اک عورت سے ایسے بات کرتے ہیں؟ (جنسی جنگ)۔

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پاکستان میں جنس کی بنیاد پر بحث سے زیادہ بات بڑھتے ہوئے اب لڑائی جھگڑے تضحیک اور جنسی بالا دستی جیسے مراحل میں داخل ہوتی نظر آرہی ہے، ایسا کیوں ہے۔ کیا مرد و عورت کو اپنے اپنے جنس کو لے کر برتری کا دعوی کرتے سکون ملتا ہے۔ یا ایسا اس لیے کیا جاتا ہے کہ معاشرہ میں ہمارے روز مرہ جات میں اک جنس دوسری سے اپنے انفرادیت کی بنا پر کچھ زیادہ سہولت حاصل کر سکے؟ بظاہر تو ایسا ہی معلوم ہوتا ہے کہ ہر دو جانب سے جنسی بنیادوں پر برتری کا ڈھول پیٹا جانا فیشن کے طور قبول کیا جارہا ہے۔

ایسے میں صنف نازک جسے اس سماج کے کچھ حصوں میں خاصیی پذیرائی ملتی ہے ان کے اک طبقے نے باقاعدہ سے اپنے حقوق کی جنگ لڑنے کا آغاز کر دیا ہے، یعنی اگر کہا جائے کہ پاکستان میں حقوق کی جنگ انسانیت سے نکل کر جنس کے دائیرہ میں محدودہونے لگی ہے تو غلط نہیں ہو گا۔ آپ کو زیادہ انتظار کی ضرورت بالکل نہیں ہے، یہ فروری کا آخری عشرہ چل رہا ہے ابھی مارچ کے پہلے ہی عشرہ میں آپ کو لگ پتا جائے گا کہ جنس کے بنیاد پر حقوق کی جنگ کا معاملہ کس قدر سنگینی اختیار کر چکاہے۔

خیر آج مدعا جنس سے جڑا ہے اس لیے جنس کی بحث اک بار پھر دگردوں ہے۔ سوشل میڈیا پر اک ویڈیو کردش کرتی نظروں سے گزری جس میں اک خاتون قدرے مارڈالنے اور چیرنے پھاڑنے والے انداز میں اسلام آباد پولیس کے اہلکاروں اور وہاں موجود اک صحافی سے مخاطب میں اور کہ رہی ہیں کہ ان کے ساتھ بدتمیزی کی گئی ہے، اس ملک میں عورتوں کے حقوق نہیں ہیں، اک عورت سے ایسے بات کترے ہیں، اس نے مجھ سے پنجابی میں بات کیوں کی، آپ کا مجھ سے بات کرنا بنتا ہے؟ آپ کیوں مجھ سے بات کر رہے ہیں وغیرہ وغیرہ۔

اس ساری چیخنے چلانے میں اس خاتون کا دکھ یہ تھا کہ اس سے پنجابی زبان میں بات کیوں کی گئی۔ ، ایسا کرنے سے اس کی توہین ہوئی ہے اور یہ کہ اس سے مہذب زبان میں بات کی جانا چائیے تھی۔ اس سارے عمل میں وہاں موجود پولیس اہلکار انتہائی مہذب انداز میں کھڑے جلی کٹی سنتے رہے، کسی نے کوئی انہونی حرکت نہیں کی۔ یہاں تک کہ وہ خاتون اپنے خاتون ہونے کا جنتا بھی رعب جھاڑ سکتی تھی وہ ایسا کرتی رہی کسی نے اسے ایسا کرنے سے روکا نہیں اور نہ ہی وہ کسی کے روکے سے رکنے والی تھی۔ اس سارے قضیے میں سوال یہ ہے کہ متضاد جنس کے ہونے پر برتر ہونے اور اس پر قدرے سہولت کا تقاضا کرنا کیسا عمل ہے، اگر بات یہیں تک رکتی تو ٹھیک سمجھ آتاہے لیکن اک متضاد جنس ہونے پر اپنی جنس کی برتری کو منوانا اس پر چیخنا چلانا اور مخالف جنس کے حضرات کو بلیک میل کرنا کون سی منطق ہے؟

یہ پہلا واقعہ نہیں ہے جدید دنیا کے بدلتے تقاضوں میں آپ ملک بھر کے بڑے شہروں کا رخ کریں تو آپ کو اک ہی جنس کا بول بالا نظر آئے گا۔ اسے آپ کاروباری زندگی سے لے کر انفرادی زندگی تک پرکھیں آپ با آسانی سمجھ جائیں گے کہ کس جنس کا بول بالا ہے اور کون استحصال کا شکار ہے۔ سبھی جانتے ہیں کہ بڑی مارکیٹنگ کمپنیوں سے لے کر عام سی کمپنیوں اداروں کے شعبہ تعلقات عامہ میں کس کو ترجیح دی جاتی ہے۔ ملازمت کے مواقع کس کے لیے بھرپور ہوتے ہیں اور سہولیات کس کے لیے ترجیحی بنیادوں پرمہیا ہوتی ہیں۔ کس کی جنسی ہراسانی پر واویلا ہوتا ہے اور انسانی حقوق کی تنظیمیں سراپا احتجاج ہو جاتی ہیں؟

میں اس تحریر میں اس اجتماعی سوچ کی بات کر رہا ہوں جو ہمارے براہ رست ترقی یافتہ شہروں میں پائی جاتی ہے۔ یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے جنسی حقوق کی جنگ کا دائیرہ کار یا مورچے کہیں جائیں تو وہ اس ملک کے بڑے شہر ہی ہیں۔ اس سماج میں جن علاقوں میں در اصل جنسی حقوق پر آواز بلند کرنے کی ضرورت ہے وہاں یہ جنگجو خاموش ہیں۔ موضوع کی طرف لوٹتے ہوئے اتنا کہوں گا کہ مرد و عورت دونوں جنس کے حقوق مقدم ہیں۔ مگر مختلف جنس ہونے پر برتری کا ڈھونگ رچانا یا اس بنیادی قاعدے سے ہی بغاوت کرنا اک واہیات فلسفہ ہے۔

میری مراد ان دونوں جنس میں انتہا پسندی کی ہے، مملکت عزیز میں صنف نازک میں یہ وتیرہ دیکھنے کو مل رہا کہ جنس کی بنیاد د پر مخالف جنس کو باآسانی زیر عتاب لایا جاتا ہے، اس پر دباؤ ڈالنا اور اپنی منوانے کا ایک بہترین طریقہ کار جنس کی بنیاد ر بیلک میل کرنا ہے۔ یہ بلیک میلنگ سڑک پر باوردی پولیس اہلکاروں کو تمیز سکھانے کے موقع پر ہو یا چلتی گاڑی میں کسی عام بندے کی غلطی پر اسے جوابا پوچھنے کے بجائے اسے تھپڑ رسید کرنے میں ہو ایسا ہو رہا ہے۔

اس ملک میں جہاں سب برا نہیں ہے وہیں کیا برا ہے جو ترقی پسندی یا تہذیب یافتہ ہونے کا پرچار بھی کیا جائے۔ مثال کے طور ایک خاتون کو کسی عوامی مقام پر اگر کوئی مسئلہ درپیش ہوتا ہے تو اسے اک اچھا خاصہ وقت تو یہ جتانے میں کٹ جاتا ہے کہ وہ عورت ہے۔ وہ اس معاشرے کا کمزور طبقہ ہے اس کے ساتھ احطیاط کی جائے، تو گویاجب یہ رسم چل پڑے گی تو اک جنسی جنگ چھڑتی ہوئے معلوم ہوتی ہے، جس کے رکنے کے امکانات نہیں ہوں گے۔

ابتدائی سطور میں اسلام آباد پولیس کے ساتھ اک عورت کے رویہ کی جو مثال میں نے پیش کی اس کا یہی خلاصہ ہے کہ، آپ کا تعلق جس بھی جنس سے ہے، آپ انسانی بنیادوں پر اپنے حقوق کا مطالبہ کریں اس میں جنس کو بنیاد بناتے ہوئے اپنا آپ برتر ثابت کرنے کی کوشش نہ کریں، ایساکرنے سے سوائے جنسی جنگ کے کچھ بھی نہیں ہو گا۔

مرد و عورت کے برابر حقوق کاپرچار کرنے والوں کو یہ بات سمجھنا ہو گی کہ جنس کی تفریق کر کے حقوق کا تقاضا اک انتشار کو جنم دینے کے لیے کافی ہے۔ میرا جسم میری مرضی سے لے کر اپنا کھاناخود گرم کرو والی سوچ کو بھی یہ سمجھنا ہو گا کہ حقوق کا تقاضا انسانی بنیادوں پر کیا جائے نہ کی جنس کی بنیاد پر۔ ایسے میں ہم اس بات سے بھی پہلو تہی نہیں کر سکتے کہ مرد و عورت میں جنسی خصوصیات یا انفرادیت کو لے کر ان کے معاشرتی دائیرہ اختیار میں جو تفریق فطرتی ہے اس کی بنیاد پر ان کے حقوق کا تعین کیا جاتا ہے۔ لیکن اک بات بہت ہی واضح ہے کہ جنس کی اس بحث میں تضحیک کے بجائے انسانی بنیادوں پر جو میعار ہیں ان کے مطابق حقوق و فرائض کاتعین کیا جائے نہ کہ جنس کی بنیاد پر بلیک میلنگ کو فروغ دیا جائے اور اس پر میر مانو کا رویہ اپنایا جائے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *