محترم، ڈاکٹر سومار کھوسو، جو بنیادی طور پر پیشے کے لحاظ سے تو ڈاکٹر ہیں، لیکن اپنے پسماندہ علاقے کے تعلیمی مسائل کے پیشِ نظر اپنا وقت بدین اور اس کے گرد و نواح کے بچّوں کی تعلیمی اصلاح میں بھی صرف کرتے ہیں، اور بدین کے دیہی علاقوں کے نونہالوں کے لیے اسکولوں کے انتظامات کی نگرانی بھی کرتے ہیں۔ سرمد کے دل میں ہمارے تعلیمی نظام میں اصلاح کے حوالے سے کار فرما عناصر میں ایک عنصر یقیناً ان کے والدِ محترم کا اس طرف رُجحان بھی ہوگا، جو اُن کو ورثے میں مِلا۔

سرمد کھوسو کی اس کتاب کا نام ”تنیں کھے تعلیم جی“، سندھ کے عظیم شاعر، حضرت شاہ عبداللطیف بھٹائی رحہ کے ایک بیت کی نصف سطر ہے، جس کا مفہوم ہے ”اُنہیں تعلیم کی (فکر) ہے۔ “ اس موضوع پر سندھی میں کسی کتاب کا اس سے بہتر نام اور بھلا کیا ہو سکتا تھا! یہ کتاب سرمد کے اُن کالمز اور دیگر نگارشات کا مجمُوعہ ہے، جو اس کتاب سے پہلے وقتاً فوقتاً مختلف معرُوف سندھی روزناموں میں شایع ہوتے رہے اور قارعین میں پسند کیے گئے۔

سال 2019 ء میں شایع ہونے والی 120 صفحات پر مشتمل اس کتاب میں کل 25 مختلف مضامین شامل ہیں، جن کو موضوعات کے لحاظ سے چار ابواب میں تقسیم کیا گیا ہے۔ پہلا باب ”مادری زبان، تعلیم اور نونہال“، دوسرا ”تعلیم اور ہم نصابی سرگرمیاں“، تیسرا ”یُونیورسٹیاں، مسائل اور مشورے“ جبکہ چوتھا باب ”جنہوں نے جل کر مشعل جلائی۔ “ کے عنوان سے ہے۔ پہلے باب میں ”پہلے بچّے کی نفسیات کو سمجھیں، پھر اُسے پڑھائیں۔ “، ”بچّوں کو بنیادی تعلیم، مادری زبان میں دی جانی چاہیے۔

”، “ فنّی تعلیم کی اہمیت ”، “ اسکولوں میں کیریئر کائُونسلنگ کی اہمیت ”، “ حکومت کو تعلیم کی بہتری کے لیے چند گزارشات ”، “ ماحولیاتی تعلیم کی اہمیت اور ہمارا مستقبل ”، “ زراعت کی تباہی کے تعلیمی عمل پر اثرات ”، “ بچّوں اور نوجوانوں کو پیڑوں سے پیار کرنا سکھایا جائے! ”، “ بچّوں کو پیار بھی دیں، اور ان کی عزّت بھی کریں۔ ”، “ احساسات کی موت ”، “ ہمارے نوجوانوں کو پیش آنے والے مسائل ”، “ سرکاری نوکری کے علاوھ روزگار کے ذرائع ”، “ تعلیم نامکمّل چھوڑ جانے والے طالب العلم ”اور“ روڈ حادثات کا شکار ہونے والے معصُوم طالب العلموں کے بارے میں سوچیں۔

” جیسے عنوانات کے تحت کل 14 انتہائی کارآمد مضامین شامل ہیں۔ دُوسرے باب میں“ کاپی کلچر کے اسباب اور اس کے خاتمے کے لیے چند تجاویز ”، “ سائنس کے دور میں سائنس کی تعلیم سے دُور ہمارے تعلیمی ادارے ”، “ ریاضی کا مضمُون طالب العلموں کو مشکل کیوں لگتا ہے۔ ”، “ تعلیم میں نصابی اور ہم نصابی سرگرمیوں کی اہمیت ”اور“ تعلیم کا سفینہ چلانے کے بجائے ڈبونے والی پالیسی ”کے موضوعات پر پانچ مضامین شامل ہیں۔ تیسرے باب میں کل چار مضامین شامل ہیں، جن میں“ اعلیٰ تعلیمی ادارے شاگرد دوست کب بنیں گے۔

”، “ ہماری یُونیورسٹیوں کو تحقیق پر بھی توجّہ دینی چاہیے۔ ”، “ سندھ یونیورسٹی کا خیال رکھنے کے لیے کیسے کہا جائے؟ ”اور“ خودکشی کرتا ہمارا مستقبل ”جیسے آنکھیں کھول دینے والے موضوعات شامل ہیں، جبکہ چوتھے اور آخری باب میں کل دو نگارشات شامل ہیں، جن کے موضوع، بالترتیب“ ہمیں بہترین اساتذھ کو عزت دینی چاہیے ”اور“ شعُور کی بنیاد رکھنے والا شخص۔ خانبہادر میر غلام محمّد ٹالپر ” (سوانحی مضمُون) ہیں۔ گویا ان 25 مضامین کی صُورت، سرمد کھوسو نے پرائمری سے لے کر سیکنڈری، ہایر سیکنڈری اور یونیورسٹی تک کے تعلیمی مسائل کے ذکر اور اُن کے حل کے حوالے سے مشوروں سے اس کتاب کو مُزیّن کیا ہے۔

سرمد نے اپنی اس اوّلین کتاب کو دنیا بھر کے مظلُوم نونہالوں، طالبِ علموں اور نوجوانوں کے نام منسُوب کیا ہے، جو بے تحاشا تکالیف اور محرومیاں دیکھنے کے باوجُود اپنے روشن مستقبل کے لیے تگ و دؤ میں مصرُوف ہیں۔ اس کتاب کے پیش لفظ معرُوف ادیب، انور ابڑو نے تحریر کے ہیں، جبکہ کتاب کی پُشت پر وفا مولیٰ بخش کے کتاب اور صاحبِ کتاب کے بارے میں تاثرات درج ہیں۔

امید ہے کہ سرمد کی یہ کتاب پاکستان میں تعلیمی مسائل کے موضوع کے حوالے سے لکھنے کے لیے دیگر قلمکاروں کے لیے بھی باعثِ تقلید بنے گی اور موجودہ مسائل کے حل کے حوالے سے ایوانانِ اقتدار کو بیدار کرنے میں بھی کامیاب ہوگی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *