کراچی میں زہریلی گیس کا مُعمّہ اور حکُومتی غیر سنجیدگی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ملک کے سب سے بڑے شہر میں لوگ لاوارث مر رہے ہیں۔ جیسے عام آدمی کی جان کی کوئی قیمت ہی نہ ہو۔ پیر اور منگل کے دوران ( 48 گھنٹوں میں ) 14 لوگ لقمہء اجل بن گئے۔ کم و بیش 200 افراد کی حالت غیر ہوئی اور وہ ہسپتال جا پہنچے ہسپتالوں میں ایمرجنسیز نافذ ہو گئیں۔ لوگوں میں خوف اور دہشت طاری ہے۔ کیماڑی کا علاقہ، چین کے شہر ”وُوہان“ کا منظر پیش کر رہا ہے۔ لوگ گھروں تک محدُود ہو کر رہ گئے ہیں۔ ریلوے کالونی کے رہائشی 95 فیصد لوگ، اپنے گھر خالی کر کے، اپنے اپنے رشتہ داروں کی جانب عارضی طور پر چلے گئے ہیں۔

کیماڑی اور کھارادر کے اسکولوں میں نہ طالب العلم ہیں، نہ اَساتذہ۔ شہری یہ نشاندہی بھی کر رہے ہیں کہ کس طرف سے اور کس شدّت سے یہ ناپسندیدہ بُو آ رہی ہے۔ کس طرح سے اچانک اُن کی آنکھیں جلنے لگتی ہیں، گلے میں خراش ہونے لگتی ہے، سر میں اچانک شدید درد ہونے لگتا ہے اور سانس لینے میں تکلیف اس حد تک ہونے لگتی ہے اور اچانک بڑھ جاتی ہے، کہ لوگ ہسپتال داخل ہوتے ہیں۔ اور ان میں سے کچھ بیچارے چند منٹ کے اندر ہی ہلاک ہو جاتے ہیں۔ اور وہاں پورٹس اور شپنگ کے وفاقی وزیر، علی زیدی ”سب اچھا ہے! “ کا راگ آلاپ رہے ہیں۔ یہ سب اچھا ہے کہاں! یہ بھی بتا دیں۔

اتوار کی شام پہلی مرتبہ ہلاکتوں اور لوگوں کی حالت غیر ہونے کے بعد پِیر کے روز کسٹم ہاؤس کے ملازمین کا بیہوش ہونا، ان کو اُلٹیوں کی شکایت، منگل کے روز کلفٹن کے اسکُولوں میں بچّوں کی حالت خراب ہونا اور دورانِ اسکُول چھٹی ہو جانا۔ یہ سب کچھ کسی دُور پرے کے پسماندہ گاؤں یا مواصلات کی پہنچ سے دور کے کسی علاقے میں نہیں، بلکہ پاکستان کے سب سے بڑے شہر میں ہو رہا ہے، جہاں صُوبائی خواہ وفاقی حکُومت کی پوری مشینری موجُود ہے۔

جن (سیاستدانوں ) کو عوام کی زندگیوں سے تو خیر! کوئی دلچسپی کیا ہوگی، مگر وہ معصُوم لوگوں کی زندگیوں پر بھی سیاست کر رہے ہیں! سندھ کے وزیرِاعلیٰ، مراد علی شاہ، پیر کو رات گئے اور منگل کو، متاثرہ علاقوں کے دورے کے دوران فرماتے ہیں کہ ”مجھے اُمید ہیں کہ آج شام گیس کا اخراج نہیں ہوگا! “ جیسے ان کو اس گیس کے اخراج کی وجہ بھی معلُوم ہوگئی اور مقام بھی! اور اُس پر ضابطے کے حوالے سے انہوں نے عملی اقدامات بھی کر لیے ہیں، کہ اس یقین کے ساتھ وہ یہ سب فرما رہے ہیں!

کیونکہ منگل کے اختتام تک، سوائے جامعہ کراچی کے ایچ۔ ای۔ جے۔ ریسرچ انسٹیٹیُوٹ آف کیمسٹری کی ابتدائی رپورٹ کے، اس بات کا حتمی پتہ نہیں چل سکا تھا کہ اس گیس کا سرچشمہ کیا ہے، تاکہ اس پر مُکمّل ضابطہ لایا جا سکے۔ اس پراجیکٹ کی نگرانی، ایچ۔ ای۔ جے۔ انسٹیٹیُوٹ (جن کو کمشنر کراچی کی جانب سے یہ ٹاسک دیا گیا۔ ) میں پروفیسر اقبال چوہدری کر رہے ہیں، جو ”انٹرنیشل سینٹر فار کیمکل اینڈ بایولوجیکل سائنسز“ کے ڈائریکٹر ہیں، جبکہ پاکستان کے نامور سائنسدان، ڈاکٹر عطاءُ الرحمٰن اس پراجیکٹ کے سرپرستِ اعلیٰ ہیں۔ اس بات کا قوی امکان بہرحال ہے کہ اس جان لیوا مسئلے کی وجہ کیماڑی ہی کے آس پاس موجُود ہے۔

یہ رپورٹ متاثرہ لوگوں کے پیشاب اور خُون کے نمُونوں اور کراچی بندرگاہ سے حاصل کیے گئے کچھ اجزاء کے مطالعے کے بعد جاری کی گئی ہے، جس کے تحت اِن ہلاکتوں کی وجہ ( 90 فیصد اندیشے کے تحت) امکانی طور پر ”ہرکیُولس“ نامی امریکی بحری جہاز میں ”سویابین“ کی آف لوڈنگ کے دوران نکلنے اور فضا میں پھیلنے والی ”سویابین ڈسٹ“ بتایا گیا ہے، جس کو جہاز سے اُتارنے (اَن لوڈ) کرنے میں احتیاط نہ بَرتنا اور اس کی اَن لوڈنگ کے بین الاقوامی معیاروں کے مطابق طے شُدہ اس خاص طریقے پر عمل نہ کرنا ہے، جس کی وجہ سے اس کی بُو فضا میں پھیلنے کی وجہ سے یہ اموات واقع ہوئیں اور دنیا میں سویابین کی دُھول کی وجہ سے اس قسم اور نوعیت کے واقعات اس سے پہلے بھی متعدد بار پیش آ چُکے ہیں۔

کیونکہ سویابین (سویا پھلی) میں ”ایئرو۔ الرجینس“ نامی ایک خاص قسم کا زہریلا مواد موجُود ہوتا ہے، جو اِس خطرناک حد تک الرجی کا باعث بنتا ہے، کہ انسان کی موت تک کا سبب بھی بَن سکتا ہے۔ کچھ لوگ اس الرجی کو برداشت کرنے کے حوالے سے اِس قدر حساس ہوتے ہیں، کہ وہ ”الرجنس“ فوری طور پر ان کے موت واقع ہونے کی وجہ بن جاتے ہیں۔ یہ بھی لازمی نہیں ہے کہ وہ تمام لوگ، جن کو اس قسم کی دُھول سے الرجی ہو، ان کی موت بھی واقع ہو۔

کچھ لوگ معمُولی متاثر ہو کر، ٹھیک ٹھاک بھی ہو جاتے ہیں۔ سویابین کی ”آف لوڊنگ“ کے لیے پُوری دنیا میں جو احتیاطی تدابیر اختیار کی جاتی ہیں، اِس بار شاید اُن طریقوں پر عمل نہیں کیا گیا تھا، جس لاپرواہی کے سبب اتنی ساری جانیں ضایع ہوئیں۔ اس قسم کی لاپرواہی، اسپین کے شہر بارسلونا میں 1981 ء سے 1987 ء کے درمیان میں پیش آنے والے لگ بھگ 26 واقعات میں بھی ہوئی، جہاں سویابین کو آف لوڈ کرتے ہوئے، آف لوڈ کرنے والی مشینوں کو مناسب طور پر ڈھانپا نہیں گیا تھا، تو اس وجہ سے اندازاً 958 لوگوں کی حالت غیر ہوئی تھی، جن کو ہسپتال میں داخل کیا گیا، جن میں سے 20 افراد لقمہء اجل بن گئے۔

ان 26 ہی واقعات کی وجہ سویابین کی یہی دھُول تھی۔ اسی طرح 1990 ء میں اٹلی، فرانس اور امریکا میں بھی سویابین ڈسٹ کو اُتارنے میں مناسب اقدام نہ کرنے کی وجہ سے اس قسم کے حادثات پیش آ چکے ہیں اور نتیجے میں متعدد اموات بھی واقع ہو چکی ہیں۔ کیونکہ جہاز سے سویابین کو اتارتے وقت پورے سسٹم کو مکمّل طور پر ڈھانپا نہ جائے تو یہ دھول فضا میں پھیل کر دُور دُور تک پہنچتی ہے اور انسانی جانوں کو نقصان پہنچاتی ہے۔

ڈاکٹر عطاءُ الرحمٰن اور ان کی ٹیم، اس کو ”شدید الرجک ردِ عمل“ کہتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق اس بات کو بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا کہ بندرگاہ کے آس پاس کے علاقوں میں مختلف اوقات پر ماضی میں مختلف کیمیکل زیرِ زمین دفنائے بھی جاتے رہے ہیں، جہاں سے بھی کسی گیس کے اچانک اخراج کا امکان ہو سکتا ہے، جس کے معائنے کے بعد ہی اس کی تصدیق کی جا سکتی ہے۔

ماہرین کے مطابق سویابین کے جہازوں خواہ کنٹینرز کو کراچی سے کم از کم 10 میل دُور رکھنے کی تجویز دی گئی ہے، ساتھ ساتھ اس سے متاثر شدہ مریضوں کو معالجین کی طرف سے ”اینٹی الرجک“ دوائیاں دینے کی ضرُورت پر زور دیا گیا ہے۔ عام لوگوں کو ماسک استعمال کرنے (جو آج کل کراچی میں ناپید ہو گئے ہیں۔ ) اور زیادہ سے زیادہ پانی پینے کی تاکید کی جا رہی ہے۔ ساتھ ساتھ اس بات پہ بھی زور دیا گیا ہے کہ 5 سے 7 روز تک شہریوں کو احتیاط کرنی چاہیے، کیونکہ سویابین کے یہ ذرّات، جو فضا میں پھیل چکے ہیں، ان کے بے اثر ہونے اور ہوا کو صاف ہونے میں کم از کم اتنا وقت لگ جائے گا، بشرطیکہ اس جہاز اور سویابین کے کنٹینرز کو فوری طور پر آبادی سے دُور کیا جائے۔

افسوس یہ ہے کہ وفاقی وزیر، علی زیدی، سائنسدانوں کی اس تحقیق کو ماننے کے لیے تیّار ہی نہیں ہیں اور وہ یہ الزام نا اُٹھانے پر بضد ہیں کہ اس دُھول کا اخراج بندرگاہ سے ہوا ہے۔ وہ اس امکان پر ضد کر رہے ہیں کہ کراچی کے کچّے شراب کے کارخانوں میں سے ایسے کسی مادے کا اخراج ان تمام ہلاکتوں کی وجہ بنا ہے۔

آپ میں سے شاید یہ بات بہت سوں کو یاد ہو کہ کچھ برس قبل، کراچی میں ”سِی ویُو“ ساحل کے قریب ایک بحری جہاز میں سے تیل کی لِیکیج ہوئی تھی، جس میں کراچی کے شہریوں میں تیزی سے جِلدی بیماریان پھیل گئی تھیں اور اُن دنوں وہ مصیبت بھی خبروں کا موضوع بنی تھی۔

ہمارے ماحولیاتی سسٹم میں جو آلُودگی موجُود ہے، اس کا تو خیر! ہم تصوّر بھی نہیں کر سکتے۔ کیونکہ ہماری آنکھ ہر اُس مسئلے پر کُھلتی ہے، جس کے فوری اثرات ظاہر ہوتے ہیں۔ اِس سمندری آلُودگی سے ہم نہ جانے کتنا ”آہستہ سرایت کرنے والا زہر“ (سِلو پُوائیزن) روزانہ کی بنیاد پر نِگل رہے ہیں، اِس کا نہ تو ہمیں اندازہ ہے، نہ ہمارے ادارے ہی ایسی کوئی تحقیق کر کے ہمیں بتا رہے ہیں۔ کراچی کے ساحل، جو کسی دور میں نہ صرف ظاہری حُسن کے مظہر تھے بلکہ مُلک کے پُرفضا ترین مقامات تھے، اب وہ کچرے کے ڈھیر بن گئے ہیں۔

صحت کے حوالے سے شعُور و آگہی رکھنے والا کوئی بھی شخص اب ”سِی ویُو“ کے آلُودہ ساحل پر جانا پسند نہیں کرتا۔ اب آپ کراچی بندرگاہ (کیماڑی) یا منوڑا کے جزیرے پر جائیں تو ایک جان لیوا بُو آپ کا استقبال کرتی ہے، جس کی وجہ یہ ہے کہ دو، ڈھائی کروڑ کی آبادی کے اس اتنے بڑے شہر کا آلُودہ پانی اور فُضلہ، سیدھا گندے نالوں کے رستے اسی سمندر میں پھینکا جا رہا ہے، جس کی وجہ سے نہ صرف سمندری حیات کی سینکڑوں اجناس تیزی سے ختم ہو رہی ہیں، بلکہ سمُندری آلُودگی بھی روزبروز بڑھتی جا رہی ہے اور اس ساحلی شہر میں رہنے والے لوگوں کی صحت کو اس قدر تیزی سے ختم کرتی جا رہی ہے اور ان کی زندگیوں کے معیار کو اس خطرناک حد تک تباہ کر رہی ہے، جس کا اندازہ اس شہر کے باسیوں کو اگر واقعی ہو جائے تو وہ شاید اس ساحلی شہر سے کُوچ کر کے، کسی بَنَ میں بسرام کرنے کو ترجیح دیں۔

ہم نے اس حوالے سے ابھی بھی آنکھ نہ کھولی تو سمندر ضرُور چِلّائے گا اور یہ چیخ کسی ایک فرد یا گروہ کے لیے نہیں، بلکہ اجتماعی طور پر پُوری قوم کے لیے بڑی ماحولیاتی تباہی کا باعث بنے گی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *