”خاک ہوجائیں گے ہم، تم کو خبر ہونے تک“

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بھارت میں گزشتہ سال معروف فکشن نویس کرشن چندر جی کی کہانی ”جامن کاپیڑ“ کودسویں جماعت کے سلیبس سے یہ کہہ کرنکال دیاگیاکہ یہ طالب علموں پرغلط اثرات مرتب کرسکتی ہے۔ 2015 سے نصاب میں شامل کہانی میں ایساکیاتھاکہ اسے سلیبس سے نکالناضروری سمجھاگیا۔ اس کہانی کوپاکستان کے تناظرمیں بھی سمجھنا ضروری ہے لیکن اس سے پہلے کہانی کو مختصر بیان کیے دیتاہوں۔

رات کو بڑے زورکی آندھی آئی۔ سیکریٹریٹ کے لان میں جامن کاپیڑ گرپڑا۔ صبح جب مالی کو خبر ہوئی تو دیکھا کہ پیڑ کے نیچے ایک آدمی دباہواہے۔

مالی فورا چپراسی کے پاس گیا، چپراسی کلرک کے پاس اور کلرک سپریٹینڈنٹ کے پاس پہنچا۔ سپریٹینڈنٹ کے آنے تک پیڑ کے گرد مجمع جمع ہوچکا تھا۔

بیچارہ! جامن کاپیڑ کتنا پھل دار تھا، ایک کلرک کی آواز آئی

دوسرے نے کہا، کتنے رسیلے جامن ہوا کرتے تھے

میں تو جھولی بھر بھر کے بچوں کے لئے لے جاتاتھا،

تیسرا کلرک بولا ایسے میں مالی کی آواز آئی، یہ آدمی؟

سب سوچ میں پڑگئے۔ کہا گیا کہ اگر سپریٹینڈنٹ صاحب اجازت دیں تو پیڑکو کاٹ کے سب مل کرآدمی کو پیڑ کے نیچے سے نکال سکتے ہیں۔

اس دوران اچانک سپریٹینڈنٹ کوخیال آیا کہ اپنے اوپر والوں سے توپہلے پوچھ لے۔ کہیں لینے کے دینے نہ پڑجائیں۔ بس پھر کیاتھا، معاملہ فائلوں کے ذریعے ایک محکمے سے دوسرے محکمے میں گھومنا شروع ہوا، صبح سے شام ہوئی اور شام سے رات۔ ایسے میں کہیں لوگ خود سے ہی قانون کو ہاتھ میں نہ لے لیں، پولیس کوبھی طلب کرکے پیڑ کے گرد سیکیورٹی لگادی گئی۔ اس دوران مالی کو رحم آیا اور وہ کچھ کھانا لے کر پیڑ کے نیچے دبے آدمی کے پاس گیا اور تسلی دیتے ہوئے کہا فکر نہ کرو، تمہیں نکالنے کے لئے ”صاحب“ پوری کوشش کررہے ہیں تم صبح تک پیڑ کے نیچے سے نکال لئے جاؤگے۔ جس پر نیچے دبے آدمی نے آہ بھرتے ہوئے آہستہ سے جواب دیا۔ ہم نے مانا کہ تغافل نہ کرو گے لیکن، خاک ہوجائیں گے ہم، تم کو خبر ہونے تک!

مالی نے حیرانگی سے پوچھا تم شاعرہو؟ آدمی نے آہستگی سے ہاں میں سر ہلایا۔

بس پھرکیاتھا، یہ بات جنگل میں آگ کی طرح پھیلی اور وہاں مشاعرے کا ماحول بن گیا۔ شاعروں کے علاوہ دیگرلوگ جوق در جوق سیکریٹریٹ کے لان میں جمع ہوناشروع ہوگئے۔ نظمیں اور غزلیں سناکر محفل کو گرمایا جانے لگا۔

تنظیمی لوگوں نے پیڑ کے نیچے دبے آدمی کو مرنے کے بعد بیوی بچوں کو وظیفہ دینے کی خوشخبری سنائی۔

دوسرے دن فائل میں لگی ارجنٹ کی مہر کی وجہ سے محکمہ جنگلات کے اہلکار کلہاڑی لے کر پہنچے ہی تھے کہ معلوم ہواکہ یہ پیڑتوکسی صورت کاٹا ہی نہیں جاسکتاکیونکہ یہ پیڑ دوست ملک کے حکمران نے شجرکاری مہم کے دوران لگایا اوریہ دوست ملک کی نشانی ہے۔

اگلے دن شام کوسپریٹینڈنٹ بھاگتاہوا آدمی کے پاس آیا اور کہا کہ وزیراعظم نے درخت کاٹنے کی اجازت دیدی ہے۔ تمہیں کل صبح پیڑ کے نیچے سے نکال لیاجائے گا۔ جواب نہ آنے پھر بولا، ارے سنتے ہو، تمہاری فائل۔ لیکن اُس آدمی کاہاتھ سرد، آنکھوں کی پتلیاں بے جان ہوچکی تھی۔ کیونکہ زندگی کی فائل مکمل ہوچکی تھی۔

بیان کی گئی کہانی کو اگر پاکستان کے تناظر میں دیکھیں توپاکستان میں نہ رُکنے والی آندھی اور طوفان کا سماں ہے۔ تناور پریشانیاں عام آدمی پرگری پڑی ہیں۔ لیکن مسائل کے حل کے لئے فائلوں کا گھن چکر ہے کہ رُکنے کا نام نہیں لے رہا۔ غربت، مہنگائی، بے روزگاری، کرپشن، تعلیم، صحت، دہشتگردی سمیت درجنوں ایسے مسائل ہیں جن کے تلے آج بھی ”عام“ پاکستانی دبا پڑا ہے۔

کسی بھی آفت یا پریشانی میں، مزاج یہ ہے کہ ثانوی باتوں پرتوجہ دی جاتی ہے۔ ریلیاں، احتجاج، موم بتی جلائی جاتی ہے۔ گزرے انسان کے اچھے یابرے کاموں کا ذکر ہوتاہے۔

پھرحکومت کے نچلے طبقے سے لے کر اعلیٰ ترین عہدوں تک، فائل کی ٹرین آتی او رجاتی ہے، کمیٹیاں بنائی جاتی ہیں، پھر کمیٹی پرکمیٹی۔ انتظارمیں کئی دن گزرجاتے ہیں۔

حکومت یا سماجی تنظیموں کی جانب سے متاثرہ افراد کی دادرسی کے لئے امداد کا اعلان تو کیاجاتاہے، ]اکثر امداد  نہیں ملتی لیکن اُن کے مسائل کے مستقل حل کاکوئی علاج نہیں کیاجاتا۔ نظموں، غزلوں اورگانوں کے ذریعے جانے والوں کو یاد کیاجاتاہے لیکن آئندہ وہ ناگہانی طریقے سے اپنوں سے نابچھڑیں، اس کے لئے کوئی تدبیر اختیارنہیں کی جاتی۔ اگرکبھی کوئی خیال آبھی جائے کہ عوام کی فلاح کے لئے کوئی کام کرناہے توعالمی دباؤ، دوستی یا دشمنی کی بھینٹ چڑھاکر ”سب سے پہلے پاکستان“ کا نعرہ لگادیاجاتاہے۔

ضرورت اس امرکی ہے کہ وہ تمام سابق اورموجودہ حکمراں سمیت اہل طاقت طبقہ ہوش کے ناخن لے، کہیں مزید جامن کا پیڑ نہ گرپڑے، کیونکہ موت کے بعد اگر فائل کلیئر ہوبھی ہوگئی تو بہت دیر ہوچکی ہوگی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply