تحریک انصاف اب عوام کے قریب آتی جا رہی ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اس میں کوئی شک نہیں کہ وطن عزیز کو مشکل صورتحال کا سامنا ہے کہ کمزور معیشت لرزاں ہے جسے مضبوط بنانے کے لئے حکومت کو سخت فیصلے بھی کرنا پڑرہے ہیں۔ جس سے عوام کے روز شب تلخ ہوتے جارہے ہیں اس کی دو وجوہات ہیں ایک آئی ایم ایف کی کڑی شرائط ہیں اور دوسرے مافیاز ہیں جو مصنوعی صورت حال کو جنم دے کر عوام کے مسائل میں اضافہ کرتے ہیں مگر اب وزیراعظم پاکستان عمران خان نے ان سے سختی سے نمٹنے کا فیصلہ کرلیا ہے کیونکہ اگر وہ ایسا نہیں کرتے تو ان کی ساکھ بری طرح سے مجروح ہونے کا اندیشہ ہے اور اگر یہ کہا جائے کہ موجودہ مہنگائی، بے روزگاری اور انتظامی کمزوری نے ان کی مقبولیت میں کافی حد تک کمی کردی ہے تو غلط نہ ہوگا لہٰذا انہوں نے اپنی جماعت کے صوبائی ووفاقی عہدیداروں کو صاف کہہ دیا ہے کہ وہ عوام کے مسائل حل کرنے میں جت جائیں وگرنہ انہیں گھر جا کر آرام کرنا چاہیے۔

بالکل درست کہا پی ٹی آئی ایک تبدیلی کے نعرے کے ساتھ اقتدر میں آئی ہے لہٰذا اگر وہ اس کو عملی جامہ پہنانے میں ناکام رہتی ہے تو لوگ عمران خان وزیراعظم سے بدگمان ہوں گے کہ انہوں نے جو کہا اسے بھلا دیا بلکہ وہ یہ تک کہہ سکتے ہیں کہ انہیں اپنی ذات سے ہی دلچسپی ہے عوام سے کوئی ہمدردی نہیں لہٰذا انہوں نے جو قدم اٹھایاہے وہ جائز ہے اگر عوامی نمائندوں اور پارٹی کے لوگوں نے ہنس کھیل کر وقت گزارنا ہے تو پھر ”سٹیٹس کو“ کو کیسے ختم کیا جاسکے گا اور عوام کی فلاح و بہبود کیسے ہوسکے گی لہٰذا اب ان کی زیادہ تر توجہ عوام کی حالت کو بہتر کرنے پر مرکوز ہو چکی ہے اس حوالے سے پی ٹی آئی پنجاب کے صدر اعجاز چوہدری نے بھی ایک مقامی ہوٹل میں ”قلم دوست“ سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا ان سے راقم نے مہنگائی کے بارے میں سوال کیا تو وہ کہنے لگے کہ ماضی میں اندھا دھند قرضے لئے گئے اور بہت سے کمرشل بنیادوں پر لئے گئے۔

پھر ستم یہ ہوا کہ ملکی اثاثوں کو گروی رکھا گیا جن کی بنا پر ٹیکسوں کا اجرا کرناپڑا نتیجتاً مہنگائی نے آن گھیرا ایک ضمنی سوال پر کہ کیا انتظامی پہلوبھی اس کا سبب نہیں ہے انہوں نے کہا ایسا ہوا مگر ذمہ داران کو معطل کیاگیا ہے اوران سے باضابطہ پوچھا جا رہا ہے۔ چیئرمین قلم دوست نے تعلیمی حوالے سے سوال کیا تو انہوں نے کہا کہ وہ اس معاملے میں بے حد سنجیدہ ہیں مضافات کو ترجیحاً دیکھ رہے ہیں درسگاہوں کے اندر خوشگوار ماحول کے لئے خصوصی انتظامات کیے جارہے ہیں اساتذہ کی کمی کو ہنگامی بنیادوں پر پورا کیا جا رہا ہے اور اساتذہ کے بنیادی مسائل کے خاتمے کے لئے تیزی سے کوششیں جاری ہیں انہوں نے یہ بھی بتایا کہ بلدیاتی نظام میں انتہائی موافق تبدیلیاں لائی جارہی ہیں نیچے تک عوامی بہتری کے لئے فنڈز فراہم کیے جارہے ہیں کے پی کے کو ماڈل بنایاگیا ہے وہاں یہ نظام بہت بہتر ہے اور لوگوں کو ان کی دہلیز پر سہولتیں مل رہی ہیں۔

کسانوں کی بات ہوئی تو ہمیں بتایا گیا کہ کھاد بیج ستا کیاگیاہے اجناس کی قیمتیں موزوں ترین سطح تک لائی گئی ہیں لہٰذا کہا جاسکتا ہے کہ آنے والے دنوں میں کسان کی حالت بہتر ہوجائے گی اور وہ خوشحال ہو گا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ لوگوں کو معلوم ہونا چاہیے کہ پی ٹی آئی کی حکومت اس نظام کو ٹھیک کررہی ہے پچھلے ادوار میں جو ہواوہ عارضی بنیاد پر تھا یہی وجہ تھی کہ آج ہمیں مشکلات در پیش ہیں مگر اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ ہم ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے ہیں ایسا نہیں ہے۔ رات دن صورت حال کو بہتر بنانے کے لیے کام ہو رہا ہے۔ عوام جلد دیکھیں گے کہ کٹھن حالات غائب ہو گئے ہیں اور ہر طرف انصاف اور خوشحالی کا جھنڈا لہرا رہا ہے۔

ان کی باتوں کا یقین کیا جا سکتا ہے کیونکہ پنجاب حکومت نے مہنگائی پر بڑی حد تک قابو پا لیا ہے متعلقہ اداروں کو فعال کر دیا گیا ہے اور یہ واضح کر دیا گیا ہے کہ جو سرکاری ملازم کام نہیں کرے گا وہ گھر جائے گا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ایسا ہونا چاہیے کیونکہ سرکاری خزانے سے تنخواہ لینے والوں کو اس بات کی اجازت نہیں ہونی چاہیے کہ وہ اپنی مرضی کریں آئین اور قانون کے مطابق ان کو لوگوں کی خدمت کرنی چاہیے مگر دیکھا گیا ہے کہ دفاتر کے اندر کلرک سے لے کر افسر تک سب کے سب عوام کو نظر انداز کرتے ہوئے خوش گپیوں میں مصروف ہیں اور اگر کوئی اُن سے پوچھ لے کہ ان کے فرائض کیا ہیں تو وہ ایسے گھورتے ہیں کہ جیسے انہیں کوئی گالی نکالی گئی ہو۔

 لہٰذا انہیں اپنے فرض کی ادائی کے لیے ذہنی طور سے تیار کیا جا رہا ہے اور عثمان بزدار وزیراعلیٰ پنجاب اس کے لیے ان ایکشن دکھائی دیتے ہیں۔ عرض کرنے کا مقصد کچھ پریشانیاں جو حکومت اور عوام کو اٹھانا پڑی ہیں اس میں جہاں حکومت کی انتظامی کمزوری تھی یا ہے وہاں مافیاز کا بڑا عمل دخل ہے کہ انہوں نے نئے نظام کو قبول نہیں کیا ان کا خیال تھا کہ یہ سب ایسے ہی چلے گا کہ وہ عوام کی دولت جو وہ خون پسینہ ایک کر کے حاصل کرتے ہیں پر ہاتھ صاف کرتے رہیں گے مگر اسے روکنے کی کوشش کی گئی جسے انہوں نے پوری طاقت سے روکنا چاہا ہے۔ وہ کامیاب بھی ہوئے مگر عوامی ردعمل پر انہیں اب پیچھے ہٹنا پڑ ا ہے حکومت کو بھی یہ منظور نہیں تھا لہٰذا اب جب عوام اور حکومت نے صورت حال سے نمٹنے کے لیے کمر کس لی ہے تو تبدیلی کا عمل شروع ہو چکا ہے مگر اس کی توجہ عوامی فلاحی کاموں سے ہٹانے کے لیے حزب اختلاف نے ایک نئی صف بندی کا عندیہ دیا ہے۔

اب وہ ایک بار پھر اسلام آباد کی جانب بڑھنے والی ہے۔ پی پی پی کے سربراہ نے تو ببانگ دہل کہہ ڈالا ہے کہ وہ عمران خان کی حکومت کو ہٹانا چاہتے ہیں یہ کسی صورت منظور نہیں اس کی وجہ وہ کوئی خاص نہیں بتاتے۔ کہنے والے کہتے ہیں کہ انہیں ذاتی مسائل در پیش ہیں یعنی احتسابی عمل سے بچنے کے لیے وہ جلد از جلد پی ٹی آئی سرکار کو سیاسی منظر سے دور کرنا چاہتے ہیں لہٰذا وہ اسلام آباد میں کوئی مہم جوئی کرنے کا ارادہ ظاہر کر رہے ہیں مگر اب کی بار جو کوئی بھی اس طرف آئے گا وہ ناکام ہو گا کیونکہ حکومتی عہدیداروں نے بتا دیا ہے کہ اسے روکا جائے گا اور آہنی ہاتھ سے روکا جائے گا کیونکہ اب حکومت کو آئندہ اپنی پالیسیوں کے ثمرات ملنے کا پورا یقین ہے۔ جس سے حکومت کو عوام کی حمایت حاصل ہو گی۔

حرف آخر یہ کہ پی ٹی آئی جو اپنے سخت فیصلوں اور مافیاز کی سرگرمیوں کی بنا پر عوام سے فاصلے پر جا کھڑی ہوئی تھی اب ان کے قریب آتی جا رہی ہے کیونکہ اب قانون حرکت میں ہے مہنگائی ذخیرہ اندوزوں اور ناجائز منافع خوروں پر ہاتھ ڈالاجا چکا ہے جس سے یقینی طور سے ایک مثبت تبدیلی آئے گی جو پچھلی تمام تلخیوں کو خوشگواریت میں تبدیل کر دے گی!

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *