عورت آزادی مارچ بنا متنازع مارچ: آخر کیوں؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

’عورت‘ کو عربی زبان کے لفظ ”عٙورٙة“ سے ماخوذ کیا گیا ہے۔ جس کو مغرب کے معاشرے میں انگریزی میں ”Women“ کے نام سے جانا جاتا ہے، عورت مادہ یا مونث انسان کو کہا جاتا ہے۔ عورت یا زنانہ بالغ انسانی مادہ کو کہا جاتا ہے، جبکہ لڑکی انسانی بیٹی یابچی کے لئے متعمل ہے۔ بعض اوقات عورت کی اصطلاح تمام انسانی مادہ نوع کی نمائندگی کرتی ہے۔

ہر دور میں مظلومی اور محکومی عورت کا مقدر رہی ہے، اس کے حصے میں روشنی کبھی نہیں آئی وہ اذیت کا بوجھ اٹھائے تاریکیوں کے جنگلوں میں بھٹکتی رہی ہے، نور اسلام سے قبل کہیں صنفی امتیاز کے سبب اسے زندہ دفن کیا گیا تو کہیں شوہر کی وفات پر خود سوزی کے لئے مجبور کیا گیا۔

کبھی معمولی اشیاء کی طرح بازاروں میں بیچا اور خریدا گیا تو کبھی باپ شوہر یا بیٹے کی ملکیت مانا گیا، کبھی اسے شیطان کی ایجنٹ شروفتنہ کا مجسمہ تو کبھی اسے بدی کی جڑ اور معصیت کا دروازہ قرار دیا گیا، بعثیت انسان اسے اس کی جائیز مقام اور حقوق سے ہمیشہ محروم رکھا گیا۔

عورتوں کی مظلومیت اور بے بسی کی تاریخ کا جائیزہ لیتے ہوئے August Bell نے لکھا ہے :

”قدیم دور میں عورت کی حیثیت انتہائی درجہ کے استبداد سے دوچار تھی۔ اسے جسمانی طورپر مغلوب کرکے قبضے میں رکھاجاتا اور ذہنی طورپراس سے بھی زیادہ ظلم روارکھا جاتا تھا۔ خانگی معاملات میں اس کی حیثیت نوکروں سے صرف ایک درجہ بہترتھی۔ اس کے اپنے بیٹے اس کے آقا ہوتے تھے ’جن کی فرمانبرداری اس پر لازم تھی“۔

”یونانی Mythology میں ایک خیالی عورت پانڈورا (Pandora) کی تمام انسانی مصائب کا موجب قرار دیا گیا تھا“

”ایرانیوں کا یہ بھی عقیدہ تھا کہ عورت ناپاک ہے اوراُس کی نظر بد کا اثر ہوتا ہے، اور خاص طور پر اگر کسی بچے پر اُس کی نظر بد پڑ گئی تو بچے پر کوئی نہ کوئی بدبختی ضروری آئے گی ’اس لیے بچے کو نظر بد سے بچانا نہایت ضروری سمجھا جاتا تھا‘ بالخصوص اس بات کا خیال رکھاجاتا تھا کہ کوئی عورت بچے کے پاس نہ آئے تاکہ اس کی شیطانی ناپاکی بچے کے لیے بدبختی کا باعث نہ ہو۔ “

نورِ اسلام کے پھیلنے سے قبل عرب سماج بداخلاقیوں کی تاریکیوں میں ڈوباہواتھا ’عورت کا مقدر ذلت اور پستی تھا‘ اس کی حیثیت ایک ارزاں شے جیسی تھی۔ ظلم اورجبرکا یہ عالم تھا کہ کم سنی میں اس کی زندگی کا چرا غ بجھا دیا جاتا تھا ’بیٹی کے روپ میں باپ کے لیے اس کا وجود باعث ِ عارہواکرتا تھا۔ مردکوتمام مالکانہ حقوق حاصل تھے‘ اورعورت ایک غلام بن کر جی رہی تھی۔

قدیم ہندوستان میں عورتوں کی محکومی اورمردوں کی بالادستی کی جو تصویر قدیم عالمی سماج کے مطالعے سے ابھرتی ہے وہی ہمارے ملک کی تاریخ میں نمایاں نظر آتی ہے۔ قدیم ہندوستان میں عورت کی سماجی حیثیت اور انفرادی شخصیت محرومی ’کم مائیگی‘ ذلت ورسوائی اورظلم وجبرسے مجروح دکھائی دیتی ہے۔ قدیم ہندوستان میں عورت کے مقام ومرتبہ سے متعلق اختلافات بھی رہے ہیں ’جس کی اصل وجہ معلومات کی کمی اور قدیم سنسکرت کی کتابوں سے ناواقفیت اوران میں پایاجانے والاتضاد بھی ہے۔

”یہودی شریعت میں عورت باپ کی رضا مندی کے بغیر خدا کو راضی کرنے کے لئے منت اور نذر بھی نہیں مانگ سکتی عورت کو دوسری شادی کابھی حق حاصل نہیں۔ “

”عیسائی مذہب کا بنیادی خیال یہ تھا کہ عورت گناہ کی ماں، بدی کی جڑ اور جہنم کا دروازہ ہے۔ “

”بدھ مت کے نزریک عورت سے تعلق رکھنے والا کبھی نروان حاصل نہیں کر سکتا“

ماڈرن دور میں 20 ویں صدی سے پہلے عورت ہمیشہ روایتی طور پر ہر طرح سے ظلم کا شکار رہی۔ وقت کے ساتھ عورتوں کے حقوق کے لئے آواز بلند ہونا شروع ہوئی، 28 فروری 1909 کو سوشلسٹ پارٹی آف امریکہ دائیں بازو کی ایک جماعت کے بنیادی نظریہ کے ذریعے سب سے پہلے عورتوں کے حقوق کے حوالے سے ٹیکسٹائل انڈسٹری سے جوڑی خواتین نے ایک احتجاج کے ذریعے آواز اٹھائی۔

Clara Zetkin

عورتوں کے حقوق کے حوالے سے سوشلسٹ پارٹی آف امریکہ کے نظریے میں جرمنی کی سوشل ایکٹیویسٹ اور پیشے کے لحاظ وکیل Clara Zetkin نے اس آواز کو دنیا میں پروان چڑھانے میں اہم کردار ادا کیا۔ جرمن ایکٹیویسٹ Clara Zetkin نے 1910 میں انٹرنیشنل ویمن کانفرنس میں اس دن کے حوالے سے آواز اٹھائی تاکہ ورکنگ خواتین کو مردوں کے برابر تنخوائیں اور مارات مل سکیں۔ غرض کہ خواتین نے مردوں کے برابر حقوق حاصل کرنے کے ہر فورم پر آواز اٹھائی، یونائیٹیڈ نیشن نے 1975 کو باقاعدہ طور پر ورکنگ ویمن کے حقوق کی یاد میں 8 مارچ کو عورتوں کے بین الاقوامی دن کے طور منانے کا اعلان کر دیا۔ دنیا پھر میں اس دن کو عورتوں کے حقوق کے دن کی مناسبت سے منایا جاتا ہے۔

پاکستان میں گزشتہ سال 8 مارچ 2019 کو بھی اس دن کو منایا گیا۔ اس مارچ میں خواتین کا مختلف پلے کارڈز ہاتھوں میں اٹھا کر مردوں سے حقوق دینے کا مطالبہ کر رہی تھیں، لیکن پلے کارڈز میں غیر مناسب تصاویر کو دیکھا کر حقوق مانگنے والی خواتین کے حقوق پر مختلف سوالات اٹھنے لگے حقوق دینے کے اچھا نظریے کو چند خواتین کے ایجنڈے نے متنازع مارچ بنا دیا، جس تحریک کی بنیاد برابری کی بنیاد پر خواتین کو سہولیات اور اچھی زندگی کے لئے حقوق مہیا کرنے پر رکھی گی تھی، وہاں خواتین لفظی برہنہ پلے کارڈز دیکھا کر حقوق مانگ رہی تھیں۔ اسلامی جمہوریہ پاکستان میں خواتین کا یہ گرو کون سے حقوق مانگ رہا ہے؟

عورت کو وراثت میں حصہ نہیں دیا جاتا اس پر بات کرنا چاہیے تو سمجھ آتا ہے عورتوں کو محفوظ جاب اور کاروبار کے مواقے دینے چاہیے تو بھی سمجھ آتا ہے، عورتوں کا ریپ جنسی استصحال نہیں ہونا چاہیے، اس کی بھی سمجھ آتی ہئے ان کو مردوں کے برابر حقوق ملنے چاہیے ان کو کم تر نہیں سمجھنا چاہیے۔

عورتوں کے نعرے اپنی روٹی خود بناو، لو بیٹھ گی صحیح سے، Grow A Pair، میں آدھی نہیں پوری ہوں، تہمارے باپ کی سڑک ہے، اس طرح کے اور بھی بہت سے نعرے یہ کون سے حقوق چھین جانے کی نمائندگی کرتے ہے؟

پاکستان میں عورتوں نے خود ہی اپنے حقوق لینے کے مارچ کو متنازع بنا دیا، جہاں پر مردوں کو عورتوں کو جائیزحقوق دینے چاہیے کی سوچ کو پروان چڑھنا تھا وہاں عورتوں نے متنازع پلے کارڈز دیکھا کر اپنے پاوں پر خود کلھاڑی ماردی۔

ایرانی اسلامی انقلاب کے سرکردہ رہنما امام خمینی کی نظر میں عورت کی تعریف کچھ یو ں ہے :

”عورت ہی کے دامن سے مرد عروج کی منزلیں طے کرتا ہے، “

”عورت انسان کی مربی ہے“

اسلام میں عورت کی عزت و تکریم موجود ہے مسلم خواتین کو اگر پاکستان میں یا اسلا می ملک میں اسلامی حقوق مرد نہیں دے رہے تو عورتوں کو ان حقوق پر بات کرنی چاہیے، عورتوں کے حقوق حاصل کرنے کے دن پر ہر گز یہ تاصر نہ دیا جائے، کہ ان حقوق کی آرڈ میں ایک اسلامی ملک میں بے حیائی اور بے راہ روی کو پروان چڑھایا جائے۔ غیر مناسب پلے کارڈز سلوگن دیکھا کر اور نعرے لگا کر اس اہم دن کو خود عورت نے متنازعہ بنا دیا۔ مشرقی محبت اور اس کے آداب سے دور کرنے والا نظریہ اسلامی ملک کے اسلامی نظریے کے لئے خطرناک بھی ہو سکتا ہے جس کے لئے آزادی مارچ کے دن شامل چند پلے کارڈز والیوں کو سوچنے سمجھنے کی ضرورت ہے۔

اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات جس میں عورت ہر لحاظ سے ایک محفوظ عورت ہے۔ عورتوں کو اچھی زندگی گزارنے کے لئے ان کے حقوق ملنے چاہیے تو اس بار 2020 کے 8 مارچ کے دن پر عورتوں کو گزشتہ غلطی ہرگز نہیں دہرانا چاہیے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سید اظہار باقر

سید اظہار باقر ترمذی نے انگیزی ادب کی تعلیم پائی ہے۔ سماجی مسائل پر بلاگ لکھتے ہیں ۔ ان سے سماجی رابطے کی ویپ سائٹ ٹوٹر پر @Izhaar_Tirmizi نیز https://www.facebook.com/stirmize پر رابطہ کیا جا سکتا ہے۔

syed-izhar-baqir has 6 posts and counting.See all posts by syed-izhar-baqir

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *