ڈاکٹر لال خان: انقلاب و مزاحمت کا استعارہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

مشہور مارکسی دانشور لیون ٹراٹسکی نے کہا تھا ”زندگی گزارنا آسان نہیں جب تک انسان کے پاس کوئی عظیم مقصد نہ ہو، جو ذاتی تکالیف، اذیتوں، غداری اور نیچ پن سے بلند کر دے ورنہ انسان کہیں نہ کہیں جھک جاتا ہے بک جاتا“ پاکستان کے بائیں بازو کے سیاسی رہنما اور مارکسی دانشور ڈاکٹر تنویر گوندل المعروف ڈاکٹر لال خان اس قول کی سچی تصویر تھے۔ جن کے سامنے کرہ ارض پہ بسنے والے محنت کشوں کو سوشلسٹ انقلاب کے ذریعے ایک روشن مستقبل دینے کا عظیم مقصد تھا۔ انھوں نے اس عظیم مقصد کے حصول کو ستر کی دہائی میں نشتر میڈیکل کالج سے بطور سٹوڈنٹ لیڈر اپنی زندگی کا مطمع نظر بناتھا۔ تب سے لے کر 21 فروری 2020 ء کی شام تک نہ پیھے مڑ کر دیکھا اور نہ ہی لمحہ بھر کو کوئی لغزش دکھائی۔

ساٹھ اور ستر کی دہائیاں دنیا کے بیشتر ممالک میں انقلابی تحریکوں کا ایک بڑا ابھار تھا جس کے اثرات کے نتیجے میں پاکستان میں بھی 68 ’69 کی انقلابی تحریکی کی شکل میں سماج کے پیدواری رشتوں کو بدلنے کی سعی کی گئی جو گو کہ پوری طرح کامیاب تو نہ ہو سکی لیکن اس نے اس خطے کے نوجوانوں کے شعور پہ گہرے اثرات مرتب کیے تھے۔ انہی اثرات کا نتیجہ تھا کہ 77 ء میں مارشل لاء کے نفاذ کے بعد اس ملک کے نوجوانوں نے ضیاء کے ظلم، جبر اور استحصال کے خلاف ایک بے مثال مزاحتمی تحریک چلائی۔

ڈاکٹر لال اس مزاحتمی تحریک کے سرخیل تھے اور اپنے اس قائدانہ کردار کے باعث کالج اور ضلع بدری کے ساتھ ساتھ قاتلانہ حملوں کاسامنا کیا۔ لیکن اپنے اصولوں اور نظریات پہ سمجھوتہ کرنا گوارا نہ کیا اور پھر دوستوں اور خاندان کے اسرار پہ جلاوطنی اختیار کرتے ہوئے ہالینڈ چلے گے اور وہاں سے ہی میڈیکل کی ڈگری مکمل کی اور کچھ وقت پریکٹس بھی کرتے رہے۔ ہالینڈ میں قیام کے دوران میں ان کی ملاقات بین الاقوامی مارکسسٹوں کے ساتھ ملنے جلنے کا اتفاق ہوا۔ اسی میل جول نے ڈاکٹر تنویر گوندل کو ڈاکٹر لال خان بنانے میں اہم کردار کیا۔

پھر ضیاء آمریت کے آخری سالوں میں واپس ملک لوٹ آئے اور اپنے دوستوں کے ساتھ مل کر طبقاتی جدوجہد کے نام سے مارکسزم کے انقلابی نظریات کے فروغ کی جدوجہد کا ایک نیا سفر شروع کیا۔ طبقاتی جدوجہد شمارے کے ذریعے ان نظریات کو گلی گلی کریہ کریہ پہنچانے میں جت گے۔ یہ وہ وقت تھا جب سویت یونین کے انہدام کے نتیجے میں بڑے بڑے انقلابی اور مارکسسٹ سوشلزم کے نام سے تائب ہو کر این جی اوز میں جائے پناہ تلاش کر رہے تھے یا سیاست سے کنارہ کش ہو رہے تھے لیکن دنیا کی تاریخ میں تاخیر زدگی کا شکار پسماندہ ریاست کا یہ سپوت ٹراٹسکی کے نظریہ مسلسل انقلاب کا علم لیے سیاسی اور علمی محاذ پہ ناصرف ڈٹا رہا بلکہ ان نظریات کو جدید سائنسی قالب میں ڈالتا رہا۔

گو جدوجہد کے اس سفر میں انقلابی تنظیم کی تعمیر کے طریقہ کار اور حکمت عملی پہ اختلافات کے باعث اس کے بہت سے دوستوں نے ڈاکٹر لال خان سے علیحدگی بھی اختیار کرتے رہے لیکن اس سچے مارکسسٹ دانشور کے عصاب کبھی کمزور نہ پڑے۔ ڈاکٹر لال خان کا جسمانی وجود تو نہ رہا لیکن ان کے نظریات اور افکار رہتی دنیا تک اس ملک کے نوجوانوں کی شعوری بلندی میں اپنا کردار ادا کرتے رہیں گے۔

ڈاکٹر لال خان اس ملک میں انقلاب اور مزاحمت کا استعارہ بن چکے۔ جس کا ثبوت ان کی تدفین کے موقعہ پہ سینکڑوں انقلابی نوجوانوں کی شرکت اور ان کے عظیم مقصد اور پروگرام کو عملی جامعہ پہنانے کا عہد تھا۔

آج جب کہ پاکستان میں نیو لبرل ازم کے خوفناک تسلط کو قائم کیا جا چکا ہے۔ ایسے وقت میں اس عظیم دانشور اور سیاسی رہنما کا چلا جانا کسی المیے سے کم نہیں لیکن ہمارا یہ یقین ہے کہ سوشلزم اس دنیا کا واحد سچ ہے جو انسانوں کو انسانوں کے استحصال سے نجات دلا سکتا ہے اور آج کے نوجوانوں کا فرض ہے کہ وہ اس نظریے کے فروغ کے لیے منظم جدوجہد کریں اور یہی ڈاکٹر لال خان کو خراج عقیدت پیش کرنے کا بہترین طریقہ ہے۔

ڈاکٹر لال خان کی بین الاقوامی مزدور تحریک کے فروغ کے لیے بے مثال خدمات رہتی دنیا تک یاد رکھی جائیں گی اور یہ خدمات ایک دن اس ملک اور کرہ ارض پہ سوشلسٹ انقلاب کی نوید بنیں گی۔

ڈاکٹر لال خان کی جدوجہد کو سرخ سلام

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *