آپ کو خود آزاد ہونے کے لئے پہلے عورت کو آزاد کرنا ہو گا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

عورت مارچ، عورت کا ایک دن، اس کو منانے سے روکنے والے ظالم یہ تک بھول گئے ہیں کہ عورتوں نے اس خاص دن کے لئے کپڑے بنوا لئے ہو ئے ہیں۔ لہذا اب کو ئی بھی طاقت اس دن کو منانے سے انہیں نہیں روک سکتی۔ اور جو رستے کی دیوا ر بننے کی کوشش کر ے گا۔ اس پہ ہر طرح کا سابقہ غصہ بھی اتارا جائے گا۔

ہر سال عورت مارچ اور عورت آزادی اپنے نئے رنگ ڈھنگ سے دکھائی دیتا ایک تہوار بنتا جا رہا ہے۔ ہر سا ل کچھ نئے مگر موجود ایشوز کو نئے اور آگ لگا دینے والے رنگ سے اجاگر کیا جاتا ہے۔ اور پھر کم از کم یہ الاؤ ماہ دو ماہ تو سینو ں میں بپا رہتا ہے۔ تب آسما ن سے آگ برسنے کے دن شروع ہو جاتے ہیں۔ اور اندر کی آگ پہ باہر کی آگ قابو پا لیتی ہے۔ گویا یہ دن ایک طرح سے بہار میں ہی گر میو ں کی بھر پور تیاری کا نمائندہ بھی بن جاتا ہے۔

اب مسئلہ یہ ہے صاحب کہ آزادی ہے کونسی جو عورت مانگ رہی ہے؟

یہ سوال مجھ سے میری ایک بہت پیاری سہیلی نے پو چھا ہے۔ تو جان من، کونسی آزادی پندرہ بیس سال پہلے مجھے بھی سمجھ نہیں آتا تھا۔ اب لگ پتا گیا ہے۔ اور اتنا پتا لگ گیا ہے کہ اب بھی نہیں بتا سکتی۔ یہ آزادی اصل میں مرد کی آزادی ہے۔ جو مرد جس قدر آزاد عورت کے خلاف ہے اندر سے وہ اتنا ہی آزاد عورت کو پسند کر تا ہے۔ مگر یہ آزاد عورت بس اس کی اپنی نہیں ہونی چاہیے۔ یہ آزادی مرد کی آزادی ہے کہ وہ آزادی و برابری کے نام پہ عورت پہ اپنے بوجھ منتقل کر کے خود آزاد ہو نا چاہ رہا ہے۔

جس کے لئے اس نے عورت تو بطور ہتھیار استعمال کیا ہے۔ وہ یہ آزادی اس کو اپنی سہولت کے لئے مگر بھیک میں دینا چاہ رہا ہے۔ تا کہ سانپ بھی مر جائے اور لاٹھی بھی نہ ٹوٹے۔ اور آزادی حاصل کر نے کا بوجھ بھی اس نے عورت کے ہی کاندھو ں پہ ڈال دیا ہے۔ بس اس کا سہرا وہ خود پہنے گا۔ اور بنا بیاہ کے ہر رات سہاگ رات منائے گا۔ اتنے حسین خواب ہیں نا ں اس مخلوق کے، جس کی محبت حقیقی کا ثمر بھی حور محترمہ کے مہندی مہکے سپنے ہیں۔

آج سے کوئی پندہ سولہ بر س پہلے کی بات ہے۔ تب عورت اتنی آزاد نہیں تھی۔ مگر حقیقت میں آزاد اور خوش تھی۔ چند این جی اوز ہی عورتو ں کے حقوق کے لئے کام کر رہیں تھیں۔ ہماری کتابی جوانی ہمیں بھی تانیثیت، نسائت، فیمنیزم کو سمجھنے پہ مجبور کر رہی تھی۔ خیر شکر خورے کو شکر نہ ملے۔ ممکن ہی نہیں۔ ہمیں ایک دوست نے ایک این جی او کی لائیبریری تک پہنچا دیا۔ کتب خانے میں آنا جانا رہا۔ ایک دن زنان خانے میں دو مردوں کو شاطرانہ گفتگو کرتے پایا۔ ہم نے جان بوجھ کر نہیں سنا تھا۔ بلکہ وہ دونوں کتب خانے کی میز پر اپنے افکار ِ مکر کا اظہار فرما رہے تھے۔ میرے جیسی پاگل سے ان کو کیا خطرہ تھا۔

قصہ مختصر سنجیدہ گفتگو کچھ ایسی تھی ”دیکھو یار اگر مرد کو آزاد ہو نا ہے تو پہلے عورت کو آزاد کر نا ہو گا۔ ہم سار ا دن کما کر لاتے ہیں اور یہ گھر بیٹھی نوالے توڑتیں ہیں۔ میں نے تو شادی کرنی نہیں۔ میں کیو ں اپنی ایک روٹی کے لئے چار لوگوں کی مزید روٹی کماؤں؟ میں کیوں ایک کمرے کے کرائے کی بجائے پورے گھر کا کرایہ اور ساتھ میں بل ادا کرو ں؟ عورت نے ہمیں اپنا غلام بنا رکھا ہے۔ اور خود آزاد ہے۔ ہمیں اس کو احساس دلانا ہو گا کہ وہ گھر میں قید ہے۔ اسے آزادی چاہیے۔ وہ معاشی طور پہ مستحکم نہیں ہے۔ اسے معاشی طور پر مستحکم ہونا ہے۔ وہ مرد کے برابر نہیں ہے۔ اس کو مرد کے برابر ہونا ہے۔ یو ں عورت جب ہر طرح مرد کے برابر آئے جائے گی تو وہ آخری مسئلہ جنس بھی مفت میں حل ہو جائے گا۔ اس صورت میں اگر بچے ہو بھی جائیں تو وہ پوری دنیا میں ماں کی ملکیت ہو تے ہیں۔ کیو نکہ ماں کے جسم میں ان کی خوراک ہے۔ لہذا اگر ہمیں آزاد زندگی گزارنی ہے تو پہلے عورت کو آزاد کرنا ہو گا۔ ہم اکیلے کیوں کمائیں۔ اسے بھی ہمارے ساتھ کمانا ہو گا تو روٹی ملے گی۔ گھر ملے گا۔ ہم یہ سب تہذیب کے نام پہ کیو ں کر رہے ہیں۔ گفٹ بھی ہم دیں۔ وہ کیوں نہیں دیتی گفٹ اور بل؟ اب اس کو خوار ہونا ہو گا۔ اس نے ہمیں بہت خوار کر لیا ہے۔ ”

یہ جملے اور ان کو ادا کرتے لہجے آج بھی تکلیف دہ یاد میں محفوظ کسی دیو، کسی کالے جن کی طرح راتو ں کی تاریکی میں قہقہے لگاتے سنائی دیتے ہیں۔

لیکن اب کی بار جو ہو نے والا ہے۔ اس کے لئے میں نے سوچاہے کہ آنکھیں اور کان بند کر لو ں۔ کیو نکہ

” ہو نٹوں میں ایسی بات میں دبا کے چلی آئی۔ کھل جائے وہی بات تو دہائی ہے، دہائی ہے۔ بات جس میں پیار تو ہے۔ زہر بھی ہے۔ “

بس تو اگر آپ عورت مارچ روک سکتے ہیں تو روک لیں ورنہ آپ کی آنکھو ں سے انگارے، جسم سے شرارے، لبو ں سے غبارے، کانو ں سے دھواں اور بدن سے الاؤ نکلنے والے ہیں۔ لہذا پہلے ہی ہارٹ، بلڈ پریشر، شوگر کی دوا لے کے رکھ لیں۔ کیو نکہ آٹھ مارچ نزدیک ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply