عالم لوہار: ثقافت کا نمائندہ

ریڈیو کی آواز ہمارے پرانے کلچر کا حصہ تھی۔ کسی بزرگ کے ریڈیو کی آواز پورے محلے میں گونجا کرتی تھی۔ ریڈیو پر علی الصبح تلاوت، قوالی، خبروں کے علاوہ قومی نغمات اور فوک گیت، روزمرہ زندگی کا حصہ تھے۔ فوک گلوکار مثلاً عالم لوہار، عنایت حسین بھٹی، شوکت علی، ایسی آوازیں تھیں جو ہمارے اپنے اندر کی آویزیں محسوس ہوتی تھیں۔ فوک گیت کی عام سی پہچان ہی یہ ہے کہ اسے سن کر کسی کے پاؤں نہ ہلیں

Read more

تم نے گریہ کیا، مجلس تمام ہوئی

علامہ طالب جوہری وفات پا گئے۔ انا للہ و انا الیہ راجعون۔ کیا اہل علم بھی وفات پا جاتے ہیں؟ علامہ خود جواب عطا فرماتے ہیں کہ: کانچ کے کھلونوں پر اعتبار کیا کرنا وہ بھی ٹوٹ جاتے ہیں جو خدا بناتا ہے جو پیدا ہوا، فنا اس کا مقدر ہے، جو اجزا ظہور ترتیب ہوئے، ان عناصر کی شیرازہ بندی کا پریشان ہونا، امر ربی ہے۔ اسی امرروایت پر علامہ طالب جوہری نے کہا: ہم نے بھی ترک کر

Read more

طارق عزیز۔۔۔ ہمارے بچپن کا ادبی پہلو یتیم ہو گیا

ہمارا بچپن، عہد جدید کے بچوں کی طرح ڈیجیٹل آلات کی سہولیات اور برقی روابط کی بجائے، افراد کے آپس میں میل جول سے مزین تھا۔ واٹس ایپ اور فون میسج کی بجائے دوست کے گھر جانا، دروازہ بجانا، دوست کے والد یا والدہ کو سلام کرنا، ڈانٹ سننا اور نصیحتوں کے بعد دوست کو ساتھ لا کر کرکٹ کھیلنا، اکٹھے بیٹھ کر، عمران سیریز، ٹارزن، عمرو عیار کی کہانیاں پڑھنا اور پی ٹی وی پر سہ پہر سوا چار

Read more

ہاتھ دھونے کی الجھن، بے ربط واقعات اور مسئلہ کی شناخت

شیکسپیرٔ کا ڈرامہ، میکبتھ (پانچویں ایکٹ کا منظر) میکبتھ کے گھر میں لیڈی میکبتھ کے اکسانے پر، میکبتھ کے ہاتھوں بادشاہ ڈنکن کے قتل کے بعد، میکبیتھ بادشاہ بن جاتا ہے لیکن میکبیتھ اور لیڈی میکبیتھ کی کیفیت یہ ہے کہ ایک طرف میکبیتھ کو بھوت نظر آتے ہیں، دوسری طرف لیڈی میکبیتھ کو رات میں کھلی آنکھوں سے بغیر کسی احساس کے، غیر شعوری طورپر، بے خوابی کی کیفیت میں چلنے اور اسی غیر شعوری کیفیت میں اپنے ہاتھوں

Read more

ضیأ الرحمان امجد صاحب کی کتاب: کالج بھی کیا خوب چمن ہے۔ (گیت)۔

ضیا الرحمان امجد صاحب کی کتاب، ”کالج بھی کیا خوب چمن ہے۔ (گیت) “۔ شاعری کی ایسی کتاب ہے جس کا اولین مقصد تو ایک خاص عمر اور خاص ماحول میں جذباتی کیفیات کی ترجمانی کرنا ہے۔ ثا نیاً، اس کتاب کا وصف یہ ہے کہ یہ کتاب بالغانِ نظر کے لیے نہیں ہے۔ جیسا کہ عنوان میں لفظ ’کالج‘ نمائندہ ہے ایک خاص عمر میں، ایک خاص ماحول، ایک خاص تعلیم کے مرحلے کا۔ ایسا مرحلہ جب بچپن پیچھے

Read more

قاضی قیصر الاسلام کی کتاب: فلسفے کے بنیادی مسائل

قاضی قیصر الاسلام صاحب ( 25 دسمبر 1934۔ 18 اکتوبر 1998 ) کا نام پہلی مرتبہ سن انیس صد ستانوے میں، اس وقت پڑھا، جب ایم اے فلسفہ کے ایک مضمون بعنو ان ”پرابلمز اُف فلاسفی“ کی تیاری اور امتحان کے پل صراط سے گزرنے کا مرحلہ درپیش آیا۔ ہمارا تعلیمی پس منظر اردو میڈیم ہونے کی بنا پر، انگریزی کُتب اور وہ بھی فلسفے کے مسائل جیسے دقیق مضمون پر، ہمارے دائرہ فہم سے باہر تھیں۔ اوؔلین کوشش کے

Read more

اللہ کرے میری بیٹی کسی سہیلی کا کوئی گفٹ گھر نہ لائے

حلال کی تنخواہ جتنی بھی ہو، مہینے کے پہلے ہفتے میں ہی پوری ہو جاتی ہے۔ اس مرتبہ فروری کا مہینہ شروع ہو تو کچھ اطمینان تھا کہ فروری کے دن کم ہونے سے مہینہ کچھ بہتر گزر جائے گا۔ دس تاریخ کو میرے صاحبزادے نے فرمائش کی کہ اسے پانچ ہزار کی ضرورت ہے اور فوراً اسے مہیا کیے جائیں۔ میر۔ ے استفسار پر کہ فیس تو ادا ہو چکی، جیب خرچ بھی روز مل جاتا ہے تو اچانک

Read more

شعبِ ابی طالب اور وادی کشمیر کے مصائب کا جائزہ

تاریخِ اسلام کے دو واقعات ایسے ہیں جو نہ صرف مذہبی افراد بلکہ غیر مذہبی اور دہریہ سوچ رکھنے والوں کے لئے بھی مشعلِ راہ ہیں۔ اور ایسے افراد جو کچھ چیزوں کو محض اس لئے رد کر دیتے ہیں کیونکہ ان کی بنیاد مذہبی حوالہ ہوتی ہیں، وہ بھی اس سچائی کو ضرور تسلیم کرتے ہیں کہ کسی بھی نظریے کی کامیابی کے لئے، اس نظریے سے وابستگی، پائے استقامت، پیہم کوشش، جسمانی و نفسیاتی برداشت اور قربانی بنیادی

Read more

کچھ بے ربط سوالات، جن کے جواب نہیں چاۂیں۔

سوالات، بالعموم ایسے مسائل یا مظاہر سے متعلق ہوتے ہیں جوانسانی تفہیم کے دائرہ کار سے فی الوقت باہر ہوں۔ اور ان مسائل یا مظاہر کی تفہیم، انسان کی بنیادی خصوصیت یا فطرت ہے۔ سوالات کی تلاش کوئی ایسی صلاحیت نہیں جو سکھائی جاتی ہے بلکہ پیدائش کے ابتدائی لمحات کے وقت سے جب بچہ چُھو کر چیزوں کی تلاش کرتا ہے یا کچھ بڑا ہو کر اپنے کھلونوں کو توڑتا ہے تو دراصل وہ اپنے ذہن کی اُلجھنوں کی

Read more

فلسفہ: زندہ قوموں کے لئے اثاثہ اور غلاموں کے لیے وقت کا زیاں

فلسفہ کا لفظ سنتے ہی جانے کیوں اِک گردان سی زباں پر محسوس ہوتی ہے۔ مثلاً، ف سے فلسفہ، ف سے فضول، ف سے فارغ العقل، ف سے فالتو وغیرہ۔ اس کے ساتھ ہی ہما رے لبوں پر اک مسکراہٹ آ جاتی ہے جس کے پسِ منظر میں فلاسفروں کی فاتر العقلی سے منسلک لطائف کا انبار ہوتا ہے۔ جیسے کہ: کسی فلاسفر کا گزر کسی گاؤں سے ہوا۔ وہاں اس نے پہلی مرتبہ تیل کا کولھو دیکھا۔ کولھو چلانے

Read more

تھوڑے لِکھے کو بُہت سمجھنا، اِس خط کو تار سمجھنا

آج سے تقریباً دو دہائی قبل، جب خطوط، تحریری طور پر بذریؔعہ ڈاک ارسال کیے جاتے تھے اور موبائل کا تصؔور و حصول مڈ ل کلاس کی پہنچ سے دُور تھا۔ اس وقت کے خطوط کا اختتام بالعموم اس جملے پر ہوا کرتا تھا کہ ”تھوڑے لکھے کو بہت سمجھنا“ اور ”اس خط کو تار سمجھنا“۔ موجودہ دور کے برقی اور تیز ترین رابطوں کے زمانے میں، دو دہائی قبل کی بات کرنے کا حوالہ صرف یہ ہے کہ تمام

Read more

آخری عمر میں دادا سٹھیا گیا ہے

پیش منظر: ڈھلتا سورج۔ مغرب کی سمت، آدھے آسمان پر غروب ہوتے سورج کی سرخ و نارنجی ڈوبتی روشنی۔ مشرقی سمت اندھیرے کا آغاز۔ کچھ ہی دیر میں اندھیرا چھا جانے اور رات کی عملداری کا مرحلہ۔ ایک درخت کی شاخوں پر پاوں اور پنجے جمائے، سر زمین کی طرف کیے، اُلٹے لٹکے ہوئے بہت سے چمگادڑ۔ ایک چھوٹا چمگادڑ جس نے گزشتہ رات پہلی بار انسانی آبادی میں بسر کی اور منہ اندھیرے واپس آ گیا اور صبح سے

Read more

’اقرا‘ و ’قلم‘ کی اصطلاحات کے تقدس سے، پاجامے میں ناڑا ڈالنے کے استعارے تک

’اقرا‘ والی پہلی وحی سے دینِ اسلام کی تعلیمات کا آغاز تسلیم کیا۔ لفظ ’اقرا‘ کا ترجمہ اہلِ زبان کے بقول ’پڑھ‘ لیا جاتا ہے۔ عام انسانوں کے حوالے سے اگر بات کریں تو اک سوال اُٹھتا ہے کہ ہمارے حواسِ خمسہ کے استمعال و افعال کی کچھ حدود ہیں جن کے دا ئرہ کار سے تجاوز نہیں کیا جا سکتا۔ مثلاً کان کی استعداد کی حد یہ ہے کہ آواز نہ تو اک حد سے کم ہو کہ وہ

Read more

بے مصرف قلم سے، پاجامے میں ناڑا ڈالتا ہوں

صاحب آپ کیا کرتے ہیں؟ جی، میں؟ جی، آپ ہی سے مخاطب ہوں۔ اوہ، ہاں، میں۔ جی میں ویسے تو پروفیسر ہوں، لیکن آج کل، قلم سے پاجامے میں ناڑا ڈالنے کا کام کرتا ہوں۔ پھر نکال کر پھر ڈالتا رہتا ہوں۔ صاحب آپ کا دماغ تو ٹھیک ہے۔ آپ خود کو پروفیسر بتا رہے ہیں، پینٹ کوٹ پہنے ہوئے ہیں رویؔے سے بھی نارمل انسان لگ رہے ہیں مگر باتیں بہکی بہکی کر رہے ہیں۔ کوئی پروفیسر پاجامے میں

Read more

انسان خطا کا پُتلا ہے اور باس ہمیشہ ٹھیک ہوتا ہے

یہ دو ضرب الا امثال ہیں۔ الگ الگ تو ہم سب نے سنی ہیں۔ ذرا ان کو اکٹھا کر کے ان کے مفہوم کا تجزیہ کیجیے ٔ اور اس اجتماعی نتیجہ کے اثرات کا جائزہ لیجئیے۔ پھر قومی اداروں کی پالیسیوں، ان کی کارکردگی اور دونوں کے اجتماع سے پیدا ہونے والے دور رس نتائج کا جائزہ لیجئیے۔ ارسطو کی منطق کے اصولوں کے مطابق، کوئی دو قضایا (جملے یا بیانات) سے نتیجہ نکلنے کی شرطِ اوؔل یہ ہے کہ

Read more

اک علمی دعا: ’اللھم ارنی حقائق الاشیا کما ہی‘ ، جو ہم سے سہو ہو گئی

ہماری درسی و تعلیمی کتب پر بالعموم، نیزتعلیمی اداروں اورتعلیم سے متعلق دفاترکی دیواروں پر بالخصوص اک آیت نظر آتی ہے۔ ’و ُقل ربِ ذِ د نی علما‘ ۔ ( ترجمہ) ’اور کہہ، اے میرے رب، میرے علم میں اضافہ فرما‘ ۔ (سورہ 20 طہ: آیت 114 ) ۔ یہ آیت پڑھ کر کبھی خیال آیا کہ عام جگہوں پہ، عوام کے لیے ٔ یہ آیت کیوں نہیں لکھی جاتی۔ کیا عوام کو علم کی ضرورت نہیں؟ نیز جو پہلے

Read more

واقعہء کربلا کے نظرانداز شدہ عِلمی پہلو

واقعہء کربلا سے ہر ذی شعور مسلمان واقف ہے، واقعہء کربلا کو با لعموم مذ ہبی اور سیاسی پسِ منظر میں پیش کیا جاتا رہا ہے۔ حیرت کی بات ہے کہ سرکارِ عالمینﷺ کے ورثأ کی قربانی کو محض ان دو حوالوں سے جانا جائے اور دیگر پہلو نظر انداز کر دیے جائیں۔ سرکار عالمینﷺ نے اپنی ذاتِ اقد س کو علم کا شہر فرمایا اور اس شہرِ علم کے دروازے کا مرتبہ حضرت علیؑ کوعطا فرمایا۔ تو پھر کیا یہ سوال اٹھانا جا ئز نہیں کہ اس سلسلہء علم کے وارث کو اس علمی سرمایہ کی وراثت سے کیوں محروم رکھا جائے۔ کیا وارثان نبی ﷺ کا تاریخ میں بس اتنا کردار تھا کہ واقعہ کربلا ہو اور حسینؑ شہید ہوں اور بس۔ یقیناً جواب ’نہیں‘ میں ہو گا۔ یہ الگ بات ہے کہ واقعہ کربلا کو محض سیاسی اور مذہبی حوالوں تک محدود کر دیا گیا۔

Read more

نظریہ پاکستان اور ملی نغموں کی بے حرمتی کا نوحہ

ماہرین عمرانیات و نفسیات اس بات پرمتفق ہیں کہ کسی ادارہ، تحریک یا قوم کی ترقی یا زوال میں متعلقہ رہنما اور سربراہ کے نظریات، اس کے انداز و اطوار، وہ عناصر و عوامل ہوتے ہیں جن کی بنیاد پرمتعلقہ ادارہ، تحریک یا قوم کے مستقبل کی پیش گوئی کی جا سکتی ہے۔ زمانہ قدیم سے عصر حاضرتک کی تاریخ اس حقیقت کی گواہ ہے کہ میدان چاہے کوئی بھی ہو، علم و فلسفہ ہو، سیاست و مذہب ہو، ادب

Read more