سوشل میڈیا کی وجہ سے جھوٹ عام اور سچ ناپید ہوگیا ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ٹیلی فون ابھی بہت پرانا قصہ نہیں ہوا، ٹیلی فون عام کیا ہوا، گرلز کالج کے باہر کھڑے اکثر لڑکے کسی نہ کسی طرح اکثرلڑکیوں کے گھر کا ٹیلی فون نمبر حاصل کرکے فون کرتے، لڑکیوں میں بھی جرات آگئی اور دیے گئے عاشقی وقت کے مطابق لڑکی بھی ٹیلی فون کے گرد منڈلاتی رہتی مبادا فون کوئی اور نہ اٹھالے۔ لیکن اگر عین وقت پر ٹیلی فون لڑکی کی بجائے اس کے ابا جی اٹھا لیتے، اور لڑکے کو میٹھی پیار بھری نسوانی آواز کی بجائے کڑک دار آواز میں ہیلو سننے کو ملتا تو دل ہی دل میں موٹی موٹی گالیاں دے کر فون بند کر دیا جاتا۔

کچھ نادان مطلوبہ آواز سننے کے چکر میں اسی وقت بار بار فون کرتے تو پھر دوسری طرف سے باآواز بلند گالیاں سنائی دیتیں، یوں آدھی ملاقات میں ایک دوسرے کو گالیاں دے کرحساب پورا کر لیا جاتا۔ پھر آگیا جناب موبائل کا زمانہ، اس پہ ملنے والے نائٹ پیکجز نے َ لوگوں کو گالیوں سے انجان اور گلیوں کو سنسان کر دیا۔ اب جو بھی بات ہوتی تاروں کی لو میں ہوتی۔ یوں تاروں بھری رات میں تاروں نے کام آسان کر دیا۔ کئی لڑکیاں گھر والوں کے سامنے موبائل پر تہجد کا الارم لگاتیں اور اٹھ کر واجد سے بات کرتیں۔

اماں ابا سکون سے سوتے کہ لڑکی اٹھ کر شادی کے لئے وظیفہ کرتی ہے۔ وظیفہ تو وہ شادی ہی کا کرتی لیکن پڑھائی دنیاوی ہوتی۔ پھر موبائل سے چھلانگ لگی سوشل میڈیا پر۔ فیس بک، واٹس اپ، یو ٹیوب جیسی واہیات چیزیں کیا آئیں اس نے تو سب کچھ تہس نہس کر کے رکھ دیا، بس جی زندگیاں ہی بدل گئیں ہیں۔ محبت سمیت ہر چیز کا رنگ ہی بدل گیا ہے، بات خالی محبت تک نہیں رکی اس پر انٹری دینے والوں نے تو جینا حرام کر دیا ہے، عوام سے خواص تک کون ہے جو اس کی زد سے بچے، یہاں تک کے عوام کی بھلائی کے لئے کام کرتی حکومت تک اس کے نشانے پہ آگئی ہے، جھوٹی سچی باتیں، من گھرٹ افسانے، تہمتیں مت پوچھیے کس کس کے ساتھ کیا کیا نہیں ہورہا، کس کا شملہ ہے جو اس فتنے سے بچ سکے، ہر کوئی خود کو عالم سمجھنے لگا ہے، جھوٹے سچے علم پھیل گئے ہیں۔

سننے میں آتا ہے کہ سرکار بھی اس بات کی تصدیق کرتی ہے کہ سوشل میڈیا کی وجہ سے جھوٹ عام اور سچ ناپید ہوگیا ہے۔ محبت کا یہ عالم کہ، فیس بک انسٹال کرو اور تھوک کے حساب سے جان نثار پاؤ، ان میں سے اکثر کا عشق فیس بک کی فرینڈ ریکوسٹ سے شروع ہوکر واٹس اپ کی ویڈیو کال پر ختم ہوجاتا ہے۔ کچھ نثاران حسن واٹس اپ تک کا طویل سفر طے نہیں کرتے کہ کچھ لوگوں کی سادگی دیوانہ کرتی ہے تو کچھ کی سادگی بیگانہ بھی کردیتی ہے، یعنی فیس بک پر ہی فیس دیکھ کر محبت ٹھاہ کر کے ہلاک یعنی بلاک ہوجاتی ہے۔

لیکن کچھ لوگ سیرت کے نام پر گھر تک کی راہ دیکھتے ہیں، آگے ان کی قسمت اگر سیرت بعد میں صورت سے مل جائے۔ لیکن شادی تک بات نصیب والوں ہی کی پہنچتی ہے۔ کہ سنجیدگی کا عالم کم ہی ہوتا ہے۔ کچھ لڑکیاں محبت کے نام پر دھوکہ کھا رہی ہیں تو کچھ کا بہتر کی تلاش میں بریک اپ ہو جاتا ہے۔ اس سوشل کی میڈیا کی وجہ سے لڑکیوں کے رشتے نہیں ہو رہے، تو کچھ کے بنے ہوئے رشتے اس کی وجہ سے ٹوٹ رہے ہیں۔ لوگ سگے رشتوں سے انجان ہو کر فیس بک کے ہو کر رہ گئے ہیں۔

اس پر مزید دشمن عناصر سرکار کو بدنام کرنے کے لئے عجیب قسم کی پوسٹیں کرتے ہیں جس سے سرکار کے خلاف منفی پروپیگنڈا ہوتا ہے یہ اچھی بات نہیں۔ عوام کی اصلاح کے لئے انھیں مثبت پہلو دکھایا جانا چاہیے نا کہ منفی پہلو دکھا کر عوام کو پریشان کیا جائے، اسی واسطے فیصلہ کیا گیا ہے کہ سرکار مخالف پوسٹوں کو ڈیلیٹ کر دیا جائے تاکہ لوگ منفی خبروں سے دور رہیں اور ان کی صحت پر مثبت اثرات پڑیں۔ اجی ہم تو کہتے ہیں سرکار آپ اپنا فائدہ ہی نہ سوچئیے کچھ کام قوم کے وسیع تر مفاد میں کیجئے اور بے لگام سوشل میڈیا پر لگامیں ڈالئے۔

چند پوسٹوں کو ڈیلیٹ کرنے سے کچھ نہیں ہوگا پورا سوشل میڈیا ہی بند کر دیجئیے۔ سوشل میڈیائی یلغار نے نوجوانوں کو تو سحر میں باندھ رکھا ہے، بزرگ بھی باز نہیں آتے، اس پہ لگے رہنے سے اخلاق کے ساتھ لوگوں کی بینائی بھی متاثر ہو رہی ہے، ٹک ٹاک کے ذریعے عزت داروں کی عزتیں اچھالی جارہی ہیں، اس پر پابندی لگائیے اور دستاریں محفوظ کیجئے، سوشل میڈیا کے بے قابو جن کو بوتل میں بند کیجئے اور دور غاروں میں پھینک آئیے۔

اس قباحت سے ٹائم بچے گا تو بچیاں کڑھائی سلائی پر دھیان دیں گی اور لڑکے روزگار کمانے کی طرف راغب ہوں گے۔ بلکہ ٹیلی فون پر بھی پابندی لگائیے یہ بھی کچھ کم فسادی نہیں ہے، گھروں میں لڑائیاں اسی کی وجہ سے ہوتی ہیں، اور پرنٹ میڈیا کی دراز ہوتی ٹانگیں کاٹ دینے سے بھلا کیا ہوگا صاحب، الیکٹرانک میڈیا پر بھی نکیل ڈالئے، یہ بھی وقت بے وقت بریکنگ نیوز چلا کر لوگوں کو ذہنی مریض بنا رہا ہے۔

جان کی امان پاؤں تو عرض کروں، حضور رابطے کا ہر وسیلہ بند کر دیجیئے، صرف ایک سرکاری ٹی وی چلائیے جو رات گیارہ بجے بند ہو جائے، اس سے عوام میں جلد سونے اور سویرے اٹھنے کی عادت پیدا ہوگی جو صحت کے لئے بہت ضروری ہے، سوچئے جب ایک بی بی سر پر دوپٹہ جمائے سب اچھا کی رپورٹ دے گی تو کون کون سا فائدہ نہیں ہو گا، بچیاں تہذیب سیکھیں گی، نوجوانوں کو گمراہ کرنے والی چیزیں بند ہوں گی تو وہ مذہب کی طرف راغب ہوں گے، ان چیزوں کے بند ہونے سے بجلی کی بچت ہوگی تو بل بھی کم آئیں گے، اور پھر پر سکون خبریں سن کر فشار خون بھی نارمل رہے گا۔

تصور کیجئے کیا پر سکون ماحول ہو گا کہیں سے اغوا کی خبریں سننے کو نہیں ملیں گی، کسی کو بچیوں کے ساتھ کی گئی زیادتی کا پتہ نہیں چلے گا تو ایسے کیسز میں کمی آجائے گی، کوئی سرکار کے خلاف منفی پروپیگنڈا نہیں کرے گا، تو سرکار بھی عوام کی فلاح کی طرف دھیان دے سکے گی۔

نوجوانوں کی اخلاقی اور بزرگوں کی ذہنی صحت اور قومی مفاد کے لئے بس اب ڈٹ جائیے۔ سوچیئے جب رابطے کا ہر وسیلہ بند ہو گا تو کیا ماحول ہوگا، زندگیوں میں سکون آجائے گا، گلیاں آباد ہوجائیں گی، بچے موبائل کی بجائے میدانوں میں کھیلیں گے، نفرتیں مٹ جائیں گی، مل کر بیٹھیں گے تو پرانا زمانہ لوٹ آئے گا، ہر جگہ امن ہوگا۔ سکون صرف قبر میں نہیں قبر سے باہر بھی مل جائے گا۔ تو بس پھر قوم کے وسیع تر مفاد میں یہ کڑوی گولی کھا ہی لیں اور سوشل میڈیا سمیت ہر چیز بند کردیں۔ آخر عوام اسی کی دہائی میں بھی زندہ تھی اب بھی زندہ رہے گی۔ اور اگر اس سب کے بند ہونے سے چند لوگوں کے روزگار پر فرق پڑے تو پرواہ مت کیجئے، کہ اللہ رزق دینے والا ہے، ویسے بھی کھانے والا اپنے رزق تک پہنچ ہی جاتا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *