جو کرا رہا ہے، امریکہ کرا رہا ہے


\"husnain\”سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کی اطلاعات کے مطابق سوویٹ روس پاکستان پر اپنا تسلط قائم کرنے کے ارادے رکھتا ہے۔ اس مقصد کے لیے وہ درجہ بہ درجہ پیش قدمی کرے گا۔ شروع میں پروپیگنڈا، پھر مزدور کسان تنظیموں اور طلبا تحریکوں میں خفیہ سرایت جو کہ اس وقت بھی ہو رہی ہے اور بالاخر یہ بھی بعید از قیاس نہیں کہ وہ فوجی کارروائی کے ذریعے ملک پر قابض ہو جائے۔ امریکہ کو ایک دوست ملک کی حفاظت کے لیے ان تمام حالات میں تیار رہنا ہو گا۔ سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ میں اتفاق رائے یہ ہے کہ پاکستان میں سوویٹ روس کے فاسد مقاصد اور اشتراکی نظریات کو ناکام بنانے کا سب سے موثر حربہ اسلام اور اسلامی تنظیمیں ہیں۔\”

پچاس کی دہائی کے شروع میں امریکہ پاکستان کا دوست ہوا۔ سکولوں میں امریکہ نے لائبریریاں کھولیں، بچوں کو باہر کا خشک دودھ مفت ملا کرتا تھا، کتابیں مفت ملتی تھیں، امریکی ادب کا ترجمہ بہت سستے دام دستیاب ہوتا تھا۔ قحط پڑتا، یا نہ بھی پڑتا تو غذائی اجناس کی فراہمی شروع ہو جاتی، گندم تک امریکہ سے آئی، زمانہ ہی کچھ ایسا تھا۔ امریکہ کے بارے میں مائی باپ کا جو تصور ہمارے ذہنوں میں اب ہے، اس کی داغ بیل تب ڈالی جا رہی تھی۔ تھینک یو امریکہ کی تختیاں گلے میں ڈالے اونٹ اسی زمانے میں گھومتے نظر آئے تھے پھر ہم نے اونٹوں کی جگہ لے لی۔

اس زمانے میں حسن نواز گردیزی امریکہ پڑھانے کے لیے گئے۔ گردیزی صاحب ملتان کے مشہور دانشور، شاعر اور ادیب تھے۔ وہاں ایک دن انہیں یونیورسٹی کے ایک امریکی پروفیسر (جو پاکستانی امور کے ماہر سمجھے جاتے تھے) نے اپنے کمرے میں بلایا اور ایک خط دکھا کر رائے مانگی کہ کیا کرنا چاہئیے۔ اوپر دیا گیا اقتباس \"liaqat\"وہی خط ہے۔ گردیزی صاحب بائیں بازو کے سرکردہ افراد میں سے تھے، انہوں نے رائے دینے سے انکار کر دیا اور کہہ دیا کہ اگر وہ رائے دیں گے تو وہ Biased  ہو گی۔ یہ سب کچھ لکھ کر وہ غبار زندگی میں گم ہو گئے۔ سوچنے والوں کے لیے ہر کتاب میں کچھ نہ کچھ موجود ہوتا ہے، اس کتاب میں یہ سب تھا۔

ملک بنا تو ہمارے تمام لیڈروں کا خواب یہی تھا کہ یہ ایک ایسی ریاست ہو گی جہاں عام آدمی کی رائے مقدم ہو، اقلیتیں برابر مقام کی حامل ہوں اور امن و چین کی بانسری بجائی جا سکے گی۔ وہ مذہب اور جمہوریت کو الگ نہیں سمجھتے تھے۔ ان کا خیال تھا کہ مذہب کے دائرہ کار میں رہتے ہوئے وہ یہ سب کچھ کر جائیں گے۔ ابھی وہ اپنے خیالوں میں ہی تھے کہ 1949 میں لیاقت علی خان اور ان کی بیگم کو روس کی طرف سے خیر سگالی دورے کی دعوت ملی۔ نیا نیا ملک تھا، تعلقات بہتر کرنے میں سبھی لگے ہوئے تھے۔ حامی بھر لی گئی اور تیاریاں شروع ہو گئیں۔ دوسری عالمی جنگ ختم ہوئے کچھ ہی برس گزرے تھے۔ روس اور امریکہ کی سرد جنگ اپنے عروج پر تھی۔ یہی خبر امریکہ پہنچی تو وہاں بے چینی پھیل گئی۔ دوستی کے پلڑے میں اپنا وزن بڑھانے کے لیے امریکی امداد کا دور شروع ہوا۔ سب سے پہلے اسلحے کی امداد بھیجی گئی اور اس کے بعد ان داتا سب کچھ بھیجنے لگا۔ اسی سال کے آخر میں امریکی صدر ٹرو مین نے بھی پاکستان کو خیر سگالی دورے کی دعوت دے دی۔ ابھی روس کی دعوت والا معاملہ بیچ میں ہی تھا کہ یہ دعوت آ گئی۔ کہنے والے کہتے ہیں کہ بیورو کریسی کا اصرار تھا، لیکن جو بھی وجہ تھی، 1950 میں لیاقت علی خان امریکہ کے دورے پر تھے اور یہ پاکستان امریکہ تعلقات اور ہمارے پین اسلام ازم کی خواہشات کا آغاز تھا۔ اور یہی اس عقیدے کا بھی آغاز تھا کہ جو کرا رہا ہے، امریکہ کرا رہا ہے۔\"carter\"

اس کے بعد کمیونزم ہمارے لیے آفیشلی خطرہ بنا اور کمیونسٹ سرکاری طور پر راندہ درگاہ ٹھہرائے گئے۔ مذہب کی اہمیت بھی ریاستی طور پر پہلے ہی بڑھنا شروع ہو چکی تھی کہ اسے کمیونزم کے خلاف استعمال ہونا تھا۔ عین یہیں سے روایت پرست اور شدت پسند علما کا غلبہ شروع ہوا جو مکمل طور پر ایسی ریاست چاہتے تھے جہاں مذہبی طبقہ حکم ران ہو اور تمام فیصلے مذہب کی راہ نمائی میں کیے جائیں۔ پاکستانی ریاست کی نوعیت سے متعلق شروع ہوئی بحث قرارداد مقاصد تلے دب چکی تھی، مشرقی پاکستان میں موجود بائیس فی صد اور مغربی پاکستان کی تقریباً تین فی صد اقلیتوں کو یکسر فراموش کرتے ہوئے تمام اطراف ہرا ہی ہرا دیکھا جا رہا تھا۔ وفاق کی بالادستی اور ملی یکجہتی کے لیے بھی ہمیں یہی مذہبی فارمولا بہتر لگا۔ بار بار ہم نے جانا کہ یہ حل ہمیں تقسیم در تقسیم کی طرف لیے جاتا ہے لیکن ہم نے ہر بار استقامت دکھلائی اور تمام سانحات خندہ پیشانی سے برداشت کرتے ہوئے سانحہ کوئٹہ تک آن پہنچے۔

جو کچھ اب ہمارے ساتھ ہو رہا ہے اس کی فصل ہمارے بڑوں نے بوئی تھی۔ کمیونزم کے خلاف لڑنا ہو یا کسی کی گرم پانیوں تک رسائی روکنا ہو، ہم اس میں آلہ کار بنے، ہم نے اپنے مفادات کھرے کیے اور اس چکر میں انہیں گرم پانیوں میں اپنی لٹیا ڈبو بیٹھے۔ پہلی اینٹ غلط رکھنے کے بعد ہمارے بچوں کو ساری دنیا سے نفرت سکھائی گئی، اپنی عظمت رفتہ و موجودہ کے راگ اس شدت سے گوائے گئے کہ ہم آہستہ آہستہ دنیا میں بالکل اکیلے ہو گئے۔ پہلے کئی برس ہم نے مانا ہی نہیں کہ کوئی \"zia-ul-haq-reagan\"مسلمان بھی ایسا کر سکتا ہے۔ جب یہ طے ہو گیا کہ مسلمان ہی یہ سب کچھ کر رہے ہیں تو کہا گیا وہ مسلمان نہیں ہیں، ایسے ظالم لوگ مسلمان نہیں ہو سکتے۔ پھر داعش نے باقاعدہ کلمے پڑھ کر کارروائیوں کی ذمہ داری قبول کرنے کی ویڈیوز دیں تو ہم نے کہا کہ دین تو ایسا کہتا ہی نہیں ہے، مذہب کے متعلق ان کی تعبیر غلط ہے۔ ہم ادھر ادھر کے چکروں میں الجھے رہے اور کبھی یہ غور کرنے کی توفیق نہ ہوئی کہ اگر یہ سب مذہب کے نام پر کیا جا رہا ہے تو کچھ قواعد و ضوابط ایسے بنائے جائیں کہ یہ انتہا پسندی کم ہو جائے یا کم از کم اگلی نسلیں اس سے پاک ہوں۔

قیام پاکستان سے لے کر آج تک ہمارے دشمنوں میں ایک ایک کر کے اضافہ ہوتا رہا لیکن ہمارا سرکاری راگ ایک ہی رہا۔ دشمن بزدل ہے۔ دشمن نے رات کی تاریکی میں وار کیا۔ دشمن کی بزدلانہ کارروائی میں اتنے بندے شہید۔ جو بھی دشمن ہو، آ کر ایسی تیسی پھیر جائے، طالب علم مریں، وکیل مریں، پولیس مرے، فوجی مریں لیکن دشمن کو کمزور سمجھنا اور عوام کو سمجھانا ہماری تاریخی غلطی رہا ہے۔ وہ غلطی جسے ہم فخریہ طور پر ہمیشہ دہراتے رہے ہیں اور جس کی سب سے بڑی مثال \”بچوں سے ڈرتا ہے\” قسم کے گانے ہیں۔ آج بھی دارالحکومت ہو یا کوئٹہ ہو یا جنوبی پنجاب ہو، پنیریاں ہم برابر لگاتے آ رہے ہیں اور پانی بھی باقاعدہ دیتے ہیں۔ پھر جب فصل بڑی ہوتی ہے تو کاٹتے کاٹتے خود بھی کٹنے لگتے ہیں۔ ابھی چند ہی برس پہلے تک یاد کر لیجیے۔ کون کون سے لکھنے والے تھے جو طالبان کی باقاعدہ خوبیاں گنواتے تھے۔ گڈ طالبان اور بیڈ طالبان کی بات کرتے تھے۔ کون ہیں جو اب بھی غزووں سے کم کی بات نہیں کرتے اور افغانستان میں طالبان کی حکومت کا خواب \"impressing-the-world\"دیکھتے ہیں۔ حد یہ ہے کہ آج کے دن بھی ایک کالعدم تنظیم اسی شہر میں جلسہ کرتی ہے جہاں دفعہ ایک سو چوالیس کی خلاف ورزی پر عمران خان کے کارکن گرفتار ہوئے ہیں اور کسی کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی۔

مان لیا شروعات ٹھیک نہیں تھی، اس وقت کی اپنی مصلحتیں ہوں گی، ہو گیا جو ہونا تھا۔ کیا اب بنیاد پرستی کو جڑ سے نہیں اکھاڑا جا سکتا؟ ارباب اختیار کچھ بھی نہ کریں، ایک طرف نصاب کی درستی سے یہ سلسلہ شروع کیا جائے اور دوسری طرف دشمن کو برابر کا بلکہ ڈیڑھ چوٹ زیادہ کا سمجھ کر ایمرجینسی بنیادوں پر ملک گیر صفائی کا عمل شروع کیا جائے تو اگلی نسلیں کم از کم اس بحران کا شکار نہیں ہوں گی جو ہمارا مقدر ٹھہرا ہے۔ گر یہ نہیں تو بابا، پھر سب کہانیاں ہیں!

Facebook Comments HS

حسنین جمال

حسنین جمال کسی شعبے کی مہارت کا دعویٰ نہیں رکھتے۔ بس ویسے ہی لکھتے رہتے ہیں۔ ان سے رابطے میں کوئی رکاوٹ حائل نہیں۔ آپ جب چاہے رابطہ کیجیے۔

husnain has 502 posts and counting.See all posts by husnain

One thought on “جو کرا رہا ہے، امریکہ کرا رہا ہے

  • 29/10/2016 at 5:09 شام
    Permalink

    جمال صاحب
    میرے پاس شاہ خان صاحب سے بہتر الفاظ نہیں اور نہ ہی میں ان سے ملتے جلتے الفاظ استعمال کر کے خان صاحب کے تبصرے کی اهمیت کو کم کرنا چاہتا هوں.
    میری طرف سے آسان اور قابل وفہم تجزیے پر مبارکباد قبول کیجئے. ایک عرض ھے کہ اس تجزیہ کو مستقبل کے رہنماؤں یعنی سکو لوں بچوں تک ضرور پپہنچائیں.
    دعاگو
    احسان اللہ خان
    سویڈن سے
    Ehsan Ullah Khan

Comments are closed.