ملاوٹ کا خاتمہ ایک بڑی تبدیلی!

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وہ دن کب آئے گا کہ جب ہر کھانے پینے کی چیز اصلی دستیاب ہو گی؟ اس وقت تو کچھ بھی خالص نہیں دودھ کیا، آٹا کیا اور چاول کیا سبھی ملاوٹ والے میسر ہیں۔ اگرچہ ملاوٹ سے روکنے والے محکمے موجود ہیں مگر پھر بھی ملاوٹیے اپنا دھندہ جاری رکھے ہوئے ہیں شاید اس لیے کہ وہ محکمے کے اہلکاروں کی مٹھی گرم کرتے رہتے ہیں اور وہ ان سے صرف نظر کر کے آگے بڑھ جاتے ہیں۔

ناخالص اشیائے خوردنی سے غریب عوام کی صحت پر انتہائی مضر اثرات مرتب ہو رہے ہیں ان کے بچوں کی ذہنی و جسمانی نشو ونما سخت متاثر ہو رہی ہے جس سے اُن کی مجموعی کارکردگی پر بھی اثر پر رہا ہے۔ غذائیں ہی ملاوٹ والی نہیں دوائیں بھی دو نمبر فروخت ہو رہی ہیں میڈیکل سٹوروں پر چھاپے مارنے والا عملہ نجانے کہاں غائب ہے کبھی کبھی وہ کارروائی ڈالنے کے لیے نمودار ہو جاتا ہے اور اپنی ”کارکردگی“ کو مشتہر بھی کرتا ہے جبکہ جعلی دوائیں بیچنے والے اپنے دھندے سے باز نہیں آتے کیونکہ وہ ماہانہ دیتے ہیں۔

یوں غذاؤں اور دواؤں کے ملاوٹیے دن رات غریب عوام کی صحت سے کھیل رہے ہیں انہیں ذرا بھر خوف خدا نہیں اور نہ ہی ریاستی قانون کا ڈر ہے مگر یہ سلسلہ زیادہ دیر تک نہیں چلے گا کیونکہ اب حکومت اس حوالے سے متحرک ہو رہی ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے واضح الفاظ میں کہہ دیا ہے کہ ملاوٹ برداشت نہیں، اسی طرح اُن کے فیورٹ وزیراعلیٰ عثمان بزدار نے بھی اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ ہم عوام کو خالص غذا کی فراہمی کے لیے آخری حد تک جائیں گے۔

دیر آید درست آید!

اب بھی اگر حکومت عوامی مسائل کی جانب دیکھتی ہے تو یہ ایک طرح سے اُن کے لیے کسی بڑے ریلیف سے کم نہیں ہو گایہ ایک انتظامی مسئلہ ہے اس پر کچھ خرچ نہیں آتا۔ میں تو بہت پہلے بھی عرض کر چکا ہوں کہ بہت سے بنیادی مسائل محض انتظامی ہیں جو بذریعہ تھانہ ختم کیے جا سکتے ہیں اگر ایک تھانیدار کو کہہ دیا جائے کہ آپ کے علاقے میں تمام ملاوٹ کرنے والے اڈے نہیں ہونے چاہئیں تو وہ یقینا نظر نہیں آئیں گے اور اگر آئیں گے تو اس کی ذمہ داری اس پر عائد ہو گی۔

اس پر اعتراض کیا جائے گا کہ یہ ممکن نہیں کیونکہ تھانیدار کو تبدیل کرنا مشکل ہے اس کی سوچ آسانی سے نہیں بدلے گی آہستہ آہستہ یہ عمل ممکن ہو سکتا ہے مگر عرض ہے کہ تبدیلی بھی کسی چیز کا نام ہے جو اچانک آتی ہے اور پھر سب کچھ نیا دکھائی دینے لگتا ہے۔ ویسے بھی اب ہر کوئی یہ بات سمجھ رہا ہے کہ کب تک یہ نظام چلتا رہے گا کہ حالات بتا رہے ہیں روایتی طرز زندگی ہو یا طرز حکمرانی سب تبدیل ہونے جا رہا ہے۔ نئے نئے خیالات جنم لے رہے ہیں۔ نئی نئی ٹیکنالوجی متعارف ہو رہی ہے جو ہماری زندگیوں میں داخل ہو کر اس کے معمولات کو یکسر بدل رہی ہے لہٰذا ایک ہی طرح کا انداز اختیار کرنا ممکن نہیں رہا۔ لہٰذا تھانہ کلچر میں ویسا نہیں رہ سکتا جیسا پہلے تھا یہ سب کو معلوم ہے تو پھر کیوں نہ اس کلچر سے فائدہ اٹھایا جائے؟

بہرحال لگ رہا ہے کہ حکومت کو بالآخر عوام کا خیال آ ہی گیا ہے کہ وہ جہاں مہنگائی پر قابو پانے کا ارادہ رکھتی ہے تو وہاں خالص اشیاء خورونوش بھی فراہم کرنا چاہتی ہے مگر سوال یہ ہے کہ جہاں ملاوٹ ہوتی ہے وہاں اس کے ساتھیوں کا ذکر بھی ہو تا ہے کہ وہ دھڑلے سے اپنی تجوریاں بھرنے میں مصروف بتائے جاتے ہیں لہٰذا وہ کیسے اُن پر ہاتھ ڈالے گی مگر کہنے والے کہتے ہیں کہ حکومت کچھ کرنے پر آمادہ و تیار نظر آتی ہے کیونکہ اس نے ڈیڑھ برس کے دوران عوام کی نفرت کو بہ چشم خود دیکھ لیا ہے اسے یہ احساس ہو گیا ہے کہ عوام ہی کسی لیڈر کو آگے لاتے ہیں مافیاز نہیں لہٰذا عوام ہی کو راضی کیا جائے اور پھر جب وہ اس سے مکمل طور سے خفا ہو جاتے ہیں تو اسے تخت سے الگ ہونا پڑ سکتا ہے یعنی اس کی حیثیت باقی نہیں رہتی وہ بے وقعت ہو جاتی ہے لہٰذا کیوں نہ انہیں سہولتیں دی جائیں انہیں بہتر ماحول میں سانس لینے کا موقع دیا جائے۔ اس لیے کہا جا سکتا ہے کہ اب حکومت ضرور اپنے اختیارات کا استعمال کرے گی کیونکہ ملاوٹ کی انتہا ہو گئی ہے اور چیزیں زہریلی ہونے لگی ہیں ظاہر ہے معدوں میں زہر اترے گا تو زندگی کیسے خوشگوار ہو سکے گی؟

ویسے ایک تجویز ہے اگر حکومت تھانے کو یہ سب ٹھیک کرنے کا نہیں کہتی تو اسے متعلقہ محکموں کے سربراہان کو واضح الفاظ میں کہہ دینا چاہیے کہ وہ حکومتی اقدامات کو یقینی بنائیں بصورت دیگر انہیں قانونی کارروائی کا سامنا کرنا ہو گا کیونکہ بہتر برس بیت چکنے کے بعد بھی ہمیں عقل نہیں اور نہ یہ احساس ہوا ہے کہ انسانوں کے ساتھ سلوک انسانوں ایسا ہی ہونا چاہیے۔ اکثر ممالک میں تو ملاوٹ کرنے والوں کو رتی برابر بھی نہیں بخشا جاتا انہیں قانون کے مطابق سخت سے سخت سزا دی جاتی ہے چین میں اس کی سزا موت ہے مگر ہم لوگ دن دیہاڑے زہر بیچ رہے ہیں اور لوگوں کی زندگیوں کو دھیرے دھیرے ختم کر رہے ہیں۔

اب یہ دھندہ رک جانا چاہیے۔ یہ ہر کسی کے لیے نقصان دہ ہے کہ جو ایک چیز ملاوٹ والی بیچتا ہے اسے لازمی اپنے لیے کوئی دوسری ایسی ہی ملتی ہے لہٰذا سوچئے کہ ہم کیوں ایک دوسرے کے لیے موت کے گڑھے کھود رہے ہیں مگر افسوس یہاں کون ہے جو کسی کی سنے بس دولت کے انبار لگانے کی دوڑ لگی ہوئی ہے انسانیت کیا تقاضا کر رہی ہے اس کا کسی کو خیال نہیں جبکہ ہمیں مہذب ممالک کی صف میں کھڑا ہو جانا چاہیے تھا کہ یہاں ایک بہترین کلچر بھی تھا اور ابھی تک موسموں سے لے کر قدرتی وسائل تک سب کچھ وافر ہے مگر نہیں ہم نے اس سے خاطر خواہ استفادہ نہیں کیا لہٰذا صورت حال انتہائی خوفناک ہو چکی ے ایک طرف زہر خورانی ہے تو دوسری جانب قومی خزنے کی لوٹ مار، ایسے میں کوئی کیا کھائے کیا پیئے اور کیسے تندرست ہو؟

بہرکیف حکومتی فیصلے کو سراہنا چاہیے مگر یہ فیصلہ محض بیان تک ہی نہیں رہنا چاہیے اس پر عمل درآمد ہونا چاہیے کیونکہ جیسا کہ میں نے اوپر عرض کیا ہے کہ لوگوں کو غذا نہیں زہر کھلایا جا رہا ہے جو ظاہر ہے زندگی کے لمحات کو ازیت ناک بنا دیتا ہے اور بعد ازان بتدریج موت کی وادی میں دھکیل دیتا ہے۔ یہاں یہ بھی عرض کر دوں کہ اب حکومت کی طرف کچھ اس کے اپنے ہتھ ہولا رکھنے کے لیے دوڑے آئیں گے کہ جناب عالی! ایسا یکسر نہ کیجیے اس سے نقصان ہو گا مگر ان کی ایک نہ سنی جائے کیونکہ عوام زہر کھائیں اور یہ بیرون ملک کی بنی اشیاء سے مستفید ہوں اور اپنے چہرے کی لالیاں برقرار رکھیں۔ یہ نہیں ہو سکتا ان عوام نے کوئی دن بھی خوشحالی و خوشگواری کا نہیں دیکھا لہٰذا حکومت ملاوٹ کا خاتمہ کر دیتی ہے تو یہ ایک بہت بڑی تبدیلی ہو گی جسے عوام برسوں یاد رکھیں گے!

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *