مقدمہ گلگت بلتستان اور بنیادی انسانی حقوق کی تلاش

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

مہذب دنیا میں قومی ریاستں ایک آئین کے تحت اپنے شہریوں کو کچھ اہم حقوق مہیا کرتی ہیں جنھیں بنیادی انسانی حقوق کہا جاتا ہے۔

کہا جاتا ہے ہر ریاست ان حقوق کی وجہ سے پہچانی جاتی ہے جو وہ برقرار رکھتی ہے بقول لاسکی آئین سے ان حقوق کا پتہ چلتا ہے چونکہ آئین بنیادی طور پر انسانی حقوق کا ضامن ہوتا ہے۔ عام طور پر یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ ریاست انسانوں کے حقوق تخلیق نہیں کرتی ہے بلکہ حقوق کو تسلیم کرتی ہے۔

قدیم زمانے سے ہی بنیادی حقوق کا مطالبہ شہروں سے شروع ہوا اور وہ اپنے سول رائٹس کے متعلق حساس ہوِئے اور اٹھارویں صدی کے وسط میں فطری حقوق کے معتلق بات چیت شروع ہوئی۔ مشہور فلسفی ژاں ژاک روسو کا ماننا ہے کہ انسان آزاد پیدا ہوا ہے مگر جدھر دیکھو وہ پایہ زنجیر ہے اور ان الفاظ کے ساتھ روسو اپنی کتاب معاہدہ عمرانی ”شروع کرتا ہے۔

روسو نے آزادی، مساوات، حکومت جمہوریہ کو انسان کا حق ثابت کیا ہے اور ان کا ماننا ہے کہ

معاہدہ عمرانی کے رو سے تمام شہری برابر ہیں اور

قدرتاً ہر شخص آزاد پیدا ہوا ہے اس لیے یہ کہنا کہ غلام کی اولاد غلام ہوتی ہے گویا اس کے انسان ہونے کے وجود سے انکار کرنا ہے۔

وہ لکھتا ہے کہ کسی چیز کو خیرات کے طور پر مانگنے اور حق کے طور پر طلب کرنے میں زمین اسمان کا فرق ہے۔

امریکہ اور فرانس کے انقلابی دور میں اس کی تشبیع دی جاتی ہے۔ امریکہ اور فرانس نے اس حوالے سے انگلینڈ کے تجربے کے ساتھ ساتھ جان لاک کی عمدہ تحریروں سے بھرپور فایدہ اٹھایا۔ انقلاب فرانس کے مشہور نعرے انصاف، برابری، اور بھائی چارہ سے پتہ چلتا ہے کہ وہ اپنے حقوق کے لیے سیاسی طور پر بہت زیادہ متحرک ہوچکے تھے۔

ورجینیا ڈیکلریشین آف رایئٹس 1786 جمہوری آیئن سازی برائے حقوق کے بابت پہلا لکھا ہوا ماڈل دستاویز تھا جس میں یہ اعلان کیا گیا کہ

All men are created equal that they are endowed by their creater with certain rights۔

قدرت نے تمام انسانوں کو برابر پیدا کیا ہے اور قدرت نے ان کو مخصوص حقوق بھی نوازا ہے جن میں جینے کا حق، آزادی، اور خوشی کی تلاش شامل تھے۔

ان حقوق کے حصول کے لیے ایک حکومت کی تشکیل عوام نے اپنے نمایندوں کے ذریعے کی اور ان نمایندوں کو just power اپنی مرضی سے دیا کہ وہ ان پر حکومت کرے بدلے میں وہ ان کے ان حقوق کی تحفظ کرے۔

دوسری طرف امریکہ میں سول رائٹس کے مشہور رہنما مارٹن لوتھر کنگ کا کہنا ہے قوانین دو طرح کے ہوتے ہیں ایک انصاف پر مبنی قانون ہوتا ہے اور دوسرا نا انصافی پر مبنی ہوتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ عوام انصاف پر مبنی قوانین ماننے کے نہ صرف قانونی بلکہ اخلاقی طور پر بھی پابند ہوتے ہیں۔

بالکل اسی طرح سے ایک انسان کی یہ اخلاقی ذمہ داری ہے کہ وہ Unjust laws کو نہ مانے۔

جدید ریاستوں میں نہ صرف لوگ اپنے حقوق کے بارے میں باخبر ہوتے ہیں بلکہ وہ ان حقوق کی نیچر کے بارے میں جانتے ہیں کہ ان کے حقوق اور فرائض کیا ہیں؟

انیسویں اور بیسویں صدی میں دنیا کے مختلف ممالک نے اپنے آئین میں اس بات کو تسلیم کیا بنیادی انسانی حقوق کے بنا انسانی حقوق یا حق کا مطلب کسی خواہش کی تسکین قطعی نہیں ہے بلکہ اس کا مطلب یہ کہ آیا ریاست کا کردار کیا ہے؟

حقوق درحقیقت سماجی زندگی کے وہ حالات ہیں جن کے بغیر کوئی بھی شخص اپنی شخصیت کی نشورنما نہیں کرسکتا ہے۔ اس لیے ریاست کا ہر شہری یہ دعوی کرتا ہے کہ ریاست ان حقوق کی تحفظ فراہم کرتے ہوئے ایسے حالات پیدا کرے جن میں انسانی شخصیت کی تشکیل اور نشوونما ممکن ہو اور وہ اپنی ذات کی تکمیل کرسکے اور سماجی فلاح و بہبود کے لیے کردار ادا کرسکیں۔

حقوق کا دعوی کرنے کا مطلب یہ نہیں کہ ہم ذمہ داریوں سے انکار کریں بلکہ حقوق اور ذمہ داریوں کا چولی دامن کا ساتھ ہے اس کا مطب یہ ہے کہ اپ کے حقوق پر کوئی ڈاکہ نہ ڈالے اور نہ ہی آپ کو اجازت ہے کہ اپ کسی کے حقوق پر ڈاکہ ڈالو۔

میرا حق سے مراد مجھے حاصل وہ طاقت ہے کہ میں دوسروں کی اچھائی کے لیے کردار ادا کروں البتہ غیر معاشرتی افعال کی اجازت نہیں ہے۔

انیسویں اور بیسویں صدی میں دنیا کے اکثر ممالک نے اس بات کو تسلیم کیا کہ انسانی بنیادی حقوق کے بنا انسانی شخصیت کی تعمیر اور تکمیل ممکن نہیں۔

پہلی جنگ عظیم کے بعد دنیا میں پرامن ترقی اور خوشحالی کے لیے انسانی حقوق کو لازمی قرار دیا گیا جبکہ دوسری جنگ عظیم کے بعد اس پر یقین مستحکم ہوا اور دسمبر 1948 میں یونیورسل ڈییکلریشن آف ہیومن رائٹس کو اپنایا گیا اور اقوام متحدہ کے تمام ممبر ممالک اپنے دستور میں ان حقوق کو شامل کر چکے ہیں۔ اور ہر سال دس دسمبر کو اقوام متحدہ کے ممبر ممالک عالمی انسانی حقوق کے دن کے طور پر مناتے ہیں۔ اس کے ساتھ سول اور پولیٹیکل رائٹس کے حوالے سے مختلف معاہدوں پر اقوام متحدہ کے جو ممالک دستخط کرتے ہہیں وہ بنیادی انسانی حقوق کی فراہمی کے پابند ہوتے ہیں۔

عام طور پر یہ بنیادی حقوق ایک ملک کے آئین کے اندر لازمی طور پر درج ہوتے ہیں مثال کے طور پر پاکستان کے شہریوں کے بنیادی حقوق کا تحفظ آئین پاکستان کرتا ہے جبکہ اور عوامی نماییندوں کے پاس اخیار ہوتا ہے کہ وہ اپنی قوم کے وسیع تر مفاد میں اس طرح قانون سازی کرے جن سے اس ملک کے شہریوں کے بنیادی حقوق متاثر نہ ہو۔

قوانین کے نفاز کے لئے مقننہ اور تشریح اورشہریوں بنیادی حقوق کے تحفظ کے لیے آئین اعلی عدلیہ کو تخلیق کرتا ہے جس کی ذمہداری اپنے ملک کے شہریوں کے بنیادی حقوق کی تحفظ کرنا اور انصاف کی فراہمی کو یقینی بنانا ہوتا ہے ان کے پاس جوڈیشل ریویو کا اختیار ہوتا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ وہ قانون ساز ارارے یعنی اپنے ملک کے پارلیمنٹ کے بنائے ہوئے ایسے قوانین کو کالعدم قرار دے سکتے ہیں جو آئین کے روح اور بنیادی حقوق کے خلاف ہوتے ہیں۔

امریکہ کے آئین میں پہلے دس ترامیم کو بل اف رایئٹس کہتے ہیں امریکہ میں انسانی بنیادی حقوق کاتحفظ ان کا آئین کرتا ہے جبکہ برطانیہ میں بنیادی حقوق کا ذکر آئین میں نہیں ہے اس لیے وہاں کے شہریوں کے بنیادی حقوق کی تحفظ وہاں کی عدالتیں کرتی ہیں اور دلچسپ بات یہ ہے برطانیہ کی عدالتوں کا شمار دنیا کی آزاد ترین عدلیہ میں ہوتا ہے۔

لیکن بدقسمتی سے اج کے اس اکیسویں صدی میں دنیا کے بعض خطوں میں انسانی حقوق کو تحفظ دینے کے لیے نہ تو کوئی آئین موجود ہے نہ ہی آزاد عدلیہ۔ انسانی بنیادی حقوق سے محرم ان خطوں میں گلگت بلتستان سرفرست ہے، اس خطے کے عوام کی محرمیوں کو مدنظر رکھتے ہوئے سال 1999 میں پاکستان کے سپریم کورٹ نے الجہاد ٹرسٹ بنام فیڈریشن اف پاکستان نامی کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے وفاق پاکستان کو چھ ماہ کے اندر گلگت بلتستان ایک آزاد عدلیہ کا قیام اور یونیسورسل ڈیکلریشن آف ہیومن رایئٹس کا حوالہ دیتے ہوئے گلگت بلتستان کے عوام کو بنیادی حقوق فراہم کرنے کا حکم دیا تھا مگر بیس سال گزر گیے عوام کو آج بھی بنیادی حقوق میسر نہیں۔ لہزا گلگت بلتستان کے عوام کے بنیادی انسانی حقوق کے بارے میں اگاہی کے لیے الجہاد ٹرسٹ بنام فیڈریشن آف پاکستان نامی کیس کو سمجھنا لازمی ہے جس پر قانونی بحث اگلے ارٹیکل میں پیش کیا جایے گا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *