مضبوط عدالتی نظام ہی واحد راستہ ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سچ پوچھیں تو بچا کیا ہے۔

پارلیمان اور جمہوریت کے نمائندے فواد چوھدری سے فیصل واوڈا اور فردوس عاشق اعوان سے فیاض چوھان تک کے لوگ ہیں جن کی صلاحیت اور طاقت ان کی زبان درازی ہی ہے وزارت عظمٰی کا بوجھ جناب عمران خان اُٹھائے ہوئے ہیں جو کبھی جرمنی اور جاپان کا بارڈر ملوا دیتے ہیں، کبھی انڈوں، کٹوں، بکریوں اور بھینسوں سے بیس کروڑ عوام کے ملک کا معیشت چلاتے ہیں بلکہ اب تو بات بیری کے دررختوں اور شھد کے چھتوں تک آن پہنچی ہے۔

میڈیا جو ایک قوم کی آنکھیں اور کان ہوتے ہیں، ان آنکھوں اور کانوں میں فاشزم کا سیسہ اُنڈیل دیا گیا ہے، کہیں سے پکڑ کر ایسے ایسے لوگ لا کر بٹھائے گئے ہیں جن کے جدید لباس اور غلیظ زبانیں ہی ان کی کل مہارت اور اثاثہ ہیں۔

معیشت کی صورتحال یہ ہے کہ مختصر ترین وقت میں تاریخ کے سب سے بڑے قرضے لینے کا ریکارڈ بن گیا اور معیشت پھر بھی اُٹھنے کی بجائے زمین بوس ہوتی جارہی ہے اور کوئی دن جاتا ہے کہ پورا ملک ہی غربت کی لکیر کے نیچے سسکتا رہتا ہو۔

عالمی برادری میں مقام اور خارجہ معاملات اس نہج پر آئے ہیں کہ نریندرا مودی مظلوم کشمیریوں کو روند کر گزر جاتا ہے اور ہمارے وزیراعظم دو منٹ کی خاموشی کا کہہ کر اس مسئلے پر ہمیشہ کے لئے خاموش ہو جاتے ہیں۔

افغان مسئلہ ہو یا ملائیشیا کانفرنس ہندوستان کے ساتھ تناؤ ہو یا سعودی عرب کے ساتھ تعلقات، بصیرت اور دانش تو دور کی بات ہے ذمہ داری کا احساس تک مفقود ہے۔ قابل احترام ادارے ٹکراؤ کی کیفیت سے دوچار ہوئے اور حکومت کو خبر تک نہ تھی۔

قدیم زمانے میں غیر حکومتی علاقے کو نراج بولا جاتا تھا ان علاقوں میں باقاعدہ طور پر نہ ہی حکومت ہوتی تھی اور نہ ہی ریاست کی تشکیل میں مددگار ادارے یعنی جو گروہ حاوی ہوتا ان کے مفادات اور خواہشات ہی وھاں کا نظام حکومت اور نظام عدل ہوتے۔

تو کیا عمران خان کا اقتدار اور طاقت وطن عزیز کو زمانہ قدیم کے نراج والے پوزیشن پر ہی لے آیا؟

یعنی خلق خُدا آٹے اور چینی جیسی بنیادی ضرورتوں کے لئے بے شک بلکتے اور سسکتے رہیں لیکن ذخیرہ اندوز ”سرداروں“ کی طرف آنکھ اُٹھانے کی بھی اجازت نہیں کیونکہ اس ”نراج میں وہ حاوی قبیلے کے سردار ہیں“۔

تو پھر راستہ کون سا ہے جو اس بد نصیب ملک کو تباہی و بربادی سے بچا بھی لے اور اسے مضبوط جمہوریت، توانا معیشت، پرامن ریاست اور عالمی سطح پرباوقار ملک بنا بھی دے۔

تو تاریخ کے دانش کا نقطہ اٹھا لاوں کہ راستہ صرف ایک ہی ہے اور وہ ہے نظام عدل کی مضبوطی اور پائیداری۔

ہم تصور کرسکتے ہیں کہ جس دن وطن عزیز کو وہ قابل فخر وقت دیکھنا پڑے جب عدالت کسی بھی غیر قانونی حرکت پر کسی کو بھی طلب کرے تو وہ اپنے رُعب، طاقت، رسوخ حشمت پس منظر اور عہدہ و منصب عدالتی دھلیز کے باہر ہی چھوڑ آئے اور فقط ایک ملزم کی حیثیت سے کٹھرے میں کھڑا ہو جب کہ عدل کی میزان تھامے منصف کو انصاف کی فراہمی کے علاوہ کسی دوسرے حوالے سے خوف یا لالچ تو دور کی بات سرے سے سروکار ہی نہ ہو تو سمجھ لیں کہ اس ملک کو ایک جنت بنتے کتنی دیر لگے گی، کیونکہ ناروا مفادات اور بے لگام خواہشوں کا منبع کمزور عدالتی نظام کی رہداریوں ہی سے پھوٹتا ہے جو آگے چل کر کرپشن، بد دیانتی، آمریت، سماجی جبر اور وحشت انگیزی کے مختلف روپ دھارتا ہے جس سے مختلف افراد اور گروہوں کا اپنا اپنا مفاد وابستہ ہوتا ہے جو ایک قوم کی بربادی کا سبب بنتے ہیں اس لئے عالمی دانش ہمیشہ اس نقطے پر متفق نظر آئی کہ اگر ایک قوم یا ملک اجتماعی بھلائی اور اٹھان کا متمنی ہی ہو تو راستہ صرف ایک ہی ہے اور وہ ہے نظام عدل کی مضبوطی اور غیر جانبداری یعنی آئین اور قانون کی سر بلندی جس سے جمہوری استحکام پھوٹتا ہے جو آگے چل کر تمام اداروں کے لئے نہ صرف حدود وقیود کا تعین کرتی ہے بلکہ ان کی کارکردگی بہتر بناکر شفاف اور فعال بھی بناتی ہے جس کا فائدہ فوری طور پر عوام کو ملنا شروع ہو جاتا ہے۔

پارلیمان چونکہ عوامی ووٹ سے منتخب ہوتا ہے اس لئے وہ عوامی مفادات کو ہی مقدم رکھتا ہے (بشرطیکہ آر ٹی ایس سسٹم کی پیداوار نہ ہو) ۔

یعنی نگہبانی کا ایک تسلسل ہوتا جس میں عدلیہ جمہوریت اور جمہوریت عوامی مفادات کی نگرانی اور نگہبانی کرتی ہے اور اس سے شفاف طرز حکومت ترقی اور معاشی بہتری وجود میں آتے ہیں جس کا فائدہ قوم اجتماعی طور پر اُٹھاتی ہے، اس کی سب سے بڑی مثال مغرب کی جمہوریت ہے جہاں مضبوط عدالتی نظام نے جمہوریت کو بقاء فراہم کیا اور جمہوریت نے عوامی مفادات کی نگہبانی کی جس سے ایک فلاحی معاشرہ وجود میں آیا لیکن فی الحال ہمارا بنیادی ستون یعنی عدالتی نظام مضبوطی کا متقاضی ہے۔

جس کا فائدہ طاقتور افراد اور طبقے اُٹھا رہے ہیں، اس لئے تو ہر حوالے سے حالات دگرگوں ہیں۔

تاہم دانشور طبقات اور سول سوسائیٹی کے ساتھ ساتھ قانون کے پیشے سے منسلک افراد اور تنظیموں پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ نہ صرف اس حوالے سے جدوجہد کو آگے بڑھائیں بلکہ رائے عامہ کو بھی ہموار کرنے میں اپنا کردار ادا کریں کیونکہ مضبوط عدالتی نظام کے دروازے ہی سے اس ملک کی بقاء اور خوشحالی کے راستے نکلیں گے کوئی دوسرا راستہ تو ہے بھی نہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *