انتہا پسندی اور قومی سلامتی کے دوہرے معیار


\"edit\"کل بنی گالہ اور راولپنڈی میں پولیس اور دیگر سیکورٹی ادارے چند درجن لوگوں کو جمع ہونے پر زد و کوب کرنے اور گرفتار کرنے میں مصروف رہے تاکہ عمران خان لال حویلی نہ جا سکیں اور شیخ رشید وہاں پر جلسہ نہ کرپائیں۔ تاہم اسی انتظامیہ کو آبپارہ کے نزدیک ہاکی گراؤنڈ میں کالعدم اہل سنت والجماعت کے جلسہ کرنے اور فرقہ وارانہ اور نفرت انگیز تقریریں کرنے پر کوئی اعتراض نہیں تھا۔ حکومت کے نمائیندے اس دوہرے معیار پر تبصرہ کرنے کی بجائے عمران خان کی غیر آئینی حرکتوں پر تنقید کرنے میں مصروف رہے۔ البتہ کالعدم جماعت کے ترجمان کا کہنا تھا کہ یہ اجتماع جماعت کی سالانہ کانفرنس تھی ، اس لئے اس مذہبی اجتماع پردفعہ 144 کا اطلاق نہیں ہوتا۔ خبروں کے مطابق اس موقع پر فرقہ وارانہ نعرے لگائے گئے جو قومی ایکشن پلان کی صریح خلاف ورزی ہیں۔

مولانا احمد لدھیانوی چند روز پہلے دفاع کونسل پاکستان کے اس وفد میں بھی شامل تھے جس نے وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان سے ملاقات کی تھی اور مدرسوں اور نفرت پھیلانے والے مولویوں کے خلاف حکومت کی کارروائی کے حوالے سے بعض مراعات حاصل کی تھیں۔ وزیر داخلہ نے ابھی تک اس ملاقات کے بارے میں بھی بات کرنا مناسب نہیں سمجھا ہے۔ لیکن حکومت کی پوری مشینری گزشتہ دو روز سے اسلام آباد اور راولپنڈی میں مٹھی بھر سیاسی ورکروں کو ہراساں اور گرفتار کرنے میں مصروف رہی ہے۔ حکومت کے ترجمان بڑھ چڑھ کر عمران خان اور شیخ رشید کے خلاف سخت اور نامناسب الفاظ استعمال کرتے رہے ہیں۔ یہ درست ہے کہ سیاسی بیان بازی میں غیر پارلیمانی زبان کا استعمال زیادہ تر عمران خان کی طرف سے ہوتا ہے لیکن اب وزیر اور سرکاری نمائیندے دشنام طرازی کا طریقہ اختیار کرکے اپنے جمہوری استحقاق اور سرکاری حیثیت سے تجاوز کرنے کا سبب بن رہے ہیں۔ جمعرات کو حکومت نے دفعہ 144 کو عذر بنا کر اسلام آباد کے سیکٹر ای 11 میں تحریک انصاف کے یوتھ کنونشن پر دھاوا بولا اور بند ہال میں ہونے والے اس اجتماع کو قانون کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے کارکنوں کو گرفتار کیا۔

اس موقع پر صرف گرفتاریوں پر ہی انحصار نہیں کیا گیا بلکہ پولیس نے روایتی جابرانہ رویہ کا مظاہرہ کرتے ہوئے گرفتار کئے جانے والے کارکنوں کو تشدد کا نشانہ بھی بنایا۔ تحریک انصاف کا دعویٰ ہے کہ پولیس نے اس موقع پر خاتون کارکنوں کو بھی زد و کوب کیا۔ اسی طرح اسلام آباد ہائی کورٹ کے واضح حکم کے باوجود کہ حکومت کنٹینر اور رکاوٹوں کے ذریعے شہری زندگی کو معطل نہیں کرسکتی، راولپنڈی میں لال حویلی اور کمیٹی چوک کے علاقے کو درجنوں کنٹینر کھڑے کرکے حصار بند کردیا گیا تھا۔ حکومت کو صرف یہ اندیشہ تھا کہ چند ہزار لوگ یہاں پر جلسہ کرکے حکومت کے خلاف تقریریں کریں گے۔ اس موقع پر بھی پولیس تشدد کا افسوسناک مظاہرہ دیکھنے میں آیا ور گرفتاریوں کے وقت کارکنوں کے ساتھ غیر انسانی سلوک روا رکھا گیا۔ بنی گالہ میں عمران خان کی رہائش گاہ کے باہر چند درجن کارکنوں کو ہراساں کرنے کے لئے پولیس رات گئے تک ان کا پیچھا کرتی رہی۔ اس موقع پر جو لوگ گھر جانا چاہتے تھے انہیں اس کی اجازت بھی نہیں دی گئی۔

ایک طرف ایک متنازعہ قانون پر عمل درآمد کے لئے یہ سخت اور ناجائز طریقہ اختیار کیا جا رہا تھا تو دوسری طرف کالعدم جماعت اہل سنت جو فرقہ پرست دہشت گرد گروہ لشکر جھنگوی کی نئی شکل ہے، پولیس کی حفاظت اور نگرانی میں آب پارہ کے قریب ہاکی گراؤنڈ میں جلسہ منعقد کررہی تھی۔ اس موقع پر شیعہ فرقہ کے خلاف نفرت انگیز نعرے لگائے گئے اور انہیں کافر قرار دے کر قومی ایکشن پلان کی دھجیاں بکھیری گئیں۔ لیکن سرکاری کان ان نفرت بھری باتوں کو سننے پر تیار نہیں تھے۔ کیوں کہ فورتھ شیڈول میں شامل مولانا احمد لدھیانوی حکومت کے سیاسی مخالفین تحریک انصاف اور عوامی مسلم لیگ کو للکار رہے تھے ۔ صاف ظاہر ہے کہ حکومت نے اس کالعدم گروہ کی سیاسی حمایت حاصل کرنے کے لئے اسے اسلام آباد میں جلسہ کرنے کی اجازت دی اور قانون شکنی کو برداشت کیا۔ ایسے میں اسی ملک کے وزیر داخلہ جب نفرت انگیز تقریریں کرنے والے سینکڑوں مقررین کے خلاف قانونی کارروائی کرنے کی باتیں کرتے ہیں تو ان کے دعوؤں کاکیسے اعتبار کیا جا سکتا ہے۔

حکومت اور فوج ان دنوں روزنامہ ڈان میں ایسے ہی انتہا پسند گروہوں کے خلاف خبر کی اشاعت کے بارے میں ایک دوسرے کے آمنے سامنے ہیں۔ جمعرات کو بھی وزیر داخلہ، وزیر خزانہ اور پنجاب کے وزیر اعلیٰ نے اس بارے میں آرمی چیف کو وضاحت پیش کی ہے۔ فوج اس بات پر ناراض ہے کہ حکومت نے اس خبر کے ذریعے فوج پر ان ناپسندیدہ عناصر کی سرپرستی کا ناجائز الزام لگا کر دراصل دشمن ملک بھارت کے مؤقف کی تائد کی ہے۔ لیکن آبپارہ میں آئی ایس آئی کی ناک کے نیچے قومی ایکشن پلان کے خلاف قوتوں کے اجتماع پر فوج کے اس اہم ادارے کو بھی کوئی اعتراض نہیں تھا۔ وگرنہ موجودہ حالات میں یہ کیوں کر ممکن تھا کہ حکومت ایک ایسے انتہا پسند گروہ کو اجتماع کرنے کی اجازت دیتی، جس کے خلاف فوج کارروائی کررہی ہے۔ اور جن گروہوں کے خلاف اقدامات کرنے کے حوالے سے ہی حکومت کے ساتھ اس کا تنازعہ چل رہا ہے۔

یہ صورت حال تکلیف دہ اور افسوسناک ہے۔ ملک کے طاقتور ادارے اپنے مفاد اور نیک نامی کے لئے تو کسی حد تک جانے کے لئے تیار ہیں لیکن قوم کو تباہی کی طرف دھکیلنے والے گروہوں کے ساتھ ان کا طرز عمل مفاہمانہ اور درگزر کرنے والا ہے۔ ا س دوہرے معیار پر عمل کرتے ہوئے کیسے اس ملک سے انتہا پسندی اور نفرت کا خاتمہ ہوگا اور کیسے عالمی برادری اس حکومت کے دہشت گردی کے خلاف دعوؤں پر یقین کرے گی۔ ایسا لگتا ہے سیاسی ضرورتیں اور ادارہ جاتی برتری ہی پالیسی تشکیل دینے کی اصل محرک ہیں۔ حکومت ہو یا فوج ، وہ بڑی تصویر دیکھنے اور اسے بہتر بنانے پر توجہ دینے کے لئے تیار نہیں ہے۔

Facebook Comments HS

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 3148 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali