گلیشیئرز کا پگھلنا کتنا قابل فکر ہے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہماری زمین کا تقریبا 10 فیصد حصہ گلیشیئرز پر مشتمل ہیں۔ جن کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ دنیا میں میٹھے پانی کے 70 فیصد ذخائر گلیشیئرز کی شکل میں ان جمی ہوئی برف میں ہی ٓموجود ہیں۔ اگرعام زبان میں گلیشیرز کو سمجھنا ہو تو گلیشیرز برف کے ایک بہت بڑے حجم کو کہا جاتا ہے جو کہ سالوں سالوں کی برفباری کے بعد تشکیل پاتے ہیں۔ ہوتا کچھ یوں ہے کہ کچھ علاقوں میں گرمیوں میں بھی درجہ حرارت اتنا کم ہوتا ہے کہ وہاں پر پڑی برف مکمل طور پر پگھل نہیں پاتی اور موسم سرما آنے پر مزید برف باری ان کے حجم میں اضافہ کردیتی ہے۔

سال ہا سال کے اس عمل میں برف کی اوپر کی تہہ تو خاصی دبیز اور سخت ہوتی جاتی ہے مگر زمین کی قدرتی حرات کی وجہ سے نچلی تہہ قدرے نرم رہتی ہیں جو ڈھلوانی سطح سے سرکتے ہوئے آخر پگھل کر دریاوں میں گرنا شروع ہو جاتا ہیں۔ خالی ہونے والی جگہ نئے آنے والی برفباری لے جاتی ہیں۔ اب اگر اس عمل کے رفتار کی بات کی جائے تو عام طور پر گلیشیر کی رفتار کا دارومدار اس کی جسامت پر ہوتا ہے۔ عام طور پر ایک گلیشیئر 50 میٹر فی سال چلتا ہے اور زیادہ سے زیادہ ان کی رفتار 20۔ 30 میٹر روز کے حساب سے ہو سکتی ہیں۔

گلیشیرز کو دو گروپوں میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ الپائن گلیشیر، جو پہاڑوں پر برفباری کے عمل سے بنتی ہیں اور وادیوں کے ذریعے ڈھلوان سطح پرحرکت کرتی ہیں جبکہ دوسری قسم کو کانٹی نینٹل گلیشیر کہتے ہیں جو کہ افقی سطح پر بڑے احاطوں پرمحیط ہوتی ہیں۔

افسوس پچھلی کئی دہائیوں سے جاری موسمیاتی تبدیلیوں اور بڑھتا ہوا درجہ حرارت گلیشیئرز کے پگھلنے کی عمل کی رفتار کوتیز تر کر رہی ہیں۔

عالمی ادارے ڈبلیو ڈبلیو ایف نے ایک رپورٹ میں خبردار کیا ہے کہ جس تیزی سے گلیشیئر پگھل رہے ہیں خدشہ ہے کہ آئندہ چار عشروں میں قطبین میں برف باقی نہ رہے، جو کہ ناصرف اردگرد کے خطوں کے قدرتی ماحول میں غیریقینی تغیرات کا باعث بنیں گے بلکہ سمندروں کی سطح بلند ہونے کی وجہ سے ساحلی علاقوں کے ڈوب جانے کا خطرہ بھی درپیش ہوگا۔

اگر ہم پاکستان میں گلیشیرز کی بات کریں تو شمالی علاقہ جات میں 15000 مربع کلومیٹر رقبے پر 5000 چھوٹے بڑے گلیشیئرز بھی اس خطرے سے بری الزمہ نہیں ہیں۔ یہ گلیشیرز شمالی کرے اور براعظم انٹارکٹیکا کے بعد روئے زمین کا سب بڑے گلیشیئرز قرار دیے جاتے ہیں۔ ”واٹر ٹاورز آف ایشیا“ کے نام سے جانے یہ گلیشیئرز نا صرف ہزاروں سال سے پاکستان کی ضروریات پوری کررہے ہیں بلکہ افغانستان، چین، بھارت، نیپال، بھوٹان، بنگلہ دیش اور برما سے منسلک تقریبا سوا ارب انسانوں کی زندگیوں کا دارومدار بھی انہی گلیشیئرز پر ہے۔ کیونکہ ہمارے خطے میں موسمی تشکیل میں اہم کردار ادا کرنے والی مون سون اور دیگر بارشیں بھی ان گلیشیرز کی مرہون منت ہیں۔ پاکستان کی زرعی صنعت جو دریائے سندھ سے جڑی ہے ان کا آغاز بھی ہمالیہ کے پہاڑوں سے ہوتا ہے۔

کولمبیا یونیورسٹی کی ہمالیہ کے گلیشیر سے متعلق سٹڈی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ہمالیہ کے گلیشیر توقع سے زیادہ رفتار سے پگھل رہے ہیں۔ 1975 سے 2000 کے دوران اور سنہ دو ہزار کے بعد سے گلیشیر کے پگھلنے کی شرح انسانی تاریخ میں تیز ترین ہے۔

جن کی وجہ سے کچھ دہائیوں میں تو دریائی نظام میں وافر مقدار میں پانی موجود رہے گا۔ مگر اس کے بعد پاکستان کو شدید خشک سالی کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے، اور زراعت متاثر ہونے کی وجہ سے ملکی معیشت کو بھی خطرناک حد تک نقصان پہنچ سکتا ہے۔

شمالی علاقوں میں درجہ حرارت میں اضافے سے گلیشئرز کے پگھلنے کے نتیجے میں اب تک تین ہزارسے زیادہ گلیشیرز، گلیشیائی جھیلوں میں تبدیل ہو چکی ہیں اور اگر یہ عمل اسی رفتار سے جاری رہا تو چین، بھارت اور پاکستان کے دریاوں میں کم ہوتے پانی کی وجہ سے اسی کروڑ لوگوں کی زندگیوں کو خطرہ لاحق ہوگا۔

گلیشیرز پگھلنے کے فوری اثرات میں سیلاب، خشک سالی اور برفانی تودوں جیسے بڑی ناگہانی آفات کا بکژت وقوع پزیر ہونا ہے۔

اب وقت آ گیا ہے کہ گلیشیرز سے منسلک زندگی، معیشت، ماحولیاتی نظام، ارضیاتی اور بنیادی ڈھانچے کو بچانے کے لئے فوری اقدامات کیے جائیں۔

کہیں ایسا نا ہو کہ گلیشیرز کی سسکیاں، ہچکیوں کے بعد چیخوں میں بدل جائیں۔ چیخیں تو کسی کمزور کی بھی مردوں کو جھنجھوڑ کر رکھ سکتی ہیں، یہ تو پھر بھی قدرت کی ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *