کچھ بے ربط سوالات، جن کے جواب نہیں چاۂیں۔

سوالات، بالعموم ایسے مسائل یا مظاہر سے متعلق ہوتے ہیں جوانسانی تفہیم کے دائرہ کار سے فی الوقت باہر ہوں۔ اور ان مسائل یا مظاہر کی تفہیم، انسان کی بنیادی خصوصیت یا فطرت ہے۔ سوالات کی تلاش کوئی ایسی صلاحیت نہیں جو سکھائی جاتی ہے بلکہ پیدائش کے ابتدائی لمحات کے وقت سے جب بچہ…

Read more

فلسفہ: زندہ قوموں کے لئے اثاثہ اور غلاموں کے لیے وقت کا زیاں

فلسفہ کا لفظ سنتے ہی جانے کیوں اِک گردان سی زباں پر محسوس ہوتی ہے۔ مثلاً، ف سے فلسفہ، ف سے فضول، ف سے فارغ العقل، ف سے فالتو وغیرہ۔ اس کے ساتھ ہی ہما رے لبوں پر اک مسکراہٹ آ جاتی ہے جس کے پسِ منظر میں فلاسفروں کی فاتر العقلی سے منسلک لطائف…

Read more

تھوڑے لِکھے کو بُہت سمجھنا، اِس خط کو تار سمجھنا

آج سے تقریباً دو دہائی قبل، جب خطوط، تحریری طور پر بذریؔعہ ڈاک ارسال کیے جاتے تھے اور موبائل کا تصؔور و حصول مڈ ل کلاس کی پہنچ سے دُور تھا۔ اس وقت کے خطوط کا اختتام بالعموم اس جملے پر ہوا کرتا تھا کہ ”تھوڑے لکھے کو بہت سمجھنا“ اور ”اس خط کو تار…

Read more

آخری عمر میں دادا سٹھیا گیا ہے

پیش منظر: ڈھلتا سورج۔ مغرب کی سمت، آدھے آسمان پر غروب ہوتے سورج کی سرخ و نارنجی ڈوبتی روشنی۔ مشرقی سمت اندھیرے کا آغاز۔ کچھ ہی دیر میں اندھیرا چھا جانے اور رات کی عملداری کا مرحلہ۔ ایک درخت کی شاخوں پر پاوں اور پنجے جمائے، سر زمین کی طرف کیے، اُلٹے لٹکے ہوئے بہت…

Read more

’اقرا‘ و ’قلم‘ کی اصطلاحات کے تقدس سے، پاجامے میں ناڑا ڈالنے کے استعارے تک

’اقرا‘ والی پہلی وحی سے دینِ اسلام کی تعلیمات کا آغاز تسلیم کیا۔ لفظ ’اقرا‘ کا ترجمہ اہلِ زبان کے بقول ’پڑھ‘ لیا جاتا ہے۔ عام انسانوں کے حوالے سے اگر بات کریں تو اک سوال اُٹھتا ہے کہ ہمارے حواسِ خمسہ کے استمعال و افعال کی کچھ حدود ہیں جن کے دا ئرہ کار…

Read more

بے مصرف قلم سے، پاجامے میں ناڑا ڈالتا ہوں

صاحب آپ کیا کرتے ہیں؟ جی، میں؟ جی، آپ ہی سے مخاطب ہوں۔ اوہ، ہاں، میں۔ جی میں ویسے تو پروفیسر ہوں، لیکن آج کل، قلم سے پاجامے میں ناڑا ڈالنے کا کام کرتا ہوں۔ پھر نکال کر پھر ڈالتا رہتا ہوں۔ صاحب آپ کا دماغ تو ٹھیک ہے۔ آپ خود کو پروفیسر بتا رہے…

Read more

انسان خطا کا پُتلا ہے اور باس ہمیشہ ٹھیک ہوتا ہے

یہ دو ضرب الا امثال ہیں۔ الگ الگ تو ہم سب نے سنی ہیں۔ ذرا ان کو اکٹھا کر کے ان کے مفہوم کا تجزیہ کیجیے ٔ اور اس اجتماعی نتیجہ کے اثرات کا جائزہ لیجئیے۔ پھر قومی اداروں کی پالیسیوں، ان کی کارکردگی اور دونوں کے اجتماع سے پیدا ہونے والے دور رس نتائج…

Read more

اک علمی دعا: ’اللھم ارنی حقائق الاشیا کما ہی‘ ، جو ہم سے سہو ہو گئی

ہماری درسی و تعلیمی کتب پر بالعموم، نیزتعلیمی اداروں اورتعلیم سے متعلق دفاترکی دیواروں پر بالخصوص اک آیت نظر آتی ہے۔ ’و ُقل ربِ ذِ د نی علما‘ ۔ ( ترجمہ) ’اور کہہ، اے میرے رب، میرے علم میں اضافہ فرما‘ ۔ (سورہ 20 طہ: آیت 114 ) ۔ یہ آیت پڑھ کر کبھی خیال…

Read more

واقعہء کربلا کے نظرانداز شدہ عِلمی پہلو

واقعہء کربلا سے ہر ذی شعور مسلمان واقف ہے، واقعہء کربلا کو با لعموم مذ ہبی اور سیاسی پسِ منظر میں پیش کیا جاتا رہا ہے۔ حیرت کی بات ہے کہ سرکارِ عالمینﷺ کے ورثأ کی قربانی کو محض ان دو حوالوں سے جانا جائے اور دیگر پہلو نظر انداز کر دیے جائیں۔ سرکار عالمینﷺ نے اپنی ذاتِ اقد س کو علم کا شہر فرمایا اور اس شہرِ علم کے دروازے کا مرتبہ حضرت علیؑ کوعطا فرمایا۔ تو پھر کیا یہ سوال اٹھانا جا ئز نہیں کہ اس سلسلہء علم کے وارث کو اس علمی سرمایہ کی وراثت سے کیوں محروم رکھا جائے۔ کیا وارثان نبی ﷺ کا تاریخ میں بس اتنا کردار تھا کہ واقعہ کربلا ہو اور حسینؑ شہید ہوں اور بس۔ یقیناً جواب ’نہیں‘ میں ہو گا۔ یہ الگ بات ہے کہ واقعہ کربلا کو محض سیاسی اور مذہبی حوالوں تک محدود کر دیا گیا۔

Read more

نظریہ پاکستان اور ملی نغموں کی بے حرمتی کا نوحہ

ماہرین عمرانیات و نفسیات اس بات پرمتفق ہیں کہ کسی ادارہ، تحریک یا قوم کی ترقی یا زوال میں متعلقہ رہنما اور سربراہ کے نظریات، اس کے انداز و اطوار، وہ عناصر و عوامل ہوتے ہیں جن کی بنیاد پرمتعلقہ ادارہ، تحریک یا قوم کے مستقبل کی پیش گوئی کی جا سکتی ہے۔ زمانہ قدیم…

Read more