قاضی قیصر الاسلام کی کتاب: فلسفے کے بنیادی مسائل

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

قاضی قیصر الاسلام صاحب ( 25 دسمبر 1934۔ 18 اکتوبر 1998 ) کا نام پہلی مرتبہ سن انیس صد ستانوے میں، اس وقت پڑھا، جب ایم اے فلسفہ کے ایک مضمون بعنو ان ”پرابلمز اُف فلاسفی“ کی تیاری اور امتحان کے پل صراط سے گزرنے کا مرحلہ درپیش آیا۔ ہمارا تعلیمی پس منظر اردو میڈیم ہونے کی بنا پر، انگریزی کُتب اور وہ بھی فلسفے کے مسائل جیسے دقیق مضمون پر، ہمارے دائرہ فہم سے باہر تھیں۔ اوؔلین کوشش کے طور پرلُغت کی مدد سے ترجمعہ کر کے مسائلِ فلسفہ سمجھنے کی سعی کی، مگر اس میں وقت کا بہت زیاں محسوس ہوا۔

لہٰذا اس کوشش سے کنارہ کشی کی۔ مگر مسئلہ جوں کا توں موجود تھا۔ پھر بدیسی اردو کُتب و تراجم کی تلاش میں سرگرداں ہوئے۔ وہ تراجم، اپنے نستعلیق انداز اور اردوئے معلیٰ کے رنگ میں رنگے ہوئے ہونے کی بنا پر، نیز عربی اور فارسی اصطلاحات کی بھرمار کی بنا پر، انگریزی سے بھی زیادہ مشکل معلوم ہوئے۔ اس وقت اپنے وطنِ عزیز میں فلسفے کی اہمیت و مستقبل کا اندازہ ہوا۔ بہر کیف امتحان کا مرحلہ اور مستقبل کی فکر، سوہان روح بنی ہوئی تھی۔ درین اثنأ لائبریری میں ایک الماری میں ایک اردو ترجمعہ بعنوان، ”فلسفے کے بنیادی مسائل“ پر نظر پڑی، سوچا اس پر بھی نظر ڈال لیتے ہیں۔ مندرجاتِ فہرست پر نظر اور کتاب کی ورق گردانی کے بعد جو پہلا احساس ہوا وہ یہ تھا کہ ’واہ‘ ، مسٔلہ حل ہو گیا، اب امتحان پاس ہو ہی جائے گا۔

اس ابتدایئے کے بعد قاضی صاحب کی کتاب ’فلسفے کے بنیادی مسائل‘ کے بنیادی خصائص اور تجزیے کی طرف آتے ہیں۔ کتاب کی فہرست کے مندرجات کی حسنِ ترتیب سب سے پہلے توجہ کی طلب گار ہے۔ اس کتاب کو موضوعات کے اعتبار سے پانچ حصؔوں میں تقسیم کیا گیا ہے اور مجموعی طور پر یہ کتاب اِکیس ابواب پر مشتمل ہے۔ کتابیات، فرہنگ اصطلاحاتِ فلسفہ، فرہنگ اصطلاحاتِ تصوف کے لئے علیحدہ حصہ مُختص ہے۔ اس کتاب کو نیشنل بُک فاونڈیشن، اسلام آباد نے شائع کیا، طباع اوؔل انیس صد چھیاسی جبکہ طباعت ہشتم دو ہزار پندرہ میں ہوئی۔ عام کتب جو پرایؤیٹ پبلشرز شائع کرتے ہیں ان کی قیمتوں کے مقابلے میں اس کتاب کی قیمت انتہاٗئی معقول اور ارزاں ہے، جسے طلبأ اپنے جیب خرچ میں سے بھی با آسانی خرید سکتے ہیں۔

فلسفے کا آغاز بالعموم خطۂ یونان سے منسوب کیا جاتا ہے اور تھلیز کو بابائے فلسفہ و سائنس تسلیم کیا جاتا ہے، جبکہ خود اپنے لئے فلاسفر کا لفظ استعمال کرنے والا پہلا شخص فیثا غورث ہے۔ یونانی لفظ، ”فِلوسوفی“ (فلو: محبت؛ سوفی: حکمت) سے ماخوذ ہے اور فلاسفر سے مراد حکمت سے محبت کرنے والا۔ یہ دونو ں الفاظ، یعنی محبت اور حکمت با الذاتِ خود تشریح کے متقاضی ہیں۔ اورکتاب مذکور کے پہلے باب میں اسی موضوع پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ اس ضمن میں مشہور فلاسفروں کی بیان کردہ تعریفیں پیش کر کے یہ بتانے کی کوشش کی گئی ہے کہ مختلف ادوار میں، مختلف افراد نے فلسفہ کی تعریف کیسے کی اور کائنات کی ماہیت کو سمجھنے کی سعی کیسے کی گئی۔

فلسفے کا آغاز اُس انسانی کوشش، جس کی ابتدا تھلیز نے کی، اور اس عقلی سعی و جُہد سے منسلک ہے جس کا مقصد اپنے ارد گرد کے مظاہر اور دنیا کے وجود، ان کے آغاز و انجام کی تفھیم اور تجربی مشاہدات و عقلی استدلال کی بنیاد پر ان کے فہم اور تشریح سے عبارت ہے۔ اگر ان مندرجہ بالا سطور پر غور کیا جائے تو تین نکات قابلِ غور ہیں۔ اوؔل، ’اِرد گرد کے مظاہر اور دنیا کے وجود‘ ، ثانیاً، ’آغاز و انجام کی تفھیم‘ ، ثالثاً، ’تجربی مشاہدات و عقلی استدلال کی بنیاد پر ان کے فہم اور تشریح‘ ۔

اول الذکر کے دائرہ کار کو فلسفے کی شاخ یعنی وجویات میں زیرِ بحث لایا جاتا ہے ؛ مذکورِ ثانی میں، وجودیات کے مابعد الطبعیاتی پہلو سے بحث کی جاتی ہے ؛ مذکورِ ثالث میں، تمام وجودیات کے وجودی و ما بعد الطبعیاتی حوالوں کے علمیاتی پہلو یعنی ان کے علم کی نوعیت، علم کے ماخذ، ان کی تصدیق سے متعلق سوالات کو مرکزِ توجہ و بحث بنایا جاتا ہے۔ فلسفے کی نوعیت و ماہیت کی روشنی میں فلسفے کو، دو بنیادی شاخوں میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ وجود سے متعلق شاخ کو وجودیات، جب کہ وجود کے علم سے متعلق شاخ کو علمیات کا نام دیا گیا ہے۔

کتاب ہذا کے حصہ اول کے، باب اول میں فلسفے کی نوعیت، تعریفیں اور حدود و افادیت کا جائزہ پیش کیا گیا ہے۔ جو افراد فلسفے کی بنیادی ماہیت سمجھنا چاہتے ہیں ان کے لئے یہ باب بطور ابتدائیہ ایک قابلِ ذکر تحریر ہے۔ فلسفے کی تعریفوں کے ضمن میں ایک کمی کا احساس ہوتا ہے کہ اگر بیان کردہ تعریفوں کے ساتھ، مفکرین کی اصل کتب کے حوالے بھی درج کر دیے جاتے تو ان تعریفات کو سیاق و سباق کے حوالے سے سمجھنے میں اور مختلف مفکرین کی پیش کردہ تعریفوں میں اختلاف کو سمجھنے میں آسانی ہو جاتی۔ اور قاری اپنی ذہنی طبع کے مطابق مذید مطالعے کے لئے رہنمائی حاصل کر سکتا۔

انسانی زندگی صرف سوچ و تفکر سے ہی عبارت نہی ہے بلکہ اس کے لاتعداد پہلو ہیں مثلاً سماجی، معاشی، معاشرتی، مذہبی، سائنسی وغیرہ۔ انسان کو معاشرے میں رہتے ہوئے تمام پہلووں اور عوامل کے مطابق زندگی گزارنا ہوتی ہے۔ اور تمام عوامل ایک دوسرے پر اثر اندازبھی ہوتے ہیں۔ اسی بنیاد پر فلسفے کا تعلق انسانی زندگی کے دیگر پہلووں سے استوار ہوتا ہے۔ باب دوم میں فلسفے کا، دیگر علوم سے تعلق اور زندگی کی تفہیم کے مختلف علوم میں فلسفے کی اہمیت سے بحث کی گئی ہے۔ مختلف جہتوں کو مدِ نظر رکھتے ہوئے اس باب سے ابتدائی رہنمائی حاصل کی جا سکتی ہے۔

کتابِ کے حصہؔ دوم کے ابواب سوم، چہارم میں وجود سے بحث کی گئی ہے۔ مثلاً، انسان، ایک وجود ہے اور ارد گرد کے موجودات میں گھرا ہوا ہے۔ اس وجود کی نوعیت کیا ہے۔ ارد گرد کے وجود کیا اہمیت رکھتے ہیں۔ ان کا آ غاز کیسے ہوا، کیا وجود کی صرف موجودہ مادی حیثیت ہی ہے یا علاوہ ازیں بھی کوئی غیر مادی حوالہ ہے۔ مادے کے علاوہ کوئی اور خیالی، ما بعد الطبعی یا ذہنی وجود بھی ہے یا نہیں۔ وجود مادی ہوں یا غیر مادی، کیا یہ از خود تخلیق ہوئے یا ان کا کوئی خالق بھی ہے، اگرکوئی خالق اعظم موجود ہے تو خود اس کی ذات کی نوعیت کیا ہے۔ اس قسم کے تمام سوالات فلسفے کی شاخ، وجودیات اور مابعد الطبعیات میں زیرِ بحث لائے جاتے ہیں۔

باب پنجم میں وجود کے غیر مادی اور مابعد الطبعیی پہلو یعنی، نفس، روح، ذات سے متعلق سوالات کو مختلف مفکرین کی آرأ کی روشنی میں زیرِ بحث لایا گیا ہے۔ بابِ ششم میں مادی جسم اور غیر مادی ذہن کے آپس کے تعلق کی نوعیت و استعدادِ کار اور طریقوں سے متعلق نظریات کا جائزہ لیا گیا ہے۔ ساتویں باب میں، انسانی وجود کے افعال میں آزادی اور جبریت کے عوامل اور ان دو صورتوں میں انسانی اعمال کی حیثیت کو مرکزِ بحث بنایا گیا ہے، نیز انسانی آزادی کے حق میں نکتۂ نظر پیش کیا گیا ہے۔

وجود کسی بھی قسم کا ہو اس کی موجودیت صرف زمان و مکاں میں ہی ممکن ہونے کی بنا پر، زماں و مکاں ایسے موضوعات ہیں جو فلسفہ، سائنس اور مذاہب کے زیرِ بحث رہے ہیں۔ لہٰذا اس کتاب کا آٹھواں باب اسی بحث کے لئے مختص کیا گیا ہے۔ باب نہم میں تخلیق اور ارتقا کی نوعیت یعنی کائنات و موجودات کا آغاز از خود ہوا اور اس کی بنیادمیں کوئی میکانکی قوتیں تھیں جو از خود تخلیق کا سبب بنیں یا تخلیق کے پیچھے کوئی اور با سمجھ، عقلِ کل، نمونہ ساز، قادرِ مطق وجود کی منصوبہ سازی ہے۔

اس طرح کے ارتقائی نظریات کا جائزہ لیا گیا ہے۔ بابِ دہم میں، اسی تخلیق میں زندگی کے ظہور و ارتقا کے نظریات کو موضوعِ بحث بنایا گیا ہے۔ علمی مباحث میں ایسے مفکرین بھی ہیں جو کسی بھی قسم کی ما بعدالطبیعیات کے متعلق تشکیک کا نظریہ رکھتے ہیں یا یکسر، ما بعدالطبیعیات کے وجود کے انکاری ہیں، گیارہویں باب میں ان نظریات کا مطا لعہ کیا جا سکتا ہے۔

کتاب کے حصہؔ سوم کا بارہواں باب، فلسفے کی شاخ علمیات سے متعلق ہے جس میں حصولِ علم کے مختلف ذرائع مثلاً، عقلیت، تجربیت اور وجدانیت کی تحریکوں اور ان مکاتبِ فکر سے منسلک مفکرین کے نظریات کا جائزہ، ان کی اہمیت اور تنقید کو موضوعِ تحریر بنایا گیا ہے۔ اس کتاب کی اشاعتِ اوؔل انیس صد چھیاسی میں ہونے کے بعد اب تک علمیات کے شعبہ میں تبدیلیاں آ چکی ہیں، لہٰذا اس کتاب میں جدید نظریات کی کمی محسوس ہوتی ہے۔

اسی حصہؔ سوم کے باب تیرہویں میں، سچائی سے متعلق سوالات، مثلاً کوئی نظریہ کن حالات میں اورکن شرائط کے تحت درست ہو سکتا ہے، سچائی کا معیار کیا ہے، کیا کسی نظریہ کے سچ ہونے کے لیے، اس کی بنیاد پر غور کیا جاے یا صرف نتیجہ پر انحصار کافی ہے، سچائی کا وقتی طور پر واقعات کے مطابق ہونا کافی ہے یا سچائی کا کوئی مطلق معیار بھی ہے۔ اس باب میں ان سولات کے جوابات کے لیے رہنمائی حاصل کی جا سکتی ہے۔

حصہؔ چہارم مجموعی طور پر چار ابواب پر مشتمل ہے۔ جن کا بنیادی پہلو مذہب اور اقدار سے متعلق مباحث ہیں۔ دنیا میں ایک طرف وہ افراد ہیں جو مذہب کو تسلیم کرتے ہیں اس لحاظ سے بنیادی طور پر مذاہب کی دو اقسام تسلیم کی جاتی ہیں۔ اولاً، الوہی یا نزول کردہ مذاہب اور ثانیاً، فطرت پرستی کے مذاہب یا ٹوٹم اور ٹیبوز۔ یہ مفکرین اقدار کے ثبات اور اخلاقیات کے لیے مذہبی ما بعد الطبعیات کو بنیاد بناتے ہیں جبکہ دوسری طرف ایسے افراد بھی ہیں جو کسی بھی قسم کے مذہب کو تسلیم نہیں کرتے۔ اور اقدار و اخلاقیات کو معاشرتی و مُعاشی عوامل سے مشروط کرتے ہیں۔ اس قسم کے نظریات اس حصہؔ چہارم کا خاصہ ہیں۔

کتابی ترتیب کے لحاظ سے چودھواں باب اقدار سے متعلق مختلف مکاتبِ فکر کے جائزے سے متعلق ہے۔ پندہرویں باب میں، تصورِ خدا، خدا کے وجودی یا شخصی پہلو، خدا کی وحدت و ثنویت اور کثرتیت سے متعلق نظریات کے مباحث کے ساتھ ساتھ، صوفیانہ تصورات مثلاً وحدت الوجود، ہمہ از اوست وغیرہ کو بھی بیان کر کے، قاری کو مختلف نظریاتِ خدا سے آگاہی دینے کی سعی کی گئی ہے۔ نیز خدا کے وجود سے متصؔل مسئلہ خیر و شر کا محاکمہ بھی کیا گیا ہے۔ سولھویں باب میں خدا کے وجود کے حق میں پیش کیے جانے والے دلائل کا جائزہ و تنقیدی محاکمہ ہے، جبکہ سترہویں باب کا تعلق ان مکاتبِ فکر کے نظریات سے ہے جو کسی بھی مذہب کو ماننے سے انکار کرتے ہیں یا مذہب سے متعلق تشکیک کا شکار ہیں اورایسے مفکرین جو تجزیہ اللسان کی بنا پر مذہب کا انکار کرتے ہیں۔

حصہؔ پنچم کی طرف پیش قدمی کرتے ہوئے اچانک کتاب کا مو ڈ اور انداز تبدیل ہو جاتا ہے۔ یہ حصؔہ مسلم علم الکلام سے متعلق ہے۔ اس حصہؔ کے باب اٹھارہ میں، اسلام کی اشاعت اور جغرافیائی وسعت کی بنا پر دیگر مذاہب کے افراد کے، اسلام میں داخل ہونے اور ان افراد کے اپنے قدیم مذہبی پس منظر کی بنا پر جو مذہبی اور الہٰیاتی مسائل پیدا ہوئے، نیز ایسے مسائل جو حضرت محمد ﷺ کے زمانے میں نہ تھے، ایسے مسائل کو اپنے اپنے طریق پر حل کرنے کی جو سعی معتزلہ و اشاعرہ اور اخوان الصفا کے مفکرین و الٰہیین نے کیں، اس باب میں ان نظریات و عقاید کا محاکمہ پیش کیا گیا ہے۔

فلسفہ کے علاوہ، تصؔوف سے شغف رکھنے والے افراد کے لئے، باب انیس کا مطالعہ دلچسپی کا باعث ہوگا۔ اس باب میں لفظ ’تصؔوف‘ کے ماخذ، تدریجی ارتقاکا جائزہ، اور تعریفیں پیش کی گئی ہیں جن کی روشنی میں، تصؔوف کی ماہیت سمجھنے میں مدد مل سکتی ہے۔ نیز عظیم صوفیا مثلاً شہاب الدین سہروردی، ابن عربی، مجدد الف ثانی، شاہ ولی اللہ کے چُنیدہ افکار سے بھی مستفید ہوا جا سکتا ہے۔ مذید برآں مسلم فلاسفروں کے عقلی نظریات اور ان پر تنقید کے ابتدائی تعارف کے لئے بیسویں باب کا مطالعہ اہم ہے۔ جس میں چندعظیم عقلی فلاسفروں یعنی، کندی، فارابی، سینا، ابن رُشد اور غزالی کے مابین مسائل و مباحث کا جائزہ لیا گیا ہے۔

مسلم مفکرین کے ضمن میں، علامہ محمد اقبال کے افکار کی وسعت و اہمیت کے پیشِ نظر اِکیسواں باب مکمل طور پرعلامہ کے افکار کے لئے مختؔص کیا گیا ہے جس کے مطالعے سے، علامؔہ کے بنیادی نظریات مثلاً، علامہ کا نظریۂ کونیات، تصورِ خدا، خودی کا مسئلہ، تصورِ زمان و مکاں، جبر و قدر، آزادیِ ارادہ، حیات بعد الموت سے متعلق ابتدائی شناسائی حاصل کی جاسکتی ہے۔ جبکہ ان مسائل کی تفھیم کے لئے گہرا تفکر اور تفصیلی مطالعہ ضروری ہے۔

کتاب کے آخر میں کتابیات، فرہنگ اصطلاحات فلسفہ، فرہنگ اصطلاحات تصوف کے لئے علیحدہ حصؔہ مُختص ہے۔ کتابیات کا انداز یہ ہے کہ بجائے ایک مسلسل فہرست کے، ہر باب سے متعلق کتب کو ابواب کی تقسیم کے لحاظ سے درج کیا گیا ہے۔ اس انداز میں کوئی قاری با آسانی، مطلوبہ باب میں مذکور کسی نکتہ سے منسلک کتاب کو، با آسانی تلاش کر سکتا ہے۔

فرہنگ اصطلاحاتِ فلسفہ میں فلسفیانہ اصطلاحات کو اگرچہ آسان بنانے کی کوشش کی گئی ہے تاہم کئی اصطلاحات مثلاً، اجسامِ نامی، آدرش، ادعائی، ارتبائیت، ارتقائے بارز، اشیائے کما فی الظاہر، اشیائے کما ہیہ، لا یعنیت، انتخابی استمرار، بطن البطون، تسکین دھندہ معروضات، حقیقی تعقلی ماہیت، زمانی وقوعہ، کارتیزی، لا یعنیت، موجی، معروضی تعینیت، نسیجیہ، حقیقی مستزاد، ایسی اصطلاحات ہیں جو روز مرہ کی اردو جاننے لکھنے اور پڑہنے والوں کے لئے مشکلات کا باعث ہیں۔ ان افراد کے لیے ایسی مندرجہ بالا اصطلاحات کے مزید آسان ترجمہ کی ضرورت ہے۔ موجودہ صورت میں یہ اصطلاحات، عربی و فارسی جاننے والے افراد کے لیے تو مناسب ہو سکتی ہیں مگر نئی نسل کے لیے یہ ابھی مشکل ہیں لہٰذا ان کو ’مذید اردو‘ بنانے کی ضرورت محسوس ہوتی ہے۔

تصؔوف سے متعلق فرہنگِ اصطلاحات کی تفہیم میں مندرجہ بالا مشکل دو چند ہو جاتی ہے۔ اس کی وجہ، عربی و فارسی زبان سے نا آشنائی ہے۔ آج سے چالیس برس قبل، جب کتابِ مذکور لکھی گئی تو علمی حلقوں میں عربی و فارسی کسی حد تک روزمرہ تعلیم کا حصہؔ تھی مگر اب صورتِ حال مختلف ہے لہٰذا اصطلاحات کے اردو ترجمہ کو نظرِ ثانی کی ضرورت ہے۔ چند صوفیانہ اصطلاحات ملاحظہ کیجیئے۔ مثلاً، ابداع، احدیتِ معقولہ، اضلال، اعدام متقابلہ، بروز و کمون، بشرطِ لا شی، تنزلاتِ علمی، جنس الجناس، شعیر بالذات، صفاتِ ایجابی، عالمِ اشباخ، مجعول، وغیرہ۔ اس طرح کی اصطلاحات کی تفھیم کی خاطر انھیں مذید نکھارنے کی ضرورت ہے۔

قاضی قیصر الاسلام کی کتاب، ”فلسفے کے بنیادی مسائل“ کتب کی ایسی لسٹ میں آتی ہے۔ جو با قائدہ سلیبس کا حصہ تو شاید بہت کم جگہوں پر ہو گی۔ لیکن طلبأ کی رہنمائی کے لیے لائبریرین صاحبان اس کو تجویز کرتے ہیں۔ اسلامیہ کالج چنیوٹ کے لائبریرین جناب احمد یار ساجد صاحب کا کہنا ہے کہ ان کی تقریباً پنتیس سالہ سروس میں جب بھی کسی طالب علم نے ٹیکسٹ بک سے ہٹ کر فلسفے کی تفہیم کی خاطر، اردو زبان میں کوئی کتاب طلب کی ہے توانہوں نے قاضی قیصر الاسلام کی کتاب ہی طلبأ کو فراہم کی ہے۔ مذید بر آں عام قاری جو فلسفے سے شغف رکھتے ہیں لیکن انگریزی سے خائف ہیں، ان کی تشنگی کے لیے بھی لائبریرین احمد یار ساجد صاحب نے ہمیشہ یہی کتاب تجویز کی ہے۔ اس حوالے سے اس کتاب کی طلب و عام فہمی اور ہمہ گیری کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔

کتاب کے فلسفیانہ مواد کے تجزیے اور تبصؔرے کے ساتھ ساتھ ضرورت محسوس ہوئی کہ اس کتاب کی اردو دانی پر بھی کسی ماہر اردو ادب سے رائے لے لی جائے، چناچہ اردو ادب کے استاد، محترم ڈاکٹر طارق مجید صاحب سے گزارش کی گئی کہ وہ اس کتاب کی اردو دانی پر اپنی رائے سے مستفید فرمایئں۔ ان کے بقول: ”اس کتاب کی اردو تحریر ایسی سلیس، شائست ہ اور شگفتہ ہے کہ فلسفے سے نا آشنا قاری بھی اس کتاب کو پڑھتے ہہوئے بوریت محسوس نہی کر سکتا۔ اس کتاب کی تحریر میں روانی جب کہ خیالات میں بہا ٔو ہے۔ قاری کسی فلسفیانہ مسئلے یا نظریے کی بنا پر تو رُک کر تفکر کا شکار ہو سکتا ہے لیکن اردو تحریر کی بنا پر کسی ’اُدھیڑ بُن‘ یا ’گُنجلک‘ کا شکار نہیں ہو سکتا“۔

مذکورہ کتاب اپنے تمام تر خصائص اور کچھ مزید توجہ طلب عنا صر کے باوجود، فلسفے کے اردو قاریئن کے لئے ایک اچھی معلوماتی کتاب ہے۔ اگرچہ اس کتاب کی اشاعتِ ہشتم، سن دو ہزار پندرہ میں ہو چکی ہے لیکن اس کی طباعت کا فونٹ ابھی تک انیس صد چھیاسی والا ہی ہے۔ اس امر کی ضرورت ہے کہ اسے دوبارہ کمپوز کر کے نئی طبا عت کی جاے۔ اس بنا پرکہ قاری کو اس کا فونٹ قدیم نہ لگے اور کتاب کو قدیم و متروک نیز جدید علوم سے عدم مطابقت نہ ہونے کی بنا پر نظر انداز نہ کر سکے۔

اس تبصرے ا ور تجزیے کا مقصد، فلسفے کے اردو قارئین کی رہنمائی ہے

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *