جدوجہد کا استعارہ: ڈاکٹر لال خان

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

یثرب تنویر حسین گوندل ستر کی دہائی کے آخری سالوں میں طب کی تعلیم کے حصول کے لیے نشتر میڈیکل کالج ملتان میں زیر تعلیم تھے۔ اسی دوران سٹوڈنٹس یونین کی سیاسی سرگرمیوں کی طرف ان کا رجحان بڑھا تو تو پیپلز سٹوڈتنس فیڈریشن میں شمولیت سے ان کی سیاسی جدوجہد کا آغاز ہوا۔ ان دنوں پی ایس ایف ملتان کی قیادت آزادی صحافت کے ہیرو، مرکزی جنرل سیکرٹری پی ایف یو جے، لیونگ لیجنڈ صحافی ناصر زیدی اور لیفٹ کے دیگر سیاسی کارکنوں کے ہاتھ میں تھی۔ سیاست میں شائستگی کو ملحوظ خاطر رکھنے والے پی ایس ایف کے صلح جو نوجوانوں کے لیے میڈیکل کالج کی طلبہ سیاست پر غالب رجعت پرست سٹوڈتنس کی دہشت کا سامنا کرنا مشکل امر تھا مگر یثرب تنویر گوندل کی پی ایس ایف میں شمولیت کے بعد ان کے دبنگ انداز سیاست نے خوف کے سایوں کو ختم کیا تو پی ایس ایف نے کالج کی لبرلز تنظیموں کے ساتھ مل کر فاشسٹ سٹوڈنٹ یونین کے خلاف الیکشن لڑا۔ سیاسی عمل پر مسلط خوف کو چلینج کرنے سے پی ایس ایف کو جو طاقت ملی اس کی بدولت سٹوڈنٹس ملتان کے سیاسی کارکنوں، ٹریڈ یونین و کسانوں کی تنظیموں کے ساتھ جڑت کر کے ضیاء آمریت کے خلاف مزاحمتی تحریک میں ہراول دستہ کے طور پر سامنے آئے۔

انہی دنوں کالونی ٹیکسٹائل ملز ملتان کے مزدروں پر فائرنگ ہوئی جس سے درجنوں مزدور شہید ہو گئے۔ اس بربریت کے خلاف ملتان میں ابھرنے والی احتجاجی تحریک میں یثرب گوندل کا دلیرانہ مزاحمتی کردار ضیاء حکومت کے لیے دن بدن چلینج بن رہا تھا جس بنا پر انھیں نشتر میڈیکل کالج ملتان سے راولپنڈی میڈیکل کالج بھیج دیا گیا۔ ضیاء الحق کا بیٹا انوار الحق اس کالج میں زیر تعلیم تھا۔ یثرب گوندل نے راولپنڈی آ کر ضیاء آمریت کے خلاف مزاحمت کو رکنے نہ دیا تو آمر کے طاقتور بیٹے سے تصادم یقینی تھا سو ایسا ہی ہوا۔ جس کے نتیجہ میں قاتلانہ حملہ میں ان کی جان لینے کی کوشش کی گئی لیکن قدرت نے انھیں محفوظ رکھا تو یثرب کے والد کرنل شیر زمان نے انھیں پاکستان سے ہالینڈ بھیج دیا۔

شہید محترمہ بینظیر بھٹو 1986 میں ضیاء آمریت سے نجات دلانے کے لیے جلا وطنی ختم کر کے لاہور واپس آیئں تو ان کی تاریخ ساز استقبالیہ ریلی میں امریکی پرچم جلائے جانے کا واقعہ پیش آیا۔ امریکہ کے خلاف احتجاج کرنے والے ان نوجوانوں کو جدوجہد گروپ کا نام دیا گیا تھا کیونکہ وہ اپنے ہاتھوں میں `جدوجہد` نامی اخبار اٹھائے نعرے بازی کر رہے تھے۔ امریکی سامراج کے خلاف احتجاج کرنے والے ان انقلابی نوجوانوں نے بعد ازاں پاکستان میں لیفٹ کی سیاست کو نئے انداز سے فعال و متحرک کیا۔

جدوجہد` کے سیاسی پلیٹ فارم پر منظم ان مارکسی سیاسی کارکنوں کی دانشوارنہ قیادت مارکس ازم کے استاد ڈاکٹر لال خان کر رہے تھے جو کچھ عرصہ قبل ہالینڈ سے اپنی جلا وطنی ختم کر کے پاکستان واپس آئے تھے۔ موصوف وہی یثرب تنویر گوندل تھے جو نشتر و راولپنڈی میڈیکل کالجز میں ضیاء آمریت کے خلاف مزاحمتی تحریک کو لیڈ کر چکے تھے۔ مگر اب وہ ایک مارکسسٹ دانشور و لکھاری اور لیفٹ ایکٹوسٹ کے طور پر ڈاکٹر لال خان کے قلمی نام سے ضیاء آمریت کے خلاف مصروف جدوجہد تھے۔ اب بھی ان کی سیاسی سرگرمیوں کا محور و مرکز پاکستان پیپلز پارٹی تھی۔ ان کی قیادت میں ابھرنے والا لیفٹ رجحان `جدوجہد` اب پی پی پی کے جیالوں کے شانہ بشانہ ضیاء آمریت کے خلاف میدان عمل میں تھا۔

جدوجہد ` کو محنت کش طبقات تک پہچانے کے لیے ماسسز (عوام) تک رسائی کے لیے انہوں نے اپنے سیاسی تناظر جس کے مطابق 1968-69 کی عوامی تحریک کے نتیجہ میں ابھرنے والی طبقاتی مزاحمت کی انقلابی تحریک نے پاکستان پیپلز پارٹی نے جنم لیا تھا جس بنا پر پاکستان میں محنت کشوں کی روایتی سیاسی پارٹی صرف اور صرف پی پی پی ہے جس کے پلیٹ فارم سے پاکستان میں سوشلسٹ انقلاب کی تعمیر ممکن ہے۔

اس سیاسی تھیسس کا اہم نکتہ یہ تھا کہ محنت کشوں کی روایت ان کی طبقاتی تحریکوں سے جنم لیتی ہے لہٰذا روایتی پارٹی ہی سماج میں ابھرنے والی ہر طبقاتی تحریک میں قیادت کا فریضہ ادا کرتی ہے ان کے بقول اگر سماج رجعت پرستی کی طرف مائل ہو تو ورکنگ کلاس کی روایتی سیاسی پارٹی میں بھی رجعت پرستی غالب آ جاتی ہے چونکہ وہ روایتی لیفٹ کی طرح شہید ذوالفقارعلی بھٹو کی مخالفت کی بجاے ان کی انقلابی فکر اورعوامی سیاست کوماڈل کے طور پر پیش کیا کرتے تھے جس بنا پر ان کی کہی لکھی سیاسی باتیں پی پی پی کے کارکنوں، ووٹرز و ہمدردوں اور عوام میں بہت مقبول ہوئی تھیں جس میں وقت گزرنے کے ساتھ اضافہ ہوتا گیا تھا۔

 نوے کی دہائی کے آغاز میں روس میں ستر سالہ کیمونسٹ حکومت کے خاتمہ کے بعد جب سوشلسٹ انقلاب کی ناکامی کی چاروں طرف منادی ہو رہی تھی تب پاکستان سے سوشلسٹ انقلاب کی حمایت میں اٹھنے والی توانا و مدلل آواز ڈاکٹر لال خان کی تھی جسے دنیا بھر کے محنت کشوں میں پذیرائی ملی تھی۔ ایسا وقت جب پاکستان کا سارا لیفٹ سوشلسٹ انقلاب کے دفاع میں ایک لفظ کہنے سے بھی کتراتا تھا۔ ڈاکٹر لال خان مارکسزم، لینن ازم کے حق میں تاریخی و سیاسی شواہد و دلائل کے ساتھ روس کے بالشویک انقلاب کو طبقاتی بنیادوں پرعملی شکل میں آنے والا دنیا کا پہلا مزدور انقلاب اور نوے کے آغاز میں روس میں ہونے والے واقعات کو اس رد انقلاب کا تسلسل قرار دے رہے تھے جو روس میں سٹالن کے دور سے شروع ہوا تھا۔

