خبردار! مایوسی پھیلانا منع ہے


\"amjad-ali-shakir\"آج جب کہ کوئٹہ کے باسٹھ کیڈٹ دفنائے جا چکے ہیں اور اک سو بیس کیڈٹ ہسپتالوں میں زخم زخم پڑے ہیں۔ ہمارے سیاستدان، ہمارے حکمران، صحافی، سوشل میڈیا اور سول سوسائٹی، جو کسی با ت پر متفق نہیں ہیں، یہ سارے لوگ ایک بات پر بہر حال متفق ہیں کہ ہمارے ملک میں مایوسی پھیلانا منع ہے۔ اس معاملے میں یہ سارے لوگ اس حد تک محتاط ہیں کہ جان سے جانے والوں میں سے کسی ایک کی ماں کو کسی رپورٹر نے ملنا گوارا نہیں کیا کہ کہیں کوئی خاتون جوشِ جذبات میں کوئی ایسی بات نہ کہہ دے جس سے مایوسی پھیلے۔ ہمارے ہاں عورتوں میں لٹریسی ریٹ ویسے ہی کم ہے اور بلوچستان میں تو بہت ہی کم ہے، لہٰذا کوئی بھی ماں جہالت کے باعث مایوس کن باتیں کہہ سکتی ہے۔ اس سے ہمارے اس دعوے کو نفی ہو سکتی ہے کہ ہم زندہ قوم ہیں۔ ہم یقینا زندہ قوم ہیں۔ اس لیے تو ہر دوسرے مہینے کتنے ہی لوگ جان سے جاتے ہیں۔ ابھی اگست میں ہمارے کتنے ہی وکیل کوئٹہ شہر میں خون میں نہا گئے اور اب اکتوبر میں پولیس کیڈٹ جان سے گزر گئے۔ انھوں نے تو ابھی زندگی کا سفر شروع کیا ہی تھا کہ سفر ختم ہو گیا۔ کوئی کہانی شروع ہونے سے پہلے ہی ختم ہو جائے تو اس سے کتنی ہی کہانیاں پھوٹتی ہیں اور ان کہانیوں میں کتنی ہی صلیبیں گڑی دکھائی دیتی ہیں جن پر کتنے ہی وجود عمر بھر لٹکے رہتے ہیں۔ نہ ان کی جان ہی نکلتی ہے، نہ اُنھیں زندگی ملتی ہے۔ عجیب جانکنی کے عالم میں عمر یں گزر جاتی ہیں۔ اِن کا ہر لمحہ صدیوں پر بھاری ہو جاتا ہے۔

ہم زندہ قوم ہیں۔ اسی لیے تو میں نے کوئٹہ کو شہر لکھ دیا ہے۔ بہت سے لوگ کہتے ہیں کہ بھلا کوئٹہ بھی کوئی شہر ہے، وہ تو مقتل ہے۔ کبھی ہزارہ قبیلے کے لوگ جنازے اُٹھاتے ہیں، کبھی کیڈٹس کے جنازے اُٹھتے ہیں۔ ہم زندہ قوم ہیں۔ اور کسی طرح مایوس نہیں ہوتے۔ جنازہ تو خیر ایک بھی بہت ہوتا ہے۔ کسی باپ کے کاندھے پر بیٹے کا جنازہ آ جائے تو کبھی کسی نے اُترتے نہیں دیکھا۔ وہ تو عمر بھر یہ بوجھ اُٹھائے اُٹھائے پھرتا ہے۔ لوگوں کو نظر آئے یا نظر نہ آئے، مگر بیٹے کا جنازہ تو کندھے سے کبھی اُترتا نہیں۔ جس کسی نے یہ دُکھ اُٹھایا ہے، وہ میری بات کی تردید نہیں کرے گا۔ ہمارے حکمرانوں کے لیے تعداد کی کمی بہت بڑی کامیابی ہوتی ہے۔ ان \"quetta-7\"کی خوشی کے لیے یہی کافی ہے کہ اب فی سال یا فی مہینہ دہشت گردانہ کارروائیاں کم ہو گئی ہیں۔ اسی پر وہ خوشی مناتے اور جھومر ڈالتے نظر آتے ہیں۔ بلوچستان کے وزیر اعلیٰ اس بات پر بہت خوش ہیں کہ دہشت گردی کا واقعہ کوئٹہ شہر سے باہر ہوا ہے۔ گویا سریاب روڈ کوئٹہ میں نہیں، کسی اور شہر میں واقع ہے۔ بلوچستان کے وزیر اعلیٰ شاید اپنی ذمہ داریوں کو صرف کوئٹہ شہر تک محدود خیال کرتے ہیں یا سریاب روڈ کو وہ بلوچستان سے یا شاید پاکستان سے باہر سمجھتے ہیں۔

ہم زندہ قوم ہیں اور صرف مر کر ہی اپنی زندگی کا ثبوت نہیں دیتے۔ مرنے والوں کا سیاپا کر کے، ان کی مالی امداد کا اعلان کر کے (مالی امداد کرنا ضروری نہیں ہوتا۔ صرف اعلان ہی کافی ہوتا ہے۔) ان کے غائبانہ نماز جنازہ پڑھ کر اور ان مرنے والوں کو سرکاری اعزاز سے دفن کرکے زندہ ہونے کا ثبوت دیتے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی ایسے بیانات بھی دیتے ہیں جن سے اُمید قائم رہے اور مایوسی نہ پھیلے۔ اب کے مرنے والے ایک تو پولیس کیڈٹ تھے، دوسرے وہ بلوچستان سے تعلق رکھتے تھے، تیسرے وہ سرداروں کے بیٹے نہیں تھے، ہُما شُما کی طرح کے غریب غربا تھے۔ چوتھے سریاب روڈ کوئٹہ سے باہر واقع تھا، ان کے کے لیے میڈیا کا سیاپا اور حکمرانوں کے اجلاس ہی کافی تھی۔ مرنے والوں کے تابوت ان کے گھروں تک پہنچانے کے لیے سرکاری ایمبولینس دستیاب نہیں تھیں۔ تو کوئی ایسی مایوسی کی بات نہیں ۔ روٹس پر چلنے والی ویگنیں تو دستیاب تھیں۔ ان کی چھتوں پر جس دھج سے تابوت جا رہے تھے، وہ بھی تو دیکھنے کی تھی۔ دور سے نظر آ رہا تھا کہ غربت کا بانکپن پسِ مرگ بھی بھلایا نہیں جا سکا۔ ان کے ورثا بھی یہ بانکپن تمام عمر، بلکہ آنے والی کئی نسلوں تک یاد رکھیں گے۔ ہم زندہ قوم ہیں اور ایسے چھوٹے موٹے واقعات پر مایوس نہیں ہوتے۔

ہم زندہ قوم ہیں۔ مایوس ہونے کی ضرورت نہیں۔ ہماری اعلیٰ قیادت نے کس قدر سرعت سے قاتلوں کا سُراغ لگا لیا ہے۔ اس معاملے میں صرف ہمارا ازلی دشمن بھارت ہی ہمارا مقابلہ کر سکتا ہے۔ ہماری قیادت نے یہاں تک دیکھ لیا ہے کہ دہشت گردوں نے جب یہ کارروائی کی ہے، اُن کی کمر ٹوٹی ہوئی تھی۔ اُن کے رابطے افغانستان سے تھے، اُن کا کوئی مذہب نہیں تھا، اگر تھا تو کم از کم اُن کا مذہب اسلام نہیں ہو سکتا۔ دہشت گرد کسی صورت مسلمان نہیں ہو سکتے، مسلمان تو صرف مجاہد ہوتے تھے اور افغانستان میں موجود سوویت یونین سے آنے والے کافروں سے برسرِ پیکار رہتے تھے، اُن کے خاتمے کے لیے بم دھماکے کرتے تھے اور امریکی امداد پاتے تھے۔ اُن کی عظمت کو ایک دنیا سلام کرتی تھی۔ وہ صرف کفر کے خاتمے کے لیے بم دھماکے کرتے تھے اور دنیا بھر سے داد اور امداد پاتے تھے۔ اُن کی خدمات کو دیکھتے ہوئے امریکی بھی تکبیر کے نعرے بلند کرتے تھے۔ اب تو یہ پرانی باتیں ہیں، نہ سوویت یونین رہا، نہ مجاہد رہے، اب تو پیوٹن کا روس ہے جس سے ہماری دوستی کا سفر آغاز ہوا ہے اور یہ بہت اُمید افزا آغاز ہے۔\"quetta-6\"

ہم زندہ قوم ہیں۔ ہمارے تربیت یافتہ مجاہدین نے امریکی اسلحے اور عربوں کی دولت سے جہاد کیا تھااور سوویت یونین جیسی بڑی طاقت کا خاتمہ کر دیا تھا۔ اس کے بعد اقتدار کی جنگ شروع ہوئی۔ آخر طالبان کی حکومت وجود میں آئی، مگر یہ القاعدہ کی محبت میں قربان ہو گئی۔ ان دنوں کابل میں امریکا اور سابق مجاہدین مل کر حکومت کرتے ہیں۔ کابل سے دور دراز علاقوں میں سابق مجاہدین باہم برسرِ پیکار ہیں اور افغانستان کو پتھر کے زمانے کی طرف دھکیل رہے ہیں۔ اس ساری جنگ سے ہمارا تعلق صرف اتنا ہے کہ امریکا کے کنٹینر ہمارے ملک سے گزرتے ہیں۔ افغانستان میں گروہوں کے اپنے اپنے تضادات ہیں اور وہ اپنے فیصلے خود کرتے ہیں۔ گلبدین حکمت یار کی جوانی سوویت افواجِ سے لڑتے گزر گئی۔ اب بڑھاپے میں اُس نے کابل حکومت سے سمجھوتا کر لیا ہے۔ کابل حکومت کے تعلقات بھارت اور را سے بہت گہرے ہیں۔ گلبدین حکمت یار کی ہمارے محترم قاضی حسین احمد سے بہت گہری دوستی تھی، مگر اب قاضی صاحب کی جگہ جناب سراج الحق براجتے ہیں۔ جہاد تو اب ہے نہیں، گلبدین حکمت یار سابق مجاہد ہو چکے تو اُنھیں شاید سابقہ دوستی بھی بھول گئی ہو۔ آخر پرانی باتوں کو کوئی کب تک یاد رکھے۔ ہم نے روس سے دوستی کرتے ہوئے پرانی دشمنی کو دفنا دیا ہے ۔ سابقہ مجاہدین ہم سے پرانی دوستی کو دفن کر دیں تو ہم کیا کہہ سکتے ہیں، مگر مایوس ہونے کی کوئی ایسی بات نہیں ہے۔ مجاہدین سارے کے سارے تو دہشت گرد نہیں بنے، ان میں سے کچھ تو سابق مجاہدین جذبہ ¿ جہاد اور دینی بھائی چارے کو اب تک نہیں بھولے ہوں گے۔ یہی وہ روشنی ہے جو ہمیں اُمید دلاتی ہے۔

ہم زندہ قوم ہیں۔ ہم مرنے والوں کا سیاپا کرتے ہیں، مگر ماتم کرتے ہوئے بھی یاد رکھتے ہیں کہ ہمیں اور کیا کچھ کرنا ہے یا کچھ دیر پہلے ہم کس سرگرمی میں مصروف تھے۔ ہمارے ایک مہربان باقاعدگی سے قوالی کی محفل میں شریک ہوتے تھے۔ اُنھیں جونہی حال پڑتا، وہ عینک اُتار کر ساتھ بیٹھے ہوئے دوست کو سونپ دیتے اور حال کھیلتے ہوئے بے حال ہو جاتے۔ کبھی ایسے نہیں ہوا کہ وہ حال پڑنے سے پہلے اپنے ساتھی کو عینک دینا بھول گئے ہوں۔ وہ مدتوں حال بھی کھیلتے رہے اور عینک بھی محفوظ رہی۔ہمارے حکمران، ہمارے سیاستدان اور ہمارے سارے مہربان دہشت گردی کے کسی واقعے پر بیان دیتے ہوئے یہ نہیں بھولتے کہ اُنھیں مخالف سیاستدان کے \"quetta-van-2\"خلاف کیا کہنا ہے۔ عمران خانہ کوئٹہ گئے۔ زخمیوں کی عیادت کی۔ اپنے تیار شدہ بیان پر واقعے کی تاریخ اور مقام تبدیل کرایا اور پرانے بیان کے نئے پرنٹ نکلوا کر اُس پر خوبصورت سے دستخط کیے اور دھرنے کے معاملات میں مصروف ہو گئے۔ حکمران جماعت کے وزرا بھی پرانا بیان پڑھ کر سنانے کے بعد دھرنے کے خلاف بولنے لگے اور زندگی رواں دواں نظر آنے لگی۔ کوئی سیاستدان حال کا حکمران ہو یا ماضی و مستقبل کا حکمران یہ بات یاد رکھتا ہے کہ دہشت گردی کے واقعات پر زیادہ بیان بازی اچھی نہیں ہوتی۔ مرنے والوں کے ورثا کے ہاں جانے اور اُن کے گلے لگ کر رونے سے مایوسی پھیلتی ہے۔ اس لیے ہمارا کوئی سیاستدان تربت، پنجگور، لورالائی جیسی جگہوں پر جنازہ پڑھنے نہیں گیا۔ وہاں توقیامت خیز منظر دیکھے جا سکتے تھے، وہاں مرنے والوں کے تابوت بھی تھے اور زندہ رہنے والے وہ لوگ بھی تھے۔ جنھیں زندہ ہونے کی تہمت اُٹھانی تھی، حالانکہ وہ مرنے والوں سے زیادہ مردہ تھے۔ مرنے والے تو قبر میں جا سوئے ہیں، مگر اُن کے باپ، اُن کی مائیں، اُن کے بھائی، اُن کی بہنیں یوں تو دیکھنے کو زندہ ہیں، مگر کہاں زندہ ہیں۔ اچھا ہوا کہ میڈیا نے اُن لوگوں کے چہرے نہیں دکھائے جن پر چمکنے والی آنکھوں میں صرف مایوسی اور نا اُمیدی باقی بچی ہے۔ میڈیا کا شکریہ کہ اُس نے مایوسی نہیں دکھائی۔ سیاستدانوں اور ماضی، حال اور مستقبل کے حکمرانوں کا شکریہ کہ مایوس لوگوں کے ہاں جانے سے گریزاں ہیں۔ ورنہ مایوس چہرے ہمارے اہلِ وطن میں مایوسی پھیلاتے، وہ اس بات کو جانتے ہیں کہ ہم زندہ قوم ہیں اور ہم نے یہ طے کر رکھا ہے۔

خبردار! یہاں مایوسی پھیلانا منع ہے۔

Facebook Comments HS