فلاحی ریاست کے خواب کی تعبیر!


تحریک انصاف کے ایجنڈے میں کرپشن، مہنگائی، بیروزگاری کا خاتمہ اور کڑا و بے لاگ احتساب سرِ فہرست تھا۔ عوام نے بھی اسی بنیاد پر ان پر اعتماد کیا، مگر آئے روز بڑھتی مہنگائی نے عوام سے جینے کا حق چھین لیا ہے۔ عام آدمی کو ہمیشہ سے روٹی روزگار کی فکر رہی ہے، جبکہ حکومت کے بقول نحیف ونزار معیشت ملنے کے سبب سخت فیصلے کرنا پڑے جس سے مہنگائی کا طوفان آیا جو عام آدمی کی برداشت سے باہر تھا۔ اس کا حکومت کو بخوبی ادراک ہونے کے باعث عوام کو ریلیف دینے کی طرف توجہ دی جارہی ہے۔

بڑھتی مہنگائی کی بنیادی وجہ بجلی، گیس اور پٹرولیم کی قیمتوں میں اضافہ ہے، حکومت مہنگائی کی بنیاد ختم کردے تو عوام کو ریلیف مل سکتا ہے۔ وزیراعظم کی جانب سے بجلی اور گیس کی قیمتوں میں عوام کو ریلیف دینے کے لئے کابینہ کو ہدایت حوصلہ افزا ہے۔ بجلی اور گیس کے ساتھ ساتھ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی سے مہنگائی کنٹرول کرنے میں کافی حد تک مدد ملے گی۔ اس کے سا تھ اشیاء ضروریہ پر ٹیکس میں کمی سے بھی مہنگائی کم ہوگی، کیونکہ ٹیکسوں کے باعث ہی اشیاء ضروریہ کی قیمتیں کئی گنا بڑھ جاتی ہیں، جس سے عام آدمی کو مشکلات کاسامنا کرنا پڑتا ہے۔

اسی طرح سمگلنگ اور ذخیرہ اندوزی سے بھی اشیاء ضروریہ کی مصنوعی قلت ہو جاتی ہے جس سے عام آدمی کا بجٹ بری طرح متاثر ہوتا ہے۔ گندم کی دگنا خریداری سے مہنگی روٹی اور آٹا بحران سے بھی نمٹنے کی پیش بندی کی جاسکتی ہے۔ حکومتی اعلانات اور فیصلے حوصلہ افزاکے ساتھ پرُامید ہیں، لیکن عوام کو اطمینان تو ان کے مثبت نتائج پر ہی ہوگا، لہٰذا قوم عملی ا قدامات کا تقاضا کرتی ہے۔

وزیر اعظم عمران خان نے ذخیرہ اندوزوں ’سمگلروں اور گراں فروشوں کی پیدا کردہ مصنوعی مہنگائی کے خاتمے کے لئے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو کریک ڈاؤن کا حکم دیاہے۔ اس کریک ڈاؤن کو نتیجہ خیز بنانے کے لئے انٹیلی جنس بیورو‘ انٹر سروسز انٹیلی جنس اور فیڈرل انوسٹی گیشن ایجنسی کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ متعلقہ سرکاری اداروں کی سرگرمیوں اور مہنگائی پیدا کرنے والے افراد کی نشاندہی کے عمل کی نگرانی میں تعاون کریں۔

یہ بڑھتی مہنگائی دیانتداری سے عاری معاشروں کا مستقل روگ ہے، جن ملکوں میں لوگ اپنے ذرائع آمدن پوشیدہ نہیں رکھتے اور کاروباری افراد اپنی تفصیلات ٹیکس چوری کی نیت سے چھپاتے نہیں، وہاں روز مرہ استعمال کی اشیا کی طلب و رسد حکومت کے علم میں رہتی ہے۔ حکومتی ادارے طلب و رسد میں توازن رکھنے کے لئے مناسب اوقات میں اشیا کی درآمد یا برآمد کا فیصلہ کرتے ہیں، مگر ہمارے ہاں تو بروقت حکمت عملی کا فقدان عشروں سے موجود رہا ہے۔

حکومت کے ساتھ اپوزیشن بھی اپنے حقیقی کردار سے عاری نظر آتی ہے، ایوب خان کے زمانے میں چینی کے نرخوں میں اضافہ ناقابل برداشت ہوا تو عوام سڑکوں پر آ گئے تھے، جبکہ نوے کے عشرے میں بے نظیر بھٹو اور نواز شریف کی حکومتوں کو دو دو بار اسمبلیاں تحلیل کرکے رخصت کردیا گیا تھا، چاروں حکومتوں کی برطرفی کے پس پردہ جو وجوہات میں کرپشن ’بدانتظامی اور بڑھتی ہوئی مہنگائی شامل تھی۔ موجودہ دور حکومت میں اپوزیشن نام کی کوئی چیز نہیں، نام نہاد اپوزیشن ہر اہم موقع پر سرکار کی ہمنوا بن جاتی ہے۔ اپوزیشن اپنے لیڈروں کی رہائی اور مقدمات کے خاتمے کا ایجنڈا لیے پھرتی ہے، اس لیے حکومت کی فرینڈلی اپوزیشن سے یہ امید نہیں کہ وہ عوامی مسائل کے حل کے لیے باہر نکلے گی۔ قوم نے باری باری سب پارٹیوں کو آزمالیا، اب عوام کے پاس کوئی دوسری آپشن نہیں ہے۔

اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ تحریک انصاف کو اقتدار کے ساتھ ملکی معیشت اور انتظامی ڈھانچہ جس شکل میں ملا، وہ انتہائی خستہ اور کمزور تھا۔ گزشتہ دس بارہ سال سے معاشی ابتری کی حالت یہی دیکھی جا رہی ہے کہ حکومت ہر مہینہ پندرہ دن بعد تیل کی قیمتوں میں اضافہ یا نام کی کمی کر دیتی ہے۔ بجلی اور گیس کے نرخوں میں اضافہ اس قدر جلد کیا جارہا ہے کہ یاد رکھنا بھی محال ہے۔ یہ صورت حال اس وقت اور بھی خراب ہو جاتی ہے جب وافر مقدار میں اگائی جانے والی سبزیوں کے ساتھ دیگر روزمرہ استعمال ہونے والی اشیاء کی قیمتیں آسمان کو چھونے لگتی ہیں۔

درآمدی اشیاء کی قیمت ڈالر کی قدر میں اضافہ کے باعث بڑھی، لیکن مقامی پیداوار پر کسان کی آمدن پہلے جیسی ہونے کے باوجود ان کی فصل کے نرخ آسمان کو کیوں چھونے لگے ہیں۔ حکومت ریاستی اختیارات کی نگران اور امین ہوتی ہے، عوام کی مشکلات بڑھ جائیں تو ریاست دیکھتی ہے کہ خرابی کی وجوہات کیا ہیں اور اصلاح احوال کے لئے کون سا طریقہ کار اختیار کیا جانا چاہیے۔ ہمارے ہاں انٹیلی جنس ایجنسیوں نے بڑے معرکے انجام دیے ہیں، لیکن ہر حکومت نے ان کی صلاحیت کو اپنے سیاسی مخالفین کو دبانے اور انتقامی کارروائیوں کے لئے استعمال کیاہے۔

عوام الناس پانامہ لیکس کی تحقیقات کرنے والی جے آئی ٹی کے سربراہ اور اراکین کو بعض خفیہ اہلکاروں کا ہراساں کرنا یاد ہو گا۔ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے ادوار میں کسی طرح ایک دوسرے کے ٹیلی فون ٹیپ کیے جاتے اور انتہائی ذاتی قسم کی معلومات چرائی جاتیں رہیں، یہ اب راز نہیں رہا ہے۔ خطیر فنڈز سے کام کرنے والے ان مفید خفیہ اداروں کو عوامی شکایات کے حل کی خاطر کبھی فعال کرنے کی طرف توجہ نہیں دی گئی۔

وزیر اعظم نے ملک کی انتہائی معتبر اور قابل خفیہ ایجنسیوں کو ذخیرہ اندوزوں اور سمگلروں کے خلاف کارروائیوں پر نظر رکھنے کا حکم دے کر سابق حکومتوں کی غلط حکمت عملی کو درست رخ پر استوار کرنے کی کوشش کی ہے۔ ملک میں ناجائز منافع خوروں ’گراں فروشوں اور ذخیرہ اندوزوں کی وجہ سے مصنوعی مہنگائی نے جینا دوبھر کر دیا ہے۔ یہ لوگ معاشرے کے دشمن اور پوری قوم کو ہیجان و تکلیف کا شکار بنانے کے ذمہ دار ہیں، ان کے خلاف کریک ڈاؤن کا فیصلہ کاروباری ماحول میں تبدیلی کا باعث بنے گا۔

یہ امر خوش آئند ہے کہ مرکز میں وزیراعظم کی طرح پنجاب میں وزیراعلیٰ سردار عثمان بزدار خدمت خلق کابیڑا اٹھائے ہوئے عام آدمی کی حالت بدلنے کے مشن پر گامزن ہوئے ہیں۔ وزیر اعلی پنجاب نے بھی عوامی خدمت کے مشن کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو خاطر میں نہ لانے کے عزم کا اعادہ کیاہے۔ اس سلسلے میں رکاوٹوں کے حوالے سے یقینا ان کا اشارہ بھی کرپٹ کاروباری مافیا کی طرف ہی ہوگا جن سے نمٹنے کے لئے ان کو وزیراعظم جیسا دبنگ لب و لہجہ ہی اختیار کرنا پڑے گا۔

اس سے قبل پنجاب حکومت کی کار کردگی سے جہاں عوام نا خوش ہیں، وہاں تحریک انصاف کے اراکین بھی کھلے الفاظ میں تنقید کرتے نظر آتے ہیں۔ وزیر اعلیٰ سردار عثمان بزدار کی انتظامی معاملات میں مزید معمولی کمزوری اور گڈگورننس میں ذرا سی لچک کو عوامی خدمت کے مشن سے کوسوں دور لے جاسکتی ہے، اسی معمولی کوتاہی اور غفلت کو تاریخ لمحوں کی خطاء، صدیوں کی سزاسے تعبیر کرتی ہے۔ تحریک انصاف حکومت کے پاس ابھی وقت ہے کہ وہ عوامی خدمت کے مشن کویقینی بنائیں، گزشتہ دور حکومت پر الزام تراشی کے طرز عمل کو ترک کرتے ہوئے آئندہ رکاوٹیں بننے والوں کے ساتھ کسی قسم کی رو رعایت نہ برتی جائے خواجہ وہ کتنا ہی با اثر لاڈلہ کیوں نہ ہو، ملک کے عام آدمی کی حالت زار اسی صورت بدلے گی، جب ضروریات زندگی تک اس کی رسائی آسان ہوگی، اس کے بعد ہی حقیقی تبدیلی نظر آئے گی اور فلاحی ریاست کا خواب بھی خوبصورت تعبیر پائے گا۔

Facebook Comments HS