 پی پی پی کی تاسیسی دستاویزات کو بنیاد بناتے ہوے انہوں نے ممتاز کالم نگار منو بھائی کی ہمراہی میں 2000 میں پارٹی کا ایک نیا متبادل منشور پارٹی کارکنوں کے لیے لکھا تھا جسے کارکنوں نے بہت پذیرائی دی تھی۔ مگر پیپلز پارٹی میں غالب رائٹ ونگ سیاستدانوں نے جلا وطنی کی زندگی گزارنے والی شہید محترمہ بینظیر بھٹو تک محنت کشوں کی امنگوں کے ترجمان اس سوشلسٹ پروگرام کو پہنچنے نہیں دیا تھا۔ ڈاکٹر لال خان مارکس ازم کو پیش منظر کی سائنس کہتے تھے ان کے مطابق مارکس ازم سائسنی علم ہونے کی بنا پر آنے والے سیاسی، معاشی، سماجی و ثقافتی حالات و واقعات کا تناظر پیش کرتا ہے۔ اس فلاسفی کو مد نظر رکھتے ہوے انہی دنوں ان کی طرف سے افغان وار پر پیش کردہ تناظر میں کہا گیا تھا کہ جہاد کے نام پر شروع کی گئی یہ قتل و غارت ایک دن پاکستان میں داخل ہو کر اسے تباہی کے دہانے پر پہنچا دے گی۔

نائن الیون کے بعد ان کی سیاسی پیش گوئی سچ ثابت ہوئی۔ دہشت گردی کے ہاتھوں ہزاروں جانوں کے ساتھ پاکستان کو شہید محترمہ بینظیر کی شہادت کا نا قابل تلافی نقصان ہوا۔ 2008 میں پیپلز پارٹی کی مصالحتی پالیسی کے ناقد کے طور پر ڈاکٹر لال خان پیپلز پارٹی کو محنت کشوں کی ایسی روایت قرار دینے لگے تھے جو ٹوٹنے کےعمل میں انقلابی ابھار میں تقسیم ہونے کی بجاے رجعت پرستی کی طرف گامزن ہو رہی تھی تاہم ان کا تجزیہ یہ بھی تھا کہ پاکستان میں جب بھی طبقاتی بنیادوں پر محنت کشوں کی تحریک کا ابھار ہو گا اس کی اٹھان پیپلز پارٹی سے ہی ہو گی۔

پیپلز پارٹی کو ایک انقلابی پارٹی کے طور پر متحرک فعال و عوامی مزاحمت کی جدوجہد میں مصروف عمل دیکھنے کے متمنی ڈاکٹر لال خان گزشتہ ایک سال سے کینسر جیسی جان لیوا بیماری کے خلاف لڑ رہے تھے مگر 21 فروری کا دن مزاحمت کی علامت یثرب تنویر گوندل ڈاکٹر لال خان کی موت سے کی جانے والی مزاحمت کو شکست دے کر ان کے دنیا بھر میں مقیم لاکھوں ساتھیوں کو سوگوار کر گیا۔ ان کی وفات کی خبر ملتے ہی جس والہانہ انداز سے سوشل میڈیا پر ان کی قلمی، سیاسی، نظریاتی اورعوامی جدوجہد کو پذیرائی دی جا رہی ہے۔ پاکستان میں لیفٹ کے کسی لیڈر کو ماضی میں کبھی نہیں ملی۔ محنت کشوں کی طبقاتی تحریک کا استعارہ بن کر زندگی گزارنے والے ڈاکٹر لال خان کی جسمانی جدائی انھیں مزدور تحریک سے کبھی جدا نہ کر پائے گی کیونکہ جب بھی لفظ جدوجہد لکھا بولا پڑھا جائے گا، آج اور مستقبل کے انقلابیوں کو عظیم مارکسی استاد ڈاکٹر لال خان کے نظریات و افکار ضرور یاد آئیں گے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *