زندہ انسانوں کی کھال اتار کر دست کاری کے نمونے بنانے والی عورت

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

آپ نے کبھی انسانی کھال سے بنا ہوا لیمپ شیڈ دیکھا ہے؟ کبھی انسان چربی سے بنائے ہوئے صابن سے نہائے ہیں؟ یا کبھی ایسے صوفے پر بیٹھے ہیں، جس کے کَوَر زندہ انسان کی اتاری ہوئی کھال سے تیار کیے گئے ہوں؟ یا پھر انسان کھال سے بنی جلد والی کتاب پڑھی ہے؟ چلیں، اگر آپ نے یہ ہولناک تجربے یا مشاہدے نہیں کیے تو مردہ آدمیوں کی کٹی ہوئی ”مُنڈیوں“ کو شکار کیے ہوئے جانوروں کے سروں کی طرح دیوار پے ٹرافی کے طور سجاہوا دیکھا ہے؟

ہمیں پکّا یقین ہے کہ ایسے مناظر کا آپ نے تصور بھی نہیں کیا ہوگا۔ مگر ہماری اس خوبصورت دنیا میں ہم جیسے انسانوں کے ہاتھوں ایسے خوفناک اور بھیانک منظر تخلیق ہوتے رہے ہیں، جن سے متعلق اوپر آپ سے سوال کیے گئے ہیں۔ دلیر، سخت دل اور ظالم سمجھے جانے والے مَردوں کے بجائے، ایک عورت نے یہ سب ”ہینڈی کرافٹ“ تخلیق کیے اور انھیں نہ صرف اپنے گھر میں سجایا بلکہ اپنے جاننے والوں کو بطور تحفہ بھی پیش کیا! ۔

یہ ہٹلر کی فوج میں شامل ایک جرمن فوجی عورت تھی، جس نے جلادوں سے بڑھ کر کام کیے تھے۔ آئلزے کوخ نام والی وہ پتھر دل عورت، اتحادی قیدیوں کے لیے بنائے گئے ایک جنگی کیمپ میں تعینات تھی، جہاں بھیجے جانے والے اسیروں میں سے کوئی کوئی خوش نصیب ہی زندہ بچ کر نکلتا تھا، ورنہ آئلزے کوخ، اس کے کمانڈنٹ شوہر اور انھی جیسے شقی القلب جرمن فوجی، انھیں غیر انسانی اذیتیں دے کر زندگی کی قید سے نجات دے دیا کرتے تھے۔

آئلزے کوخ کے واقعات جو ہم یہاں پیش کر رہے ہیں، وہ دوسری جنگ ِعظیم کے دوران ایک بدنامِ زمانہ ٹارچر کیمپ Buchenwaldمیں پیش آئے تھے، جہاں آئلزے کوخ اور اس جیسے ’فنکار‘ اپنے قیدیوں پر مشقِ ستم کیا کرتے تھے۔ وہ مرنے والے قیدیوں کے جسم کے ٹکڑے ٹکڑے کر کے، ان سے مختلف ’کارآمد اور منفرد‘ دستکاریاں بناتے تھے۔ کبھی کبھی ’کچھ نیا‘ کرنے کے لیے وہ زندہ انسانوں ہی کو نشانہ بنالیتے تھے۔ ان کے ہاتھوں کے تیار کردہ یہ dark artifactsآج بھی عجائب خانوں میں ان کی ظلم اور باربیرین طبیعت کی گواہی دے رہے ہیں۔ ایک میوزیم کی الماری میں سکڑے ہوئے سروں کی ٹرافیاں محفوظ ہیں توقریب ہی ایک میز پر وہ لیمپ سجا ہوا ہے، جس کا شیڈ انسانی جِلد سے بنایا گیا تھا۔ ساتھ میں وہ لیڈیز پرس بھی ہے، جسے کسی بدنصیب قیدی کے چہرے کی کھال اتار کر بنایاگیا کیوں کہ اس پر آنکھوں کے پپوٹے بھی چپکے ہوئے ہیں۔

آئلزے کوخ ان کاموں میں اکیلی نہیں تھی۔ جرمنی میں واقع تمام قیدی کیمپوں کا انچارج ڈاکٹر ورنر، دوسرے جرمن فوجی افسراور سپاہی بھی ان کاموں میں اس کے شریک مجرم تھے۔ ورنر نے دو یہودی قیدیوں کے چہروں کی کھال اتار کر، اس سے جوتے تیار کیے اور وہ ہٹلر کی محبوبہ ایوا کو تحفتاً پیش کیے تھے مگر اس نے وہ تحفہ قبول کرنے سے انکار کردیاتھا۔ اسی ڈاکٹر نے قیدیوں کی کھال سے چشمے اور جیبی چاقوؤں کے کَوَر بھی بنائے تھے، جنھیں وہ اپنے دوستوں کو گفٹ کیا کرتا تھا۔ انھی چاقوؤں اور پتلی پتلی چھریوں سے وہ زندہ قیدیوں کو اذیت دینے اور مرجانے والوں کی نعشوں کی کھال تراشنے کا کام کرتے تھے۔

آئلزے کوچ دراصل بشن والڈ کیمپ کے کمانڈنٹ کارل اوٹو کوچ کی بیوی تھی اور میاں بیوی کی مشترکہ درخواست پر اسے شوہر کے ساتھ اسی کیمپ میں تعینات کیا گیا تھا۔ وہ شوہر سے فرمائش کر کے قیدی چھانٹتی تھی اور انھیں ٹارچر کرنے کے لیے ساتھ لے آتی تھی۔ کیمپ ہی میں واقع اپنے گھر کے ایک کمرے کوآئلزے نے تفتیش کے نام پر اذیت گاہ بنایا ہوا تھا، جہاں آئے دن اس کے ٹارچر کے نتیجے میں قیدی مرتے رہتے تھے۔ انھی کی نعشوں کو وہ اپنے دستِ ستم سے انسانی دستکاریوں میں تبدیل کر دیتی تھی۔

ان میں زیادہ تر پولینڈ سے گرفتار ہو کر آنے والے جنگی قیدی تھے۔ کیوں کہ آئلزے کوچ پولش لوگوں سے بہت نفرت کرتی تھی۔ اس نفرت کے پس منظر سے کوئی واقف نہیں اور نہ ہی کبھی اس نے خود اس کی وجہ بتانا پسند کیا تھا۔ وہ کوشش کرتی تھی کہ ایسے پولش قیدی اس کے ہاتھ آئیں جو شکل و صورت، قد و قامت کے لحاظ سے اچھے ہوں اور مردانہ وجاہت کے حامل ہوں۔ اس کی اس ’پسند‘ کے حوالے سے آئلزے کوچ پر اخلاق باختگی کے الزامات بھی لگتے رہے مگر اس نے کبھی کسی بات یا تہمت کی پروا نہیں کی۔

جب برطانیہ کی فوجی عدالت نے آئلزے پر مقدمے کی سماعت شروع ہوئی تو متعدد ایسے گواہ پیش ہوئے، جنھوں بتایا کہ انھوں نے خود اس سنگ دل عورت کو قیدیوں پر ظلم و ستم ڈھاتے، ان کی کھال اتارتے اور اس سے مختلف اشیائے آرائش بناتے دیکھا تھا۔ یہ بھیانک چیزیں وہ نہ صرف اپنے گھر میں سجاکر رکھتی تھی بلکہ دیگراپنے جیسے شقی القلب فوجی افسروں اور ان کی بیگمات کو تحفے کے طور پر بھی پیش کرتی رہتی تھی۔ اس کا ایک شوق یہ بھی تھا کہ جن قیدیوں کے بدن پر ٹیٹوز ہوتے تھے، انھیں وہ خاص طور پر ساتھ لے جاتی تھی اور جہاں جہاں ٹیٹو ہوتے، جسم کے وہ حصے یا وہاں کی کھال، پسندے کی طرح چاقو سے تراش کر سنبھال لیتی تھی۔ اس وقت زندہ قیدی پر کیا گزرتی تھی؟ یہ سمجھا جاسکتا ہے۔ اس لیے جن قیدیوں کے ٹیٹوز نمایاں اعضاء پر نہیں ہوتے تھے، وہ انھیں پوشیدہ ہی رکھتے تھے تا کہ اس ڈائن کی نظر نہ پڑ جائے۔

جیسا کہ پہلے ذکر ہوچکا ہے کہ آئلزے کوخ نے یہ ظلم کی عادت اپنے شوہر کے مظالم دیکھ کر اپنائی تھی، اس لیے جب دونوں میاں بیوی کی غیر انسانی طلم و ستم توڑنے کی بات عام ہوئی تو نازیوں نے پہلے میاں یعنی کمانڈنٹ کارل اوٹو کوخ کے خلاف قیدیوں کو غیر ضروری طور پر ایذا دے کر قتل کرنے اور جنگی ساز و سامان، راشن اور دیگر اشیاء کی خریداری میں بدعنوانے کے الزامات میں مقدمہ چلایا اور جرائم ثابت ہوجانے کے بعد اسے سزائے موت دے دی۔

آئلزے کوخ کے خلاف شوہر سے بھی زیادہ مظالم ڈھانے کے ثبوت و شواہد مل چکے تھے۔ اس لیے یہ واضح ہوچکا تھا کہ اسے بھی سزائے موت ہی سنائی جائے گی مگرنازیوں نے اس پر مقدمہ نہیں چلایا۔ جنگ عظیم کے خاتمے پر اسے اتحادی فوجیوں نے گرفتار کر کے امریکن ملٹری کورٹ میں پیش کیا تھامگر اس نے سزائے موت پرعمل کیے جانے سے پہلے ہی جیل میں خودکشی کر لی تھی۔

اس کے خلاف مقدمات، مشہور جج کونارڈ مورگن کی عدالت میں چلائے گئے تھے۔ جنھوں نے اپنے فیصلے میں قرار دیا تھا کہ اس عورت نے اتحادی قیدیوں کو جس قسم کی خوفناک اذیتیں دے کر ہلاک کیا، ایسی بھیانک مثالیں چنگیز خان، ہلاکو یا دوسرے بدنام ظالم اور قاتل بھی پیش نہیں کر سکے۔

مقدمے کے دوران کچھ فوجی افسروں نے اس الزام کی صحت پر شک ظاہر کیا تھا، جس میں کہا گیا تھا کہ آئلزے کوخ انسانی کھال اتارکر، ان سے ٹیبل لیمپس کے شیڈز بناتی تھی۔ مگربعد میں یہ الزام حقیقت ثابت ہوا تھا۔ بوخن والڈ کیمپ کے پیتھالوجی شعبے میں کام کرنے والے دو غیر ملکی سیاسی قیدیوں آسٹریا کے ڈاکٹر گستاف ویگنر اور جوزف ایکر مین نے اپنے حلفیہ بیان میں بتایا تھا کہ انھیں کیمپ کے اس حصے میں بھیجا ہی اس لیے گیا تھا کہ کوخ میاں بیوی جن قیدیوں کی ٹیٹوز والی کھال اتار کر بھیجتے تھے، ہم چمڑے کے ان ٹکڑوں کو محفوظ استعمال کے تیار کرتے تھے، جیسے صنعتوں اور چمڑے کے کارخانوں میں ہوتا ہے۔

ان کی بدبو ختم کر نے، انھیں رنگنے اور نرم کرنے کے لیے کیمیکلز میں ٹریٹ کرتے تھے اور پھر خشک کر کے کوخ فیملی کو بھجوا دیتے تھے۔ ان کے بیان میں مزید کہا گیا تھا کہ کبھی کبھار کمانڈنٹ کارل اوٹو کوخ خود کیمپ کے نازی ڈاکٹر ہانس ملر کے پاس آکر ’کمائی ہوئی‘ کھالوں میں سے اپنی پسند کے ٹکڑے اٹھوا کر لے جاتے تھے۔

آئلزے کوخ کا آبائی نام آئلزے کوہلر تھا۔ وہ نازی پارٹی میں شمولیت اختیار کرنے سے پہلے ایک لائبریری میں کلرک ہوتی تھی۔ نازی پارٹی کے ساتھ کام کرنے کے دوران اس کی ملاقات فوجی افسر Karl۔ Otto Kochسے ہوئی اور آگے چل کر انھوں نے شادی کر لی۔ کہتے ہیں کہ آئلزے نے شوہر کواتحادی قیدیوں کو اذیتیں دیتے دیکھ کر تحریک ہوئی اور اس نے پہلے شوقیہ ان قیدیوں کو ٹارچر کرنا شروع کیا اور پھر اسے ایسی عادت پڑی کہ وہ خوں آشام بلا بن گئی۔

وہ شوہر سے فرمائش کر کے قیدی چھانٹتی تھی اور انھیں ٹارچر کرنے کے لیے ساتھ لے آتی تھی۔ کیمپ ہی میں واقع اپنے گھر کے ایک کمرے کوآئلزے نے تفتیش کے نام پر اذیت گاہ بنایا ہوا تھا، جہاں آئے دن اس کے ٹارچر کے نتیجے میں قیدی مرتے رہتے تھے۔ انھی کی نعشوں کو وہ اپنے دستِ ستم سے انسانی دستکاریوں میں تبدیل کر دیتی تھی۔ ان میں زیادہ تر پولینڈ سے گرفتار ہو کر آنے والے جنگی قیدی تھے۔ کیوں کہ آئلزے کوخ پولش لوگوں سے بہت نفرت کرتی تھی۔

اس نفرت کے پس منظر سے کوئی واقف نہیں اور نہ ہی کبھی اس نے خود اس کی وجہ بتانا پسند کیا تھا۔ وہ کوشش کرتی تھی کہ ایسے پولش قیدی اس کے ہاتھ آئیں جو شکل و صورت اور قد و قامت کے لحاظ سے اچھے ہوں اور مردانہ وجاہت کے حامل ہوں۔ اس کی اس ’پسند‘ کے حوالے سے آئلزے کوخ پر اخلاق باختگی کے الزامات بھی لگتے رہے مگر اس نے کبھی کسی بات یا تہمت کی پروا نہیں کی۔

وہ اپنے ذاتی ٹارچر سیل میں کسی قیدی کے پہنچتے ہی اس کے سینے پر اپنے ”گرم قلم“ یعنی دہکتی ہوئی باریک سلاخ سے یہ عبارت لکھتی تھی:

”یہاں تمھارے ساتھ وہی سلوک کیا جائے گا، جس کے تم مستحق ہو! “

قیدی کا آدھا دم تو یہ پیغام پورا ہوتے ہی نکل جاتا تھا اور یہ بات آئلزے کوخ کو معلوم ہوتی تھی۔ اس لیے وہ یہ تحریر کندہ کر کے، اسے دن بھر کے لیے چھوڑ دیتی تھی تا کہ وہ رات تک مزید اذیتیں برداشت کرنے کے لیے ہوش میں آجائے۔

آئلزے کوخ پرجنگی جرائم کے حوالے سے جو مقدمہ چلایاگیا تھا، اس میں اس کے خلاف لگائے جانے والے الزامات میں کہا گیا تھا کہ وہ قیدیوں کو اذیتیں دینے میں سب سے زیادہ ’ماہر‘ تھیں۔ وہ انھیں مارنے سے پہلے چھری سے ان کے بدن پر نقش و نگار بناتی تھی اور انھی ’ڈیزائنوں‘ والی کھال (جِلد) کو بعد میں کاٹ کر الگ کر لیتی تھی، جس سے انسانی دستکاریاں تخلیق کرتی تھی۔ اس کے علاوہ آئلزے کوخ زندہ قیدیوں کو ٹکڑے ٹکڑے کرنے کے لیے بھی بدنام تھی۔

اسی لیے اسے The Beast of Buchenwaldکا نام دیا گیا تھا۔ اس کا شوہر جو کیمپ کمانڈنٹ تھا، وہ بھی کچھ کم ظالم نہ تھا مگر وہ بیوی کی اذیت پسند اور ظالمانہ فطرت سے ڈرتا تھا۔ اس لیے آئلزے جو بھی فرمائش نما حکم دیتی تھی، کبھی بھی اسے ٹالنے کی جرات نہیں کرتا تھا۔ اس کا ایک ثبوت یہ بھی دیا جاسکتا ہے کہ خود ظالم نازی جرمن رہنما آئلزے کوخ کے انسانیت سوز مظالم کے خلاف چیخ اٹھے تھے اور انھوں نے بھی اس کے خلاف مقدمہ چلایا تھامگر اسے کوئی سزا نہیں سنائی تھی۔

آئلزے کوخ کیمپ کی حدود میں گھوڑے پر سوار ہو کر نکلتی تھی اور قیدیوں کو بیگار کرتے دیکھتی تھی۔ وہ قیدی صرف ایک پینٹ یا ٹراؤزر میں مزدوری کر رہے ہوتے تھے، اس لیے آئلزے کو ان کے اوپری جسم پر گُدے ہوئے ٹیٹوز نظر آجاتے تھے۔ وہ انھی میں سے چھانٹ کر اپنے ’کام‘ کے قیدی نکال لے جاتی تھی۔ اس کے ظلم و ستم سے قیدی عورتیں بھی بچی ہوئی نہیں تھیں۔ جب کسی قیدی کو موت کی سزا سنا کر گیس چیمبر کی جانب بھجوانے کے احکامات صادر ہوتے تھے تو آئلزے کوخ اس کے سامنے جا کر اس کی آنکھوں میں دیکھتی رہتی اور پھر اسے ہنٹر سے مارنے لگتی تھی کہ تجھے اتنی ”آسان موت“ کیوں مل رہی ہے؟

جب قیدی نڈھال ہو کر گر جاتا تو وہ قہقہے لگانے لگتی تھی اور اس کے گلے میں چمڑے کاوہی ہنٹر پٹے کی طرح ڈال کر اسے کھینچتی گیس چیمبر تک لے جاتی تھی۔ گارڈز اس کے پیچھے پیچھے چلتے رہتے تھے تاکہ موت کی سزا پانے کے لیے جانے والا کوئی قیدی اشتعال میں آ کر کمانڈنٹ کی بیگم پر حملہ نہ کر دے۔ آئلزے کو سب سے زیادہ لطف، ان قیدیوں کے بچوں اور عورتوں پر سب کے سامنے ٹارچر کرنے میں ملتا تھاجو خاندان کی صورت میں گرفتار ہوکر کیمپ میں لائے جاتے تھے۔

ماؤں کی گود سے معصوم بچے چھین کر اس کو اذیتیں دینا اس کا پسندیدہ ترین شغل تھا۔ اس دوران کئی مائیں بے ہوش ہوجاتی تھیں، جن کو ہوش میں لانے کے لیے ان پر کھولتا ہوا پانی پھینکا جاتا اور ان کے حواس بحال ہوتے ہی ایک بار پھر ان کے بچوں کو اذیتیں دینے کا سلسلہ شروع کر دیا جاتا۔ اس دوران بھی وہ قہقہے لگاتی رہتی تھی۔

اس موضوع پر تحقیق کرنے والے کہتے ہیں کہ یہ عورت تاریخ کی ظالم ترین عورتوں سے بھی ظلم و ستم میں بازی لے گئی ہے جو انسانی چہرے سے اتاری ہوئی جلد سے بنایا ہوا ایسا پرس شانے سے لٹکا کر فخریہ گھومتی تھی۔ اس پرس کے ایک جانب آنکھیں تھیں اور دوسری طرف اسی بدنصیب قیدی کے کان چپکے ہوئے تھے۔ آئلزے کوخ نعشوں کے باقی اعضاء بھی ’ضایع‘ کرنے کی قائل نہیں تھی۔ وہ ان کے ہاتھ، پاؤں، کان، دل، گردے، پھیپھڑے وغیرہ نکلوا کر انھیں preserve کرتی تھی اور پھر انھیں ڈیکوریشن پیس اور پیپر ویٹ کے طور پرگھر میں استعمال کرتی تھی۔

وہ قیدیوں کے لباس اور ان کی کھولیوں کی تلاشی لے کر ان کی چھپائی ہوئی رقم اور قیمتی اشیاء بھی چرا لے جاتی تھی۔ اگر کبھی چوری کرتے پکڑی جاتی تھی تو ڈھیٹ بن کر کہہ دیتی تھی کہ تمھیں تو ویسے بھی یہیں مرنا ہے تو رقم اور چیزیں تمھارے کس کام کی ہیں؟ اس طرح کی چرائی ہوئی دولت سے اس نے گھوڑ دوڑ کا شوق پورا کرنے کے لیے، اپنا خصوصی ریس کورس نما اسٹیڈیم تعمیر کروایا تھا، جس پر 1938 ء میں بھی ساڑھے 62 ہزار ڈالر لاگت آئی تھی۔

وہ چونکہ ایک آبرو باختہ عورت تھی، اس لیے اس کے بیشتر بچوں کو اس کے کمانڈنٹ شوہر نے اپنا نام دینے سے انکار کر دیا تھا۔ مگر آئلزے کو اس کی کوئی پروا نہ تھی۔ لیکن اگر کوئی بھی عام فوجی یا اتحادی قیدی اسے طعنہ دیتا تھا تو اسے اسی شب وہ موت کے گھاٹ اتار دیتی تھی۔ اس طرح اس نے ایک درجن سے زائد ایسے لوگ قتل کر دیے تھے۔ ان میں پیرامیڈیکل شعبے سے تعلق رکھنے والے وہ دو آدمی بھی شامل تھے، جنھوں نے اس کے اور اس کے میاں کے پوشیدہ امراض کا راز کھول دیا تھا۔

دوسری عالمی جنگ کے اختتام پر اتحادی فوجوں نے آئلزے کوخ کو حراست میں لے کر اس پر جنگی جرائم کے الزامات کے تحت 1947 ء میں مقدمات چلائے تھے۔ یہ مقدمے امریکی ملٹری کورٹ میں چلائے گئے تھے جو میونخ کے قریب داشوا قصبے میں واقع تھی۔ اسے جس جیل میں قید تنہائی دی گئی تھی، وہاں سے جب چند ماہ بعد اسے باہر لایا گیا تووہ حاملہ تھی۔ مسلسل پوچھ گچھ کے باوجود اس نے یہ نہیں بتایا کہ اس کے ہونے والے بچے کا باپ کون ہے؟ اس نے اسی جیل ہی میں بیٹے کو جنم دیا تھا۔ تب ایک امریکی گارڈ، ایک جرمن قیدی اور جیل کے ایک ڈاکٹر نے الگ الگ یہ دعویٰ کیا تھا کہ آئلزے کے ہاں پیدا ہونے والا بچہ اس کا ہے، اس لیے آئلزے کو سزائے موت دینے سے پہلے بچہ ان کے حوالے کیا جائے۔

جیل کے آخری دنوں میں اس نے انتظامیہ کو کئی بار درخواستیں دیں کہ اس نے جن قیدیوں کو اذیتیں دے کر قتل کیا ہے، وہ جیل کی کھولی میں اس کے ساتھ رہنے لگے ہیں اور اسے دن رات پریشان کرتے ہیں، اس لیے اس کی کوٹھری بدل دی جائے مگر اس کی ہر درخواست مسترد کی گئی۔

آئلزے کوخ کو سزائے موت نہیں ہوئی۔ اس نے آخر میں بھی اپنی مرضی چلائی اور خود کو خود ہی مار دیا۔ یہ سال 1967 تھا اور اس وقت اس کی عمر 60 سال تھی۔ اسے کسی نامعلوم مقام پر خاموشی سے دفن کر دیا گیا اور قبر کی کوئی نشانی بھی نہیں رکھی گئی۔

ایک سپاہی، جسے ظالمانہ فطرت کی وجہ سے بشن والڈ کیمپ میں خصوصی اختیارات دے کر رکھا گیا تھا، وہ مردہ قیدیوں کے چہروں یا مُنڈیوں کو سکیڑنے کا ’ماہر‘ تھا۔ اس نے یہ طریقہ ایک پیتھالوجیکل اسپیشلسٹ سے سیکھا تھا۔ اس کے لیے پہلے مُردے کر گردن کاٹ کر اس کی سِرِی الگ کر دی جاتی تھی۔ اس کے بعد سِرِی کی پوری کھال تراش کر اتاری جاتی تھی۔ اندر سے برآمد ہونے والی کھوپڑی کے تمام سوراخوں، یعنی منہ، ناک، آنکھوں اور کانوں میں ریت بھر کر انھیں بند کر دیا جاتا تھا۔

اس کے اگلے مرحلے میں اس پر کوئی نامعلوم کیمیکل اسپرے کیا جاتا تھا۔ خشک ہوجانے پر وہ کھوپڑی دو یا تین دن کے لیے ریت کے کسی ٹیلے یا تُودے میں دبا دی جاتی تھی۔ کھوپڑی سے اتاری ہوئی کھال بھی اسی کیمیکل میں ڈبو کر سکیڑ لی جاتی تھی۔ مدّت پوری ہونے پر جب کھوپڑی ریت سے نکالی جاتی تھی تو اس کا سائز کم ہو کر اتنا ہوجاتا تھا کہ وہ ہتھیلی پر رکھی جا سکتی تھی۔ اب اس کے اوپر پہلے سے اتارکر سکیڑی ہوئی کھال چپکا دی جاتی تھی۔ یوں سروں کی یہ ٹرافیاں وجود میں آتی تھیں، جنھیں مہنگے ترین گفٹ آئٹم کے طور پر پیش کیا جاتا تھا یا اپنی کاریگری کی داد لینے کے لیے گھروں، دفتروں میں شیشے کے خصوصی شیلف میں سجا کر نمائش کی جاتی تھی۔

انسانی کھال سے بنی مختلف اشیاء کی آن لائن فروخت

مختلف ملکوں میں گذشتہ ڈیڑھ صدی سے انسانی کھال سے بنی ہوئی اشیاء فروخت ہورہی ہیں۔ اب ان کی آن لائن فروخت بھی شروع ہوچکی ہے۔ ان میں بٹوے، بیلٹس، جوتے، بیگس اور دیگر اشیاء شامل ہیں جو انسانی جِلد یا کھال سے بنائی گئی ہیں۔ ان چیزوں کی تاریخ اگر کھنگالیں تو ان کے پس منظر میں جنگ کی تباہ کاریاں اور قاتلوں کی چیرہ دستیاں نظر آتی ہیں۔ 1833 ء میں نیو جرسی کے مورسٹن علاقے میں ایک فرانسیسی پناہ گزین انتونی لے بلانک نے تین مقامی افراد مار دیے تھے اور ان کا سامان لوٹ کر بھاگ گیا تھا۔

جب وہ قاتل پکڑا گیا تو اسے پھانسی کی سزا ملی اور ساتھ ہی عدالت نے حکم دیا کہ پھانسی کے بعد اس کی کھال اتار کر اس سے چیزیں بنائی جائیں۔ اور یہی کیا گیا۔ انتونی کی کھال اتارکر اسے ٹینری میں رنگا گیا اور پھر اس سے بٹوے تیار کیے گئے۔ کھال کے جو ٹکڑے بچ گئے تھے، ان پر شیرف نے دستخط کر کے، انھیں یادگاری تحائف کے طور پر بیچ دیا۔ یہ بٹوے وقت کے ساتھ کہیں گم ہوگئے تھے اور جب یہ دوبارہ ملے تو مختلف کمپنیوں نے مہنگے داموں خرید کر، انھیں مزید مہنگا کرکے بیچنے کا سلسلہ شروع کیا ہے۔

آمریکا کی ہارورڈ یونیورسٹی کی ایک لائبریری میں ایک کتاب موجود ہے، جس کا عنوان On the Destiny of the Soul ہے اور یہ Arsène Houssayeکی لکھی ہوئی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ اس کتاب کی جلدانسانی کھال سے بنائی گئی تھی۔ یہ کتاب 1880 ء میں تصنیف ہوئی تھی۔ مصنفArsène Houssayeشاعر اور ناول نگار تھے۔ یہ کھال انھوں نے ایک ڈاکٹر سے حاصل کی تھی اور کہا جاتا ہے کہ کسی لاوارث ذہنی مریضہ کی نعش سے اتاری گئی تھی۔ کتابوں کی جلدبندی میں انسانی کھال کے استعمال کے شواہد سولھویں صدی سے ملتے ہیں۔ اس ’فن‘ کو anthropodermic bibliopegyکہا جاتا ہے۔ انیسویں صدی میں یہ مشق عام ہوچکی تھی کہ پھانسی چڑھ جانے والے مجرموں کی نعشیں تجربات کے لیے دے دی جاتی تھیں اور ان کی کھال سے کتابوں کی جلدبندی کی جاتی تھی۔

افریقامیں غلامی کا سلسلہ بہت پرانا ہے۔ وہاں جن انگریزوں، ولندیزیوں اور دیگر حملہ آور اقوام نے یہ غیر انسانی کام شروع کیا تھا، وہ تشدد سے مرجانے والے غلاموں کی کھالیں اتروا کر ان سے جوتے بنوالیتے تھے۔ ایسے جوتے آج اکیسویں صدی میں بھی آن لائن بیچے جارہے ہیں۔

کئی برطانوی اور یورپی کمپنیاں اس وقت انسانی کھال کے بنے ہوئے بٹوے، جوتے، بیلٹ اور پاور بریسلٹ بنا کر فروخت کر رہی ہیں۔ ان کمپنیوں کا کہنا ہے کہ وہ انسانی چمڑا ایسے افراد سے حاصل کرتی ہیں جو مرنے کے بعد اپنی جلد عطیہ کرنا چاہتے ہیں۔ ان کے گاہکوں میں بہت کم لوگ شامل ہوتے ہیں مگر وہ ایسے لوگ ہوتے ہیں، جنھیں جس چیز کی خواہش ہو، کسی بھی قیمت پر وہ خرید لیتے ہیں۔

واضح رہے کہ انسانی کھال سے بنے بٹوے کی قیمت 9 ہزار یورو سے شروع ہوتی ہے اور انسانی چمڑے سے بنی بیلٹ کی قیمت ساڑھے 10 ہزار یورو سے شروع ہوتی ہے۔ انسانی چمڑے سے بنے جوتے 18 ہزاریوروز سے شروع ہوتے ہیں۔ اس طرح کی کچھ مصنوعات واشنگٹن کے Smithsonian Instituteمیں بھی ’محفوظ‘ پڑی ہیں۔

زندہ انسانوں کی کھال اتار کر دست کاریاں بنانے والی آئلزے کوخ قیدیوں کی آنکھوں، کانوں، ہاتھوں اور دیگر اعضاء سے ”ہینڈی کرافٹس“ بناکر تحفتاً بانٹتی تھی۔ وہ نعشوں کی ’مُنڈیوں‘ کو کیمیائی عمل سے چھوٹا کر کے بہ طور ٹرافی گھر کی دیواروں پر سجاتی تھی۔ انسانی کھال سے لیمپ شیڈ، پرس، دستانے اور دیگر اشیاء بناکر استعمال کرنا اس کا مشغلہ تھا۔ خاتون جرمن فوجی کی خوں رنگ زندگی کا احوال، جسے دنیا کی ظالم ترین عورت قرار دیا گیا۔انسانی کھال سے بنی اشیاء آج کئی کمپنیاں آن لائن فروخت کرہی ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply