سن یاس؟ غم نہ کر، زندگی پڑی ہے ابھی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

زندگی میں کوئی دل چسپی نہیں رہی!

بات کرنے کو جی نہیں چاہتا!

دل چاہتا ہے روتی رہوں!

نیند نہیں آتی!

رات سوتے میں آنکھ کھل جاتی ہے!پسینے میں بھیگ جاتی ہوں اور دل کی دھڑکن بے ترتیب ہو جاتی ہے!

جسم میں تھکاوٹ اور درد رہتا ہے!

شوہر کا لمس اچھا نہیں لگتا!

بے چینی بہت زیادہ ہے!

ارے صاحب، حیران مت ہوئیے، یہ ہم اپنی حالت زار بیان نہیں کررہے بلکہ ان تمام خواتین کا حال دل ہے جو سن یاس (Menopause )  کا شکار ہیں۔

ہم ہفتے میں ایک دن سن یاس کلینک کرتے ہیں جہاں ان عورتوں کو دیکھا اور سنا جاتا ہے جو پچاس کی عمر کو پہنچ رہی ہوں یا پہنچ چکی ہوں۔

ہمارے یہاں عموماَ پچاس سال کی عورت کو بوڑھا گردانا جاتا ہے اور اپنے ہاں کے لوگوں کی سمجھ یہ ہے کہ اب زندگی کی رنگینیوں پہ اس عورت کا کوئی حق نہیں، اللہ اللہ کرنے کی عمر آ گئی۔

ہم پیرس میں ایک ریسٹورنٹ میں کھانا کھا رہے تھے۔ ہمارے ساتھ والی میز پہ دس بارہ پچپن سے پچھتر کی عمر کی خواتین بیٹھی تھیں۔ بنی سنوری، شوخ رنگوں کے لباس اور میک اپ، اونچی آواز میں قہقہے اور باتیں۔ یہ سب دوست مل کے لنچ کرنے آئیں تھیں۔ ہماری بیٹی نے ہماری توجہ اس طرف دلائی,

“امی، کیا پاکستان میں آپ نے یہ منظر کبھی دیکھا، جہاں اس عمر کی عورت عضو معطل سمجھی جاتی ہے”

اور ہم نے فوراً چشم تصور میں اپنے خاندان احباب اور مریض عورتوں کو کنگھالا۔ مضمحل چہرے، سنجیدگی کا نقاب، ہلکے مٹیالے رنگ کے ملبوسات، ہاتھ میں تسبیح، گھٹنوں کے درد، ذیابیطس اور بلڈ پریشر سے بے حال، اپنے آپ سے بیگانه اور اردگرد سے بیزار، موت کے انتظار میں بیٹھی مورتیں!

عورت کی زندگی کے دو ادوار بہت اہم ہیں پہلا جب وہ بچپن کی سرحد پار کر کے شباب میں قدم رکھتی ہے اور زندگی کی حرارت بخشتے ہارمون اسے زندگی کی جولانیوں سے روشناس کراتے ہیں۔ دوسرا وہ وقت جب زندگی نما ہارمونز رخصت ہوتے ہیں اور ماہانہ نظام ختم ہوتا ہے۔ چونکہ حمل ٹھہرنا ممکن نہیں رہتا سو ہمارے ہاں اس دور کو بڑھاپے سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ یعنی افزائش نسل کرتے رہنا ہی زندگی کی علامت ہے۔ عورت نہ ہوئی، نسل کشی کا مویشی ٹھہری۔

شباب میں داخل ہوتی لڑکی کے مسائل کا واحد حل شادی سمجھا جاتا ہے۔ تعلیم اور شخصیت سازی کس بلا کا نام ہے؟ والدین اس سے منہ چھپا کے اپنا بوجھ فرض کے نام پہ دوسری جگہ منتقل کرتے ہیں۔ عورت ساری عمر زچگی کے مسائل سہتی، سسرال کی بھٹی میں سلگتی، شوہر کی جلی کٹی سنتی، پینتالیس سے پچاس کی عمر میں اس دور میں داخل ہو جاتی ہے جن برسوں کو سن یاس کی عمر کہا جاتا ہے۔ اور اب اسے اس دور کی کٹھنائیوں سے جسمانی اور ذہنی دباؤ برداشت کرتے ہوئے گزرنا ہے۔ زندگی نما ایسٹروجن ہارمون کی کمی عورت کے لئے مسائل کا ڈھیر لے کر آتی ہے۔

جسمانی تبدیلیوں میں ہڈیوں کا بھربھرا پن، دل کی دھڑکن کا تیز ہونا، دل کے دورے کا خطرہ، بلڈ پریشر کا بڑھنا، جسمانی کمزوری اور دردیں، کسی کام میں دل کا نہ لگنا، نیند کی کمی، سوتے میں آنکھ کھل جانا، چڑچڑا پن، ڈپریشن، ٹھنڈے پسینے آنا، ہڈی کا فریکچر ہونا، سیکس سے تناؤ، اور پیشاب کی مختلف بیماریوں شامل ہیں۔

ذہنی دباؤ میں سب سے اہم تنہائی کا احساس، خود توقیری کی کمی، بے وقعتی، اندر کا خالی پن، ذات کے کچلے جانے کا احساس، زندگی کا زیاں، ماضی کے پچھتاوے اور بے رنگ وبو رینگتی ہوئی زندگی شامل ہیں۔

ذہنی کیفیات کے اسباب میں ایسٹروجن ہارمون کی کمی اپنی جگہ مسلم مگر ایک اور عنصر جو عورت کو صرف پچاس کی عمر میں جیتی جاگتی مردہ روح میں تبدیل کرتا ہے، وہ ہمارے معاشرے کا چلن ہے جہاں گھریلو عورت کو اپنے گھر، شوہر اور بچوں کے علاوہ کوئی بھی سرگرمی رکھنے کی اجازت نہیں دی جاتی۔ شادی کے بعد تصور یہ ہے کہ اس عورت کا جینا مرنا، ہر تعلق اور ہر سرگرمی اس مرد کے حوالے سے ہو گی۔ اس کی ذاتی زندگی کا کوئی تصور کوئی خیال ہمارے یہاں موجود نہیں۔ یہ سوچنا ہی بدعت ہے کہ وہ شوہر یا بچے چھوڑ کے کسی سہیلی کے ساتھ کچھ لمحے اکھٹے گزارنے باہر جا سکتی ہے۔ اس کی زندگی بچوں کے گرد گھومتے گھومتے اس مرحلے پہ پہنچ جاتی ہے جب بچوں کی اپنی زندگی شروع ہوتی ہے اور اب ان کو ماں کی اس طرح ضرورت نہیں ہوتی جس طرح بچپن میں تھی۔

زندگی کے اس موڑ پہ کھڑی عورت جس نے کبھی کسی مشغلے کو اپنانے کی کوشش نہیں کی، جس نے اپنے ہم عمر دوست بنانے کا نہیں سوچا، جس نے اپنا آپ دریافت نہیں کیا، سن یاس کی جسمانی وذہنی کیفیات سے بے حال سوچتی ہے اب کیا کروں؟

ہم ایسی بے شمار عورتوں کو اپنے کلینک پہ دیکھتے ہیں!

ہمارا پہلا مشورہ یہ ہوتا ہے اپنے طرز زندگی میں تبدیلی لائیے، جس کا پہلا قدم وزن میں کمی لانا اور ورزش شروع کرنا ہے۔ یاد رکھیے گھر کا کام کاج قطعی طور پہ ورزش میں نہیں آتا۔ اچھی ورزش میں دل کی دھڑکن تیز ہونی چاہئے۔ (یہ ورزش تو خاصی دلچسپ معلوم ہوتی ہے ۔ مدیر) ہو سکے تو جم جا کے وزن اٹھانے والی ورزش کیجیے کہ ہڈیوں کا بھربھرا پن رک سکے۔

وزن کم کرنے میں پیٹ کم کرنا لازم ہے۔ پیٹ میں جمع شدہ چربی شوگر کا مرض جلد ہونے کی ایک اہم وجہ ہے۔ خوراک کی مقدار میں کمی کیجیے کہ عمر کے بڑھنے کے ساتھ قویٰ مضمحل ہو رہے ہیں اور انہیں زیادہ خوراک کی قطعاً ضرورت نہیں جب کہ ہمارے یہاں یہ خیال غلط العام ہے کہ بڑھتی عمر میں کمزوری کا علاج زیادہ غذا ہے۔

خوراک میں میٹھا، چاول، روٹی اور مشروبات کم سے کم استعمال کیجئیے۔ یہ سب شوگر کے مرض میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ سبزیاں کھانے کی عادت ڈالیے اور انہیں بھی جتنا کم بھونا جائے اتنا بہتر ہے۔ سویا بینز کا اس سلسلے میں کوئی جواب نہیں۔

سن یاس کے برسوں میں چھاتی کا معائنہ لازم ہے۔ کینسر اکثر انہی برسوں میں نمودار ہوتا ہے اس لئے چھاتی کا الٹرا ساؤنڈ اور میموگرام کروانا اشد ضروری ہیں۔

ان تمام کوششوں کے باوجود اگر مزاج میں تبدیلی اور نیند کی کمی زندگی میں بے کیفی پیدا کر رہی ہو تو ہارمونز کے استعمال میں کوئی حرج نہیں۔ گائناکالوجسٹ سے ملیے اور کہہ دیجئے دل کا حال۔

لیکن ان سب باتوں میں سب سے اہم یہ ہے کہ اپنی زندگی کو بامقصد بنائیے، اپنے لئے مشغلے ڈھونڈیے، کتابیں پڑھنا شروع کیجیے، نئی زبان سیکھیے، کوئی نیا آرٹ سیکھیے، میوزک سنیے، سنیما جائیے، دوستوں سے ملیے اور زندگی میں رنگ بھریے۔ دوسروں کی فکر چھوڑیے، اپنے آپ سے محبت کیجیے۔ وہ اپنا آپ جو آپ برسوں سے بھولی بیٹھی ہیں۔

اور آخری بات ہمیں سن یاس کی شکار خواتین کے ساتھیوں سے کہنا ہے۔ اپنی زندگی کے ساتھی کو سہارا دیجیئے، زندگی کی شام ہونے کو ہے، اگر ابھی تک آپ نے ہاتھ نہیں تھاما، اگر ابھی بھی آپ اپنی پسند وناپسند اپنے ساتھی پہ ٹھونسنے کے عادی ہیں، اگر ابھی بھی آپ مالک بننے کے شوقین ہیں تو سن لیجئے آپ کی خواہشات سن یاس کے شکار اور آپ کے قیدی کی صعوبتوں میں اضافہ تو کر سکتی ہیں، بقیہ زندگی سہل نہیں بنا سکتیں۔ چلتے چلتے شہرت بخاری کا ایک شعر پڑھ لیجئے

فسردہ ہونے سے حاصل؟ چلو تلاش کریں

کہیں تو ہوں گی بہاریں جو گلستاں میں نہیں

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

One thought on “سن یاس؟ غم نہ کر، زندگی پڑی ہے ابھی

  • 23/02/2020 at 11:24 am
    Permalink

    .Very detailed and informative analysis. Very helpful in resolving many problems associated with the condition detailed in the article.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *