سپر پاور کی جمہوریت عرب کے صحراؤں میں غرق ہو گئی

کیا آپ جمال جمال خشوگجی کے خاندان سے معافی مانگیں گے؟ یہ سوال امریکی نامہ نگاروں نے سعودی ولی عہد سے مقتول سعودی صحافی جمال خشوگجی کے بارے میں پوچھے ”کیا آپ اس کے گھر والوں سے معافی مانگو گے؟“ ولی عہد، نے کوئی جواب نہیں دیا بس اک مسکراہٹ کا اظہار کیا واضح رہے سال 2020 میں امریکی صدر جو بائیڈن نے شہزادہ محمد بن سلمان کو سی آئی اے کی تحقیقاتی رپورٹ منظر عام پر لا کر سعودی

Read more

آزادی اظہار رائے پر سرکاری قدغن ملاحظہ ہو

ریاست پاکستان کا آئین اس میں بسنے والے شہریوں کو آزادی اظہار رائے کی مکمل آزادی کا اختیار دیتا ہے، اس سلسلہ میں آرٹیکل 19 اور اٹھارہویں ترمیم کے بعد آرٹیکل 19 اے کو بنیاد بنایا جاتا ہے، جہاں یہ طے کیا گیا ہے کہ لکھنے بولنے کی آزادی کیا ہے اور اس کی حدود و قیود کیا ہیں، لیکن حال ہی میں سرکاری سطح پر اک ایسی پالیسی کے لانچ ہونے کی خبریں منظر عام پر آئی ہیں جو

Read more

کورونا کون لایا؟ قرنطینہ میں کیا ہورہا ہے؟

ملک بھر میں ہیلتھ ایمرجنسی نافذ ہے، کورونا وائرس کے پھیلنے کا خدشہ منڈلا رہا ہے تو وہیں روز بروز متاثرین کی تعداد میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے، اس سب صورتحال کو قابو میں رکھنے کے لیے عوام کے پرہجوم سرگرمیوں میں شریک ہونے پر پابندی ہے تو وہیں غیر ضروری گھر سے باہر نکلنے پر بھی پولیس اہلکار مرغا بنا کر انڈا دینے کا حکم دیتے ہیں اور انڈا نہ دینے کی صورت میں لاتوں مکوں کی بارش

Read more

کیا ہم حادثات کی کمائی کھانے والی قوم ہیں؟

کورونا وائرس نے چین میں سر اٹھایا تو ہم نے خوب تمسخر اڑایا۔ خوب چٹکلے بھی کسے کہ گویا یہ کبھی ہمارے طرف آئے گا ہی نہیں۔ شغل بیکاری میں ہم نے خوب نقلیں اتاریں۔ کسی سیانے نے اس وقت قدرے دور اندیشی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ہمارے قومی رویے کی طرف اشارہ کیا۔ کہنے والے نہ کہا کہ اگر یہ وائرس ہمارے دیس میں آیا تو سب سے پہلے ہمارے ہاں حفاظتی ماسک کی قیمت آسمان کی طرف اڑان

Read more

اک عورت سے ایسے بات کرتے ہیں؟ (جنسی جنگ)۔

پاکستان میں جنس کی بنیاد پر بحث سے زیادہ بات بڑھتے ہوئے اب لڑائی جھگڑے تضحیک اور جنسی بالا دستی جیسے مراحل میں داخل ہوتی نظر آرہی ہے، ایسا کیوں ہے۔ کیا مرد و عورت کو اپنے اپنے جنس کو لے کر برتری کا دعوی کرتے سکون ملتا ہے۔ یا ایسا اس لیے کیا جاتا ہے کہ معاشرہ میں ہمارے روز مرہ جات میں اک جنس دوسری سے اپنے انفرادیت کی بنا پر کچھ زیادہ سہولت حاصل کر سکے؟ بظاہر

Read more

قوم کا نیا دکھ: اسد اور نمرہ کی شادی

ہمارے یہاں قومی سطح پر کوئی نہ کوئی قضیہ ضرور ہونا چائیے جس پر بحث مباحثہ اور تنقید کے تندور گرم رکھے جائیں، یہ اچھا ہے کہ قوم میں بحث کے لیے کچھ نہ کچھ اچھا ہو تو تعمیر ی ماحول بنتا رہے۔ مگر یہاں ایسا نہیں ہے، یہاں بحث کے لیے قضیے ضرور ہیں لیکن تنقید کے اس بازار میں کچھ قضیے بڑے ہی سستے داموں بک رہے ہیں۔ مملکت خدادا میں دو ہفتے قبل دانش کی موت ہو

Read more

تبدیلی کے ثمرات سکون صرف قبر میں

جب ہم کچی عمر سے بھی کم عمر تھے تو صبح سویرے سکول جاتے ہوئے کافی ناگواری ہوا کرتی تھی۔ کبھی کبھی گرمیوں کی صبح بھلی معلوم ہوتی تھی۔ کبھی سردیوں کی خنکی سویرے بستر سے نکلنے میں مخل ہوا کرتی تھی۔ تو ہم کافی پھیکے منہ سکول جایا کرتے تھے بہرحال یہ سوچ کر جایا کرتے تھے کہ پرائیمری تک تعلیم ہو جائے گی تو آگے کی تعلیم آسان ہے۔ کرتے کراتے ہم نے پانچ جماعتیں پاس کیں اور

Read more

جو یوں ہوتا تو کیا ہوتا؟

ہوا جب غم سے یوں بے حس تو غم کیا سر کے کٹنے کا نہ ہوتا گر جدا تن سے تو زانو پر دھرا ہوتا یہ شعر اردو کے عظیم شاعر اور اردو زباں کو زباں دینے والے شاعر اسد اللہ خاں غالب کا ہے۔ ان اشعار کی تشریح غالب میاں سے بہتر کوئی نہیں کر سکتا، لیکن میں انہی اشعار کو کسی اور پیرائے میں ہم سب کے اور اپنے روز مرہ سے جوڑ کر ایک بحث کرنا چاہ

Read more

یونین ٹیرٹری سرینگرسے یونین کونسل مظفر آباد تک؟

ریاست جمو ں وکشمیر کی متنازعہ حثیت کے ختم ہونے بعد ہم نے خوب واویلا کیا، اور جھوٹے سچے منہ کشمیر کی متنازعہ حثیت کی بحالی کے لیے خاطر خواہ اقدامات اٹھانے کی بھی قسمیں کھایں۔ 5 اگست کے بعد پہلے پہل تو کمال سفارتکاری اور لازوال ڈپلومیسی کے ذریعے سے ہم عالمی دنیا کے سامنے کشمیر کا مسئلہ اٹھانے پر شادیانے بجاتے رہے۔ اسی سب کے کرنے میں 31 اکتوبر ہو گیا اور بھارتی مقبوضہ کشمیر کو بھارت کی

Read more

طلبہ کس سے آزادی چاہتے ہیں؟

پاکستا ن میں طلبہ یونینز پر پابندیوں کو 36 برس ہو چکے ہیں اور طلبہ یونیز کے آخری انتخابات اسی کی دہائی کے آغاز پر ہوئے تھے۔ اور پھر دور آمریت میں جنرل ضیاء الحق کی جانب سے ان یونینز اور ان سے ملحقہ طلبہ تنظیموں پر پابندیاں عاء کر دی گئیں تھیں۔ اس سب کے بعد پاکستان کے تعلیمی اداروں میں طلباء کی سیاسی سرگرمیاں محدود کر دی گئیں جو دور آمریت میں کافی زیادہ رہیں اور جمہوری ادوار

Read more

کیا اب طاقتور ہونا بھی طعنہ ہے؟

کہنے سننے میں لفظ طاقتور بہت ہی بھلا معلوم ہوتا ہے اس لفظ کا ادراک ہو جانے کے بعد سب ایسے لگتا ہے۔ کہ اگر آپ بھی طاقتور ہیں تو باقی دنیا آپ کی مرید ہے۔ یا یوں کہے آپ کے سامنے بے بس ہے مگر یہاں مملکت خدادا میں اس لفظ طاقتور کو بھی طعنے کے طور سمجھا لکھا اور پڑھاجانے لگا ہے۔ ایسا اس لیے ہوا کہ لاہور ہائی کورٹ کی جانب سے ایک طاقتور بیمار قیدی کو

Read more

ک کشمیر اور ک کرتار پور؟

پاکستان اور بھارت میں سب چلتا ہے۔ صبح لائن آف کنڑول پر بم چلتے ہیں دونوں طرف سے گولیاں چلائی جاتی ہیں۔ اور شام کو واہگہ بارڈر پر دونوں ممالک کے چاق و چوبند دستے اپنے اپنے قومی پرچم کو سلامیاں پیش کرتے ہیں۔ یہ سب روز مرہ کا حصہ ہے اس سب میں دلچسب خوفناک اور فکر انگیز بات یہ ہے۔ کہ کشمیر جو دونوں ممالک کے درمیان فتنے کی جڑ ہے۔ اس کو تقسیم کرنے والی خونی لکیر

Read more

ہجوم کے نام اک خط

پیر پنجال کی اوٹ سے کوئی زخمی کبوتر جس کے پر خون سے لال تھے۔ یہ خط پہاڑوں کی اس طرف کی پتھریلی زمین پر گرانے کے بعد خود بھی زمین سے ٹکرا کر آزادی کی موت مر گیا۔ لیکن خونی لکیر کے اس پار وادی لہو سے یہ خط یہاں پیر پنجال سے اس طرف پہنچانے میں کامیاب ہوا۔ خط مجھ سمیت ہجوم میں موجود دیگر کئی افراد کے ہاتھ لگا۔ ہر اک نے اپنی اپنی طرح سے خط

Read more

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں کیا ہو گا؟

پاک بھارت کشیدگی میں درجہ حرارت کبھی بلندی کی انتہاکو چھو رہا ہوتا ہے۔ تو کبھی یہ مانند پڑ جاتا ہے اس سب میں کشمیر کا درد رکھنے والے پاکستانی بھی دہری اذیت کا شکار ہیں۔ کہ اک طرف کشمیر پر اصولی موقف پر ڈٹ جانے کی باتیں کی گئیں تھیں۔ لیکن دوسری جانب دو طرفہ مشروط مذاکرات سمیت کرتارپورہ راہداری منصوبہ اور بھارتی ہائی کمیشن کا بھی دفتر کھلا ملتا ہے۔ تو یوں معلوم پڑتا ہے کہ کہیں نا

Read more

کشمیر پر ایک کربلا اتر آئی ہے

کربلا کا سانحہ انسانی سفاک تاریخ کے پہلے صفحے پر خون، پیاس اور تپتی ریت سے عبارت ہے۔ اور سفاکیت کے پہلے صفحوں پر کربلا کے پیاسوں کی کہانی ہے۔ اک درد ناک قصہ ہے جو حساس اور باضمیر دلوں پر گہرے اثرات مرتب کرتا ہے۔ کہا جاتا ہے کربلا میں پیاسوں کی کہانی ہر برس تازہ ہو جاتی ہے۔ اس کہانی کا درد اس کے غم کی شدت حساس دلوں کو ایسے ہی محسوس ہوتا ہے کہ جیسے یہ

Read more

کیا مسئلہ کشمیر پر ہمدردیاں بدل رہی ہیں؟

کشمیر بھارت اور پاکستان کے درمیان ایک ایسا حل طلب مسئلہ ہے جس پر کشمیریوں کے علاوہ بھارت اور پاکستان میں بسنے والے شہری بھی اپنی اپنی آراء رکھتے ہیں۔ اس کے علاوہ پاکستان اور بھارت کے پاس اس مسلے کو مذاکرات کی میز تک لانے سے پہلے۔ تصادم انگیز بیانات اور کشیدگی پیدا کرنے والے اقدامات کے ساتھ ساتھ ایٹمی ہتھیار بھی موجود ہیں۔ جن کو وقتا فوقتا اک دوسرے کو ڈرانے دھمکانے کے لیے ان کا نام استعمال

Read more

کیا کشمیر پر ڈیل ہو چکی ہے ؟

پانچ اگست سے دو ہفتے قبل بھارت کے زیر قبضہ مقبوضہ کشمیر میں فوجیوں کی تعداد اچانک بڑھنے لگی۔ یہ تعداد ہزاروں سے بڑھتے ہوئے ایک لاکھ کا مجموعہ عبور کر گئی۔ بھارتی مقبوضہ کشمیر سمیت آزاد کشمیر و پاکستان میں اس عمل کو لے کر تشویش کی لہر دوڑگئی۔ یہی نہیں وزیر اعظم پاکستان جو اس سارے عمل سے ٹھیک دو ہفتے پہلے امریکہ کا دورہ کر کے آئے تھے اور انہیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے

Read more

کشمیر پر ثالثی؟ شملہ اور لاہور ایگریمنٹ کے بعد کیسے ممکن ہے؟

پاکستان اور بھارت کے درمیان تنازعے کی بڑی پرانی وجہ کشمیر۔ اس کا جب جب ذکر آتا ہے تو کئی خیالات جنم لیتے ہیں۔ کچھ لوگ اس مسلے کو نا قابل حل قرار دے کر اس پر بحث مباحثہ سے گریزاں رہتے ہیں۔ کچھ کے خیال میں یہ مسئلہ کبھی تھا ہی نہیں۔ کچھ کا کہنا ہے کہ اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے مطابق اس مسئلہ کا بہترین حل موجود ہے۔ لیکن کیا کہیں صاحب اقوام متحدہ کی مسئلہ

Read more

آخر ہجوم کب تک انصاف کرے گا؟

مملکت خداداد میں قومی مفاد کو لے کر خوب مثبت باتیں سننے کو مل رہی ہیں۔ بازگشت ہے کہ خان نے ملک و قوم کے وقار کو سربلندی اس لیے بھی بخشی ہے کہ وہ دورہ امریکہ پر قومی لباس میں ملبوس ہو کر گئے ہیں۔ مزید یہ بھی کہ انہوں نے امریکی صدر سے ون ان ون ملاقات میں کسی پرچی کا سہارا نہیں لیا۔ اور بڑے رعب و دبدبے کے ساتھ امریکی صدر تک اپنے تمام تر معروضات

Read more

وفاقی حکومت کے افسانہ نگار

افسانہ نوسی اک فن ہے جو اردو ادب سے جڑُے بڑے ناموں کا وتیرہ رہا ہے۔ افسانوں کا ذکر ہو اور جناب منٹو صاحب کا ذکر نہ ہو یہ خود افسانہ نویسی کے ساتھ زیادتی تصور ہو گی۔ منٹو صاحب کے افسانے ایسی داستانوں پر مشتمل ہیں۔ جو حقیقت پر مبنی ہوا کرتی تھیں۔ پھر بھی نہ جانے ایسی کیا وجہ بن پڑی کہ ان سچی داستانوں کو جناب منٹو صاحب نے افسانوں کی صورت اس سماج کی نظر کیا۔

Read more

پاکستان میں صحافت کہاں کھڑی ہے

ہر برس صحافت کا عالمی دن اس عہد کی تجدید کے ساتھ منایا جاتا ہے کہ خبر کی ترسیل سے لے کر اشاعت اور عوام کادرست معلومات تک کی رسائی کے لیے کسی جبر ی نظام کو قبول نہیں کیا جائے گا۔ بلکہ اس امر کو پیشے سے زیادہ فرض سمجھ کر بخوبی سر انجام دیا جائے گا ایسا تقریبا ہر سال ہوتا ہے۔ اور اس موقع پر اس راہ میں قبانیاں دینے والوں کو بھی خراج تحسین پیش کیا جاتا ہے۔ یہ کام ملکی و بین الاقوامی سطح پر بنی پریس فریڈم کا تحفظ کرنے والی مختلف تنظیمیں کرتی ہیں۔ تو مقامی سطح پر صحافتی ایوانوں میں تقاریب کا انعقاد کیا جاتا ہے اس دن کو بھرپور طریقے سے منانے کا مقصد آزادی صحافت کے تحفظ کو یقینی بنانے کا عہد ہے۔

Read more