عورت مارچ اور تحریکِ ریشمی برقعہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کل لاڑکانہ سے جے یو آئی کی تحریکِ زرد رومال کا مولوی بچہ ٹویٹر پر نمودار ہوا ہے۔ اس بات پر حیران ہوا پھرتا ہے کہ عورت کے جسم پر خود عورت کا راج کیسے ہوسکتا ہے۔ مطلب اب عورت کے جسم میں مداخلت کے لیے ہمیں عورت سے اجازت لینی پڑے گی؟ یعنی پدر سری ابھی زندہ ہے اور خودسری کے دن ہمیں دیکھنے پڑرہے ہیں؟ اپنی حیرانی کے اظہار کرنے کے بعد بولے، اسلام نے عورت کے حقوق چودہ سو سال پہلے ہی دے دیے ہیں۔ پھر ایک تڑی لگاتے ہوئے کہا، انتظامیہ سے رابطے میں ہیں، اس ملک میں ہم ایسا ہونے نہیں دیں گے۔

میرا دھیان اول مولوی شجاع الملک کی طرف گیا، پھر مفتی کفایت اللہ کی طرف اور پھر حال ہی میں گرفتار ہونے والے ڈاکٹر صلاح الدین کی طرف چلاگیا۔ ان میں پہلے دو کا براہ راست تعلق جے یو آئی سے ہے اور آخری ایک سے ہمدردی جے یو آئی کو ہے۔ مولوی شجاع الملک مردان کا وہ سلطان راہی ہے جو مشال کی لاش گھسیٹنے ہر شام سڑکوں پر نکل آتا تھا۔ عدالتوں کو ان صاحب نے ہراساں کیا اور تھانوں کا گھیراؤ بھی یہ کرتے دکھائی دیے۔

یہ تو خیر چلیے شب ورز کا تماشا ہے جو بازیچہ اطفال میں ہر آن ہر گھڑی چلتا رہتا ہے۔ اصل بات وہ فتوی ہے جو چوک چوراہوں پر کھڑے ہوکر ان صاحب نے دیا۔ فرمایا، مشال خان اگر گستاخ نہیں بھی تھا، چونکہ مارنے والوں نے اچھی نیت سے مارا ہے اس لیے خدا کے ہاں ان کا بڑا مقام ہے۔ ہم انہیں زندانوں نے نکال کر ہی دم لیں گے۔ وہ واقعی انہیں نکلوا کے ہی دم لیے۔ ان اسیرانِ خداوند نے رشکئی انٹر چینج پر استقبالیہ سے گفتگو کرتے ہوئے کھلے آسمان تلے کہا، جو ہم نے کیا اس پر ہمیں فخر ہے۔ آئندہ بھی کسی مشال نے سر اٹھایا تو انجام یہی ہوگا۔ یہ کہہ سکتے ہیں، کیونکہ ان کا کیا کتنا ہی برا ہو اُس کے پیچھے نیت بہرحال اچھی ہی ہوتی ہے۔

مانسہرہ کا وہ بچہ یاد ہے جسے قرآن پڑھانے والے استاد نے جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا تھا۔ جس کی آنکھوں میں خون اتر آیا تھا اور نچلا دھڑ بے حس و حرکت پڑا ہوا تھا۔ بچے نے قاری شمس الدین نامی جس استاد پر الزام رکھا تھا مفتی کفایت اللہ اسے رات کے اندھیرے میں قانون کے چنگل سے اچک کر لے گیے تھے۔ صبح تڑکے قانون حرکت میں آیا تو مفتی کفایت اللہ نے شجاع الملک کی طرح اسے اپنی دہلیز سے بسہولت پسپا کردیا۔ زمانے کو بتاتے پھر رہے تھے کہ قاری صاحب بہت باکردار انسان ہیں۔

ان پر یہ الزام ایک سازش کے تحت دھرا گیا ہے۔ بچے سے بقائمی ہوش و حواس پھر پوچھا گیا، تو بھی انگشتِ شہادت اسی رو سیاہ شمسو کی جانب اٹھی۔ مفتی کفایت اللہ نے اس گواہی کو بھی مسترد کردیا۔ خود بچے کے اہل خانہ پر کچھ لے دے کر بات ختم کرنے کے لیے دباؤ ڈالتے رہے اور دنیا کو بتاتے رہے کہ بچہ دباؤ میں ہے۔ انجامِ کار جب اُس شخص کا ڈی این اے کروایا گیا تو رپورٹ نے بھی گواہی دی کہ ایک ننھے سے جسم کو اپنی مرضی سے مسلنے والا شخص یہی ہے جس کے جرمِ خانہ خراب کو مفتی کفایت اللہ کے عفوِ بندہ نواز میں پناہ ملی ہوئی ہے۔

لوگ پوچھتے ہیں مفتی کفایت اللہ نے ایسا کیوں کیا؟ بھئی وہ حیران تھا کہ معلوم تدریسی تاریخ میں ہوتا تو یہ آیا ہے کہ اساتذہ اپنی مرضی سے کسی بھی جسم میں مداخلت کرجاتے تھے بچے ہنسی خوشی گوارا کر لیتے تھے۔ اپنے ماں باپ سے کہانی چھپا کر خدا کے ہاں بڑا اجر پاتے تھے۔ کیا زمانہ آگیا ہے کہ بچے اب استاد کی مرضی پر اپنی مرضی قربان نہیں کرپارہے۔ کس دھڑلے سے استاد کی جانب ہاتھ اٹھا کر کہہ دیتے ہیں کہ یہ مجرم ہے۔ یعنی اچھی نیت سے جرم کرنے والا بھی بھلا کبھی مجرم ہوا تھا؟

جس وقت لاڑکانہ کا مولوی بچہ عورتوں کو تڑیاں لگارہا تھا اُس وقت ڈیرہ اسماعیل خان کی گومل یونیورسٹی سے شعبہ اسلامیات کے سربراہ کو گرفتار کیا جارہا تھا۔ جے یو آئی کی آنکھ کا یہ تارا اس لیے پکڑا گیا کہ اپنے اختیارات کو اس نے طالبات کے جسموں تک رسائی کا ذریعہ سمجھا ہوا تھا۔ اضافی نمبروں کے لیے بچیوں کو اپنے فارم ہاؤس آنے کا تو کہہ دیتا، مگر یونیورسٹی میں کڑی نگاہ رکھتا کہ دو نامحرم اپنی مرضی سے یونیورسٹی کے لان میں بیٹھے نظر نہ آجائیں۔ لڑکی اگر استادِ محترم کی خواہش کا احترام نہ کرتے تو یہ ایک جرم ہوتا۔ لڑکی اپنی مرضی سے کسی لڑکے سے کلام کرلیتی تو یہ دوسرا جرم ہوجاتا۔ پرچہ کتنا ہی اچھا ہوا ہوتا لڑکیوں کو مارکس تابعداری اور انکار کے پدرسری اصولوں پر ہی دیتا۔ دسیوں بار اس کے خلاف انکوائری ہوئی مگر جے یو آئی کے مدینے میں کون ہے جو اہلِ صفا کے گریبان پر ہاتھ ڈالے۔

مشکل کی ہر گھڑی کو مات دے کر طالبات نے ”میرا جسم میری مرضی“ کی یہ جنگ جیت لی تو لاڑکانہ کے لونڈے نے دریائے سندھ میں ہلدی گھول کر سب پیلا کردیا۔ دنیا کی کوئی عیاشی ایسی نہیں جو ان کے دسترس سے باہر ہو۔ چاہتے بس یہ ہیں کہ رسائی صرف ہماری ہو، گواہ اس پر کوئی نہ ہو، سایہ اس پر اسلام کے نام پر ہمارا ہو۔

شہریوں کی آزمائش کے لیے اسلام آباد کے سینے پر قدسیوں نے شب بھر میں ایک مسجد بنائی ہے، جسے لال مسجد کہتے ہیں۔ اس کے لاوڈ سپیکروں نے ہمیشہ اشتعال پھونکا ہے اور اس کا منبر ہمیشہ سے نفرت کی دہکتی ہوئی بھٹی ہے۔ حق وباطل کا ایک معرکہ اس میں لڑا جاچکا ہے جس میں خواتین کو ڈھال بنایا گیا اور سالار خود ریشمی برقعے میں فرار ہوتے ہوئے پکڑے گئے۔ وہی تحریکِ ریشمی برقعہ آج پھر سے آزمائش کی گھڑی بنی ہوئی۔ لاڑکانہ کے لمڈوں نے کل ایک سانس میں پرامن خواتین کو بھاشن دیے ہیں کہ تمہیں نکلنے نہیں دیں گے۔

اگلی سانس میں نکلی ہوئی ڈنڈا بردار خواتین کو پیغام بھیجا ہے کہ گھبرانا نہیں ہے آپ کا بھائی آپ کے ساتھ ہے۔ جنگ کا یہ طبل پُرامن خواتین کے خلاف ہی کیوں؟ کیونکہ فراری کیمپ میں بیٹھے غیرت مند مرد انہیں مفادات کے تحفظ کے لیے اپنی مرضی سے ڈھال نہیں بناسکتے۔ جو حرفِ انکار کی ڈھال آگے رکھے گی اس کا گھیراؤ کیا جائے گا۔ جو سر جھکا کے ہماری مرضی سے ڈنڈا اٹھائے گی، اسے نواز دیا جائے گا۔ فقیہانِ بے توفیق کو کون بتائے کہ نئے زمانے میں جینے کے سب راگ اور ساز بدل چلے ہیں۔ مژگاں کو کچھ تو گریبان پہ مرکوز رکھ میرے بھائی۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ شہر کو تازہ زمانے کا سیلاب لے جائے اور آسرے سہارے کو ریشم کی پرانی دستار بھی نہ بچے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *