نعیم الحق کے ساتھ زندگی کے آخری ایام میں تحریک انصاف کی بدسلوکی کی کہانی سامنے آ گئی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

معروف کالم نگار منصور آفاق نے ایک تحریر مین وزیر اعظم عمران خان کے سابق معاون خصوسی اور قریبی دوست نعیم الحق کے ساتھ ان کی زندگی کے آخری دنوں میں ان کے اپنے قریبی ساتھیوں کی طرف سے قابل مذمت بدسلوکی کی کہانی بیان کر دی ہے۔ واضح رہے کہ منصور آفاق خود بھی تحریک انساف کے پرجوش حامی ہیں اور انہیں تحریک انصاف کی قیادت سے قریب سمجھا جاتا ہے۔

منصور آفاق لکھتے ہیں کہ نعیم الحق کا عہدہ وزیر مملکت کے برابر تھا۔ ان کی رہائش گاہ منسٹر کالونی کے ہائوس نمبر 15 میں تھی۔ وہ ابھی زندہ تھے مگر اُن کے بنگلے پر قبضے کی جنگ شروع ہو گئی تھی۔ ڈاکٹرز نے بتا دیا تھا کہ وزیر مملکت چند دنوں کے مہمان ہیں۔ جب بیماری نے شدت اختیار کی تھی تو ان کی ناقدری کا آغاز ہوا اور پھر روز بروز بڑھتی چلی گئی۔

نعیم الحق کراچی نہیں جانا چاہتے تھے انہوں نے باقاعدہ وصیت کی تھی کہ مجھے اسلام آباد دفن کیا جائے۔ انہوں نے بنی گالہ کے قبرستان میں اپنے لئے قبر کی جگہ بھی سلیکٹ کر رکھی تھی ۔ تاہم ان کے قریبی ساتھیوں نے جب دیکھا کہ نعیم الحق چند دن کے مہمان ہیں تو انہوں نے ان کے بیٹےکو کراچی سے بلا لیا کہ انہیں اپنے ساتھ کراچی لے جائیں۔ منصور آفاق کے بقول شاید ان کے بنگلے پر قبضہ کرنے والوں سے ان کی موت کا انتظار نہیں ہو رہا تھا۔

نعیم الحق کے بیٹے امان الحق نے ان کے ساتھیوں سے کہا کہ وہ کراچی آنے پر تیار نہیں ہیں۔ میں انہیں پہلے بھی کئی مرتبہ کہہ چکا ہوں۔ ساتھیوں نے بیٹے کو مشورہ دیا کہ آپ اپنے ابو سے کہیں کہ ہم علاج کے لئے آپ کو لندن لے کر جا رہے ہیں۔ سو بیٹے نے باپ کو یہی کہا۔ باپ تیار ہو گیا۔ نعیم الحق  نے رخصت ہوتے ہوئے گھر کے ملازمین سے کہا کہ میں علاج کے لئے لندن جا رہا ہوں، آپ بےفکر رہیں۔ بہت جلد ٹھیک ہو کر واپس آجائوں گا۔

جب بیٹا ان کو لے جانے لگا تو ان کے دفتر کا کوئی آدمی موجود نہیں تھا۔ اتفاق سے قاسم خان سوری ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی ان کی عیادت کرنے آئے تھے۔ انہوں نے سوچا کہ چلو میں بھی ایئرپورٹ تک انہیں الوداع کہنے چلا جائوں۔ جب ایئر پورٹ پہنچے تو وہاں وفاقی وزیر کے برابر کا عہدہ رکھنے والے وزیراعظم کے معاون خصوصی کیلئے کوئی بندوبست نہیں تھا۔ سرکاری طور پر کوئی اہل کار موجود نہیں تھا جو ویل چیئر منگواتا یا بورڈنگ کارڈ حاصل کرتا۔ یہ صورتحال دیکھ کر قاسم خان سوری نے اپنے اسٹاف کو بلایا اور انہوں نے جلدی سے تمام معاملات مکمل کرائے۔ بڑی مشکل سے انہیں کار سے ویل چیئر پر منتقل کیا گیا اور پھر جہاز کی نشست پر بٹھایا گیا۔ جب جہاز لندن کے بجائے کراچی ایئر پورٹ اترا اور بیٹا انہیں اپنے گھر لے آیا تو نعیم الحق کو معلوم ہو گیا کہ ان کے ساتھ کیا کیا گیا ہے۔ انہیں مرنے کے لئے گھر بھیج دیا گیا ہے۔ یہ خبر ان کے لئے موت سے زیادہ تکلیف دہ تھی۔

منصور آفاق نے سوالات اٹھائے ہیں کہ ان کے ساتھ ان کا اسٹاف کیوں نہیں تھا۔ ان کا باقاعدہ پروگرام کیوں نہیں جاری کیا گیا۔ انہیں کراچی اور اسلام آباد میں پروٹوکول کیوں نہیں فراہم کیا گیا۔ انہیں گھر سے ایئر پورٹ تک ایمبولینس میں کیوں نہیں بھیجا گیا۔ قانوناً تو وفاقی وزیر اگر بیمار ہو اس کے لئے ایئر ایمبولینس فراہم کی جاتی ہے۔

حالیہ دنوں میں عمران خان نے دو مرتبہ نعیم الحق کی عیادت کی۔ دونوں مرتبہ جب عمران خان وہاں پہنچے تو وہاں دو ایسے اشخاص موجود تھے جن کے بارے میں عمران خان کہہ چکے تھے کہ انہیں میرے سامنے مت آنے دیا جائے۔ نعیم الحق حیران تھے کہ جیسے ہی عمران خان اس کے پاس آئے۔ یہ دونوں یہاں کیسے پہنچ گئے۔ باوثوق ذرائع کے مطابق منصور آفاق کا اشارہ عون چوہدری اور ڈاکٹر شہباز گل کی طرف ہے۔

پی ٹی آئی کے کارکنوں کو دکھ ہے کہ عمران خان نعیم الحق کے جنازے میں شریک نہیں ہوئے۔ اطلاعات کے مطابق عمران خان جنازے پر کراچی جانا چاہتے تھے مگر انہیں کہا گیا کہ سیکورٹی کے مسائل خاصے گمبھیر ہیں۔ آپ کراچی نہیں جا سکتے۔ اگر سیکورٹی کا واقعی مسئلہ تھا تو نعیم الحق کا جنازہ گورنر ہائوس کے لان میں بھی پڑھایا جا سکتا تھا۔ عمران خان کے لئے تو سیکورٹی کا مسئلہ تھا۔ باقی کابینہ جنازے پر کیوں نہیں گئی۔ جنازے میں صرف کراچی میں موجود وزیر ہی شریک ہوئے۔ اسلام آباد سے صرف مشیر اطلاعات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان اور ڈپٹی اسپیکر قاسم خان سوری جنازے میں شریک ہوئے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *