کاشانہ سکینڈل: اقرا کائنات کی پوسٹ مارٹم رپورٹ آ گئی، بھوکا پیاسا رکھ کر مارا گیا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کاشانہ کے فلاحی ادارے میں رہنے والی خاتون کائنات کے قتل کے سلسلے میں مزید پیشرفت ہوئی ہے۔ کائنات کی پوسٹ مارٹم رپورٹ جاری کردی گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق کائنات کو بھوکا اور پیاسا رکھا گیا جس کی وجہ سے وہ انتقال کر گئی۔

نجی ٹی وی جی این این کے مطابق پوسٹ مارٹم رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ کائنات کو کئی دن تک بھوکا اور پیاسا رکھا گیا۔ کئی روز تک کھانا اور پانی نہ ملنے کی وجہ سے کائنات کی موت واقع ہو گئی۔ کائنات کو زہر دیے جانے کی تصدیق فرانزک رپورٹ سے ہو سکے گی۔

سابق سپریٹنڈنٹ افشاں ملک کے مطابق کائنات سولہ دسمبر کو کاشانہ سکینڈل سامنے آنے کے بعد اپنے سسرال سے لاپتہ ہوگئی تھی۔ اقبال ٹاون ایدھی سنٹر سے پانچ فروری کو اس کی لاش ملی تھی۔ یاد رہے اقرا کائنات کاشانہ سکینڈل کا اہم ترین کردار اور گواہ تھی جو اس وقت سے مخصوص عناصر کی نظروں میں آ گئی تھی جب کاشانہ کی سابق سپریٹنڈنٹ افشاں لطیف نے آواز بلند کی تھی کہ سیاستدان اور اعلی افسران یتیم خانوں سے جوان اور نو عمر لڑکیوں کو زبردستی ساتھ لے جاتے ہیں۔

سینئر صحافی خاور نعیم کے مطابق اس انکشاف کے بعد افشاں لطیف کو سزائیں دینے اور اس کی کردار کشی کے سلسلے شروع ہوئے اور جب سالہا سال تک طاقتوروں کی درندگی کا نشانہ بننے والی اقرا کائنات ان جرائم کی گواہ بن کر سامنے آئی تو حکمران طبقے کی نیندیں حرام ہو گئیں۔

اقراءکائنات کے پاس درجنوں لڑکیوں کی شہادتیں بھی موجود تھیں۔ پہلے اس سے مرضی کے بیانات حاصل کرنے کی کوششیں کی جاتی رہیں وہ نہ مانی تو دو ماہ پہلے اسے اس کے سسرال سے اغوا کر لیا گیا۔

اقراءکائنات کے گھر سے زبردستی اٹھائے جانے کے بعد کاشانہ کی سابق اور زیر عتاب سپرنٹنڈنٹ افشاں لطیف نے چیخنا شروع کر دیا تھا کہ اس بچی کو قتل کر دیا جائے گا۔ مگر قانون حرکت میں آیا اور نہ کسی حکومتی نمائندے نے دی۔ دو ماہ بعد پانچ فروری کو ایک نامعلوم عورت کی لاش ایدھی سنٹر کے سرد خانے میں لائی جاتی ہے جسے ایدھی سنٹر والے نامعلوم قرار دے کر دفنانا چاہتے ہیں۔ یہ اطلاع کسی طرح افشاں لطیف کو مل گئی جنہوں نے ایدھی سنٹر والوں کو اس عمل سے روک دیا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *