کراچی کا مقدمہ

کراچی دنیا کے چند بڑے شہروں میں سے ایک اور پاکستان کی معاشی سرگرمیوں کا مین مرکز ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ دنیا کی چند ریاستوں کی آبادی سے زائد آبادی کا حامل شہر ہے۔ اس شہر کو لے کر آج کل میڈیا میں ایک ہجان برپا ہے۔ اتنے بڑے شہر کے مسائل دراصل اس رائج الوقت نظام کی دن بدن بڑھتی ناکامی کے ساتھ جڑے ہیں۔ کراچی اگر معاشی حب ہے تو پھر یقیناً محنت کشوں کا حب بھی

Read more

کورونا وبا اور بے نقاب ہوتی سرمایہ داری

سرمایہ دارانہ نظام میں اشیا کی پیدوار کا بنیادی مقصد منافع کا حصول ہوتا ہے بلکہ اب اگر یوں کہا جائے کہ دنیا میں اس نظام میں شرح منافع پہ مقابلہ بازی جاری تھی تو بے جا نہ ہوگا۔ اور اس مقابلہ بازی میں کرہ ارض پہ انسانی بنیادی ضروریات کی صنعت میں سرمایہ کاری کی بجائے اس کی تباہی و بربادی کی صنعت میں بے پناہ سرمایہ لگایا جا رہا تھا۔ یعنی اسلحہ سازی کی صنعت کو فروغ دیا

Read more

ڈاکٹر لال خان: انقلاب و مزاحمت کا استعارہ

مشہور مارکسی دانشور لیون ٹراٹسکی نے کہا تھا ”زندگی گزارنا آسان نہیں جب تک انسان کے پاس کوئی عظیم مقصد نہ ہو، جو ذاتی تکالیف، اذیتوں، غداری اور نیچ پن سے بلند کر دے ورنہ انسان کہیں نہ کہیں جھک جاتا ہے بک جاتا“ پاکستان کے بائیں بازو کے سیاسی رہنما اور مارکسی دانشور ڈاکٹر تنویر گوندل المعروف ڈاکٹر لال خان اس قول کی سچی تصویر تھے۔ جن کے سامنے کرہ ارض پہ بسنے والے محنت کشوں کو سوشلسٹ انقلاب

Read more