ہاتھ دھونے کی الجھن، بے ربط واقعات اور مسئلہ کی شناخت

شیکسپیرٔ کا ڈرامہ، میکبتھ (پانچویں ایکٹ کا منظر) میکبتھ کے گھر میں لیڈی میکبتھ کے اکسانے پر، میکبتھ کے ہاتھوں بادشاہ ڈنکن کے قتل کے بعد، میکبیتھ بادشاہ بن جاتا ہے لیکن میکبیتھ اور لیڈی میکبیتھ کی کیفیت یہ ہے کہ ایک طرف میکبیتھ کو بھوت نظر آتے ہیں، دوسری طرف لیڈی میکبیتھ کو رات…

Read more

ضیأ الرحمان امجد صاحب کی کتاب: کالج بھی کیا خوب چمن ہے۔ (گیت)۔

ضیا الرحمان امجد صاحب کی کتاب، ”کالج بھی کیا خوب چمن ہے۔ (گیت) “۔ شاعری کی ایسی کتاب ہے جس کا اولین مقصد تو ایک خاص عمر اور خاص ماحول میں جذباتی کیفیات کی ترجمانی کرنا ہے۔ ثا نیاً، اس کتاب کا وصف یہ ہے کہ یہ کتاب بالغانِ نظر کے لیے نہیں ہے۔ جیسا…

Read more

قاضی قیصر الاسلام کی کتاب: فلسفے کے بنیادی مسائل

قاضی قیصر الاسلام صاحب ( 25 دسمبر 1934۔ 18 اکتوبر 1998 ) کا نام پہلی مرتبہ سن انیس صد ستانوے میں، اس وقت پڑھا، جب ایم اے فلسفہ کے ایک مضمون بعنو ان ”پرابلمز اُف فلاسفی“ کی تیاری اور امتحان کے پل صراط سے گزرنے کا مرحلہ درپیش آیا۔ ہمارا تعلیمی پس منظر اردو میڈیم…

Read more

اللہ کرے میری بیٹی کسی سہیلی کا کوئی گفٹ گھر نہ لائے

حلال کی تنخواہ جتنی بھی ہو، مہینے کے پہلے ہفتے میں ہی پوری ہو جاتی ہے۔ اس مرتبہ فروری کا مہینہ شروع ہو تو کچھ اطمینان تھا کہ فروری کے دن کم ہونے سے مہینہ کچھ بہتر گزر جائے گا۔ دس تاریخ کو میرے صاحبزادے نے فرمائش کی کہ اسے پانچ ہزار کی ضرورت ہے…

Read more

شعبِ ابی طالب اور وادی کشمیر کے مصائب کا جائزہ

تاریخِ اسلام کے دو واقعات ایسے ہیں جو نہ صرف مذہبی افراد بلکہ غیر مذہبی اور دہریہ سوچ رکھنے والوں کے لئے بھی مشعلِ راہ ہیں۔ اور ایسے افراد جو کچھ چیزوں کو محض اس لئے رد کر دیتے ہیں کیونکہ ان کی بنیاد مذہبی حوالہ ہوتی ہیں، وہ بھی اس سچائی کو ضرور تسلیم…

Read more

کچھ بے ربط سوالات، جن کے جواب نہیں چاۂیں۔

سوالات، بالعموم ایسے مسائل یا مظاہر سے متعلق ہوتے ہیں جوانسانی تفہیم کے دائرہ کار سے فی الوقت باہر ہوں۔ اور ان مسائل یا مظاہر کی تفہیم، انسان کی بنیادی خصوصیت یا فطرت ہے۔ سوالات کی تلاش کوئی ایسی صلاحیت نہیں جو سکھائی جاتی ہے بلکہ پیدائش کے ابتدائی لمحات کے وقت سے جب بچہ…

Read more

فلسفہ: زندہ قوموں کے لئے اثاثہ اور غلاموں کے لیے وقت کا زیاں

فلسفہ کا لفظ سنتے ہی جانے کیوں اِک گردان سی زباں پر محسوس ہوتی ہے۔ مثلاً، ف سے فلسفہ، ف سے فضول، ف سے فارغ العقل، ف سے فالتو وغیرہ۔ اس کے ساتھ ہی ہما رے لبوں پر اک مسکراہٹ آ جاتی ہے جس کے پسِ منظر میں فلاسفروں کی فاتر العقلی سے منسلک لطائف…

Read more

تھوڑے لِکھے کو بُہت سمجھنا، اِس خط کو تار سمجھنا

آج سے تقریباً دو دہائی قبل، جب خطوط، تحریری طور پر بذریؔعہ ڈاک ارسال کیے جاتے تھے اور موبائل کا تصؔور و حصول مڈ ل کلاس کی پہنچ سے دُور تھا۔ اس وقت کے خطوط کا اختتام بالعموم اس جملے پر ہوا کرتا تھا کہ ”تھوڑے لکھے کو بہت سمجھنا“ اور ”اس خط کو تار…

Read more

آخری عمر میں دادا سٹھیا گیا ہے

پیش منظر: ڈھلتا سورج۔ مغرب کی سمت، آدھے آسمان پر غروب ہوتے سورج کی سرخ و نارنجی ڈوبتی روشنی۔ مشرقی سمت اندھیرے کا آغاز۔ کچھ ہی دیر میں اندھیرا چھا جانے اور رات کی عملداری کا مرحلہ۔ ایک درخت کی شاخوں پر پاوں اور پنجے جمائے، سر زمین کی طرف کیے، اُلٹے لٹکے ہوئے بہت…

Read more

’اقرا‘ و ’قلم‘ کی اصطلاحات کے تقدس سے، پاجامے میں ناڑا ڈالنے کے استعارے تک

’اقرا‘ والی پہلی وحی سے دینِ اسلام کی تعلیمات کا آغاز تسلیم کیا۔ لفظ ’اقرا‘ کا ترجمہ اہلِ زبان کے بقول ’پڑھ‘ لیا جاتا ہے۔ عام انسانوں کے حوالے سے اگر بات کریں تو اک سوال اُٹھتا ہے کہ ہمارے حواسِ خمسہ کے استمعال و افعال کی کچھ حدود ہیں جن کے دا ئرہ کار…

Read more