غامدی صاحب کا بے نام و بے نظریہ سیکولرازم  

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جاوید احمد غامدی صاحب نگاہ بلند اور سخن دل نواز پیامبر ہیں۔ بہت اندھیرے میں جلتا چراغِ طور ہیں۔ فکری بنیادوں میں پانی چھوڑنے کا انہیں سلیقہ ہے۔ کہنے سے زیادہ سننے کا انہیں حوصلہ ہے۔ اپنی بات دوٹوک کہتے ہیں۔ دوسرے کی بات بے روک سنتے ہیں۔ الفاظ میں خود کو سجانے سے گریز ہی کرتے ہیں۔ اپنے کہے کو جینے کی کوشش زیادہ کرتے ہیں۔ ان کے کردار کو اُن کے اپنے ہی اقوال کی میزان میں تولا جائے تو قول اور فعل کا توازن مرزا نوشہ کے مصرعے جیسا نکلے گا۔ حرص کے سائے ان کے ذہن پر دکھائی نہیں پڑتے۔ جو محسوس کرتے ہیں وہی تحریر کرتے ہیں۔کسی کو منصبِ دلبری پر بٹھانے کے لیے اور کیا چاہیے؟ بس یہی ہے رختِ سفر میر کارواں کے لیے!

غامدی صاحب کی اپنے مکتب کے خوشہ چینوں کے ساتھ ایک نشست ہوئی۔ برادر جان حضرت وقاص خان نے کہا، لگتا یہ ہے کہ آپ ملفوف انداز میں اور ڈھکے چھپے الفاظ میں سیکولرازم کی ہی دعوت دے رہے ہیں۔ آبخورہ اٹھاتے ہوئے زیر لب انہوں نے کہا، میں کوئی بھی دعوت ملفوف انداز میں نہیں دیتا۔

اعتراف کرنا چاہیے کہ غامدی صاحب نے میر کے سرہانے جو بات کہی، توپ کے دہانے پر بھی ہمیشہ وہی بات کہی۔ غامدی صاحب اُن لوگوں میں سے یقینا نہیں ہیں جو اپنے کہے کی قیمت وصول کرتے ہیں۔ یہ اسی دبستان کے آدمی ہیں جو اپنے کہے کی قیمت اداکرتے ہیں۔ اُس آشفتہ سر قبیلے سے ہیں جو کہتا ہے، کسے کہ کُشتہ نہ شد از قبیلہ ما نیست۔ لیکن جو سچائی سامنے کھڑی ہوگئی ہے وہ یہ ہے کہ سیکولرازم پر گفتگو کرتے ہوئے غامدی صاحب اب الفاظ چبانے لگے ہیں۔ بہت معذرت۔ نالہ آتا ہے اگر لب پہ تو معذور ہیں ہم !

غامدی صاحب نے 22 جنور ی 2015 کو روزنامہ جنگ میں “اسلام اور ریاست” کا عنوان باندھ کر مضمون لکھا۔ اس مضمون میں انہوں نے ریاست کے حوالے سے کسی قسم کی لگی لپٹی رکھے بغیر سیکولر نقطہ نظر بیان کیا۔ یہی وجہ تھی کہ فرزندانِ توحید قلم کو کاسٹک سوڈا کی دھار لگا کے فتوی ساز کارخانوں سے نکل آئے۔ اس مضمون کا آغاز ہی غامدی صاحب نے ایسے جملے سے کیا جسے گارشیا مارکیز مچھلی کا شکار کرنے والے شکاری کا کانٹا کہتے ہیں۔جو قاری کو پہلی ہی جست میں پکڑلے اور پھر اسے دم نہ کشیدم کردے۔ جملہ ہے، ریاست کا کوئی مذہب نہیں ہوتا،اسلام کی دعوت افراد کے لیے ہے اور جو احکام معاشرے یا اداروں کو دیے گئے ہیں ان کا تعلق بھی افراد ہی سے ہے۔ غامدی صاحب نے اس ایک جملے میں جو ارشاد کیا ہے یہ ایک نظریہ ہے۔ سادہ سی بات یہ ہے کہ معلوم نظریوں میں اِس نظریے کو سیکولرازم کہا جاتا ہے۔

مضمون میں غامدی صاحب نے جو نقطہ نظر اختیار کیا، اس نے اعتماد بڑھایا۔ اس کے بعد جب جب سیکولرازم کے حوالے سے  انترہ اٹھایا، اضطراب ہی بڑھایا۔ غامدی صاحب کی ایک ویڈیو منظر عام پر آئی۔ فرما رہے تھے، سیکولر نقطہ نظر سے وابستہ لوگ دو طرح کے ہیں،ایک وہ ہیں جو مذہب پر یقین ہی نہیں رکھتے، دوسرے وہ ہیں جو ہیں تو مسلمان ہی، یعنی نماز بھی پڑھ لی روزہ بھی رکھ لیا آخرت کا معاملہ بھی ہے، مگر (لادین طبقے کی طرح) وہ سمجھتے ہیں کہ اجتماعی زندگی کے معاملے میں انسانی تجربے نے ہمیں اس نتیجے تک پہنچادیا ہے کہ قومی ریاست کو سیکولر ہی ہونا چاہیے۔

یہ فرمانے کے بعد غامدی صاحب بہت قطعیت کے ساتھ کہتے ہیں

یہ لوگ ہیں جو میری نظر میں نہ صرف مذہبی لحاظ سے غلط جگہ پر کھڑے ہیں بلکہ وہ اپنے پیش نظر مقصد کے لحاظ سے بھی دیکھیں تو وہ ایک ہاری ہوئی جنگ لڑ رہے ہیں

اپنے اِس دعوے کی بنیاد غامدی صاحب یہ بتاتے ہیں

سیکولر ازم دراصل یورپ میں چرچ کے مدمقابل آیا تھا۔ وہاں سیکولر ازم اس لیے کامیاب ہوا کہ مسیحیت کے پاس سیاسی طاقت تو تھی مگر مسیحی کتب میں اِس کے لیے کوئی حکم یا استدلال موجود نہیں تھا۔ یعنی چرچ کی حیثیت اس لیے فیصلہ کن نہیں تھی کہ انہیں بائبل نے کوئی حکم دیا تھا، بلکہ وقت اور حالات کے نتیجے میں بس ایسا ہوگیا تھا۔ مسلمانوں کے پاس قرآن مجید کی صورت میں ایک کتاب موجود ہے، جس میں انفرادی اجتماعی اور یہاں تک کہ حکومتی حوالے سے بھی کچھ احکامات موجود ہیں۔ یہاں سیکولرازم کا لفظ بولتے ہوئے آپ دیکھ لیں کہ آپ کرنے کیا جارہے ہیں، آپ کے مقابلے میں قرآن کھڑا ہے۔

غامدی صاحب کا امتیاز یہ ہے کہ انہوں نے صدیوں پرانی مذہبی تعبیر کو چیلنج کیا ہے۔ مذہبی دائرے میں یہ اتنی بڑی جسارت تھی کہ غامدی صاحب کے شاگرد قتل کیے گئے، بچے غیر محفوظ ہوئے اور خود انہیں دشتِ تنہائی میں ہجرت کا خیمہ لگانا پڑا۔ غامدی صاحب کے خلاف روایتی بزرگوں کی ساری گفتگو سن لیں، نچوڑ اس کا ایک ہی ہے کہ تیرہ سو سال سے مسلم علماء متفقہ طور پر دین کی جو تعبیر پیش کر رہے تھے غامدی صاحب نے اس کو چیلنج کیا ہے، یہ ناکام و نامراد رہیں گے، ان سے پہلے بھی ایسے جتنے لوگ آئے نامراد ہی ٹھہرے۔ غامدی صاحب نے روایتی حلقے کے اس خیال کو ہمیشہ مسترد کیا، اچھا کیا۔ لیکن اب جب غامدی صاحب کو سیکولر حلقے سے معاملہ پڑا ہے تو وہی جملہ داغ دیا جو عمر بھر  بسم اللہ کے گنبد سے اُن پر داغا گیا تھا۔

غامدی صاحب نے وقاص خان کے سوال کے جواب میں جو فرمایا، اب وہ پڑھ لیجیے۔ فرمایا

میں نہ سیکولرازم کا قائل ہوں نہ اسلام ازم کا قائل ہوں۔ جب کسی ریاست کے ساتھ آپ کسی نظریت کو وابستہ کرتے ہیں تو لازمی طور پر استبداد پیدا ہوجاتا ہے۔اسلام ازم پر آپ کے پاس سب سے قطعی مثال سعودیہ عرب کی ہے۔سو سال وہاں عورتوں نے جدو جہد کی کہ ریاست انہیں گاڑی چلانے کی اجازت دیدے۔ یہ اسلام ازم کا استبداد ہے۔ دوسری طرف ترکی کو لے لیجیے۔وہاں ایک عورت کو اس بات کے لیے سو سال جدو جہد کرنی پڑی کہ وہ سکارف پہن سکے۔ جب آپ کہتے ہیں ریاست سیکولر ہے تو آپ ریاست کے نظریے کا اعلان کر رہے ہوتے ہیں۔

اب ریاست سے متعلق خود غامدی صاحب کا جو تصور ہے، اسے کیا کہنا چاہیے؟ طالب علم کے لیے تو یہ سیدھے سبھاو سیکولرازم ہی ہے۔ اگر یہ سیکولرازم نہیں ہے تو کم از کم یہ ایک خیال تو ہے؟ اب اگر لوگ اس خیال کو اپناتے ہیں ،اس پر تحقیق کرتے ہیں، اس کے پرچارک بنتے ہیں تو وہ اس خیال کو کیا نام دیں؟ ظاہر ہے کہ وہ اسے بے نام و بے پتہ تو نہیں رکھ سکتے۔ آخری تجزیے میں یہ ایک نظریہ ہی کہلائے گا جسے لوگوں نے غامدی صاحب سے جانا اور سمجھا ہوگا۔ اب کل کلاں اگر ریاست غامدی صاحب کے اس نظریے کو اپنائے تو کیا طالب علم کا یہ کہنا بجا ہوگا کہ چونکہ یہ ایک نظریہ ہے اس لیے ریاست کو چاہیے کہ اِس سے بارہ پتھر دور ہی رہے۔ اگر ریاست نے سیاسی بندو بست کے کسی بھی غیر جانبدارانہ فارمولے سے اس لیے بچنا ہے کہ وہ بجائے خود ایک نظریہ ہوگیا ہے تو پھر وہ کون سا طریقہ ہے کہ ایک شخص دنیا کی نظروں سے بچ بچا کے ریاست کے پاس جا کر کہے کہ یہ لو بالک، یہ قمیص پہن لو مگر کسی کو بتانا نہیں ہے کہ یہ کپڑا ہے۔

بات یہ ہے کہ غامدی صاحب سیکولرزم کا نام لے کر جس چیز پر نقد کر رہے ہیں وہ فاشزم ہے۔ انہوں نے ایک جگہ کہا، اگر آپ کہتے ہیں ریاست مذہبی معاملات میں مداخلت نہ کرے تو پھر میں کہوں گا کہ لوگ جو اپنے طور پر جہاد شروع کردیتے ہیں ان کا ہاتھ بھی ریاست  نہ روکے۔ غامدی صاحب کے اِس جملے کا آسان سا مطلب یہ ہے کہ مردودِ حرم جس سیکولرازم کی بات کر رہے ہیں وہ ریاست سے مذہب کو بے دخل کرنے کی بات ہے۔ اگر ایسی ہی بات ہے تو پھر وہ سیکولرازم ہی کیوں ہوا اور کیسے ہوا؟ سیکولرزم کا مطلب ہی یہ ہے کہ ریاست رنگ اور نسل، صنف اور جنس، نظریے اور عقیدے سے بالاتر ہوکر تمام شہریوں کے بنیادی حقوق اور بنیادی ضرورتیں پوری کرے گی۔ بنیادی حقوق کے اندر اظہار کی آزادی بھی ہے۔ یہ اظہار اپنے مذہب کی تبلیغ کی صورت میں کیوں نہ ہو، سیکولر ریاست اس کا تحفظ یقینی بنائے گی۔ بنیادی ضرورتوں میں عبادت کی ادائیگی کے لیے مذہبی ضرورتیں بھی شامل ہیں۔ ایسی تمام ضرورتیں بالکل اسی طرح ریاست پوری کرے گی جس طرح امریکہ سے لے کر نیوزی لینڈ تک سیکولر ریاستیں پوری کررہی ہیں۔

غامدی صاحب نے کہا، سیکولرازم یورپ میں تو کامیاب ہوا مگر مسلم ممالک میں کامیاب نہیں ہوسکا۔ زور دے کر فرمایا کہ یہ کامیاب ہو بھی نہیں سکتا۔ یہ کہہ کر انہوں نے مصطفی کمال پاشا کے ترکی کی مثال دی۔ یہ مثال سن کر طالب علم کو گمان گزرتا ہے کہ پاشا نے شاید یورپ کا سیکولر ازم اٹھاکر ترکی میں نافذ کرنے کی کوشش کی، جسے ترک مسلم معاشرے نے مسترد کردیا۔ حالانکہ  پاشا نے جو واحد غلطی کی وہ تھی ہی یہ کہ یورپ کے سیکولرازم کو اپنانے کی بجائے وہ رد عمل کی نفسیات کا شکار ہوگیا۔ رد عمل میں ہی فاشزم کو گلے لگالیا اور اسے سیکولرازم کا نام دے دیا۔ اپنے فاشزم کو پاشا نے اگر سیکولرازم کا نام دیا تو اس میں بیچارے سیکولرازم کا کیا قصورہے؟ مذہبی سیاست کے پاس صالحانہ برتری، عقیدے کی بالادستی، صنفی تفریق، اکثریت اقلیت کی تقسیم، فرد کے انفرادی دائرے میں مداخلت اور استبداد کے حق میں کتاب کے بیچ سے دلیل موجود ہے۔ سیکولر سیاست کی مختصر دستاویز میں سماج سے مذہب کی بے دخلی کا کوئی اشارہ تک بھی موجود نہیں ہے۔ ریاست سے بے دخلی کی بات البتہ اور ہے۔

مان لیا کہ ریاست کو سیکولر کہتے وقت ہم ریاست کا نظریہ بیان کر رہے ہوتے ہیں، لیکن جب ہم ریاست کو جمہوری ریاست کہہ رہے ہوتے ہیں تب کیا یہی اعلان نہیں کر رہے ہوتے۔ جس طرح سیکولر ازم ایک سیاسی بندوبست ہے، ٹھیک اسی طرح جمہوریت بھی ایک سیاسی بندوبست ہی ہے۔ دونوں کی والدہ ماجدہ کا نام نظریہ ہے۔ اس کے مقابلے میں خلافت و بادشاہت کے نظریے موجود ہیں۔ مسلم دنیا میں جمہوریت کے خلاف بھی ویسے ہی مزاحمت ہوئی جیسے سیکولر ازم کے خلاف ہورہی ہے۔ خلافتِ عثمانیہ اور مصر میں جمہوریت پسند دانشوروں کا ایسا ہی گھیراو ہوا جیسے سیکولرازم پر ہوا۔ یہ کہنا شاید غلط نہ ہو کہ مسلم دانشوروں نے سیکولر ازم کی بھی وہ قیمت ادا نہیں کی جو جمہوریت کی ادا کرنی پڑی۔ جمہوریت کا علم لے کر اٹھنے والے مفکرین کو یہی ڈراوے تو دیے گئے کہ وہ قرآن کے مقابلے میں آرہے ہیں۔ یہ ایک ہاری ہوئی جنگ لڑرہے ہیں جس میں شکست ان کا مقدر ہے۔ آج جمہوریت کی اسی عمرانی دستاویز پر سب کو اطمینان حاصل ہے۔ کیا جمہوریت کو ریاست اور حکومت کی پہنچ سےا س لیے دور رکھنا چاہیے کہ وہ ایک نظریہ ہے؟

غامدی صاحب “ازم” لگائے بغیر جو بات کر رہے ہیں وہ وہی بات ہے جسے خورشید ندیم پیار سے اسلامی سیکولرازم کہتے ہیں۔ یہ وہی جگل بندی ہے جو علامہ اقبال نے جمہوریت والا ساز چھیڑتے ہوئے کی تھی۔ علامہ اول اول جمہوریت کو باطل نظام قرار دیتے تھے۔ وجہ یہ بتاتے تھے کہ اس نظام کے تحت لوگوں کو گِنا جاتا ہے تولا نہیں جاتا۔ وقت گزرا تو علامہ نے “سلطانیِ جمہورکا آتا ہے زمانہ” کہہ کر جمہوریت کے لیے اپنے دل میں وسعت پیدا کرلی۔ مگر چونکہ علامہ قرآن کے مقابلے میں آکر ایک ہاری ہوئی جنگ لڑنا نہیں چاہتے تھے چنانچہ انہوں نے روحانی جمہوریت کا تصور پیش کردیا۔ اب روحانی جمہوریت کیا ہوتی ہے؟ بظاہر تو یہ کوئی الہامی عنوان معلوم ہوتا ہے مگر یہ جمہوریت کو پیشوائیت کے کونٹے سے باندھے رکھنے کی ایک خواہش ہے۔ علامہ نے سوچا، اچھا ہے دل کے پاس رہے پاسبانِ عقل۔حالانکہ تجویز یہ ہونی چاہیے تھی کہ اپنا نظریہ آپ پیدا کر اگر زندوں میں ہے۔

سیکولرازم کے ساتھ اسلامی لگانے کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ ریاست پیشوائیت کے آگے جوابدہ رہ جائے گی۔ جو لوگ روحانی جمہوریت جیسے واہموں سے وابستہ ہوئے وہ آج تک فکری بے یقینی کا شکار ہیں۔جمہوریت کو وہ عارضی پڑاو  سے زیادہ کچھ نہیں سمجھ سکے ہیں۔ اس وہم میں مبتلا ہیں کہ ہم نے فی الحال غیر روحانی جمہوریت کی ایک خیمہ بستی میں پناہ لی ہوئی ہے، اور روحانی جمہوریت کے لیے ہم جدو جہد جاری رکھے ہوئے ہیں۔ اِس “روحانی جمہوریت” کے نفاذ کے واسطے وہ ہمیشہ طاقت کے غیر جمہوری مراکز کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں۔ عوامی نمائندوں اور سیاسی سوچ کے ساتھ مستقل حالتِ جنگ میں ہوتے ہیں۔ کیونکہ علامہ اقبال کے خواب سے جنم والی ریاست کے مالکان نے انہیں یہ سبق ازبر کرادیا ہے کہ آئین کی بالادستی کی بات کرنے والے لوگ غیر روحانی ہوتے ہیں۔ باچا خان، صمد خان، غوث بخش بزنجو، بے نظیر بھٹو، ولی خان، شیخ ایاز، فیض و جالب یہ سب جمہوریت کی اسی غیر روحانی برانچ سے وابستہ تھے۔ جمہوریت کے روحانی علمبردار تو وہی ہیں جن کی ذات والا صفات قومی اتحاد میں ہوتی ہے یا پھر “قومی مفاد” میں ہوتی ہے۔

جس طرح شہد اسلامی اور غیر اسلامی نہیں ہوسکتا، بینکنگ اسلامی اور غیر اسلامی نہیں ہوسکتی، سیکولر ازم بھی اسلامی غیر اسلامی نہیں ہوسکتا۔ ایسی کوئی بات اگر درکار بھی ہے تو اپنے ہی گملے میں اپنا نظریہ اگانا پڑے گا۔دنیا کے بڑے اذہان انسانی سہولتوں کے واسطے کوئی آئیڈیا پیش کرتے ہیں اور ہم اس کے ساتھ محض اسلامی یا روحانی لگاکر قلم توڑ دیتے ہیں۔ جس فارمولے کے زور پر دنیا نے پاپائیت کو ریاست سے بے دخل کیا اُسی فارمولے سے ہم ملائیت کا منہ دُھلواتے ہیں۔ کیا زمانے میں پنپنے کی یہی باتیں ہیں؟

سیکولرازم کو اسلامی اور غیر اسلامی میں بانٹنے سے یہ معاشرہ محض جماعتِ اسلامی اور جماعتِ غیر اسلامی میں بٹ سکتا ہے۔ روحانی جمہوریت نے بھی یہی خدمت انجام دی تھی۔ جماعتِ اسلامی اور غیر اسلامی محض دو نقطہ ہائے نظر نہیں ہیں، یہ دو سیاسی رویے ہیں جنہیں آپ جمہوری اور غیر جمہوری کہہ سکتے ہیں۔ سیکولر ازم کے لیے اِس ملک میں زمین اِس لیے تنگ نہیں ہوگی کہ یہ قرآن کے مدمقابل آرہا ہے۔ اس لیے تنگ ہوگی کہ یہ طاقت کے غیر عوامی مراکز کے مدمقابل آرہا ہے۔ اسلامی سیکولرازم کو یہاں راہ ملنے کی وجہ یہ نہیں ہوگی کہ قرآن کی تعلیمات سے یہ ہم آہنگ ہے۔ اس لیے ملے گی کہ یہ مقتدرہ کے مفاد سے ہم آہنگ ہے۔ اسلامی سیکولرازم ریاستی اشرافیہ کو نئے زمانے میں پرانی امنگوں کے ساتھ جینے کا ایک اور موقع فراہم کرے گا۔ طالب علم کو امید یہ تھی کہ حضرتِ خضر غیرجمہوری رویہ رکھنے والے بے دم گھوڑے کا جنازہ پڑھائیں گے۔ لگ یہ رہا ہے کہ وہ مردے میں دمِ عیسی پھونک رہے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *