آزادی اظہار رائے کی قدر کیجیے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

عقل مند انسان کی ایک نشانی یہ بھی ہوتی ہے کہ اسے معلوم ہوتا ہے کہ اسے کب اور کس موقعے پر کیا بات کرنی چاہیے۔ اور وہ بات کرنے سے پہلے وہ اس بات کے ردعمل کا اندازہ بھی لگا چکا ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب کوئی عقل مند آدمی منہ کھولتا ہے تو اس کی بات کا ایک اثر پیدا ہوتا ہے اور لوگ اس کی بات پر کان دھرتے ہیں۔ چونکہ ردعمل کا اندازہ پہلے سے ہی ہوتا ہے اس لیے متوقع ردعمل کو بھی کامیابی سے سنبھال لیا جاتا ہے۔

اظہار رائے کی آزادی بھی کچھ ایسا ہی معاملہ ہے۔ اپنی رائے کا اظہار کرنا ہر انسان کا حق ہے اور یہ حق اس سے کسی کو چھیننے کا کوئی حق نہیں ہے اور نا ہی اسے چھینے جانے کی کوئی کوشش ہونی چاہیے۔ سوال مگر یہی پیدا ہوتا ہے کہ اظہار رائے کی آزادی کو کیسے استعمال کیا جا رہا ہے اور کیسے استعمال کیا جانا چاہیے۔

گزشتہ برسوں میں سوشل میڈیا کے بے تحاشا نفوذ کے بعد اب تقریباً ہر انسان کو اپنی آواز بلند کرنے کا وہ موقع مل گیا ہے جو پہلے اس قدر مؤثر طریقے سے میسر نہیں تھا۔ ہاتھ میں تھاما ہوا موبائل فون جس پر انٹرنیٹ کی سہولت بھی میسر ہو، کسی کو کسی بھی فورم پر کچھ بھی کہنے کی آزادی فراہم کر رہا ہے اور اس آزادی کے جابجا نظارے ہم دیکھتے چلے آ رہے ہیں۔

میرا اپنا تجربہ مجھے یہ سمجھاتا ہے کہ اگر ایک لفظ لکھنا ہو تو اس سے پہلے سو الفاظ پڑھنے پڑتے ہیں۔ معلومات حاصل کرنی پڑتی ہیں۔ حاصل شدہ معلومات کی تصدیق کرنی پڑتی ہے۔ پھر اس بات کا خیال رکھنا پڑتا ہے کہ جو کچھ لکھا جا رہا ہے اس سے کسی کی دل آزاری نا ہو، کسی کی شہرت پر داغ نا لگے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ تحریر کے ذریعے کوئی غلط پیغام نا دیا جائے۔ ایک مثبت تحریر لکھی جائے جس سے کسی بہتری کی امید رکھی جا سکے۔

مطالعہ انسان کو نکھار دیتا ہے مگر افسوس کی بات یہ ہے کہ ہماری قوم کی بے تحاشا اکثریت پڑھنے کی زحمت گوارا نہیں کرتی۔ خبر کی تصدیق بھی گوارا نہیں۔ بس خبر مرضی کی ہو اور چٹ پٹی ہو تو پھر اسے پھیلانے سے کون روک سکتا ہے؟ کیا اس کو اظہار رائے کی آزادی کہا جا سکتا ہے؟

بظاہر صاحب علم معلوم پڑنے والے افراد کو دیکھا ہے جو موقع دیکھتے ہیں اور نا محل اور بات کر دیتے ہیں۔ اب لاکھ وہ کسی کی دل آزاری کا باعث بنے، لاکھ اس سے کسی کو ذہنی کوفت ہو مگر یہ سوچنے اور سمجھنے کی زحمت گوارا نہیں کی جاتی۔ اظہار رائے کی آزادی کے نام پر وہ وہ باتیں کی جاتی ہیں جو لوگوں کی اکثریت کو اشتعال دلا دینے کا باعث بن جاتی ہیں۔

سمجھنے کی بات یہ ہے کہ ہر بات ہر جگہ پر کر دینے والی نہیں ہوتی۔ بات کرنے والے کو اپنا احتساب خود کرنا چاہیے کہ علم کا جو خزانہ وہ لٹانے چلا ہے کیا اس کے طلب گار موجود بھی ہیں؟ طلب کے بغیر رسد کی کیا اہمیت رہ جاتی ہے؟

میڈیا (پرنٹ، الیکٹرانک، سوشل) استعمال کرنے والے ہر فرد کو اپنی ”سیلف سینسر شپ“ خود کرنی چاہیے۔ جب یہ سیلف سینسر شپ ہوگی تو کسی اتھارٹی یا کسی حکومت کو اظہار رائے کی آزادی پر قدغن لگانے کی نا ضرورت محسوس ہو گی اور نا ہی اس کی جرات ہوگی۔

ایک اور بات یاد رکھنے والی ہے اور وہ یہ کہ میری اظہار رائے کی آزادی عین اس جگہ پر جا کر ختم ہو جاتی ہے جہاں سے آپ کی ناک شروع ہوتی ہے۔ اگر ہم صرف اسی بات کا خیال کرنا شروع کر دیں تو معاملات میں بہتری آ سکتی ہے۔

ہمارے جذبات، ہمارے احساسات ہمارے لیے بہت قیمتی ہوتے ہیں لیکن ہو سکتا ہے کسی دوسرے کے لیے ان کی اہمیت بالکل نا ہو اس لیے میڈیا استعمال کرتے ہوئے ہمیں اپنے جذبات اور احساسات کو قابو میں رکھنا آ جائے تو معاملات مزید بہتری کی طرف جا سکتے ہیں۔

ہمارے لیے ہماری عزت نفس بہت اہم ہے۔ اسی طرح دوسروں کے لیے بھی ان کی عزت نفس اتنی ہی اہم ہے۔ عزت دینے سے ہی عزت کمائی جا سکتی ہے۔ اس کا خیال بھی کر لینا چاہیے۔

سب سے آخر میں ایک درخواست سیاسی جماعتوں کے جوشیلے اور جانباز کارکنوں سے۔ آپ کے لیڈران آپ کے لیے بہت اہم ہیں۔ اسی طرح دوسروں کے لیڈران بھی ان کے لیے اتنے ہی اہم ہیں۔ آپ کسی پر کیچڑ اچھالیں گے تو جواب میں وہ آپ پر کیچڑ اچھالیں گے اور اس طرح دونوں گندے ہو جائیں گے۔ گندا ہونا کسے پسند ہے؟

ہم اظہار رائے کی آزادی کے دور میں جی رہے ہیں۔ آزادی کی قدر کرنی پڑتی ہے ورنہ آزادی چھن جاتی ہے۔ اظہار رائے کی آزادی کی بھی قدر کیجیے، یہ نہ ہو کہ آزادی چھن جائے اور ہم بغلیں جھانکتے رہ جائیں، بجائیں گے تو وہ جو چھینیں گے!

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اویس احمد

پڑھنے کا چھتیس سالہ تجربہ رکھتے ہیں۔ اب لکھنے کا تجربہ حاصل کر رہے ہیں۔ کسی فن میں کسی قدر طاق بھی نہیں لیکن فنون "لطیفہ" سے شغف ضرور ہے۔

awais-ahmad has 111 posts and counting.See all posts by awais-ahmad

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *