”نون لیگ“ کی کمان شہبازشریف کو دلوانے میں والدہ بھی ناکام

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

لندن میں ”شریف برادران“ کی بوڑھی والدہ بیگم شمیم اختر اپنے بڑے بیٹے کو اس بات پر ”رام“ کرنے میں ابھی تک کامیاب نہیں ہوسکیں کہ وہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کی عملی قیادت مکمل طور پر چھوٹے بھائی شہبازشریف کو سونپ دے، ذرائع کے مطابق نواز شریف نے اس بابت فیصلہ مریم نواز کے آنے تک مؤخر کردیا ہے۔

ادھر اسٹیبلشمنٹ شریف فیملی کو پارلیمانی سیاست سے بھی ”آؤٹ“ کرنے کے لئے متحرک ہوگئی ہے جس میں اسے ”نُون لیگ“ کے چند مرکزی رہنماؤں کا درپردہ ”تعاون“ حاصل بتایا جاتا ہے، جو بطور اپوزیشن لیڈر پارٹی کی پارلیمانی قیادت کے امیدوار ہیں۔

شریف فیملی کے ذرائع کے مطابق شہبازشریف کی خواہش پر ان کی والدہ ابھی تک نواز شریف کو اس بات پر آمادہ کرنے کی کوشش کررہی ہیں کہ وہ سیاست کو مکمل طور پر بھول جائیں اور صرف اور صرف اپنی صحت پر توجہ دیں، اور پارٹی کی قیادت، پالیسی سازی اور حتمی فیصلوں کے اختیار کے ساتھ شہبازشریف کے حوالے کردیں البتہ نواز شریف اس بات پر اڑے ہوئے ہیں کہ ”اس بارے فیصلہ مریم کی موجودگی“ ہی میں کروں گا ”جبکہ ان کی 90 سالہ ماں نواز شریف کو اس امر پر قائل کرنے کی کوشش کررہی ہیں کہ وہ لندن میں موجود چوہدری نثار علی خاں سے ملاقات کرلیں اور ان کی پارٹی میں واپسی کا باضابطہ اعلان کرتے ہوئے پارٹی کی کمان کُلّی طور پر“ چھوٹے ”کے سپرد کردیں لیکن ذرائع کا کہنا ہے کہ وہ ابھی تک اپنی اس کوشش میں کامیاب نہیں ہوپائیں۔

شریف فیملی کے ذرائع کے مطابق شریف خاندان کی سربراہ بیگم شمیم اختر چونکہ پہلے ہی مریم نواز کے سیاست میں حصہ لینے کے حق میں نہیں اور چاہتی ہیں کہ ان کا 71 سالہ شدید بیمار بڑا بیٹا اور مریم سیاست کے جھنجھٹ سے دور ہو جائیں، اس لئے بیگم شمیم اختر کا چھوٹا بیٹا یعنی شہبازشریف اپنی آخری کوشش کے طور پر بوڑھی ماں کے ذریعے بڑے بھائی کو پارٹی پالیسی اور حتمی فیصلے کے پورے اختیارات سمیت ”نوُن لیگ“ کا مکمل کنٹرول جس قدر جلد ممکن ہوسکے، اس کے حوالے کر دے کیونکہ اب نواز شریف نے تو غیر معینہ عرصے تک پاکستان واپس آنا نہیں، لہٰذا وہ خود یعنی شہبازشریف جلد سے جلد وطن واپس آکر اپنی سیاست بچا سکیں اور پارٹی پر اپنی مکمل گرفت قائم کر سکیں، اور اپنے ”ھم خیال“ دیرینہ ساتھی چوہدری نثار کی مدد سے مقتدر قوتوں کے ساتھ ”ڈیڈ لاک“ توڑ کر کوئی نتیجہ خیز ”معاملہ“ کر پائیں۔

دوسری طرف بتایا جاتا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ کا منصوبہ ہے کہ اس نے 2018 کے الیکشن کے بعد سول سیٹ اپ کا جو ڈھانچہ کھڑا کیا تھا، اس میں موجُودہ سیاسی صورتحال کی روشنی میں چند ضروری تبدیلیاں کرکے اسے مستحکم کیا جائے۔

ذرائع کے مطابق مقتدر قوتیں اب اس امر کی کوشش کر رہی ہیں کہ فی الحال موجودہ وزیراعظم کو مزید کمزور کردیا جائے اور اس کے ساتھ ساتھ ”پرائم منسٹر in waiting“ یعنی پارلیمان میں اپوزیشن لیڈر کے عہدے سے بھی شہباز شریف کو ”فارغ“ کرکے شریف فیملی کو پارلیمانی سیاست سے بھی باہر کر دیا جائے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ وفاقی وزیر فواد چوہدری نے حال ہی میں شہباز شریف کو اس بنیاد پر قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر کے عہدے سے ہٹا دیے جانے کے لئے خط لکھا ہے کہ اپوزیشن لیڈر ”پرائم منسٹر ان ویٹنگ“ اور شیڈو کابینہ کا قائد ہوتا ہے جبکہ شہبازشریف کی وطن واپسی کا کوئی امکان نظر نہیں آتا

ذرائع کے مطابق یہ خط قطعاً وزیراعظم یا حکمران جماعت پی ٹی آئی کی ایماء پر نہیں لکھا گیا کیونکہ وزیراعظم عمران خان اور برسر اقتدار پی ٹی آئی کو تو شہبازشریف کا ملک سے باہر رہنا ہی suit کرتا ہے، اور وہ موجودہ صورتحال ہی میں سہولت محسوس کرتے ہیں، لہٰذا اپوزیشن لیڈر کی تبدیلی کا پراسیس شروع کروانے کی غرض سے یہ چٹھی کسی“ اور” کی خواہش پر بھیجی گئی ہے۔ ۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ کے اس نئے پلان کو قومی اسمبلی میں مسلم لیگ (نون) کی پارلیمانی پارٹی میں موجود پارٹی کے بعض مرکزی رہنماؤں کی درپردہ ”آشیرواد“ حاصل ہے، اور ”نوُن لیگ“ کی پارلیمانی پارٹی کا یہ گروپ پارلیمنٹ میں موجود ”نوُن لیگ“ کے مریم نواز گروپ اور شہبازشریف گروپ کے علاوہ ایک تیسرا دھڑا ہے جو ”پرو اسٹیبلشمنٹ“ اراکین پر مشتمل ہے، اور جس میں رانا تنویر حسین، خواجہ آصف اور راناثناءاُللہ جیسے مرکزی لیگی رہنما شامل بتائے جاتے ہیں جو بطور امیدوار اپنے اپنے ”چانس“ کے منتظر ہیں۔

دریں اثناء ذرائع کے مطابق مقتدر حلقوں نے اس وقت تک ”کپتان“ ہی کو ”چلانے“ کا فیصلہ کیا ہے جب تک وہ ”اڑی“ نہیں کرتا اور کسی بڑے بحران اور سیاسی ”ڈیڈ لاک“ کو جنم دینے کا سبب نہیں بن جاتا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *